Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔
اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار…
Read the full tafseer →سورة صٓ 33
اصل الفاظ ہیں الصَّافِنَاتُ الْجِیَادُ۔ اس سے مراد ایسے گھوڑے ہیں جو کھڑے ہوں تو نہایت سکون کے ساتھ کھڑے رہیں، کوئی اچھل کود نہ کریں، اور جب دوڑیں تو نہایت تیز دوڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ کو سلیمان (علیہ السلام فرزند) عطا کیا بہت اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (چنانچہ ان کا وہ قصہ یاد رکھنے کے لائق ہے) جبکہ شام کے وقت ان کے روبرو اصیل (اور) عمدہ گھوڑے (جو بغرض جہاد وغیرہ رکھے جاتے تھے) پیش کئے گئے (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اس قدر دیر ہوگئی کہ دن چھپ گیا اور کوئی معمول از قسم نماز فوت ہوگیا اور بوجہ ہیبت و جلالت کے کسی خادم کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع و متنبہ کرے، پھر جب خود ہی تنبہ ہوا) تو کہنے لگے کہ (افسوس) میں اس مال کی محبت کی خاطر (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے (یعنی نماز سے) غافل ہوگیا، یہاں تک کہ آفتاب پردہ (مغرب) میں چھپ گیا…
Read the full tafseer →(آیت)
حضرت سلیمان کی ادابیت کی ایک مثال
جس طرح اوپر حضرت دائود ؑ کی اوابیت کی مثال بیان ہوئی ہے اسی طرح یہ حضرت سلیمان کی اوابیت کی مثال بیان ہو رہی ہے۔ پہلے واقعہ کی اصلی صورت سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد اجزائے کلام پر تحقیقی نگاہ ڈالیے۔
الفاظ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی دن سہ پہر میں حضرت سلیمان ؑ کے اصیل گھوڑوں کا دستہ پریڈ کی شکل میں، ان کے ملاحظہ کے لئے پیش کیا گیا۔ گھوڑے زیادہ تھے اور کام دلچسپ تھا اس وجہ سے وہ اس میں اس طرح منہمک ہوگئے کہ سورج چھپ گیا اور عصر کی نماز رہ گئی۔ جب ان کو نماز کا خیال آیا تو اس حادثہ کا ان کو اتنا شدید قلق ہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31۔ 1 یعنی حضرت سلیمان ؑ نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ نسل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان ؑ پر معائنے کے لئے پیش کئے گئے، ظہر یا عصر سے لے کر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے شام سے تعبیر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
14: یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 40
یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
5 یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت…
Read the full tafseer →آیت 31 { اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ } ”جب اس کے سامنے پیش کیے گئے شام کے وقت عمدہ نسل کے اصیل گھوڑے۔“
اس سے پہلے ہم سورة النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے عظیم الشان لشکروں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہ ِجن اور پرندے بھی تھے اور ان سب کو الگ الگ رجمنٹس regiments اور دستوں میں منظم کیا گیا تھا۔ اسی طرح سوار فوج cavalry کی اہمیت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اپنے لشکر میں اعلیٰ نسل کے اصیل اور تیز رو گھوڑوں کے دستوں کا اہتمام بھی کر رکھا تھا اور اس زمانے میں اصل فوجی طاقت یہی گھوڑے ہوا کرتے تھے۔ سورة النمل کی…
Read the full tafseer →39 صافنات کا لغوی معنی :۔ صافنات، صافن کی جمع ہے اور صَفَنَ (الفرس) بمعنی گھوڑے کا تین ٹانگوں پر اس طرح کھڑا ہونا کہ چوتھے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکا رہے اور اس سے چاک و چوبند گھوڑا مراد لیا جاتا ہے۔ اور جیاد، جَیِّد کی جمع ہے۔ اور جاد الفرس یعنی گھوڑے کا سبک اور تیز رفتار ہونا ہے۔ یہ ان گھوڑوں کی صفات ہیں جو سیدنا سلیمان نے جہاد کی خاطر رکھے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →32۔ (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اتنی دیر لگ گئی کہ کچھ معمولات عبادت چھوٹ گئے) (آیت) ” الصفنت الجیاد “ یہ گھوڑے بھی غزوہ جہاد کے عین دینی اغراض ہی کے لیے رکھے جاتے تھے، آپ کے بارہ ہزار سواروں اور آپ کے گھوڑوں کے لیے 40 ہزار تھانوں کا ذکر توریت میں بھی آتا ہے۔” اور سلیمان کی گاڑیوں کے گھوڑوں کے لیے چالیس ہزار تھان تھے اور بارہ ہزار سوار تھے۔ “ (1۔ سلاطین۔ 4: 26)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد یاد کرو کہ جب پچھلے دن میں اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے
لائے گئے (یعنی وہ گھوڑوں کے ملاحظہ میں مشغول ہوئے) ۔
بِالْعَشِیِّ دوپہر کے بعد ‘ یعنی پچھلا دن۔ الصّٰفِنٰتُ ‘ صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور چوتھی ٹانگ کے سم کی فقط ایک نوک (اس پر زور دئیے بغیر) زمین سے لگی ہوتی ہے ‘ یہ (گھوڑے کے اصیل ہونے کی علامت ہے اور) اچھی صفت مانی جاتی ہے۔
الجیاد ‘ جواد کی یا جود کی جمع ہے ‘ تیز رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک جیاد ‘ جید کی جمع ہے (کھرا گھوڑا) حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب سے آگے بڑھ جانے والے گھوڑے مراد ہیں۔ بعض نے کہا : آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔
ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔
اور ہم نے سلیمان کی…
Read the full tafseer →اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ : ”اَلْعَشِيُّ“ ظہر سے لے کر شام تک کا وقت، بعض ساری رات بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ ”الصّٰفِنٰتُ“ ”صَافِنٌ“ کی جمع ہے، وہ گھوڑا جو کھڑا ہو تو تین پاؤں کو پوری طرح زمین پر رکھے اور چوتھے سم کا سرا زمین کے ساتھ لگا رہے۔ یہ صفت عموماً اعلیٰ نسل کے گھوڑوں میں پائی جاتی ہے۔ ”الْجِيَادُ“ ”جَوَادٌ“ کی جمع ہے، تیز رفتار۔ یہ دونوں الفاظ مذکر و مؤنث دونوں گھوڑوں پر بولے جاتے ہیں۔ دو صفتیں اس لیے بیان فرمائیں کہ کھڑے ہونے کی حالت میں وہ گھوڑے ”صافنات“ تھے اور چلنے میں ”جواد“ (تیز رفتار) تھے۔ یعنی پچھلے پہر اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے ان کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30 ۔ 33:۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر کرچکے تو حضرت سلیمان السلام کا ذکر کیا۔ اواب کا معنی مطیع ہے الجیاد کا معنی گھوڑے ہیں یہ جواد کی جمع ہے جس کا معنی گھوڑا ہے جس طرح انسان کو جواد کہتے ہیں جب وہ طبعا بہت ہی سخی ہو یہ کہا جاتا ہے : قوم اجواد خیل جیادیہ بھی کہا جاتا ہے : جاد الرجل بما لہ یجود جو دا فھو جواد۔ یعنی آدمی اپنے مال کے ساتھ سخاوت کرتا ہے قوم جواد جس طرح قذال کی جمع قذل آتی ہے یہاں وائو کو ساکن کردیا گیا ہے کیونکہ یہ حرف علت ہے اس کی جمع اجواد ‘ اجاود ‘ جرداء بھی آتی ہے اسی طرح یہ کہتے ہیں : امراۃ جواد ‘ نسوۃ جود جس طرح نوار اور نور آتی ہے شاعر نے کہا :
صناع یا شفاھا حصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ…
Read the full tafseer →اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ [جب پیش کئے گئے ان (علیہ السلام) پر ] بِالْعَشِيِّ [شام کو ] الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ [بہترین تیز رفتار گھوڑے ] ۔
صن
صفونا گھوڑے کا تین ٹانگوں پر کھڑا ہونا اور چوتھی ٹانگ کے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکانا۔ جب چلیں تو نہایت تیز رفتار۔
صافن ج صافنات۔ تین ٹانگوں پر کھڑا ہونے والا گھوڑا۔ تیز رفتار گھوڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔
نوٹ۔ 1: آیات 31 ۔ 32 ۔ 33 کے ترجمہ اور تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ ان کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کے معاملہ اس قدر مشغول ہوئے کہ عصر کی عبادت بھول گئے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انھوں نے گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے
حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔
گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا
اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
30:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →اِذْ عُرِضَ عَلَيْہِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ 31ۙ
عرض
أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ،
( ع ر ض ) العرض
اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۔ رُدُّوْھَا علَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ۔ (صٓ: 31 تا 33)
(اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے دوست رکھا ہے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ انھیں میرے پاس واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ )
آیت کی تفسیر میں اختلاف اور نقطہ اعتدال
گزشتہ رکوع میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : اولوالباب میں سے دو عظیم عقل مندوں کا کردارپیش کیا جاتا ہے۔
اسی سورة میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ ! ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد فرمائیں جو طاقت ورہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے اس کے لیے پہاڑ اور پرندے مسخر کیے تھے۔ ہم نے اس کی مملکت کو مضبوط کیا اور اسے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے ہی اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سلیمان (علیہ السلام) بھی بہترین بندہ اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا، اس کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب شام کے وقت اس کے سامنے سکھلائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے…
Read the full tafseer →31: اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ (جبکہ پیش کیے گئے ان کے روبرو) سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بِالْعَشِیِّ (شام کے وقت) ظہر کے بعد الصّٰفِنٰتُ (اصیل) تین پائوں پر کھڑے ہونے والے گھوڑے اور چوتھا صرف کھرکاکنارہ لگاتے ہیں۔ الْجِیَادُ (عمدہ گھوڑے) جمع جواد کی ہے، تیز رفتار، کیونکہ وہ گھوڑدوڑ میں عمدہ ہوتے ہیں۔ ان کو صفون کہا کیونکہ یہ صفت عربی گھوڑوں میں ہوتی ہے۔ دوغلے گھوڑوں میں نہیں ہوتی۔
ایک قول یہ ہے :
ان کو صافن اور جیاد کہا تاکہ وہ دونوں وصفوں کے جامع بن جائیں رکنے اور دوڑنے والے۔ یعنی جب کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے مواقف پر ساکن و مطمئن ہوتے ہیں اور جب دوڑتے ہیں تو وہ اپنی دوڑ میں تیز اور خفیف ہوتے ہیں۔…
Read the full tafseer →آیت ، الصفنت الجیاد، کی تفسیر
31، اذعرض علیہ بالشی الصافنات الجیاد، کلبی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ومشق اور نصیبین والوں سے جہاد کیا اور وہاں سے ایک ہزار گھوڑے آپ کے ہاتھ لگے۔
مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی میراث میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہزار گھوڑے ملے تھے۔ عوف نے حسن (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے پاس گھوڑے جو سمندر سے نکلے ہیں ان کے پر تھے اور وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پہلی نماز پڑھی اور کرسی پر بیٹھے اور ان پر گھوڑے پیش کیے گئے اور انہی میں مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز چلی گئی اور سورج غروب ہوگیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →قول باری ہے (اذ عرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد۔ وہ واقعہ بھی قابل غور ہے۔ جب شام کے وقت ان کے روبرو واصیل عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے) تا قول باری (فطفق مسد بالسوق والاعناق پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) ۔
مجاہد کا قول ہے کہ گھوڑے کا تین ٹانگوں اور چوتھی کے کھر پر کھڑا ہونے کو صفون کہتے ہیں جس سے لفظ صافنات نکلا ہے۔ گھوڑوں کی یہ عام عادت ہوتی ہے ۔ جیاد تیز رفتار گھوڑوں کو کہتے ہیں جب گھوڑا ایڑ لگنے پر دوڑ پڑے تو کہا جاتا ہے ” ھذا فرس جواد “ یہ تیز رفتار گھوڑا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
45 حضرت سلیمان کی اوابیت کا ایک نمونہ و مثال : جو اس وقت سامنے آیا جبکہ ان کے سامنے شام کے وقت اصیل اور عمدہ و تیز رو گھوڑوں کو پیش کیا گیا۔ " صَافِنَات " جمع ہے " صَافِنْ " کی۔ اور " صَافِنْ " اس گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو تین پاؤں پر کھڑا ہو اور چوتھا پاؤں اس نے ٹیک رکھا ہو۔ اور یہ صفت گھوڑوں میں بڑی عمدہ اور محمود صفت سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ ان کے عمدہ ہونے کی ایک اہم اور واضح علامت و نشانی ہوتی ہے۔ اور " جیاد " جمع ہے " جواد " کی۔ جس کے معنیٰ عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے کے آتے ہیں۔ نیز یہ " جید " کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ (جامع البیان، المراغی، القاسمی، ابن کثیر، الکبیر وغیرہ) ۔ سو یہ گھوڑے اپنی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →(38:31) اذ۔ جب۔ جس وقت ظرف زمان ہے اواب کا۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے ای اذکر ما صدر عنہ اذ عرض علیہ۔ یاد کرو اس نے نتیجہ کیا کیا جس وقت ان کے سامنے پیش کئے گئے۔
بالعشی۔ عشاء کے وقت۔ زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت۔ ملاحظہ ہو (38:18) یہاں مراد غروب آفتاب سے قبل کا وقت ہے۔
الصفنت الجیاد موصوف و صفت۔ عرض علیہ کا مالم یسلم فاعلہ ہے۔ الصفنت صافنۃ کی جمع ہے وہ گھوڑے جو تین پاؤں پر کھڑے ہوں اور چوتھے پاؤں کے سم کو موڑ کر اس پر ٹیک لگائے ہوں (جو گھوڑا اس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ نہایت فربہ اور توانا ہوتا ہے
الجیاد جواد کی جمع ہے (تیز رفتار، عمدہ گھوڑا) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دے۔
الجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔
(ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ف 3: جو اس فلسفہ کو پیش کرنے والی کتاب ہے ، وہ نہایت مبارک ہے ۔ اور ہر صاحب عقل انسان اس کا مخاطب ہے اس کی خواہش ہے کہ سب لوگ اس کے حقائق ومعارف پر غور کریں اور سوچیں ۔ پھر اگر یہ مجموعہ تعلیمات واقعی کارآمد ہو اور لوگوں کو برکت وسعادت سے بہرہ مند کرسکے ۔ تو اس کو قبول کرلیں ۔ ورنہ کوئی شخص اس کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور نہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →(31) سلیمان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ اسکے روبرو شام کے وقت ایسے اصیل گھوڑے پیش کئے گئے جو بہت تیزرفتار تھے - کہتے ہیں کہ یہ گھوڑے دریائی گھوڑوں کے سیل سے حاصل کئے گئے تھے یہ تیز اور سبک رفتار ہوتے تھے اور ان پر سوارایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پانی میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی گردنیں لانبی ہوتی ہوں۔ بعض نے کہا یہ وہ گھوڑے تھے جو دائود (علیہ السلام) نے جب جالوت کو شکست دی تو قوم عمالقہ سے ہاتھ لگے۔
بہرحال ان کو دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ ان کی عبادت کا وقت جو وہ عصر کے بعد کیا کرتی تھے وہ وقت فوت ہوگیا اگرچہ گھوڑے جہاد کے لئے تھے پھر بھی مقررہ عبادت کے فوت ہوجانے سے بہت افسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 3۔ یعنی اس پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →جب سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے شام کے وقت نہایت عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے
31۔ سلیمان (علیہ السلام) جب نبی و رسول بھی بنا دیئے گئے اور وقت کے بادشاہ بھی تو آپ نے جنگی گھوڑوں کو پالنے اور ان کو جنگ کے لیے تیار کرنے اور جنگی کرتب سکھانے اور سرپٹ دوڑنے کی کوشش کرانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے ایک روز آپ نے پچھلے پہر ان دوڑانے والے جنگی گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں طلب کیا زیر نظر آیت میں اسی طلب کا ذکر کیا گیا ہے۔ (صافنات) صفن سے ہے جس کے معنی لغت میں تین ٹانگوں پر برابر بوجھ ڈال کر تیسرے پیر کی کھری موڑ کر زمین کے ساتھ لگانے کے کیے گئے ہیں یعنی نہایت آرام و سکون کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
Commentary
In these verses, an event relating to Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) has been mentioned. The gist of the well known Tafsir of this event is that Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) was so engrossed in the inspection of the horses that he missed to perform the Salah of Al-` Asr at his usual time. Later, when he was alerted to this loss, he slaughtered all those horses as the unfortunate interference in the remembrance of Allah took place because of them.
This missed Salah could be a nafl salah. Given this situation, there should be no difficulty in understanding what Sulayman (علیہ…
Read the full tafseer →33 The words as-sefinat-ul- jiyad in the original imply the horses, which are very calm and quiet when they stand, and very fast-moving when they run.
Read the full tafseer →