Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔
اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار…
Read the full tafseer →سورة صٓ 32
حضرت سلیمان کا ذکر اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے تفہیم القرآن جلد اول، ص 97۔ جلد دوم، ص، 597۔ 598۔ جلد سوم، ص 173 تا 178۔ 560 تا 582۔ سورة سبا، آیات 12۔ 14۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ کو سلیمان (علیہ السلام فرزند) عطا کیا بہت اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (چنانچہ ان کا وہ قصہ یاد رکھنے کے لائق ہے) جبکہ شام کے وقت ان کے روبرو اصیل (اور) عمدہ گھوڑے (جو بغرض جہاد وغیرہ رکھے جاتے تھے) پیش کئے گئے (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اس قدر دیر ہوگئی کہ دن چھپ گیا اور کوئی معمول از قسم نماز فوت ہوگیا اور بوجہ ہیبت و جلالت کے کسی خادم کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع و متنبہ کرے، پھر جب خود ہی تنبہ ہوا) تو کہنے لگے کہ (افسوس) میں اس مال کی محبت کی خاطر (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے (یعنی نماز سے) غافل ہوگیا، یہاں تک کہ آفتاب پردہ (مغرب) میں چھپ گیا…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون آیات 30-40
آگے حضرت دائود ؑ کے نامور فرزند حضرت سلیمان کے بعض واقعات زندگی کا حوالہ دے کر واضح فرمایا ہے کہ وہ بھی ٹھیک ٹھیک اپنے باپ ہی کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےمثال عظمت و شوکت عطا فرمائی لیکن وہ کبر و غرور میں مبتلا ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے والے نہیں بنے بلکہ جو قدم بھی وہ اٹھاتے اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اٹھاتے اور اگر کوئی ادنیٰ فروگزاشت بھی ہوجاتی تو فوراً توبہ و استغفار کے لئے اپنے رب کے آگے گر پڑتے۔ یہ واقعات بھی قریش کے لیڈروں کو تذکیر و تنبیہ کے لئے سنائے گئے ہیں … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ووھبنا لدائود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
27۔ 1 بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسے بہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت و اطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
14: یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 40
یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…
Read the full tafseer →4 یعنی سلیمان بیٹا دیا جو انہی کی طرح نبی اور بادشاہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 30 { وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔“
{ نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۔ } ”وہ بہت ہی اچھا بندہ تھا۔ بیشک وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“
Read the full tafseer →38 بات یہاں سے چلی تھی کہ خواہش نفس کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو روز آخرت کے محاسبہ کا خیال نہیں رکھتے۔ پھر روز آخرت پر دو دلائل دینے کے بعد اسی قصہ کی طرف رجوع کیا جارہا ہے۔ کہ ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا فرمایا جو انہی کی طرح نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ اور انہی کی طرح اللہ کے عبادت گزار بھی تھے۔
Read the full tafseer →31۔ (اللہ کی طرف، اور اس کے بڑے سچے پرستار اور موحد تھے، نہ کہ معاذ اللہ مشرک، جیسا کہ بائبل اور دوسرے اسرائیلی نوشتوں میں آپ کو ظاہر کیا گیا ہے) حضرت سلیمان (علیہ السلام) (990 ق ، م تا 930 ق، م) حضرت داؤد کے فرزند و جانشین، علاوہ پیغمبر برحق ہونے کے شام و فلسطین کے عظیم الشان بادشاہ بھی تھے۔ آپ پر مفصل حاشیہ سورة البقر (پ 1) آیت وما کفر سلیمن کے تحت میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” نعم العبد “ یہ وصف حضرت داؤد (علیہ السلام) کا بھی ہوسکتا ہے، لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ یہ وصف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ارشاد ہوا ہے۔ المخصوص بالمدح فی نعم العبد محذوف فقیل ھو سلیمان وقیل داؤد والاول اولی (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →ووھبنا لداود سلیمن نعم العبد انہ اواب اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ وہ بہت اچھا بندہ تھا۔ بلاشبہ وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا۔
اِنَّہٗ اَوَّابٌ یہ پہلے کلام کی علت ہے ‘ یعنی سلیمان اللہ کے اچھے بندے اسلئے تھے کہ وہ توبہ کی صورت میں یا تسبیح کی شکل میں ‘ بہرطورا اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →اور ہم نے داؤد کو حضرت سلیمان فرزند عطا کیے بہت ہی زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کی تابعداری کی طرف رجوع ہونے والے تھے۔
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَ : داؤد ؑ پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے انھیں سلیمان جیسا بلند مرتبے والا بیٹا عطا کیا۔ جو ان کی طرح نبی تھا اور ایسا بادشاہ تھا کہ اس کے بعد ایسا بادشاہ نہیں ہوا۔ سلیمان ؑ کے واقعات کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (78 تا 81) ، نمل (15 تا 44) اور سبا (12)۔
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ : ”اَوَّابٌ“ آبَ یَؤُوْبُ أَوْبًا (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رجوع کرنے والا۔ یعنی وہ اللہ کے بہت اچھے بندے تھے اور اپنے ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہیں اٹھاتے تھے۔ آگے ان کے اللہ تعالیٰ کا اچھا بندہ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30 ۔ 33:۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر کرچکے تو حضرت سلیمان السلام کا ذکر کیا۔ اواب کا معنی مطیع ہے الجیاد کا معنی گھوڑے ہیں یہ جواد کی جمع ہے جس کا معنی گھوڑا ہے جس طرح انسان کو جواد کہتے ہیں جب وہ طبعا بہت ہی سخی ہو یہ کہا جاتا ہے : قوم اجواد خیل جیادیہ بھی کہا جاتا ہے : جاد الرجل بما لہ یجود جو دا فھو جواد۔ یعنی آدمی اپنے مال کے ساتھ سخاوت کرتا ہے قوم جواد جس طرح قذال کی جمع قذل آتی ہے یہاں وائو کو ساکن کردیا گیا ہے کیونکہ یہ حرف علت ہے اس کی جمع اجواد ‘ اجاود ‘ جرداء بھی آتی ہے اسی طرح یہ کہتے ہیں : امراۃ جواد ‘ نسوۃ جود جس طرح نوار اور نور آتی ہے شاعر نے کہا :
صناع یا شفاھا حصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ…
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا [اور ہم نے عطا کیا ] لِدَاوٗدَ [داؤد (علیہ السلام) کو ] سُلَيْمٰنَ ۭ [سلیمان (علیہ السلام) ] نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ [کیا ہی اچھا بندہ ] اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ [بیشک وہ بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے
حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔
گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا
اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →29:۔ ووھبنا الخ : یہ دوسری نقلی دلیل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے پائے کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ ان پر بھی اللہ کی طرف سے ابتلاء آگیا آخر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور توبہ کی۔ وہ تو خود اللہ کے سامنے ایسے عاجز تھے اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے داوٗد (علیہ السلام) کو ہم نے سلیمان (علیہ السلام) ایسا نیک اور لائق فرزند عطا کیا جو اللہ تعالیٰ نہایت فرمانبردار بندہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَ 0 ۭ نِعْمَ الْعَبْدُ 0 ۭ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ 30ۭ
وهب
الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی:
وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ
[إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19]
( و ہ ب ) وھبتہ
ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →وَوَھَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ ط نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 30)
(اور ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا، کیا خوب بندہ تھا، بیشک وہ اپنے اللہ کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حقیقی کمال عبدیت ہے
حضرت دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت کے بعد اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر شروع کیا جارہا ہے۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کسی خوبی اور بڑائی کو ذکر کرنے اور ان کے کسی کمال کا حوالہ دینے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا تھا۔ اس سے شاید اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ سلیمان درحقیقت حضرت دائود (علیہ السلام) کی عبادات،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : اولوالباب میں سے دو عظیم عقل مندوں کا کردارپیش کیا جاتا ہے۔
اسی سورة میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ ! ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد فرمائیں جو طاقت ورہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے اس کے لیے پہاڑ اور پرندے مسخر کیے تھے۔ ہم نے اس کی مملکت کو مضبوط کیا اور اسے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے ہی اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سلیمان (علیہ السلام) بھی بہترین بندہ اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا، اس کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب شام کے وقت اس کے سامنے سکھلائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان ( علیہ السلام) پر گھوڑوں کا پیش کیا جانا :
30: وَوَھَبْنَا لِدَاوٗ دَ سُلَیْمٰنَ نِعْمَ الْعَبْدُ (اور ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا بہت اچھے بندے تھے) یعنی سلیمان۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ دائود (علیہ السلام) ہیں۔ اور یہ درست نہیں مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (بہت رجوع کرنے والے تھے) ممدوح ہونے کی علت اواب بتلائی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
تفسیر 29۔ ، کتاب انزلناہ الیک، یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ۔ ، مبارک، اس میں بہت ساری خیر اور نفع ہیں۔ ، لیدبروا، تاکہ اس میں غور و فکر کرو۔ ، ایاتہ، اور اس میں تفکر کرو۔ ابو جعفر نے، لیتدبروا، پڑھا ہے ایک تاء کے ساتھ اور دال کی تخفیف کے ساتھ۔ حسن کا قول ہے کہ اس کی آیت میں اور اس کی اتباع کرنے والوں میں غور و فکر کرو۔
، ولیتذکر، اور چاہیے کہ نصیحت کریں۔ ، اولوا الالباب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
قول باری ہے (یا دائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ناحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اے دائود (علیہ السلام) ! ہمنے آپ کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے سو لوگوں کے درمیان انصاف فیصلہ کرتے رہیے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجئے کہ وہ اللہ کے راستے سے آپ کو بھٹکادے گی)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حارث بن ابی اسامہ نے، انہیں ابو عبید قاسم بن سلام نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حمید سے اور انہوں نے حسن سے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ نفسانی خواہش کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور انسانوں سے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
45 حضرت سلیمان کی اوابیت کا ایک نمونہ و مثال : جو اس وقت سامنے آیا جبکہ ان کے سامنے شام کے وقت اصیل اور عمدہ و تیز رو گھوڑوں کو پیش کیا گیا۔ " صَافِنَات " جمع ہے " صَافِنْ " کی۔ اور " صَافِنْ " اس گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو تین پاؤں پر کھڑا ہو اور چوتھا پاؤں اس نے ٹیک رکھا ہو۔ اور یہ صفت گھوڑوں میں بڑی عمدہ اور محمود صفت سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ ان کے عمدہ ہونے کی ایک اہم اور واضح علامت و نشانی ہوتی ہے۔ اور " جیاد " جمع ہے " جواد " کی۔ جس کے معنیٰ عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے کے آتے ہیں۔ نیز یہ " جید " کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ (جامع البیان، المراغی، القاسمی، ابن کثیر، الکبیر وغیرہ) ۔ سو یہ گھوڑے اپنی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →(38:30) وھبنا۔ ماضی جمع متکلم وھب وھبۃ مصدر باب فتح ۔ ہم نے بخشا۔ ہم نے عطا کیا۔ وھب المال فلانا اولفلان۔ اس نے فلاں کو مال بخشا۔ عمومال کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ ھب لی۔ ھب لنا۔ وھب لہ۔
سلیمن۔ (نام پیغمبر) مفعول وھبنا کا۔ ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔
نعم العبد ۔ نعم فعل ہے۔ مدح کے لئے آیا ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بمعنی بہت اچھا۔ بہت خوب آتا ہے جیسے فنعم اجر العلمین (3:136) اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے یا نعم المولی ونعم النصیر (8:40) وہ بہت خوب حمایتی اور بہت خوب مددگار ہے۔ نعم العبد بہت اچھا بندہ یہاں ممدوح محذوف ہے ای نعم العبد ھو۔ وہ بہت خوب بندے تھے یہ مدح حضرت داؤد (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔
(ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ف 3: جو اس فلسفہ کو پیش کرنے والی کتاب ہے ، وہ نہایت مبارک ہے ۔ اور ہر صاحب عقل انسان اس کا مخاطب ہے اس کی خواہش ہے کہ سب لوگ اس کے حقائق ومعارف پر غور کریں اور سوچیں ۔ پھر اگر یہ مجموعہ تعلیمات واقعی کارآمد ہو اور لوگوں کو برکت وسعادت سے بہرہ مند کرسکے ۔ تو اس کو قبول کرلیں ۔ ورنہ کوئی شخص اس کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور نہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →(30) اور ہم نے داود کو سلیمان عطا کیا سلیمان اچھا بندہ تھا بلا شبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا۔ یعنی دائود (علیہ السلام) کو سلیمان نامی بیٹا ہم نے عطا کیا وہ سلیمان اچھا بندہ تھا وہ خدا کی طرف بہت رجوع رہا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 3۔ یعنی اس پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →دائود (علیہ السلام) کا بیٹا سلیمان بھی ایک بہت ہی اچھا آدمی تھا
30۔ گزشتہ آیات میں دائود (علیہ السلام) پر جو انعامات کیے گئے ہیں ان کا بیان تھا اور بلاشبہ انہی انعامت میں سے ایک انعام سلیمان (علیہ السلام) جیسا بٹاج بھی تھا۔ گزشتہ واقعات میں ایک اور یاہ کی بیوی کا بیان بھی تھا جس کا ذکر مفسرین نے کیا ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مفسرین نے اس بیوی کو سلیمان (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ٹھہریا ہے جس کا نام ” بت سبع “ لیا جاتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر بھی پیچھے سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور آپ کی سرگزشت بھی عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الانبیاء ص 161 پر درج کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
Commentary
In these verses, an event relating to Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) has been mentioned. The gist of the well known Tafsir of this event is that Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) was so engrossed in the inspection of the horses that he missed to perform the Salah of Al-` Asr at his usual time. Later, when he was alerted to this loss, he slaughtered all those horses as the unfortunate interference in the remembrance of Allah took place because of them.
This missed Salah could be a nafl salah. Given this situation, there should be no difficulty in understanding what Sulayman (علیہ…
Read the full tafseer →32 The Prophet Solomon has been mentioned already at the followings places: AI-Baqarah: 102, Bani Isra'il: 5, AI-Anbiya': 78-82, An-Naml: 15-44, Saba: 12-14.
Read the full tafseer →