Explained with ayahs 27–29
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 31
برکت کے لغوی معنی ہیں " افزائش خیر وسعادت "۔ قرآن مجید کو برکت والی کتاب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ انسان کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ اس کی زندگی کو درست کرنے کے لیے بہترین ہدایات دیتی ہے، اس کی پیروی میں آدمی کا نفع ہی نفع ہے، نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ (تو کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیکو کاروں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کے برابر کردیں گے یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟) یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، بلکہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اسی سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مومن اور کافر کا یہ فرق آخرت کے احکام کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافر کو مومن سے بڑھ کر مادی راحتیں مل جائیں۔ نیز اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ کافر کے دنیوی حقوق مومن کی برابر نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کافر…
Read the full tafseer →کتب انزلنہ الیک صبرک لیدبروآ ایتہ ولیتذکراولوالالباب (29)
قرآن کا مقصد
یہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ انہی حقائق کی یاد دہانی کے لیء ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب اتاری ہے اور یہ ایک مبارک کتاب ہے جو دلوں کے لئے زندگی بخش ہے اور اس کے اتارنے کا مقصد یہ ہے کہ جن کے اندر عقل ہے وہ اس کی آیات پر غور کریں اور ان سے یاد دہانی حاصل کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے جو اس نے لوگوں پر فرمایا ہے بشرطیکہ و گھمنڈ اور مخاصمت کی روش ترک کر کے اس نعمت کی قدر کریں۔ یہ اسی مضمون کا دوسرے الفاظ میں اعادہ ہے جو پہلی آیت میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
27۔ 1 بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسے بہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت و اطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
14: یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت نمبر 27 تا 29
یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ،…
Read the full tafseer →3 یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہوسکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چناچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اس کی نصیحتوں سے منتفع ہوں چناچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو، کس قدر صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید " تدبر " سے قوت علمیہ کی اور " تذکر "…
Read the full tafseer →آیت 29 { کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ} ”اے نبی ﷺ ! یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے“
عربی میں اَلْـبَرَکَۃ کسی چیز میں سے اس کے خیر کو نکالنے والے عامل کو کہتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ ُ potentially کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال dormant ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چناچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا…
Read the full tafseer →37 برکت والی اس لحاظ سے ہے کہ وہ انسان کو اس کے انجام سے پوری طرح خبردار کرتی ہے اور دلائل سے ہر بات سمجھاتی ہے پھر اخروی فلاح کے طریقے بھی بتاتی ہے۔ اور انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کی پیروی میں انسان کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی احتمال نہیں۔ اور اگر صاحب عقل و دانش اس میں کچھ غور و فکر کریں تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں اور اس کتاب کی خیر و برکت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →30۔ (اور استذکر یا نصیحت حاصل کرنے میں اعتقاد رسالت اور سب کچھ آگیا) (آیت) ” لیدبروا ایتہ “۔ یعنی اس کی آیتوں میں غور کرکے یہ دیکھیں کہ اس کا قانون کیسا جامع اور کامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →کتب انزلنہ الیک مبارک لیدبروا ایتہ ولیتذکر اولوا الالباب یہ ایک برکت والی کتاب ہے
جو ہم نے آپ کے پاس اتاری ہے ‘ تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور سمجھ دار لوگ نصیحت پذیر ہوں۔
کِتٰبٌیعنی یہ قرآن اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے۔ مبارک یعنی اس کے اندر خیر اور منفعت کثیر ہے۔ لیدبّروا تاکہ لوگ غور کریں ‘ یعنی آپ اور آپ کی امت کے علماء غور کریں ‘ اس کے ظاہر کو پڑھیں اور صحیح تاویلات کو سمجھیں اور صحیح طور پر معانی کا استنباط کریں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمام اہل دانش غور کریں اور سمجھیں کہ اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے ‘ انسان کی ساختہ پرداختہ ہونے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حسن نے کہا :…
Read the full tafseer →یہ قرآن حکیم جو ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر نازل کیا ہے ایک بابرکت کتاب ہے جس میں ایمان والوں کے لیے رحمت و مغفرت ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ : یعنی جب نیک و بد ایک جیسے نہیں ہوسکتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی راہ نمائی ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، یہ بہت برکت والی ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ خیر کی باتیں جمع ہیں۔
لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ : ”لِّيَدَّبَّرُوْٓا“ اصل میں ”لِیَتَدَبَّرُوْا“ (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ) [ الرعد : 19 ] ”نصیحت تو صرف عقلوں والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27 ۔ 29:۔ باطلا سے مراد ہے مقصد اور کھیل تماشا ہے یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو محض امر صحیح کے لئے پیدا یا ہے وہ ہماری قدرت پر دلالت ہے یہ کفار کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو باطل پیدا کیا ہے۔
کفار کو شرمندہ کرنے کے لئے فرمایا : ام نجعل الذین آمو۔ ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے انجعل الذین اس آیت میں مرجہ کا رد ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں : یہ جائز ہے کہ مفسد ‘ صالح کی طرف ہو یا اس کے درجہ میں بلند ہو بعد والی کلام نجعل المتقین کالفجار بھی اس طرح ہے یعنی کیا ہم سرور دو عالم ﷺ کے صحابہ کو کفار کی طرح بنا دیں گے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ متقین ‘ فجار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت کالمفسدین فی الارض “ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھا کام کئے ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرنے والے ہیں فرمایا (آیت ) ” الذین امنوا “ (جو لوگ ایمان لائے) یعنی حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ ، (آیت ) ” کالمفسدین فی الارض “ (اور زمین میں فساد کرنے والے) یعنی عتبہ، شیبہ، اور ولید انہوں نے بدر کے دن دعوت مبازرت دی تھی۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت “ سے لے کر ” کالفجار “ تک (یعنی) قسم ہے میری زندگی کی یہ آپس میں…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ [(یہ) ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ہم نے اتارا جس کو ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] مُبٰرَكٌ [جو برکت دی ہوئی ہے ] لِّيَدَّبَّرُوْٓا [تاکہ یہ لوگ غور وفکر کریں ] اٰيٰتِهٖ [اس کی آیتوں میں ] وَلِيَتَذَكَّرَ [اور تاکہ نصیحت حاصل کریں ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص عقل والے ] ۔
نوٹ۔ 1: ان آیات میں اسلام کے بنیادی عقائد، خاص طور سے آخرت کا اثبات کیا گیا ہے۔ یہ آیات حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات کے درمیان انتہائی لطیف ترتیب کے ساتھ آئی ہیں۔ اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ سمجھ رہا ہو تو حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ زیر بحث موضوع چھوڑ کر کوئی دوسری بات شروع کردی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
مفسدین اور اعمال صالحہ والے، مؤمنین اور متقین اور فجار برابر نہیں ہوسکتے !
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا تھا اور عنقریب حضرت سلیمان اور ان کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے ان تین آیات میں بطور جملہ معترضہ توحید و رسالت اور معاد کو بیان فرمایا یہی تینوں چیزیں ہیں جن کی طرف قرآن کریم برابر دعوت دیتا ہے اور ان کے ماننے پر آخرت کی بھلائی کا وعدہ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے وجود بخشا یہ سب یوں ہی خواہ مخواہ اور بلا حکمت نہیں ہیں ان کے وجود کو دیکھ کر اول تو خالق کائنات جل مجدہٗ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
بیان حکمت تخلیق کائنات و اثبات حشر وذکر عظمت کتاب خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض ........ الی ولیتذکر او لوا الالباب “۔
گذشتہ آیات کا مضمون حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت کی ذمہ داریوں کے بیان اور اس میں اتباع نفس کے حائل ہونے اور اسکے انجام پر ختم ہوا تھا اس کے بعد اب ان آیات مبارکہ میں تخلیق کائنات کی حکمت بیان فرمائی جارہی ہے اور چونکہ حیات دنیوی آخرت کی تیاری کیلئے ہے تو اجمالا حشر کا اثبات بھی فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ قرآن کریم وہ کتاب مبارک ہے جسکی آیات میں تدبر اور ایمان وتقوی اور کفر ونافرمانی اور صلاح و فساد میں فرق واضح کرکے انسانوں کے دو گروہ متعین…
Read the full tafseer →28:۔ کتاب الخ : یہ دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو دین و دنیا کی برکات کی حامل ہے۔ ہم نے اس لیے نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور سمجھیں کہ اللہ کے سوا کوئی شفیع غالب نہیں۔ اس وحی الٰہی نے پوری صراحت سے شفاعت قہری کی نفی کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار کی طعن وتشنیع اور غلط بیانی پر حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو صبر کی تلقین کی ، پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ بھی ابتدا آپ کی طرح نادار ہی تھے کوئی جدی پشتی بادشاہ نہیں تھے نہ ان کے پاس مال و دولت تھا مگر اللہ نے انکو بےانتہا قوت عملی عطا فرمائی تھی ، انہوں نے سخت محنت اٹھائی اور جہاد میں کامیابی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور خلافت دونوں چیزیں عطا فرمائیں ۔ فرمایا آپ مطمئن رہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وسیع سلطنت عطا کرے گا ،
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کا تذکرہ کیا کچھ لوگ دیوار پھاند کر ان کے…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 29
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰـہُ اِلَیْکَ مُبٰـرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَا اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 29)
(یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ )
نزولِ قرآن کا مقصد
آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انہی حقائق کی یاددہانی اور تفہیم کے لیے ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب اتاری ہے۔ اور اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ مبارک ہے۔ برکت کا لفظ اضافے کے لیے بولا جاتا ہے اور جب کتاب ہدایت کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد لغوی طور پر بھی افزائشِ خیروسعادت ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : فساد سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے ارشاد ات پر عمل کیا جائے۔
فساد سے امن وامان تباہ ہوتا ہے جہاں امن وامان تباہ ہوگا وہاں سے برکات اٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا دنیا کی برکات اور آخرت کے ثمرات حاصل کرنے کے کا واحد راستہ اور طریقہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید پر غور و فکر کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ یہی عقل مندی ہے اور عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ یہی بات جنت سے نزول کے وقت آدم (علیہ السلام) کو بتلائی گئی تھی۔ سب نیچے اتر جاؤ۔ میری طرف سے تمہیں ہدایت پہنچے گی جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے۔ “ (…
Read the full tafseer →29: کِتٰبٌ (یہ کتاب ہے) اَنْزَلْنٰـہُ اِلَیْکَ (جس کو ہم نے تیری طرف اتارا) یعنی قرآن مجید مُبٰرَکٌ (با برکت ہے) یہ دوسری صفت ہے۔ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ (تاکہ وہ اس کی آیات پر غور کریں) اس کی اصل لیتدبروا ہے اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے۔ اور اس کا معنی تاکہ وہ اس میں سوچ و بچار کریں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی اطلاع پائیں اور اس پر عمل کریں۔
قولِ حسن (رح) :
اس قرآن کو غلاموں اور بچوں نے پڑھا۔ جن کو اسکے مطالب کا علم نہیں اور اسکے حروف کو یاد کیا اور اس کی حدود کو ضائع کیا۔
قراءت : یزید نے لتدبّروا خطاب کا صیغہ ایک تاء کو حذف کرکے پڑھا ہے۔ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (تاکہ اہل فہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
تفسیر 29۔ ، کتاب انزلناہ الیک، یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ۔ ، مبارک، اس میں بہت ساری خیر اور نفع ہیں۔ ، لیدبروا، تاکہ اس میں غور و فکر کرو۔ ، ایاتہ، اور اس میں تفکر کرو۔ ابو جعفر نے، لیتدبروا، پڑھا ہے ایک تاء کے ساتھ اور دال کی تخفیف کے ساتھ۔ حسن کا قول ہے کہ اس کی آیت میں اور اس کی اتباع کرنے والوں میں غور و فکر کرو۔
، ولیتذکر، اور چاہیے کہ نصیحت کریں۔ ، اولوا الالباب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
26۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور شمویل (علیہ السلام) نبی کی وفات کے بعد نبوت یہ دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے دائود اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیا اور بادشاہوں کا تم کو نائب اس لئے ملک میں مقرر کیا ہے۔ کہ بغیر دل کی چاہ کے لگائو کے خالص حکم الٰہی کے موافق نبوت اور حکومت کو چلائو اور دل کی چاہ کے لگائو سے تم کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ دل کی چاہ آدمی کو حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور ڈال دیتی ہے۔ اور حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور پڑجانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو قیامت کے حساب و کتاب…
Read the full tafseer →آیت 29
اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین و آسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے اور مصلحت کے کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ : (آیت) ” یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے “ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ : (آیت) ” پس کافروں کے لئے آپ کی ہلاکت ہے۔ “ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انہیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لئے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
قول باری ہے (یا دائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ناحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اے دائود (علیہ السلام) ! ہمنے آپ کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے سو لوگوں کے درمیان انصاف فیصلہ کرتے رہیے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجئے کہ وہ اللہ کے راستے سے آپ کو بھٹکادے گی)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حارث بن ابی اسامہ نے، انہیں ابو عبید قاسم بن سلام نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حمید سے اور انہوں نے حسن سے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ نفسانی خواہش کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور انسانوں سے نہ…
Read the full tafseer →42 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب ہے "۔ جس کی خیر و برکت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ اور جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن کتاب ہے۔ پس تم سب اے لوگو ! اپنی زندگی سنوارنے اور اپنی دنیا و آخرت بنانے کے لئے اس کتاب حکیم کی ہدایات اور مقدس تعلیمات کو دل و جان سے اپناؤ کہ اسی میں تمہارے لئے دارین کی فوز و فلاح کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس کتاب حکیم کو ہم نے اتارا ہے۔ یہ دلوں کی زندگی اور بصیرت و بصارت کا نور ہے۔ اور اس کو اتارا اس لیے گیا ہے کہ عقل سلیم رکھنے والے اس کی آیتوں میں غور کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
کوئی چیز بےمقصد نہیں ہے
تشریح : ان آیات میں بڑی پتے کی باتیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل تماشہ ہے کھاؤ پیوعیش کرو اور بس مرجاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں ہر چیز ہر کام کا دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح اس دنیا کا دوسری دنیا کے ساتھ تعلق ہے۔ اصل میں یہ دنیا خاتمہ کا نام نہیں بلکہ ایک دوسری دنیا کے شروع ہونے کا نام اور ذریعہ ہے۔ جب ہماری زندگی کی ابتدا ہوتی ہے تو ایک انتہائی باریک سپرم کے اندر ہماری پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل لکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ تقدیر دراصل امتحانی پرچہ ہوتا ہے جو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →(38:29) کتب۔ خبر مبتدا محذوف ای ھو کتاب (ای القران) انزلنا الیک۔ کتاب کی صفت ہے ک ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ مبارک خبر ثانی یا کتاب کی صفت۔
ترجمہ ہوگا :۔ یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے بڑی حکمت والی ہے۔
لیدبروا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یدبروا مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ تدبر (تفعل) سے مصدر اصل میں یتدبروا تھا۔ تاء کو دال سے بدل کر دال کر دال میں مدغم کیا۔ تاکہ وہ غور کریں ۔ تاکہ وہ سوچیں۔
ایتہ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات (کتاب کی آیات) ای فی ایتہ۔
لیتذکر۔ لام تعلیل۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر سے بمعنی نصیحت پکڑنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
اولوا الالباب۔ عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29 :۔ باطل (فضول ، بےکار) ظن ( گمان ، تصور ، خیال) ویل ( بربادی) ام ( کیا) لیدبروا ( تا کہ وہ غور و فکر کریں) ۔
تشریح آیت نمبر 27 تا 29 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی ہر چیز کو ایک مقصد سے کیا ہے کوئی چیز بےمقصد اور بےقیمت نہیں ہے۔ جس کا مقصد جتنا اعلیٰ اور بہتر ہے اس کی قیمت اور وزن بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے دنیا کی ہر چیز انسانوں کے لئے بنھائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ شک دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے لیکن تم آخرت کے لئے بنائے گئے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ انسان کے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ف 1) اے داؤد (علیہ السلام) ، تم کو زمین میں اپنا نائب بنایا لہذاسی کے حکم کے مطابق چلو، اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو، کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنی شائبہ بھی نہ آنے پائے کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ میں بہکادینے والی ہے اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکاتو پھر ٹھکانا کہاں، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام کرنا چاہیے اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق وعدل کے اصول پرکاربند ہو، اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے کھاپی کر ختم کردیں گے آگے حساب کتاب کچھ نہیں ، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ف 3: جو اس فلسفہ کو پیش کرنے والی کتاب ہے ، وہ نہایت مبارک ہے ۔ اور ہر صاحب عقل انسان اس کا مخاطب ہے اس کی خواہش ہے کہ سب لوگ اس کے حقائق ومعارف پر غور کریں اور سوچیں ۔ پھر اگر یہ مجموعہ تعلیمات واقعی کارآمد ہو اور لوگوں کو برکت وسعادت سے بہرہ مند کرسکے ۔ تو اس کو قبول کرلیں ۔ ورنہ کوئی شخص اس کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور نہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →(29) یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل وعقل و دانش اس سے نصیحت حاصل کریں۔ حضرت حسن بصری ؓ سے منقول ہے کہ تدبر آیات قرآنی کا یہ ہے کہ ان کا اتباع کرے تذکرہ اور تدبر کا حاصل یہی ہے آگے پھر بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قصص کا تذکرہ فرمایا اور یہ توحید و رسالت اور بعثت کا تذکرہ ضمناً آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 3۔ یعنی اس پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →یہ قرآن ایک مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے
29۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کتب سماوی ہی مبارک اور برکت والی ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر بابرکت کتاب الٰہی قرآن کریم ہی ہے اور اس کا بابرکت ہونا اظہر من الشمس ہے۔ اس لیے کہ ساری کتب سماوی میں تحریف ہوئی اور کسی کتاب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہ لی کہ اس کتاب میں کوئی تحریف نہیں کرسکے گا بلکہ ساری کتب سماوی میں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود قرآن کریم نازل کرنے والے نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے وضاحت کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقی ج پنجم سورة الحجر کی آیت 9 ، ج ہشتم سورة القیامہ کی آیت 19 اس کے بعد مضمون دوبارہ دائود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
In verse 28, it was said: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ (Shall We make those who believe and do righteous deeds equal to those who commit mischief on the earth? Or shall We make the God-fearing equal to the sinners?) - that is, this can never be. In fact, the end of both will be totally different. Right from here, we learn that this difference between a believer and disbeliever is there in terms of the injunctions of the Hereafter. While living in the present world, it is quite possible that…
Read the full tafseer →31 The Qur'an has been called a blessed Book in the sense that it is highly useful for man: it gives him the best guidance to improve and reform his life: by following it he has only to gain and nothing to lose.
Read the full tafseer →