Explained with ayahs 27–29
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 30
یعنی کیا تمہارے نزدیک یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر کار یکساں ہوجائیں ؟ کیا یہ تصور تمہارے لیے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد آدمی کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی محاسبہ نہ ہو اور انسانی افعال کی کوئی جزا و سزا نہ ہو تو اس سے اللہ کی حکمت اور اس کے عدل دونوں کی نفی ہوجاتی ہے اور کائنات کا پورا نظام ایک اندھا نظام بن کر رہ جاتا ہے۔ اس مفروضے پر تو دنیا میں بھلائی کے لیے کوئی محرک اور برائی سے روکنے کے لیے کوئی مانع سرے سے باقی ہی نہیں رہ جاتا ہے۔ خدا کی خدائی اگر معاذاللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ (تو کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیکو کاروں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کے برابر کردیں گے یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟) یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، بلکہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اسی سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مومن اور کافر کا یہ فرق آخرت کے احکام کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافر کو مومن سے بڑھ کر مادی راحتیں مل جائیں۔ نیز اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ کافر کے دنیوی حقوق مومن کی برابر نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کافر…
Read the full tafseer →ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصلحت کا لمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کا لفجار (28)
یہ سوال بانداز تعجب ہے کہ جو لوگ آخرت اور جزا و سزا کو نہیں مانتے ہیں کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ہم ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا کرنے الوں کو برابر کردیں گے یا خدا سے ڈرنے والوں اور نافرمانوں کے ساتھ ہمارا معاملہ یکساں ہوگا ؟ یعنی آخرت کو نہ ماننے کا بدیہی نتیجہ یہی سامنے آتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا ایک حکیم و رحیم اور قادر و عزیز خدا کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت سیدنا مسیح ؑ نے تاکستان والی تمثیلوں میں مختلف اسلوبوں سے سمجھائی ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
27۔ 1 بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسے بہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت و اطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →13: یہ آخرت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے، اور پچھلی آیتوں سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب ہم نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے خلیفہ کی حیثیت میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں تو کیا ہم خود انصاف نہیں کریں گے ؟ اسی انصاف کے لیے آخرت میں حساب و کتاب ہوگا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ہم نے نیک لوگوں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اور دنیا میں چاہے کوئی شخص اچھے کام کرے یا بدکاری کا مرتکب ہو، نہ اس سے کوئی باز پرس ہونی ہے اور نہ نیک آدمی کو کوئی انعام ملنا ہے۔ ایسی بےانصافی اللہ تعالیٰ کیسے گوارا فرما سکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت نمبر 27 تا 29
یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ،…
Read the full tafseer →2 یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسی لیے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزاء سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بےحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر " یوم الحساب " کی خبر کا انکار…
Read the full tafseer →آیت 28 { اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کردیں گے ؟“
ظاہر ہے دنیا میں کچھ لوگ نیکو کار ہیں جو اکثر بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہتے ہیں ‘ جبکہ کچھ لوگ بدمعاش ‘ ظالم اور شریر ہیں جو ہر وقت بد امنی پھیلانے اور لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انسان کے لیے اسی دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہوتی اور آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک لوگ اور مجرمین ایک جیسے ہوجاتے۔ یوں نہ تو نیکی کے راستے پر چلنے ‘ غلط کاریوں سے بچنے اور قدم قدم…
Read the full tafseer →36 دوسری دلیل عدل کا تقاضا :۔ یعنی یہ آیت ہر انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیئے جانے کی ضرورت یا آخرت کے قیام پر ایک عقلی دلیل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اے روز آخرت سے انکار کرنے والو ! کیا تمہارے خیال کے مطابق یہ درست ہے۔ کہ ایک نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی معاوضہ یا بدلہ نہ ملے، نہ بدکار کو اس کی بدکاری کی سزا ملے ؟ اس دنیا میں اگر کوئی شخص ساری زندگی دوسروں کے حقوق غصب کرتا رہے اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہے پھر مرجائے تو اسے کوئی سزا نہ دی جائے یا ایک انسان خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں سے بھلائی اور ہمدردی کرتا رہا ہے اور ساری زندگی دکھوں میں گزار کر مرگیا ہے تو اسے اس کے نیک…
Read the full tafseer →29۔ مطلب یہ ہوا کہ وقوع قیامت کی تو خود ایک بڑی حکمت وغایت یہی ہے کہ جزاوسزا کامل ہو، اور مفسدوں، بدکاروں، منکروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اب جو نادان وقوع قیامت کے منکر ہیں، وہ اس حکمت کو بھی ناقابل اعتناء سمجھ رہے ہیں۔ (آیت) ” کالمفسدین فی الارض “۔ یہ مفسدین فی الارض وہی لوگ ہیں، جو قانون شریعت سے بغاوت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، اور جس کا ایک لازمی نتیجہ فساد فی الارض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار
ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ‘ ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں تباہی پھیلانے والے ہیں ‘ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے ؟
اَمْ نَجْعَلُ میں اَمْ بمعنی بَلْ ہے۔ عالم کی تخلیق کو اگر بےکار مانا جائے تو یہ تسلیم کرنا لازم ہوجائے گا کہ کافر و مؤمن میں کوئی فرق نہیں ‘ دونوں برابر ہیں۔ اس مساوات کی نفی کیلئے انکاری سوال کیا گیا اور بَلْ کے ذریعہ سے آسمان و زمین کے بیکار پیدا کرنے سے اعراض مستفاد ہوگیا۔ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ میں سوال انکاری ہے۔ پہلے مؤمنوں اور کافروں کی مسافات…
Read the full tafseer →کیا ہم لوگوں کو جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے جیسا کہ حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ بن حارث کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو کہ شرک کرتے پھرتے ہیں جیسا کہ عتبہ شیبہ ولید بن عتنبہ اور کیا ہم کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کو کافروں کی طرح کردیں گے۔ غزوہ بدر میں عتبہ، شیبہ، ولید نے حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ سے مقابلہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی نے ولید بن عتنبہ کو اور حضرت حمزہ نے عتبہ بن ربیعہ کو اور حضرت عبیدہ نے شیبہ کو قتل کردیا۔
Read the full tafseer →اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ : یہ یوم حساب حق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ اگر یوم حساب نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان اور عمل صالح والے اور زمین میں فساد کرنے والے ہمارے ہاں ایک جیسے ہیں، اس طرح ہم سے ڈرنے والے اور ڈھیٹ بن کر نافرمانی کرنے والے دونوں یکساں ہیں۔ خود ہی سوچو، کیا عدل و حکمت کا تقاضا یہ ہے اور کیا ہم ایسا ہونے دیں گے ؟ دنیا میں تو امتحان کی وجہ سے اور مختصر مدت ہونے کی وجہ سے نیک و بد کی جزا و سزا پوری طرح ممکن نہیں، یہ سب کچھ یوم حساب میں ہوگا۔ اس کی ہم معنی سورة جاثیہ کی آیت (21) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27 ۔ 29:۔ باطلا سے مراد ہے مقصد اور کھیل تماشا ہے یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو محض امر صحیح کے لئے پیدا یا ہے وہ ہماری قدرت پر دلالت ہے یہ کفار کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو باطل پیدا کیا ہے۔
کفار کو شرمندہ کرنے کے لئے فرمایا : ام نجعل الذین آمو۔ ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے انجعل الذین اس آیت میں مرجہ کا رد ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں : یہ جائز ہے کہ مفسد ‘ صالح کی طرف ہو یا اس کے درجہ میں بلند ہو بعد والی کلام نجعل المتقین کالفجار بھی اس طرح ہے یعنی کیا ہم سرور دو عالم ﷺ کے صحابہ کو کفار کی طرح بنا دیں گے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ متقین ‘ فجار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت کالمفسدین فی الارض “ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھا کام کئے ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرنے والے ہیں فرمایا (آیت ) ” الذین امنوا “ (جو لوگ ایمان لائے) یعنی حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ ، (آیت ) ” کالمفسدین فی الارض “ (اور زمین میں فساد کرنے والے) یعنی عتبہ، شیبہ، اور ولید انہوں نے بدر کے دن دعوت مبازرت دی تھی۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت “ سے لے کر ” کالفجار “ تک (یعنی) قسم ہے میری زندگی کی یہ آپس میں…
Read the full tafseer →اَمْ نَجْعَلُ [کیا ہم بنائیں گے ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ [اس زمین میں نظم بگاڑنے والوں کے جیسا ] اَمْ نَجْعَلُ [یا ہم بنائیں گے ] الْمُتَّقِيْنَ [تقوی اختیار کرنے والوں کو ] كَالْفُجَّارِ [فاجروں کے جیسا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
مفسدین اور اعمال صالحہ والے، مؤمنین اور متقین اور فجار برابر نہیں ہوسکتے !
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا تھا اور عنقریب حضرت سلیمان اور ان کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے ان تین آیات میں بطور جملہ معترضہ توحید و رسالت اور معاد کو بیان فرمایا یہی تینوں چیزیں ہیں جن کی طرف قرآن کریم برابر دعوت دیتا ہے اور ان کے ماننے پر آخرت کی بھلائی کا وعدہ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے وجود بخشا یہ سب یوں ہی خواہ مخواہ اور بلا حکمت نہیں ہیں ان کے وجود کو دیکھ کر اول تو خالق کائنات جل مجدہٗ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
بیان حکمت تخلیق کائنات و اثبات حشر وذکر عظمت کتاب خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض ........ الی ولیتذکر او لوا الالباب “۔
گذشتہ آیات کا مضمون حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت کی ذمہ داریوں کے بیان اور اس میں اتباع نفس کے حائل ہونے اور اسکے انجام پر ختم ہوا تھا اس کے بعد اب ان آیات مبارکہ میں تخلیق کائنات کی حکمت بیان فرمائی جارہی ہے اور چونکہ حیات دنیوی آخرت کی تیاری کیلئے ہے تو اجمالا حشر کا اثبات بھی فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ قرآن کریم وہ کتاب مبارک ہے جسکی آیات میں تدبر اور ایمان وتقوی اور کفر ونافرمانی اور صلاح و فساد میں فرق واضح کرکے انسانوں کے دو گروہ متعین…
Read the full tafseer →27:۔ ام نجعل الخ : یہ زجر ہے۔ قیامت کا انکار در اصل جزاء و سزا کا انکار ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایمان والے جن کی زندگی اصلاح وتقوی میں بسر ہو وہ ان فساق فجار کے برابر ہوجائیں جن کی زندگیوں کا مشن ہی شر و فساد بپا کرنا ہے اگر جزاء و سزا نہیں تو متقین جزاء اعمال سے محروم اور مفسدین بد عملی کی سزا سے محفوظ رہیں گے حالانکہ یہ سراسر بےانصافی اور خلاف عقل ہے۔ والمراد انہ لو بطل الجزاء کما یقول الکفار لاستوت احوال من اصلح وافسد واتقی وفجر و من سوی بینہم کان سفیہا ولم یکن حکیما (مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار کی طعن وتشنیع اور غلط بیانی پر حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو صبر کی تلقین کی ، پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ بھی ابتدا آپ کی طرح نادار ہی تھے کوئی جدی پشتی بادشاہ نہیں تھے نہ ان کے پاس مال و دولت تھا مگر اللہ نے انکو بےانتہا قوت عملی عطا فرمائی تھی ، انہوں نے سخت محنت اٹھائی اور جہاد میں کامیابی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور خلافت دونوں چیزیں عطا فرمائیں ۔ فرمایا آپ مطمئن رہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وسیع سلطنت عطا کرے گا ،
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کا تذکرہ کیا کچھ لوگ دیوار پھاند کر ان کے…
Read the full tafseer →اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ 0 ۡاَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ ز اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ۔ (صٓ: 28)
(کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ان کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں گے، کیا ہم متقیوں کو فاجروں جیسا بنادیں گے۔ )
آخرت سے انکار کا نتیجہ
یہ نتیجہ ہے آخرت سے انکار کرنے والوں کی فکر کا، کہ اگر ان کی اس بات کو مان لیا جائے کہ دنیا میں جس شخص نے نیکی کی اس کا کوئی صلہ نہیں، اور جس نے برائی کی اس کی کوئی سزا نہیں۔ کیونکہ دنیا میں ہر نیکی کی جزاء نہیں ملتی۔ اور ہر برائی کی سزا ممکن نہیں ہوتی۔ کتنے ایسے بڑے بڑے مجرم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ آخرت کے حساب کو بھول گئے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں وہ زینًا یا عملاً سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو بےمقصد پیدا کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے ذمے کچھ ذمہ داریاں لگائیں ہیں جن کا حساب دینا پڑے گا۔
اس سے پہلی آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حوالے سے ہر شخص کو بتلایا اور سمجھایا ہے کہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں لگنا۔ جو اپنی خواہش کے پیچھے چلا وہ گمراہ ہوا۔ اس کی گمراہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کے حساب و کتاب کو بھول چکا ہے۔ جو قیامت کے حساب کو بھول گیا وہ زبان سے کہے یا نہ کہے اس کا عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس دنیا کے بعد کوئی جہان نہیں…
Read the full tafseer →28: اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے) کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ (ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ یا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے) ام منقطعہ ہے۔ اور استفہام انکاری ہے۔ مراد یہ ہے اگر جزاء باطل ہو جیسا کہ کفار کہتے ہیں تو نیک وبد کے احوال برابر ہوئے اور متقین اور فاجر میں فرق نہ ہوا اور جو ان کے مابین برابری کرتا ہے وہ عقل مند نہیں بلکہ عقل سے پیدل اور بیوقوف ہے۔
Read the full tafseer →28، ام نجعل الذین آمنواوعملوا الصالحات کالمفسدین فی الارض، مقاتل کا بیان ہے کہ کفار قریش کہا کرتے تھے کہ آخرت میں جو بھلائی تم کو ملے گی وہ ہم کو بھی ملے گی۔ اس قول کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ، ام نجعل المتقین کالفجار، کیا یہ مؤ منین کافروں کی طرح ہوسکتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ متقین سے مراد آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
26۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور شمویل (علیہ السلام) نبی کی وفات کے بعد نبوت یہ دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے دائود اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیا اور بادشاہوں کا تم کو نائب اس لئے ملک میں مقرر کیا ہے۔ کہ بغیر دل کی چاہ کے لگائو کے خالص حکم الٰہی کے موافق نبوت اور حکومت کو چلائو اور دل کی چاہ کے لگائو سے تم کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ دل کی چاہ آدمی کو حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور ڈال دیتی ہے۔ اور حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور پڑجانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو قیامت کے حساب و کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
قول باری ہے (یا دائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ناحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اے دائود (علیہ السلام) ! ہمنے آپ کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے سو لوگوں کے درمیان انصاف فیصلہ کرتے رہیے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجئے کہ وہ اللہ کے راستے سے آپ کو بھٹکادے گی)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حارث بن ابی اسامہ نے، انہیں ابو عبید قاسم بن سلام نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حمید سے اور انہوں نے حسن سے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ نفسانی خواہش کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور انسانوں سے نہ…
Read the full tafseer →41 قیام قیامت لازمی اور ضروری ہے : سو ضرورت قیامت کے اثبات کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے "۔ اور جب ایسا نہیں اور ہرگز اور یقینا ایسے نہیں ہوسکتا تو پھر قیامت کا قائم ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ اور یہ عقل اور نقل دونوں کا بدیہی تقاضا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں جو کہ دراصل ایک ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے اس میں ان دونوں گروہوں کا امتیاز ثمرات و نتائج کے اعتبار سے ظاہر نہیں ہو رہا تو یقینا اور لازماً ایک ایسا دن ہوگا اور ضرور ہونا چاہیئے جس میں ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بھرپور بدلہ پائے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوں اور نیکی و بدی کا فرق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
کوئی چیز بےمقصد نہیں ہے
تشریح : ان آیات میں بڑی پتے کی باتیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل تماشہ ہے کھاؤ پیوعیش کرو اور بس مرجاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں ہر چیز ہر کام کا دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح اس دنیا کا دوسری دنیا کے ساتھ تعلق ہے۔ اصل میں یہ دنیا خاتمہ کا نام نہیں بلکہ ایک دوسری دنیا کے شروع ہونے کا نام اور ذریعہ ہے۔ جب ہماری زندگی کی ابتدا ہوتی ہے تو ایک انتہائی باریک سپرم کے اندر ہماری پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل لکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ تقدیر دراصل امتحانی پرچہ ہوتا ہے جو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی کفر و شرک کی راہ پر چلتے رہے۔7 اس سوال سے مقصود آخرت اور اس میں ہونے والے حساب و کتاب کی دلیل پیش کرنا ہے۔ یعنی اگر آخرت اور اس میں اعمال کا محاسبہ نہ ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کی نفی ہوتی ہے اور اس سے کائنات کا پورا نظام محض ایک بےمقصد کھیل تماشہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(38:28) ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض۔ یہاں ام منقطعہ مقدرہ بہ بل والھمزۃ آیا ہے۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ ای بل انجعل المؤمنین المصلحین کالکفرۃ المفسدین فی الارض۔ بلکہ کیا ہم مصلح مؤمنوں کو ان کافروں کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں (نہیں یہ نہیں ہوگا) ۔
علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ ام نجعل میں ام بمعنی بل آیا ہے۔ عالم تخلیق کو اگر بےکار مانا جائے تو یہ تسلیم کرنا لازم ہوجائے گا کہ کافرو مومن میں کوئی فرق نہیں ۔ دونوں برابر ہیں اس مساوات کی نفی کے لئے انکاری سوال کیا گیا اور بل کے ذریعہ سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے اعراض مستفاد ہوگیا۔
ام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29 :۔ باطل (فضول ، بےکار) ظن ( گمان ، تصور ، خیال) ویل ( بربادی) ام ( کیا) لیدبروا ( تا کہ وہ غور و فکر کریں) ۔
تشریح آیت نمبر 27 تا 29 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی ہر چیز کو ایک مقصد سے کیا ہے کوئی چیز بےمقصد اور بےقیمت نہیں ہے۔ جس کا مقصد جتنا اعلیٰ اور بہتر ہے اس کی قیمت اور وزن بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے دنیا کی ہر چیز انسانوں کے لئے بنھائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ شک دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے لیکن تم آخرت کے لئے بنائے گئے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ انسان کے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ف 1) اے داؤد (علیہ السلام) ، تم کو زمین میں اپنا نائب بنایا لہذاسی کے حکم کے مطابق چلو، اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو، کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنی شائبہ بھی نہ آنے پائے کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ میں بہکادینے والی ہے اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکاتو پھر ٹھکانا کہاں، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام کرنا چاہیے اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق وعدل کے اصول پرکاربند ہو، اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے کھاپی کر ختم کردیں گے آگے حساب کتاب کچھ نہیں ، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Read the full tafseer →ف 2: یعنی جب یہ مسلم ہے ۔ کہ دنیا کی تخلیق کا ایک معین مقصد ہے ۔ تو پھر یہ بھی صحیح ہے کہ جو لوگ اس نصب العین کی تکمیل میں مصروف ہیں ۔ اور اس غرض ومقصد کی مخالفت کرتے ہیں ۔ برابر نہیں ہیں ۔ پہلی قسم کے لوگ مومن اور صالح ہیں ۔ اور دوسری قسم کے لوگ مفسد ظاہر ہے کہ ایمان اور تقویٰ ہیں اور فساد وفجور میں کوئی نسبت ہی نہیں ۔ ایمان سے کائنات کی تعمیر ہے اور کفر سے عالم کون کی تخریف ۔
Read the full tafseer →(28) تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ایسے حضرات کو ان شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں کفر وشرک پھیلا کر فساد برپا کرتے رہتے ہیں یا ہم متقیوں اور پرہیزگاروں کو بدکاروں اور باجروں کے برابر کردیں گے۔ یعنی قیامت کے نہ آنے کو یہ مستلزم ہے کہ برے بھلوں کو اپنی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے بھلا ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا صلہ نہ ملے اور بدکاروں اور شریوں کو ان کی بدکاری اور شرارت کی پاداش نہ دی جائے۔ آگے رسالت اور نبی کریم ﷺ کے رسول ہونے کا اظہار ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 2۔ یہ بات اوروں کو سنا جو ٹھیک رہی ہے۔
Read the full tafseer →کیا امن بحال کرنے والے اور فساد مچانے والے بھی برابر ہو سکتے ہیں ؟
28۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان لوگوں کی مانند کردیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں اور برے عمل کمانے والے ہیں ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم پرہیز گاروں کو فاسقوں اور فاجروں کی مانند بنا دیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو بلاشبہ ان سارے لوگوں میں امتیاز ممکن ہی نہیں رہتا اس دنیا میں ان دونوں اقسام کے لوگوں کا ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت ضرور بپا ہوگی ورنہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ قانون اندھیر نگری ہو کر رہ جائے۔ قیامت کا بپا ہونا اور جزا و سزا کا لازم ہونا ہی ان دونوں گروہوں کے وجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
In verse 28, it was said: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ (Shall We make those who believe and do righteous deeds equal to those who commit mischief on the earth? Or shall We make the God-fearing equal to the sinners?) - that is, this can never be. In fact, the end of both will be totally different. Right from here, we learn that this difference between a believer and disbeliever is there in terms of the injunctions of the Hereafter. While living in the present world, it is quite possible that…
Read the full tafseer →30 That is, "Do you think it is reasonable and fair that both the pious and the wicked should be treated alike in the end? Do you regard this concept as satisfying that the pious man should not get any reward for his piety and the wrongdoer should not receive any punishment for his sins? Obviously, if there is to be no Hereafter, and there is to be no accountability and no rewards and no punishments for human acts, it negates both Allah's wisdom and His justice, and the entire order of the Universe becomes a blind order. On this assumption there remains no motive for doing good and no…
Read the full tafseer →