Explained with ayahs 34–40
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔
ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر…
Read the full tafseer →سورة صٓ 36
سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس جگہ اصل مقصد یہی واقعہ بیان کرنا ہے اور پچھلی آیات اسی کے لیے بطور تمہید ارشاد ہوئی ہیں۔ جس طرح پہلے حضرت داؤد کی تعریف کی گئی، پھر اس واقعہ کا ذکر کیا گیا جس میں وہ مبتلائے فتنہ ہوگئے تھے، پھر بتایا گیا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے ایسے محبوب بندے کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہ چھوڑا، پھر ان کی یہ شان دکھائی گئی کہ فتنے پر متنبہ ہوتے ہی وہ تائب ہوگئے اور اللہ کے آگے جھک کر انہوں نے اپنے اس فعل سے رجوع کرلیا، اسی طرح یہاں بھی ترتیب کلام یہ ہے کہ پہلے حضرت سلیمان ؑ کے مرتبہ بلند اور شان بندگی کا ذکر کیا گیا ہے، پھر بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
خلاصہ تفسیر
(حضرت سلیمان نے اللہ سے) دعا مانگی کہ اے میرے رب میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانہ میں) کسی کو میسر نہ ہو (خواہ کوئی غیبی وھبی سامان عطا کر دیجئے خواہ سلاطین زمانہ کو ویسے ہی دبا دیجئے تاکہ مقابلہ ہی نہ کرسکیں اور) آپ بڑے دینے والے ہیں (آپ کو اس دعا کا قبول کرلینا کچھ دشوار نہیں) سو (ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی خطا بھی معاف کردی اور نیز) ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتے نرمی سے چلتی (کہ اس سے گھوڑوں کی ضرورت نہ رہی) اور جنات کو بھی ان کے تابع کردیا یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کی دعا اور اس کا صحیح مدعا
قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لایبغی لاحد من بعدی انک انت الوہاب اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تو مجھے ایسی بادشاہی دے جیسی بادشاہی میرے بعد کسی اور کون ہملے بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے کسی حکومت کا اہل تو نہیں رہ گیا ہوں، تاہم تو اپنے فضل سے مجھے ایسی بادشاہی دے جس کا سزاوار نہ میں ہوں نہ میرے بعد کوئی اور ہوگا۔
انک انت الوہاب یعنی تو بڑا بخشنے الا یہ۔ اس وجہ سے میں بھی، اپنی غلطیوں کے باوجود، امیدوار ہوں کہ تو مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔
اس دعا میں اصل زور بادشاہی کی بےمثال عظمت و شوکت پر نہیں بلکہ بلا استحقاق بادشاہی دیئے…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو، تیری حکمت و مشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی با اختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہی تھی۔
Read the full tafseer →17: حضرت سلیمان ؑ کو ہواؤں اور جنات اور پرندوں پر جو سلطنت حاصل ہوئی، وہ بعد میں کسی کو نہ ہوسکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 40
یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…
Read the full tafseer →7 یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرما جو میرے سوا کسی کو نہ ملے، نہ کوئی دوسرا اس کا اہل ثابت ہو یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو حوصلہ نہ ہو کہ مجھ سے چھین سکے۔ (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ ہر نبی کی ایک دعاء جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اجابت کا وعدہ فرما لیا ہے یعنی وہ دعا ضرور ہی قبول کریں گے۔ شاید حضرت سلیمان کی یہ وہ ہی دعا ہو۔ آخر نبی زادے اور بادشاہ زادے تھے۔ دعا میں بھی یہ رنگ رہا کہ بادشاہت ملے اور اعجازی رنگ کی ملے۔ وہ زمانہ ملوک اور جبارین کا تھا، اس حیثیت سے بھی یہ دعا مذاق زمانہ کے موافق تھی اور ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقصد ملک حاصل کرنے سے اپنی شوکت و حشمت کا مظاہرہ کرنا نہیں۔…
Read the full tafseer →آیت 35 { قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ } ”اس نے دعا کی : پروردگار ! مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو ‘ یقینا تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔“
چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرماتے ہوئے آپ علیہ السلام کو ِجنوں ‘ پرندوں اور ہوائوں پر بھی حکومت عطا فرمائی اور ایسی حکومت آپ علیہ السلام کے بعد پھر کسی اور کو نصیب نہ ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے والد حضرت دائود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی انعامات اور احسانات فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
42 اس کی تفسیر کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت 81 کا حاشیہ نمبر 69
Read the full tafseer →36۔ حضرت کو احساس اس کا ہوا ہے کہ یہ جو یاد الہی میں غفلت کسی درجہ میں بھی واقع ہوئی، اس کا منشاء سامان جہاد وغیرہ میں انہماک تھا اور خود کثرت اولاد کی تمنا جو آپ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، اس کا منشاء بھی یہی خیال جہاد تھا۔ لیکن اگر کسی معاصر کے پاس زیادہ قوت واقتدار ہی نہ ہو، تو اس سے مقابلہ ومقاتلہ کے لئے بھی زیادہ سازوسامان کی ضرورت ہی باقی نہ رہے اور یہ سازوسامان خود میری نبوت پر ایک مستقل دلیل بن جائے۔ لیصیر اقتداری علیھا معجزہ تدل علی صحۃ نبوتی ورسالتی (کبیر) (آیت) ” من بعدی “۔ بعد ہمیشہ تاخر زمانی ہی کے لئے نہیں آتا ہے، علاوہ اور سوا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خود قرآن مجید ہی میں ہے۔ فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی سلیمان نے کہا : اے میرے رب ! میرے
قصور معاف کر دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا (میرے زمانے میں) کسی کو میسر نہ ہو۔
انک انت الوھاب بلاشتہ تو ہی بڑا دینے والا ہے۔
انبیاء اور صالحین کا طریقہ ہے کہ پہلے استغفار کرتے ہیں ‘ پھر اللہ سے کچھ مانگتے ہیں۔ حضرت سلیمان نے بھی ایسا ہی کیا ‘ پہلے درخواست مغفرت کی ‘ پھر حکومت کا سوال کیا۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ حضرت سلیمان پر جو یہ مصیبت پڑی ‘ وہ محض اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا تاکہ دنیا اور آخرت میں آپ کا مرتبہ اونچا کیا جائے ‘ جس طرح کہ حضرت ایوب پر وقوع بلا ترقی درجات کیلئے ہوا۔ حضرت سلیمان…
Read the full tafseer →پھر انہوں نے اپنی سلطنت اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی اور عرض کیا کہ میرے پروردگار میرا قصور معاف فرما اور ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو یا یہ کہ اب بقیہ زندگی میں وہ مجھ سے چھینی نہ جائے بیشک جس کو آپ چاہیں بادشاہت اور نبوت عطا کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا : یعنی شہسواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو میری کوتاہی کی وجہ سے اور تیری حکمت و مشیّت کے تحت پوری نہیں ہوئی، تو تو مجھے ایسی بااختیار بادشاہی عطا فرما دے کہ ویسی بادشاہی میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تاکہ پھر اولاد کی ضرورت ہی نہ رہے۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لیے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34 ۔ 40:۔
وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ [انھوں نے کہا اے میرے رب بخش دے مجھ کو ] وَ [اور ] هَبْ [تو عطا کر ] لِيْ [مجھ کو ] مُلْكًا [ایک ایسی سلطنت جو ] لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ [کسی ایک کے (بھی) لائق نہ ہو ] مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ [میرے بعد ] اِنَّكَ اَنْتَ [بیشک تو ہی ] الْوَهَّابُ [بار بار عطا کرنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں
اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →32:۔ ” قال رب الخ “۔ حضرت سلیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی۔ انبیاء (علیہم السلام) کا شیوہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ سے استغفار کرتے رہتے ہیں جس سے درجات کی بلندی اور گناہوں سے حفاظت کی طلب مقصود ہوتی ہے اس لیے استغار کے لیے تقدم ذنب ضروری نہیں۔ ” وھب لی ملکا الخ “: حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی کہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے سوا کسی اور کو نہ ملے۔ والصحیح انہ سائل من اللہ تعالیٰ ملکا لا یکون لاحد من بعدہ من البشر مثلہ وھذا ھو ظاھر السیاق من الایۃ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔
(دوسری آزمائش)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ،…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَہَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ 0ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَہَّابُ 35
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
تفسیر : ولقد فتنا سلیمان یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ پھر اس آزمائش کی قدرے تفصیل کرتا ہے۔
والقینا علی کرسیہ جسد اثم اناب اور اس کی کرسی یعنی تخت پر ہم نے ایک جسم ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا، بعض کہتے ہیں یہ دو واقعہ ہیں۔ ولقد فتنا ایک اور القینا دوسرا۔ قرآن مجید میں اور کسی حدیث میں جہاں تک کہ محدثین نے تلاش کیا ان دونوں واقعوں کی کوئی بھی تفصیل نہیں کہ آزمائش سلیمان ( علیہ السلام) کی کس بات میں تھی اور ان کے تخت پر جسم ڈالنے اور سلیمان ( علیہ السلام) کے رجوع ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہاں مفسروں نے بعض اہل کتاب کے…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْـکًا لاَّ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ م بَعْدِیْ ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ (صٓ: 35)
(حضرت سلیمان نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا کی صحیح مراد
اس آیت کریمہ سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی فروگزاشت پر تنبہ ہوا تو آپ نے فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور بےساختہ پکار اٹھے کہ الٰہی مجھ سے جو بھی قصور ہوا ہے مجھے اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دیجیے۔ میرے دل میں اگر اولاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی آزمائش کے لیے بہت سے طریقے ہیں جن میں دو بڑے طریقے یہ ہیں۔ کبھی اپنے بندے کو نعمت دے کر آزماتا ہے اور کبھی اس سے نعمت چھین کر آزمائش کرتا ہے۔ پہلے واقعہ میں سلیمان (علیہ السلام) کو گھوڑوں کے ذریعے آزمایا گیا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے تھے۔ اس واقعہ میں ان سے نعمت چھین کر آزمایا گیا جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا اور کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔ اس حال میں سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے ایسی…
Read the full tafseer →35: قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا (کہا اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت دے) ملک کا عطیہ طلب کرنے سے پہلے استغفار لائے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ سوال سے پہلے استغفار کرتے ہیں۔ لَّا یَنْچبَغِیْ (جو میسر نہ ہو) جو نہ ہو لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ (کسی کو میرے بعد) میرے سوا۔
قراءت : مدنی اور ابوعمرو نے بَعدِیَ پڑھا ہے۔ آپ نے اس انداز کی سلطنت مانگی تاکہ وہ معجزۃًہو تاکہ کسی کو اس پر حسد نہ ہو۔ آپ سے پہلے ہوا و شیاطین کسی کیلئے مسخر نہ ہوئے تھے۔ جب آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کو ان کے لئے مسخر فرمادیا۔ اور بطورمعجزہ…
Read the full tafseer →تفسیر 35۔ ، قال رب اغفرلی وھب ملکالا ینبغی لاحد من بعدی، مقاتل اور ابن کیسان نے ترجمہ کیا ہے میرے زمانے کے بعد۔ عطاء بن رباح کا قول ہے کہ ، ینبغی لا حد من بعدی ، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تونے مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کودے دی، اسی طرح آخری عمر میں مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کونہ دے دینا۔
، انک انت الوھاب، بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ سوال اس وجہ سے کیا تاکہ یہ آپ (علیہ السلام) کی نبوت کی نشانی اور دلالت رہے اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لے رہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایسے معجزہ کا سوال اس وجہ سے کیا تا کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ان کی توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم
قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…
Read the full tafseer →48 رب سے بخشش کی دعا و درخواست کا نمونہ : سو اس سے حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت وانابت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ حضرت سلیمان نے فورا عرض کیا کہ اے میرے رب یہ میری بخشش فرما دے۔ سو اس سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان عبدیت و اوابیت اور انابت ورجوع الی اللہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معصوم ہونے کے باوصف اور ہر طرح کے معاصی وذنوب سے پاک ہونے کے باوجود وہ اس طرح دعا مانگتے ہیں کہ مالک جو بھی کوئی چھوٹی موٹی کوتاہی اور لغزش ہم سے ہوگئی ہو اس کی بخشش فرما دے۔ جس طرح کہ حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ کا ارشاد ہے کہ میں ایک دن میں ستر مرتبہ اپنے رب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش اور بخشش
تشریح : اس میں بھی بڑی مختلف آراء ہیں، لہٰذا بیشمار مستند تفاسیر کی روشنی میں اور ترجمہ کی مناسبت سے میری سمجھ میں تو کچھ اس طرح آیا ہے کہ آپ ایک مرتبہ شدید بیمار ہوگئے اور کمزوری کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے یوں لگتا تھا کہ آپ کے تخت پر ایک بےجان جسم پڑا ہوا ہے۔ تب آپ نے اللہ جل شانہ سے دعا کی اور آپ کی صحت و تندرستی واپس آگئی اور آپ نظام حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ اچھی طرح چلانے لگے اور سب سے مختلف حکومت آپ کو ملی وہ اس طرح کہ جنات بھی آپ کے تابع کردیئے گئے تھے اور وہ آپ کے حکم کے منتظر رہتے۔ کچھ اور نعمتیں بھی آپ کو دی گئیں ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 3 اس واقعہ کی تفصیل میں بہت سے علما نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کچھ عرصہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تخت پر صخر نامی ایک جن کو قابض کردیا تھا۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی ایک بیوی بت پرست تھی۔ اس کی یہ سزا ملی کہ جتنی مدت اس بیوی نے بت پرستی کی تھی اتنی مدت کیلئے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) تخت سلطنت سے محروم کردیئے گئے اور ان کی انگوٹھی جس میں اسم اعظم تھا ایک لونڈی کے واسطہ سے صخر کے ہاتھ پڑگئی۔ اس کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی دریا میں گرگئی اور ایک مچھلی نے اسے نگل لیا، پھر وہ مچھلی شکار ہو کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس آئی…
Read the full tafseer →(38:35) ہب لی۔ ھب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ (باب فتح) مصدر سے۔ تو عطا کر۔ لی مجھے۔ تو مجھے عطا کر۔ تو مجھے بخش دے۔ لا ینبغی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ انبغاء (انفعال) مصدر سے۔ زیبا نہیں ہے۔ میسر نہ ہو۔ لائق۔ یا مناسب نہیں ہے ۔ شایاں نہیں ہے۔
ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی۔ مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد (سوا) کسی کو شایاں نہ ہو۔ (یعنی میرے بعد (سوائ) ویسی سلطنت کسی کو میسر نہ ہو) ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ (36:69) ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ ہی وہ ان کو شایاں ہے۔ یعنی مادہ۔
الوھاب۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
[14] اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ ان کے تخت پر کوئی جسم ڈال دیا گیا تھا۔ وہ جسم کیا تھا اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی اس کی تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا قرآن نے جس بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد انہوں نے پہلے سے زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ اور قرآن کا مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
حضرت سلیمان کے گھوڑے
1: حضرت سلیمان کے متعلق اس قصہ میں بھی افسانہ آرائی سے کام لیا گیا ہے ۔ اور ان کے متعلق بھی ان کے باپ کی طرح یہ الزام لگایا گیا ہے ۔ کہ انہوں نے نماز عصر کو قضا کردیا تھا ۔ محض گھوڑوں سے محبت اور فریفتگی کی وجہ سے اور پھر آخر میں جب انہوں نے محسوس کیا ۔ کہ بڑی غفلت ہوئی ۔ تو ان گھوڑوں کو قتل کردیا تھا ۔ تاکہ نہ یہ رہیں اور نہ آئندہ آزمائش وابتلاء کا موقع پیش آئے ۔ یہ قصہ قطع نظر اس کے قرآن کے انداز بیان کے خلاف ہے ۔ اور منصب نبوت کے منافی بجائے خود اس درجہ رکیک ہے ۔ کہ عقل تسلیم نہیں کرتی ۔ کیونکہ حضرت سلیمان خود بادشاہ تھے ۔ بادشاہ کے بیٹے تھے ۔ ہمیشہ جاہ وحشم کو دیکھا…
Read the full tafseer →(35) سلیمان نے کہا اے پروردگار میری تقصیر معاف فرمادیجئے اور مجھ کو ایک ایسی سلطنت عطا کر جو میرے سوا کسی اور کے لئے مناسب نہ ہو بیشک تو بڑا ہی دینے والا ہے - یعنی ایسی سلطنت عطا ہو جو میری نبوت کے لئے خرق عادت اور معجزے کا کام دے اور ایسی ہو کہ مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دے دی جائے اور اس کو میں بطور نبوت کی دلیل کے پیش کرسکوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی سلطنت میرے سوا کسی کو دی ہی نہ جائے۔
بہرحال ! ایسی خواہش بطور حسد نہ تھی اور اگر پہلے معنی ہوں کہ میرے زمانے میں مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دی جائے تو کچھ اشکال نہیں اور اگر دوسرے معنی بھی ہوں تب بھی یہ معنی ہیں کہ جو میرے بعد کسی کو لائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ حدیث شیخین میں ہے کہ ایک بار سلیمان (علیہ السلام) اپنے امراء لشکر پر ان کی کسی کوتاہی جہاد پر خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں آج کی رات اپنی ستر بیبیوں سے ہمبستر ہوں گا اور ان سے ستر مجاہد پیدا ہوں گے، فرشتہ نے قلب میں القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے، آپ کو کچھ خیال نہ رہا۔ چناچہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا، جس کے ایک طرف کا دھڑ نہ تھا۔
Read the full tafseer →سلیمان (علیہ السلام) کی دعا بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام
35۔ سلیمان (علیہ السلام) نے بفضلہ اس سازش پر قابو پا لیا اور اس تحریک کو جو آپ کی اسلامی حکومت کے خلاف کام کر رہی تھی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا اور جب اس تحریک کا مکمل خاتمہ ہوگیا تو اللہ رب العزت کی طرف رجوع ہوئے اور معافی طلب کی اور دعا مانگی کہ اے اللہ ! میری حفاظت فرما اور مجھے وہ بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد بھی کسی کو شایان شان نہیں ہے کہ وہ اس کو چھین لے بلاشبہ تو بہت ہی عطا کرنے والا ہے۔ لوگوں نے اس دعا کے متعلق پہلے تو یہ سمجھا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا کہ ” اے اللہ ! مجھے اپنی حکو مت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
Commentary
It was said in verse 35: هَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي (bless me with a kingdom that will not be available to anyone after me.). Some commentators explain the sense of this prayer as 'let not a great kingdom like mine belong to anyone else during my time.' In other words, they take "min ba` di": or 'after me' in the sense of 'other than me.' Maulana Ashraf Thanavi (رح) has done his translation accordingly. But, with most commentators, the sense of the prayer is: 'Even after me, let no one have a kingdom as great as this.' Accordingly, so it happened. The…
Read the full tafseer →36 In view of the contest, the real object here is to relate this event; the preceding verses are an introduction to it. Just as above this, first the Prophet David was praised, then the event narrated by which he was put to temptation, then it was said that Allah Almighty dces not spare even such a beloved servant from accountability, then about his noble nature it was said that as soon as he was warned of the temptation, he repented and bowed before Allah and withheld himself from the act, so also here the sequence is like this: First, the Prophet Solomon's high rank and his deep sense of…
Read the full tafseer →