Explained with ayahs 21–25
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة صٓ 27
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت داؤد سے قصور ضرور ہوا تھا، اور وہ کوئی ایسا قصور تھا جو دنبیوں والے مقدمے سے کسی طرح کی مماثلت رکھتا تھا اسی لیے اس کا فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمائش ہوئی ہے، لیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا، یا اگر معاف کیا بھی جاتا تو وہ اپنے مرتبہ سے بلند سے گرا دیے جاتے۔ اللہ تعالیٰ یہاں خود تصریح فرما رہا ہے کہ جب انہوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کردیا گیا، بلکہ دنیا اور آخرت میں ان کو جو بلند مقام حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہمارے یہاں خاص تقرب اور نیک انجامی ہے) اس آیت پر واقعے کو ختم کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش جو کچھ بھی رہی ہو۔ ان کے استغفار اور انابت کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق میں اور اضافہ ہوگیا۔
غلطی پر تنبیہ میں حکمت کی رعایت
اس واقعہ سے متعلق ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش خواہ کچھ رہی ہو، اللہ تعالیٰ براہ راست وحی کے ذریعہ بھی آپ کو اس پر متنبہ فرما سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے ایک مقدمہ میں بھیج کر تنبیہ کے لئے یہ خاص طریقہ کیوں اختیار کیا گیا ؟ درحقیقت اس طریقہ پر غور کرنے سے…
Read the full tafseer →فغفرنا لہ ذلک ط وان لہ عند مالزلفی وحسن ماب (25)
توبہ آدمی کے مرتبہ کو اور بڑھا دیتی ہے
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ کے اس تنبہ او استغفار کے بعد ان کی غلطی معاف فرما دی اور چونکہ ہر سچی توبہ آدمی کے مرتبہ کو پہلے سے زیادہ بڑھا دیتی ہے اور ہر رجوع الی اللہ سے اس کو مزید قرب حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے مراتب میں اللہ کے ہاں اضافہ ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔
24۔ 2 البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے پابند ہوتے ہیں اس لئے کسی پر زیادتی کرنا اور دوسروں کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
12: یہ آیت سجدہ ہے یعنی جو شخص اس کی عربی میں تلاوت کرے، یا تلاوت سنے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
بعض تفاسیر نے اس آیت کے تحت اسرائیل سے ربط وبابس جمع کیا ہے اور حضرت داؤد کی آزمائش کے معاملے میں بہت دور چلے گئے ہیں۔ انہوں نے ایسی باتیں بھی نقل کی ہیں جو نبوت کے شایان شان ہی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ مطلقاً منصب بنوت کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتیں ۔ بعض روایات نے اگرچہ بعض انسانوں کی تاویل کرکے ان کی قباحت کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے بھی بعض افسانوی پہلو اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں ۔ لہٰذا یہ روایات اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو نقل کیا جائے اور ان پر نظر ڈالی جائے۔ کیونکہ یہ روایات قرآن کریم کے اس تبصرے کے بالکل خلاف ہیں۔
وان ۔۔۔ ماٰب (38: 25) ” یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب…
Read the full tafseer →6 یعنی اس قصہ کے بعد داؤد کو تنبہ ہوا کہ میرے حق میں یہ ایک فتنہ اور امتحان تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اپنی خطا معاف کرانے کے لیے نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے جھک پڑے۔ آخر خدا نے ان کی وہ خطا معاف کردی۔ داؤد (علیہ السلام) کی وہ خطا کیا تھی ؟ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اس کے متعلق مفسرین نے بہت سے لمبے چوڑے قصے بیان کیے ہیں۔ مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر ان کی نسبت لکھتے ہیں۔ " قد ذکر المفسرون ھہنا قصۃً اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ۔ " اور حافظ ابو محمد ابن حزم نے کتاب الفصل میں بہت شدت سے ان قصوں کی تردید کی ہے باقی ابو حیان وغیرہ نے ان قصوں سے…
Read the full tafseer →آیت 25 { فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”تو ہم نے اسے معاف کردیا۔ اور یقینا ہمارے پاس اس کے لیے مقام قرب اور اچھا انجام ہے۔“
جب وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئے گا تو ہم اسے بہت اعلیٰ مقام عطا کریں گے۔
Read the full tafseer →32 یعنی اس غلطی سے ان کے تقرب اور مرتبہ میں کچھ فرق نہیں آیا۔ صرف تھوڑی سی تنبیہ کردی گئی۔ کیونکہ مقربین کی چھوٹی سی غلطی بھی بڑی سمجھی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →26۔ (ان کے مرتبہ نبوت کے شایان شان) موجودہ بائبل میں حضرات انبیاء کی عجیب مٹی پلید کی گئی ہے اور اس میں کچھ کو رکسر رہ گئی تھی وہ تالمود وغیرہ یہود کے دوسرے مذہبی نوشتوں نے پوری کردی، قرآن مجید انبیاء (خصوصا انبیاء اسرائیل) کی مقبولیت وصالحیت کا پرزور اثبات بار بار انہیں اتہامات کی تردید کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” فغفرنالہ “۔ یعنی ہم نے ان سے اس کمی کا بھی ازالہ کردیا، جو ان کے مرتبہ ومعیار کے مطابق ان کے اجر کمال صبر پر مرتب ہوتا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ خفیف سی غفلت اور ان کے مرتبہ نبوت کے لحاظ سے لغزش۔ اے زلۃ (مدارک) یہاں بعض لوگوں نے ایک بےسروپارروایت اسرائیلیات سے لے کر نقل کردی ہے۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →فغفرنا لہ ذلک وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب پس ہم نے ان کا وہ قصور (جس کی انہوں نے معافی
مانگی تھی) معاف کردیا اور بلاشبہ (اس مغفرت کے بعد) ان کیلئے ہماری بارگاہ میں (خاص) قرب اور خوبی انجام ہے۔
لَزُلْفٰی یعنی ناقابل بیان ‘ بےکیف قرب اور وہ اعلیٰ درجہ جو ندامت و استغفار کے بعد ان کو حاصل ہوا ‘ اگر ان سے وہ لغزش نہ ہوتی توہ وہ مرتبہ ان کو حاصل نہ ہوتا۔ بعض اہل علم کے نزدیک زلفٰی سے مراد ہے دنیاوی خیر کی زیادتی اور آخرت میں اعلیٰ درجہ۔
مَاٰب انجام ‘ نتیجہ جس کی طرف وہ لوٹیں گے۔
میں کہتا ہوں : جس راوی نے حضرت داؤد کے متعلق یہ بیان کیا کہ آپ اور یا کا قتل ہوجانا ہی چاہتے تھے تاکہ اس کی بیوی سے نکاح…
Read the full tafseer →سو ہم نے ان کو وہ امر بھی معاف کردیا ہمارے یہاں ان کے لیے خاص تقرب کا درجہ اور آخرت میں اعلی درجہ کی نیک انجامی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ : داؤد ؑ نے فرمایا کہ اس نے تمہاری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تم پر ظلم کیا ہے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ دیوار پھاند کر آئے، پھر انھوں نے مقدمہ پیش کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ وہ اس شخص سے ہم کلام ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت کا شرف بھی عطا فرمایا ہے اور جس سے حق کے خلاف یا بےانصافی پر مبنی فیصلہ کرنے کی توقع نہیں۔ اس کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں۔ یہ دونوں جملے ہی کسی شخص کا غصہ بھڑکانے کے لیے کافی ہیں، کجا یہ کہ ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21 ۔ 25:۔ اس میں چوبیس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر -1 خصم کا لفظ ایک ‘ دو اور جماعت پر واقع ہوتا ہے (1) کیونکہ اصل میں یہ مصدر ہے۔ شاعر نے کہا :
و خصیم غضاب ینفضون لحاھم کنفض البراذین العراب المخالیا
وہ غصیلے دشمن ہیں وہ اپنی داڑھیوں کو یوں جھاڑتے ہیں جس طرح ترکی و عربی گھوڑے تو بروں کو جھاڑتے ہیں۔
نحاس نے کہا : اہل تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں خصم سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تسوروا یہ لفظ خصم پر محمول کرتے ہوئے جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے اگرچہ جھگڑا کرنے والے دو تھے کیونکہ یہ جمع کے لفظ کے ساتھ ہے اور اس کے مشابہ ہے جس طرح الرکب اور الصحب ہے۔ اس کی تقدیر پر دو کے لئے ذواخصم ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1:۔ احمد فی الزھد والحکیم ترمذی (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہماری بارگاہ میں قرب اور اچھا انجام ہے) داؤد (علیہ السلام) کی جگہ قیامت کے دن عرش کے پائے کے پاس ہوگی پھر رب تعالیٰ فرمائیں گے اے داؤد (علیہ السلام) آج میری عظمت بیان کر اس اچھی اور نرم آواز کے ساتھ جو تو دنیا میں (خوش الحانی سے) میری عظمت بیان کیا کرتا تھا۔ داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے : اے میرے رب ! میں کیسے بیان کروں آپ نے اس (آواز) کو سلب کردیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج میں تجھ پر وہ آواز لوٹاد یتا ہوں تو ان کو آواز لوٹا…
Read the full tafseer →فَغَفَرْنَا [تو ہم نے معاف کیا ] لَهٗ [ان کے لئے ] ذٰلِكَ ۭ [اس (بات) کو ] وَاِنَّ لَهٗ [اور بیشک ان کے لئے ہے ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] لَـزُلْفٰى [یقینا زیادہ قریب ہونا ] وَحُسْنَ مَاٰبٍ [اور ٹھکانے کا حسن ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
شرکاء مالیات کا عام طریقہ
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دو شخصوں کے درمیان جو فیصلہ فرمایا صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی عام شرکاء کی ایک حالت بھی بتادی جنہیں خلطاء سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس دنیا میں بسنے والے لوگ جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا تجارت میں یا کسب اموال کے دوسرے طریقوں میں ساجھا رہتا ہے عام طور سے یہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں جو خیانت وغیرہ کی صورت میں ہوتی ہے عام طور سے لوگوں کا یہی حال ہے ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں یہ لوگ اپنے شرکاء پر زیادتی نہیں کرتے لیکن ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →ف 24:۔ فغفرنا الخ :۔ ہم نے ان کی لغزش معاف کردی وہ ہمارے نہایت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے ہیں اور آخرت میں ہمارے یہاں ان کا انجام بہت عمدہ اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…
Read the full tafseer →فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِكَ 0 ۭ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ 25
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →فَغَفَرْنَا لَـہٗ ذٰلِکَ ط وَاِنَّ لَــہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 25)
(تو ہم نے اس کا وہ قصور معاف کردیا، اور بیشک اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام ہے اور اچھا انجام ہے۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی قبولیتِ توبہ
حضرت دائود (علیہ السلام) کو دوسروں کی غلطیوں کے آئینہ میں اپنی غلطی کا احساس پیدا ہوگیا اور اس پر انھوں نے بےساختہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکا دیا اور توبہ کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ہم نے اس کا وہ قصور معاف کردیا۔ اس سے یہ ایک بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے جو قصور سرزد ہوا تھا وہ یقینا ایسا ضرور تھا جس پر توبہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا اہم واقعہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی انداز تکلم ہے کہ وہ بعض دفعہ اہم ترین واقعات کو سوالیہ انداز میں شروع کرتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو کر بات سنے اسی بنا پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے دو آدمیوں کی خبر پہنچی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کے خلوت خانہ میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے۔ یہاں سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے بتلا یا گیا ہے کہ ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور اس کے بھائی کے پاس ایک تھی ننانوے دنبی رکھنے والے کی حرص کا یہ عالم تھا کہ اسے…
Read the full tafseer →25: فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ (پس ہم نے ان کو وہ معاف کردیا) یعنی ان کی لغزش وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَ نَا لَزُلْفٰی (اور ہمارے یہاں ان کے لئے قرب) زلفٰی قربت کو کہتے ہیں۔ وَ حُسْنَ مَاٰبٍ (اور نیک انجامی ہے) لوٹنے کی جگہ یعنی جنت۔
Read the full tafseer →25، فغفرنالہ ، قرب مکان ہوگا۔ ، وحسن ماب، اچھا ٹھکانا اور اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا جب اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی، تب بھی آپ برابر اپنے قصورپرروتے رہے ، رات دن کسی وقت آپ کے آنسونہ رکتے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر سترسال کی تھی۔ اس قصور کے بعد آپ نے اپنی عمر کے چار حصے کردیئے۔ ایک دن بنی اسرائیل کے معاملات کے فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا، ایک دن عورتوں کے لیے ، ایک دن جنگلوں اور پہاڑوں میں ساکر اللہ کی پاکی بیان کرنے (اور حمد وثناء کرنے) کا اور ایک روز اپنے گھر کے اندررہ کرنوحہ کرنے کا۔ آپ کے اندرچار ہزارعبادت کے مقام تھے۔ جب آپ گھر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 25۔ فارسی اور اردو کے فائدہ میں جو قصہ حضرت دائودہ کا شاہ ولی اللہ علیہ رحمۃ اور شاہ عبد القادر علیہ رحمۃ نے بیان کیا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اسی قصہ پر قاضی عیاض اور امام فخر الدین رازی وغیرہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس طرح کے قصے انبیا کی شان سے بعید ہے۔ اس اعتراض سے بچنے کی غرض سے حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کو اپنی تفسیر میں ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس قصہ کو ابن 1 ؎ ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرہ سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس 2 ؎ روایت کو صحیح کہا ہے۔ اس قدر محدثین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…
Read the full tafseer →آیت میں فرشتوں کی بات ہوئی ہے جب کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مقام انسانوں کے لئے سجدے کا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (ان الذین اوتوالعلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یحرون للاذقان سجدا۔ جن لوگوں کو اس سے قبل علم دیا جاچکا ہے جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں)
اسی طرح کی دوسری آیات سجود جن میں کسی قوم کے سجدے کی حکایت ہے اور اس بنا پر یہ آیات آیات سجود قرار پائیں۔ قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان پر قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ ریز نہیں ہوتے) قرآن کے سماع پر سجدہ میں چلے جانے کے لزوم کا مقتضی ہے۔ اگر ہم صرف اس آیت کو لے لیں تو سارے قرآن…
Read the full tafseer →33 حضرت داؤد کے لیے مغفرت و بخشش کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس پر ہم نے آپ کیلئے اس ۔ قصور۔ کو معاف کردیا "۔ یعنی جس کی آپ نے معافی مانگی تھی۔ خواہ وہ دوسرے کی مخطوبہ کی منگنی کا مسئلہ ہو یا اس کی بیوی کی طلاق کا مطالبہ۔ خواہ اپنی عبادت کا خیال و گھمنڈ ہو اور خواہ ان دو آدمیوں کے بارے میں یہ بدظنی کہ وہ اغتیال وغیرہ کسی برائی کے لئے آئے ہیں یا کوئی اور صورت وغیرہ کہ۔ " ذالک " کا عموم ان سب ہی مفاہیم کو عام اور شامل ہے۔ کیونکہ سچی توبہ پر سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اور توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →ف 4 ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) سے کوئی قصور سر زد ہوگیا تھا جس پر متنبہ کرنے کے لئے دو فرشتے مقدمہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ قصور کیا تھا ؟ مفسرین نے اس بارے میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ” اور یا “ نامی ایک شخص تھا جس کی بیوی سے نکاح کرنے کے لئے حضرت دائود ( علیہ السلام) نے اسے جنگ کے محاذ پر بھیج دیا۔ چنناچہ وہ قتل ہوگیا تو نکاح کرلیا مگر یہ روایت بجیع الصور اسرائیلیات سے مآخوذ ہے اور اس لئے بھی ناقابل اعتبار ہے کہ اس سے ایک نبی کی عصمت پر دھبہ آتا ہے۔ قرآن کے اسلوب بیان سے جو اصل بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت دائود (…
Read the full tafseer →(38:25) فغفرنا لہ ذلک ای ما استغفرنا منہ جس کی اس نے ہم سے معافی مانگی ہم نے معاف کردیا۔
وان لہ عندنا : ای وان لہ بعد المغفرۃ اور بیشک ہماری اس معافی کے بعد ہمارے ہاں (ان کے لئے) قرب خاص ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داؤد ہے۔
زلفی۔ درجہ مرتبہ۔ قرب، مصدر ہے جیسے قربی مصدر ہے۔ زلفی کے وہی معنی ہیں جو زلفۃ کے ہیں۔ پاس۔ قربت۔ درجہ۔ منزلت۔ یوصف مصدریہ مذکر مؤنث واحد ۔ تثنیہ۔ جمع سب کو متضمن ہے۔
حسن ماب : حسن مصدر ہے حسن یحسن (کرم) کا مصدر ہے ۔ بمعنی اچھا ہونا۔ عمدہ ہونا۔ حسن ماب مضاف مضاف الیہ حسن کی اضافت ماب کی طرف صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے حسن صفت ہے اور مآب موصوف ۔ عمدہ لوٹنے یعنی جنت۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ف 1) حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ سن کر وہ دونوں فرشتے جیسے آئے تھے ویسے ہی چل دیے تب داؤد (علیہ السلام) کے خیال میں یہ بات آئی کہ اس مقدمہ کی صورت ان ہی کے حال کے موافق ہے روایت ہے کہ آپ کی ننانوے بیویاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دیدیا ، جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکے تھے لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزاوقارب دوسرے کی طرف کیا التفات کرنے والے تھے آپ کے لیے راضی ہوگئے ، جب حضرت داوؤد (علیہ السلام) نے مقدمہ کی رواداد کو اپنے اوپر صادق پایا تو سمجھے کہ درحقیقت یہ مقدمہ والے نہ تھے بلکہ خدا کے فرشتے تھے بھیجے ہوئے اور اس بات کا یقین ہوا کہ ہم نے ان کو محنت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[10] یہ قصور کیا تھا، قرآن نے اس کی کوئی تصریح نہیں کی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے۔ یہ معاملہ داؤد (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک راز ہے، اس وجہ سے کسی کو اس کی کھوج کرید کا حق نہیں۔ مقدمے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ہی داؤد (علیہ السلام) کا دفعتاً چوکنے ہونے سے صرف یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے ملتے جلتے امتحان میں وہ خود بھی مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1: حضرت داؤد کے نہایت فصاحت وبلاغت سے اور حسن خطاب کے انداز سے فیصلہ سنایا جس میں معمولی واقعہ کو ایمان وعمل کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنالیا ۔ اور بتایا ۔ کہ عام طور پر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اور اعمال صالحہ کی قدروقیمت کو صحیح معنوں میں نہیں جانتے ۔ ان سے اس نوع کی زیادتیاں ضرور صادر ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ تاکہ ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے کا ان کو موقع ملے ۔ اور آئندہ حق و انصاف کو اپنا مذہبی شعار بنائیں ۔ یہ نہیں کہ اس واقعہ کو صرف سطحی نظروں سے دیکھیں اور اس کے حقیقی اسباب پر غور نہ کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد کو محسوس…
Read the full tafseer →(25) پھر ہم نے وہ لغزش اس کو معاف کردی اور بلا شبہ اس کے لئے ہمارے ہاں خاص قرب ہے اور بڑی اچھی باز گشت ہے - یعنی جس خطا کی معافی مانگ رہا تھا وہ خطا م نے معاف کردی اور بیشک ہمارے ہاں اس کو قرب خاص میسر اور جنت میں اس کو اعلیٰ مقام حاصل ہے یعنی درمیان میں جو غلطی اس سے سرزد ہوگئی تھی اور اپنی اور اپنے خاندان کی عبادت پر جو ناز ہوگیا تھا وہ اس کی توبہ اور استغفار اور رونے کیوجہ سے معاف کردیا گیا اور اس کے درجہ قرب اور اچھی بازگشت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حسن مآب کی تفسیر جنت کے ساتھ کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 1۔ ان کا مجموعہ اقوال و افعال نہایت درجہ گستاخی درگستاخی ہے، پس اس میں داود (علیہ السلام) کے تحمل وصبر کا امتحان ہوگیا کہ آیا زور سلطنت میں ان متواتر گستاخیوں پر داروگیر کرتے ہیں یا غلبہ نور نبوت سے عفو فرماتے ہیں۔ چناچہ امتحان میں صابر ثابت ہوئے، اور مقدمہ کو نہایت ٹھنڈے دل سے سماعت اور فیصل فرمایا لیکن عدل کے جس درجہ علیاء قصوی کو مقتضی ہے اس سے بظاہر ایک گونہ بعید اتنا خفیف سا یہ امر پیش آگیا کہ بعد قیام برہان شرعی بجائے اس کے کہ صرف ظالم سے یہ خطاب فرماتے کہ تو نے ظلم کیا اس مظلوم سے یہ خطاب فرمایا کہ تجھ پر ظلم کیا، جس سے ایک صورت طرفداری کی متوہم ہوتی ہے لیکن اس متوہم طرفداری کا بھی…
Read the full tafseer →ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپیں مغفرت و بخشش سے ڈھانپ لیا اور اس کو اعلی مقام عطا کیا۔
25۔ دائود (علیہ السلام) کی اس علمی و عقلی دانش و فکر میں ہم نے مزید اضافہ کردیا اور اپنی مغفرت و بخشش میں اس کو لے لیے اور اس کے درجات تو ہمارے ہاں پہلے ہی بلند تھے کہ وہ ہمارے نبیوں اور رسولوں میں سے ایک نبی و رسول تھا لیکن اس کے بعد ہم نیء اس پر مزید نوازشات کیں اور اس کی حکومت و سطوت کو چار چاند دیئے اور ہر طرف اس کی ان مثالوں کا شہرہ ہونے لگا اور اس کی حکومت کی نیکی اور بزرگی چار سو پھیل گئی جس سے وہ اور بھی ہمارے نزدیک ہوگیا اور اس کا مقام پہلے کیا بلند تھا کہ اب ہوگیا۔ ہمارے مفسرین نے اس آیت سے یہ…
Read the full tafseer →In verse 25, it was said: وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ (and surely he has a place of nearness in Our presence, and an excellent resort.). By concluding this event on this verse, a hint was released towards the fact that, no matter whatever the slip of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) would have been, once he had sought forgiveness from Allah and had passionately turned to Him, it goes without saying that the level of his communion with Allah Ta’ ala had increased further.
When warn, warn with wisdom!
Yet another aspect of this event needs to be mentioned here. Let this slip of…
Read the full tafseer →27 This shows that the Prophet David had certainly committed an error, and it was an error which bore some resemblance with the case of the ewes. Therefore, when he gave a decision on it, he at once realized that he was being put to the test. But the nature of the error was not such as could be forgiven, or if forgiven, it would have deposed him from his high rank. AIlah Himself says: "When he fell down prostrate and repented, he was not only forgiven but his high rank in the world and the Hereafter also remained unaffected.
Read the full tafseer →