صاحب اختیار لوگوں کے لئے انصاف کا حکم۔
اس آیت میں بادشاہ اور ذی اختیار لوگوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کریں ورنہ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے اور جو بھٹک کر اپنے حساب کے دن کو بھول جائے وہ سخت عذابوں میں مبتلا ہوگا۔ حضرت ابو زرعہ ؒ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ کیا خلیفہ وقت سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں حساب لیا جائے گا آپ نے فرمایا سچ بتادوں خلیفہ نے کہا ضرور سچ ہی بتاؤ اور آپ کو ہر طرح امن ہے۔ فرمایا اے امیر المومنین اللہ کے نزدیک آپ سے بہت بڑا درجہ حضرت داؤد ؑ کا تھا انہیں خلافت کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 28
یہ وہ تنبیہ ہے جو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنے اور بلندی درجات کی بشارت دینے کے ساتھ حضرت داؤد کو فرمائی۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ جو فعل ان سے صادر ہوا تھا اس کے اندر خواہش نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرمانروا کو زیب نہ دیتا تھا۔
یہاں پہنچ کر تین سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ فعل کیا تھا ؟ دوسرے یہ کہ اس سیاق وسباق میں اس کا ذکر کس مناسبت سے کیا گیا ہے ؟
جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس) کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے داؤد، ہم نے تم کو زمین پر حاکم بنایا ہے، سو (جس طرح اب تک کرتے رہے ہو، اسی طرح آئندہ بھی) لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور (جس طرح اب تک کبھی نفسانی خواہش کی پیروی نہیں کی، اسی طرح آئندہ بھی) نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ (اگر ایسا کرو گے تو) وہ خدا کے رستہ سے تم کو بھٹکا دے گی (اور) جو لوگ خدا کے رستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔
معارف و مسائل
حضرت داؤد ؑ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت و سلطنت بھی عطا فرمائی تھی، چناچہ اس آیت میں حکومت وسیاست کے لئے آپ کو ایک بنیادی ہدایت نامہ عطا کردیا گیا ہے۔ اس ہدایت نامہ…
Read the full tafseer →(آیت)
حضرت دائود ؑ کو ہدایت
مذکورہ بالا تنبیہ اور حضرت دائود ؑ کے توبہ و استغفار کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت واضح الفاظ میں یہ ہدایت فرمائی کہ اے دائود ؑ میں نے اپنی طرف سے کچھ اختیار و اقتدار دے کر تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو اس خلافت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس اختیار و اقتدار کو اپنے مختلف کی مرضی کے مطابق استعمال کرو اور لوگوں کے درمیان حق و عدل کے ساتھ فیصلہ کرو اور کبھی اپنی خواہشوں کے پیچھے نہ لگو ورنہ وہ تمہیں حق و عدل کی راہ سے ہٹا دیں گی۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستہ سے ہٹ جائیں گے وہ آخرت فراموشی کے جرم میں شدید عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
یہ ہدایت جو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔
24۔ 2 البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے پابند ہوتے ہیں اس لئے کسی پر زیادتی کرنا اور دوسروں کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
12: یہ آیت سجدہ ہے یعنی جو شخص اس کی عربی میں تلاوت کرے، یا تلاوت سنے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
Read the full tafseer →اس قصے پر جو تبصرہ آیا ہے ، وہ صاف صاف بتاتا ہے کہ حضرت داؤد کی آزمائش کی نوعیت کیا تھی۔ اللہ نے حضرت داؤد کو حکومت دی تھی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کریں ، اس لیے متعین ہوگیا کہ اس آزمائش و امتحان کا تعلق
جو ڈیشل پر وسیڈنگز سے تھا۔ چناچہ کہا گیا :
آیت نمبر 26
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ کہا گیا کہ آپ کو زمین کا اقتدار اعلیٰ دیا گیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلے کریں اور ان فیصلوں میں اپنی ذاتی چاہت کا خیال نہ رکھیں ۔ جہاں تک نبی کا تعلق ہے وہ تو خواہشات نفس کی پیروی سے محفوظ ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ابتدائی میلان پر ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ یہ نہ ہو کہ بغیر سوچے…
Read the full tafseer →8 یعنی خدا نے تم کو زمین میں اپنا نائب بنا لیا۔ لہذا اسی کے حکم پر چلو اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو۔ کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنیٰ شائبہ بھی نہ آنے پائے۔ کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دینے والی ہے۔ اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکا تو پھر ٹھکانا کہاں۔
9 یعنی عموماً خواہشات نفسانی کی پیروی اسی لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو حساب کا دن یاد نہیں رہتا۔ اگر یہ بات مستحضر رہے کہ ایک روز اللہ کے سامنے جانا اور ذرہ ذرہ عمل کا حساب دینا ہے تو آدمی کبھی اللہ کی مرضی پر اپنی خواہش کو مقدم نہ رکھے (تنبیہ) ممکن ہے کہ " یوم الحساب " کا تعلق " لہم عذاب…
Read the full tafseer →آیت 26 { یٰـدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ } ”ہم نے کہا : اے دائود علیہ السلام ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے ‘ لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو“
{ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”اور دیکھو ! اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔“
{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌم بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ } ”یقینا وہ لوگ جو بھٹک جاتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے بڑا سخت عذاب ہے ‘ بسبب اس کے کہ وہ بھول گئے حساب کے دن…
Read the full tafseer →33 یعنی تمہارا مقام عام لوگوں سے بہت بلند ہے کیونکہ تم ہمارا نائب ہونے کی حیثیت سے لوگوں میں فیصلے کرتے ہو۔ لہذا تمہارے کسی بھی معاملہ میں یا فیصلہ میں اپنی خواہش نفس کا شائبہ تک نہ ہونا چاہئے کیونکہ یہی چیز اللہ کی راہ سے بہکانے والی ہوتی ہے۔
34 یعنی انسان بہکتا اس وقت ہے جب اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ جائے اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے اس وقت لگتا ہے جب اللہ کے حساب کا دن یاد نہ رہے۔ اگر اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور آنکھوں کے سامنے رہے تو انسان خواہش نفس کی قطعاً پروا نہیں کرتا۔ اور جو شخص یوم الحساب کو بھول گیا تو لازماً اپنی زندگی شتر بےمہار کی طرح گزار دے گا جس کا لازمی نتیجہ اسے عذاب…
Read the full tafseer →27۔ (اور چونکہ آپ یوم حساب کو خوب یاد رکھے ہوئے ہیں، اس لیے آپ کے لئے ان وعیدوں کا احتمال ہی نہیں۔ (آیت) ” خلیفۃ “۔ اور ملک کے درمیان محققین نے یہی فرق کیا ہے کہ خلیفہ ہمیشہ عدل اور شفقت خلق ہی کو اپنا شعار بنائے رکھتا ہے، اور یہ جو بعض بدمذہبوں سے منقول ہے کہ خلیفہ وقت کا کوئی گناہ ہی نہیں لکھا جاتا، اور تکلیف شرعی اس سے ساقط ہوجاتی ہے، اسے محققین اہل سنت نے کفر صریح قرار دیا ہے۔ ویح کی عن بعض الزنادقۃ ان الخلیفۃ لایکتب علیہ خطیءۃ ولا ھو داخل فی رتبۃ التکلیف لان مرتبتہ مرتبۃ مستخلفۃ وھو کفر صراح (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →یا داود (اور ہم نے کہا :) اے داؤد !
انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ہم نے تم کو زمین پر (اپنا نائب یا گذشتہ انبیاء کا) جانشین بنا دیا ہے۔ 1
فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ سو لوگوں میں انصاف کے ساتھ
فیصلہ کرتے رہنا اور نفسانی جھکاؤ کے پیچھے نہ جانا ‘ وہ اللہ کے راستہ سے تم کو بہکا دے گا۔
بِالْحَقِّ یعنی اللہ کے حکم کے موافق۔ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی اور اس بات کے پیچھے نہ چل دینا ‘ جس کو تمہارا نفس چاہتا ہو۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی جو دلائل اللہ نے حق (کو ثابت کرنے) کیلئے قائم کر دئیے ‘ نفس کی خواہش ان دلائل سے تم کو بھٹکا دے گی۔ آیت بتارہی ہے کہ میلان نفس پر چلنے والوں…
Read the full tafseer →اے داؤد علیہ السلام، ہم نے تمہیں بنی اسرائیل پر حاکم اور نبی بنایا ہے سو لوگوں کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور آئندہ بھی نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ کہیں وہ تمہیں اطاعت خداوندی سے ہٹا دے جو لوگ اللہ کے رستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ انہوں نے روز حساب کے لیے نیکیاں کرنا چھوڑ دیں۔
Read the full tafseer →يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ : یہاں لفظ ”قُلْنَا“ (ہم نے کہا) محذوف ہے، یعنی ہم نے کہا اے داؤد ! تمہارا مقام دوسرے لوگوں سے بہت بلند ہے، تم خلیفہ ہو اور وہ رعایا ہیں، تم حاکم ہو اور وہ محکوم ہیں۔ اس لیے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور اس میں اپنی یا کسی دوسرے کی خواہش کا دخل نہ آنے دو ، کیونکہ یہی چیز اللہ کی راہ سے بہکانے والی ہوتی ہے۔rnۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ : یعنی انسان بہکتا اسی وقت ہے جب اپنی یا کسی کی خواہش نفس کے پیچھے لگتا ہے اور یہ کام وہ تبھی کرتا ہے جب اسے حساب کا دن یاد نہ رہے۔ اگر اللہ کے سامنے…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ہم نے تمہیں مالک بنایا تاکہ تو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے تاکہ تو اپنے سے قبل انبیاء اور صالحین کی نیابت کرے۔ سورة بقرہ میں خلفیہ اور اس کے متعلقہ احکام مفصل گذر چکے ہی۔ الحمد اللہ۔
مسئلہ نمبر -2 فاحکم بین الناس بالحق لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرو (1) ۔ یہ امرو جوب کے لئے ہے یہ کلام اپنے ماقبل کے ساتھ مربوط ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو عتاب اس وجہ سے کیا گیا تھا کیونکہ آپ نے ایک خاوند سے اس کی عورت کا مطالبہ کیا تھا یہ عدل نہ تھا اس کے بعد انہیں فرمایا گیا : لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرو اور اپنی اس خواہش کی اقتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1:۔ احمد فی الزھد والحکیم ترمذی (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہماری بارگاہ میں قرب اور اچھا انجام ہے) داؤد (علیہ السلام) کی جگہ قیامت کے دن عرش کے پائے کے پاس ہوگی پھر رب تعالیٰ فرمائیں گے اے داؤد (علیہ السلام) آج میری عظمت بیان کر اس اچھی اور نرم آواز کے ساتھ جو تو دنیا میں (خوش الحانی سے) میری عظمت بیان کیا کرتا تھا۔ داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے : اے میرے رب ! میں کیسے بیان کروں آپ نے اس (آواز) کو سلب کردیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج میں تجھ پر وہ آواز لوٹاد یتا ہوں تو ان کو آواز لوٹا…
Read the full tafseer →يٰدَاوٗدُ [اے داؤد (علیہ السلام) ] اِنَّا جَعَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بنایا آپ (علیہ السلام) کو ] خَلِيْفَةً [خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَاحْكُمْ [تو آپ (علیہ السلام) فیصلہ کریں ] بَيْنَ النَّاسِ [لوگوں کے درمیان ] بِالْحَقِّ [حق کے ساتھ ] وَلَا تَتَّبِعِ [اور آپ (علیہ السلام) پیروی مت کریں ] الْهَوٰى [من مانی (بات) کی ] فَيُضِلَّكَ [نتیجتاً وہ بھٹکا دے گی آپ (علیہ السلام) کو ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ[اللہ کی راہ سے ] اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يَضِلُّوْنَ [بھٹکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [اللہ کی راہ سے ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ [ان کے لئے ایک شدید عذاب ہے ] بِمَا [بسبب اس کے جو…
Read the full tafseer →حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت کا اعلان
اس آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا خطاب ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فرمایا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ اے داؤد ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا سو آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش نفس کا اتباع نہ کیجیے ورنہ یہ خواہش آپ کو اللہ کے راستہ سے ہٹا دے گی یوں تو ہر حاکم پر لازم ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھے لیکن خاص طور پر جسے اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا اور نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اس کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ حق اور حقیقت اور عدل و انصاف پر قائم رہے۔
اتباع ہویٰ کی مذمت
نیز یہ بھی خطاب فرمایا کہ آپ اتباع ہویٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →25:۔ یا داود الخ : حضرت داود (علیہ السلام) کو دنیا میں جو شان و منزلت عطا کی گئی اس کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ہدایت بھی ہیں۔ ہم نے آپ کو زمین میں حکومت عطا کی اور آپ کو لوگوں کے معاملات کا متولی بنایا ہے۔ اس لیے لوگوں کے باہمی تنازعات کا تصفیہ پوری چھان بین اور تحقیق سے کیا کریں اور عدل و انصاف کو اپنا شعار بنائیں۔ محکمات میں اور دیگر تمام امور میں خواہش نفس دخل انداز نہ ہونے پائے اور نہ وہ راہ حق اور جادہ عدل سے منحرف کردے گی۔ جو لوگ خواہش نفس کے تابع ہو کر راہ حق سے بھٹک جائیں گے، ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے قیامت کے دن کو بھلا دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار کی طعن وتشنیع اور غلط بیانی پر حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو صبر کی تلقین کی ، پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ بھی ابتدا آپ کی طرح نادار ہی تھے کوئی جدی پشتی بادشاہ نہیں تھے نہ ان کے پاس مال و دولت تھا مگر اللہ نے انکو بےانتہا قوت عملی عطا فرمائی تھی ، انہوں نے سخت محنت اٹھائی اور جہاد میں کامیابی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور خلافت دونوں چیزیں عطا فرمائیں ۔ فرمایا آپ مطمئن رہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وسیع سلطنت عطا کرے گا ،
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کا تذکرہ کیا کچھ لوگ دیوار پھاند کر ان کے…
Read the full tafseer →يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ 26ۧ
داود
داود اسم أعجميّ.
( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے )
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
خلف
والخِلافةُ النّيابة عن الغیر إمّا لغیبة المنوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّـکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ م بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 26)
(اے دائود ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، تو لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرنا وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے، بوجہ اس کے کہ انھوں نے روزحساب کو بھلائے رکھا۔ )
خلافت و حکومت کے ذمہ داروں کے لیے ہدایات
حضرت دائود (علیہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) دنیا میں بڑے مرتبے اور مقام کے حامل تھے اور قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مقرب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں خلیفہ بنا کر خصوصی ہدایات فرمائیں۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بڑے بڑے حکمران اور ذیشان انبیائے کرام (علیہ السلام) ہوئے لیکن ان کی اولاد میں صرف حضرت داؤد (علیہ السلام) ایسی شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ فی الارض ہونے کا اعزاز بخشا۔ اس لیے انہیں ارشاد ہوا کہ اے داؤد (علیہ السلام) ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا تیرا فرض بنتا ہے کہ تو لوگوں کے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلے…
Read the full tafseer →26: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ (اے دائود ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنا یا) ہم نے زمین میں ملک پر حکمران بنایا۔ یا ہم نے آپ کو ان انبیاء (علیہم السلام) کا خلیفہ بنایا جو حق پر قائم رہنے والے تھے۔
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ ان کی حالت توبہ کے بعد اسی طرح باقی رہی اس میں تغیر نہ آیا۔
عدل کے فیصلے کا حکم :
فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (تم لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے رہنا) اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ اس لئے کہ تم خلیفہ ہو۔ یابالحق کا معنی بالعدل ہے یعنی انصاف سے۔ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی (اور خواہش نفسانی کی پیروی مت کرنا) اپنے فیصلوں میں خواہش نفس…
Read the full tafseer →تفسیر 26، یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض، اپنے حکم سے بندوں کے امور کی تدبیر کے لیے بھیجا۔
، فاحکم بین الناس بالحق ، انصاف کے ساتھ ۔ ، ولا تتبع الھواء فیضلک عن سبیل اللہ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لھم عذاب شدید بمانسوایوم الحساب، تم لوگوں نے ایمان کو حساب کے دن ترک کردیا۔ زجاج کا قول ہے کہ تم لوگوں نے اعمال کر ترک کردیا۔ اس وجہ سے تمہیں یہ سزاملی ۔ عکرمہ اور سدی کا قول ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیرہوئی ہے۔ حساب کے دن تمہیں سخت عذاب ہوگا بسبب اس دن کے بھول جانے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
26۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور شمویل (علیہ السلام) نبی کی وفات کے بعد نبوت یہ دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے دائود اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیا اور بادشاہوں کا تم کو نائب اس لئے ملک میں مقرر کیا ہے۔ کہ بغیر دل کی چاہ کے لگائو کے خالص حکم الٰہی کے موافق نبوت اور حکومت کو چلائو اور دل کی چاہ کے لگائو سے تم کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ دل کی چاہ آدمی کو حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور ڈال دیتی ہے۔ اور حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور پڑجانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو قیامت کے حساب و کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
قول باری ہے (یا دائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ناحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اے دائود (علیہ السلام) ! ہمنے آپ کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے سو لوگوں کے درمیان انصاف فیصلہ کرتے رہیے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجئے کہ وہ اللہ کے راستے سے آپ کو بھٹکادے گی)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حارث بن ابی اسامہ نے، انہیں ابو عبید قاسم بن سلام نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حمید سے اور انہوں نے حسن سے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ نفسانی خواہش کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور انسانوں سے نہ…
Read the full tafseer →35 حضرت داؤد کیلئے خلافت و نیابت کا انعام و اکرام : سو ارشاد فرمایا گیا " کہ اے داؤد ہم نے آپ کو خلیفہ بنایا ہے زمین میں "۔ یعنی اپنی طرف سے اپنا نائب اور آپ کے پیشرو انبیائے کرام کا وارثو جانشین۔ پس آپ (علیہ السلام) کا کام اور فرض منصبی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) ہمارے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے ہماری زمین پر اور ہماری مخلوق کے بارے میں ہمارے احکام واوامر کی تنفیذ کا کام کریں۔ کیونکہ جسکو کسی کا خلیفہ اور نائب بنایا جاتا ہے وہ آزاد اور خود مختار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مستخلف کی ہدایات اور اس کے اوامرو ارشادات کا پابند اور اس کی ہدایات کے تابع ہوتا ہے۔ سو مذکورہ بالا تنبیہہ اور حضرت داؤد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 5 عینی محض کھیل تماشہ کے طور پر انہیں نہیں بنایا کہ اس میں نہ کوئی حکمت ہو، نہ اس کا کوئی مقصدہو اور نہ اس میں کئے جانے والے اچھے یا برے اعمال کا کوئی نتیجہ نکلنے والاہو۔
Read the full tafseer →(38:26) یداود : ای قلنا یا داؤد
لا تتبع : فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو اتباع نہ کر۔ تو پیروی نہ کر۔ اتباع (افتعال) مصدر ۔
الھوی۔ اسم ومصدر (باب سمع) ناجائز گفسانی خواہش، ناجائز رغبت۔
فیضلک۔سببیہ ہے۔ یضل مضارع واحد مذکر کا صیغہ ہے اضلال (افعال) مصدر سے۔ اس کا نصب بوجہ جواب نہی ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الھوی ہے۔ ای فیکون الھوی سببا لضلالک کہ یہ خواہش نفسانی تیری گمراہی کا سبب بن جائے ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یضلک وہ تجھے گمراہ کر دے گی۔ وہ تجھے بہکا دے گی۔
یضلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ضل (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ بھٹکتے ہیں۔ وہ بہکتے ہیں۔ راستہ کھو دیتے ہیں۔
بما میں باء سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔ ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ف 1) اے داؤد (علیہ السلام) ، تم کو زمین میں اپنا نائب بنایا لہذاسی کے حکم کے مطابق چلو، اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو، کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنی شائبہ بھی نہ آنے پائے کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ میں بہکادینے والی ہے اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکاتو پھر ٹھکانا کہاں، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام کرنا چاہیے اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق وعدل کے اصول پرکاربند ہو، اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے کھاپی کر ختم کردیں گے آگے حساب کتاب کچھ نہیں ، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[10] یہ قصور کیا تھا، قرآن نے اس کی کوئی تصریح نہیں کی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے۔ یہ معاملہ داؤد (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک راز ہے، اس وجہ سے کسی کو اس کی کھوج کرید کا حق نہیں۔ مقدمے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ہی داؤد (علیہ السلام) کا دفعتاً چوکنے ہونے سے صرف یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے ملتے جلتے امتحان میں وہ خود بھی مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1: حضرت داؤد کے نہایت فصاحت وبلاغت سے اور حسن خطاب کے انداز سے فیصلہ سنایا جس میں معمولی واقعہ کو ایمان وعمل کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنالیا ۔ اور بتایا ۔ کہ عام طور پر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اور اعمال صالحہ کی قدروقیمت کو صحیح معنوں میں نہیں جانتے ۔ ان سے اس نوع کی زیادتیاں ضرور صادر ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ تاکہ ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے کا ان کو موقع ملے ۔ اور آئندہ حق و انصاف کو اپنا مذہبی شعار بنائیں ۔ یہ نہیں کہ اس واقعہ کو صرف سطحی نظروں سے دیکھیں اور اس کے حقیقی اسباب پر غور نہ کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد کو محسوس…
Read the full tafseer →(26) اے دائود ہم نے تجھ کو زمین میں حکمران بنایا ہے پس تو لوگوں کے مابین انصاف کے فیصلے کیا کر اور اپنے نفس کی خواہش اور اپنے جی کی خواہش پر نہ چل کہ وہ خواہش پرچلنا تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹکادے گا بلاشبہ جو لوگ اللہ کی راہ سے بےراہ ہوجاتے ہیں ان کو اس وجہ سے کہ انہوں نے حساب کے دن کو فراموش کر رکھا تھا سخت عذاب ہوگا۔
حضرت دائود کو خطاب فرمایا کہ اے دائود ہم نے تم کو خلیفہ اور ملک میں حاکم بنایا ہے خلیفہ یعنی پچھلوں کے جانشین ہو۔ بہرحال ! نبوت کے ساتھ حکومت بھی عطا کی ہے لہٰذا ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے رہنا اور نفسانی خواہش کو دخل نہ دینا ورنہ یہ جی کی خواہش پرچلنا اور ہوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 2۔ یہ بات اوروں کو سنا جو ٹھیک رہی ہے۔
Read the full tafseer →دائود (علیہ السلام) کی حوصلہ افزائی اور آپ کے نام ہدایات خاص
26۔ زیر نظر آیت میں انسانی کے لیے بیشمار نصائح پنہاں ہیں غور کرو کہ دائود (علیہ السلام) نے دو جاہلوں کے درمیان نہایت فہم و فراست کیس تھ فیصلہ کیا اور ان کی جہالت پر ان کو کچھ نہیں کہا تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھنے پائے اس فیصلہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت پسند کیا اور اس پسندیدگی کے فیصلہ کا اعلان اس طرح فرمایا جا رہا ہے کہ اے دائود ! ہم نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کریں اور اپنی ذاتی خواہشات کو اس میں ذرا بھی ملوث نہ ہونے دیں کیونکہ ہوائے نفس ہی وہ بلا ہے جو انسان کو راہ راست سے ہٹاکر بےراہ کردیتی…
Read the full tafseer →Commentary
Not only that Allah Ta’ ala had made Sayyidna Dawud (علیہ السلام) a prophet, He had also placed a government and state at his command. Accordingly, in this verse, he has been entrusted with a basic guideline for the conduct of governance and politics. Three things have been said in this guideline
1. We have made you Our khalifah (caliph, deputy, successor, vicar, vicegerent) on the earth.
2. In this capacity, your basic duty is to decide matters in accordance with the truth.
3. And to accomplish this mission, abstention from following personal desires is a binding condition.
As…
Read the full tafseer →28 This is the warning that AIlah gave the Prophet David on accepting his repentance along with giving him the good news of exalting his rank. This by itself shows that the error that he had committed contained an clement of the desires of the flesh; it also pertained to the abuse of power and authority; and it was an act which was unworthy of a just and fair-minded ruler.
We are confronted with three questions here:
(1) What was the error that the Prophet David committed?
(2) Why has Allah made only tacit allusions to it instead of mentioning it openly and directly?
(3) What is its relevance…
Read the full tafseer →