Explained with ayahs 21–25
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة صٓ 25
یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ حضرت داؤد نے ایک ہی فریق کی بات سن کر اپنا فیصلہ کیسے دے دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مدعی کی شکایت پر مدعا علیہ خاموش رہا اور اس کی تردید میں کچھ نہ بولا تو یہ خود ہی اس کے اقرار کا ہم معنی تھا۔ اس بنا پر حضرت داؤد نے یہ رائے قائم کی کہ واقعہ وہی کچھ ہے جو مدعی بیان کر رہا ہے۔
سورة صٓ 26
اس امر میں اختلاف ہے کہ اس مقام پر سجدہ تلاوت واجب ہے یا نہیں۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ یہاں سجدہ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ وجوب کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں ابن عباس سے تین روایتیں محدثین نے نقل کی ہیں۔ عکرمہ کی روایت یہ ہے کہ ابن عباس نے…
Read the full tafseer →بڑے آدمی کو چاہئے کہ اہل حاجت کی غلطیوں پر حتی الوسع صبر کرے
اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو اللہ نے کوئی بڑا مرتبہ دیا ہو، اور لوگوں کی ضروریات اس سے متعلق ہوں اسے چاہئے کہ وہ اہل حاجت کی بےقاعدگیوں اور گفتگو کی غلطیوں پر حتی الوسع صبر کرے کہ یہی اس کے مرتبہ کا تقاضا ہے۔ خاص طور سے حاکم، قاضی اور مفتی کو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ (روح المعانی)
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ ۭ (داؤد ؑ نے کہا کہ اس نے جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کی ہے تو واقعی تجھ پر ظلم کیا ہے) یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت داؤد ؑ نے یہ فقرہ صرف مدعی کی بات سن کر ارشاد…
Read the full tafseer →(آیت)
لفظ سوال یہاں مطالبہ کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہم کے لئے اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہ چکی ہے۔ اس کے بعد الی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ لفظ یہاں ضم یا خلط کے مفہوم و متضمن ہے۔
حضرت دائود ؑ کا فیصلہ
حضرت دائود ؑ نے مقدمہ کی رو داد سنتے ہی اندازہ فرما لیا کہ زیادتی دولتمند کی ہے اور پھر بےرو رعایت یہ فیصلہ سنا دیا کہ اس شخص نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملا لینے کا مطالبہ کر کے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور ساتھ ہی یہ ریمارک بھی دے دیا کہ اکثر شرکائے معاملہ اپنے ننانوے کو سو بنانے کی فکر میں اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ صرف وہی لوگ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 یعنی انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ ایک شریک دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کا حصہ بھی خود ہی ہڑپ کر جائے۔
24۔ 2 البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے پابند ہوتے ہیں اس لئے کسی پر زیادتی کرنا اور دوسروں کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
11: یہاں سے آیت نمبر 24 تک جو واقعہ بیان ہوا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی لغزش ہوگئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس لغزش پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو آدمی غیر معمولی طریقے سے آپ کے پاس اس وقت بھیجے جب آپ اپنی عبادت گاہ میں تھے۔ ان دونوں نے اپنا ایک جھگڑا فیصلے کے لیے آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فیصلہ تو فرما دیا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف پیرائے میں انہیں تنبیہ کی ہے، اس لیے وہ فوراً سجدے میں گرگئے، اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔ قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ وہ لغزش کیا تھی ؟ اور اس مقدمے کے…
Read the full tafseer →قال لقد۔۔۔ ماھم (38: 24) ” داؤد نے جواب دیا اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملالینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تجھ پر ظلم کیا اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر رہنے والے اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اور عمل صالح کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں “۔ خلطاء سے مراد قربا جو اکٹھے ہوتے رہتے ہیں۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اشخاص اس مرحلے پر غائب ہوگئے کیونکہ یہ فرشتے تھے اور امتحان لینے آئے تھے یعنی اس نبی کا امتحان مطلوب تھا جسے اللہ نے عوام الناس کا حاکم اور سربراہ اور جج بنایا تھا۔ اور حکم دیا تھا کہ لوگوں کے درمیان عدل کے…
Read the full tafseer →4 حضرت داؤد نے بقاعدہ شریعت ثبوت وغیرہ طلب کیا ہوگا۔ آخر میں یہ فرمایا کے بیشک (اگر یہ تیرا بھائی ایسا کرتا ہے تو) اس کی زیادتی اور ناانصافی ہے۔ چاہتا ہے کہ اس طرح اپنے غریب بھائی کا مال ہڑپ کر جائے (مطلب یہ کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے)
5 یعنی شرکاء کی عادت ہے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی، قوی حصہ دار چاہتا ہے کہ ضعیف کو کھاجائے۔ صرف اللہ کے ایماندار اور نیک بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر وہ دنیا میں بہت ہی تھوڑے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 24 { قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ } ”دائود علیہ السلام نے کہا کہ یہ تو واقعتا اس نے بہت ظلم کیا ہے ‘ تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے۔“
{ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآئِ لَیَبْغِیْ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ } ”اور یقینا مشترک معاملہ رکھنے والوں میں سے اکثر ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں“
قریبی رشتہ داروں کے باہمی اشتراک کو پنجابی میں ”شریکا“ کہا جاتا ہے اور شری کے والوں میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جس کسی کو جہاں موقع ملتا ہے وہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرنے میں نہیں چوکتا۔
{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا…
Read the full tafseer →28 خُلَطَاء خَلِیْط کی جمع ہے اور خلیط کا معنی جزوی شریک کار ہے۔ یعنی ایسی کاروباری شراکت جس میں شریک کام کاج کے کچھ پہلوؤں میں تو آپس میں شریک ہوں اور کچھ پہلوؤں میں آزاد ہوں۔ مثلاً زید اور بکر دونوں کے پاس الگ الگ ریوڑ ہے جو ان کی اپنی اپنی ملکیت ہے لیکن ان کی حفاظت کے لئے جگہ مشترکہ طور پر کرایہ پر لے رکھی ہے۔ چرواہے کو مل کر معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ تو ایسے شریک ایک دوسرے کے خلیط کہلاتے ہیں۔
29 مدعی کا بیان سننے کے بعد جب مدعا علیہ خاموش رہا اور اس نے مدعی کے بیان پر کوئی تنقید یا اس کی کوئی تردید نہ کی تو سیدنا داؤد نے سمجھا کہ مقدمہ کی نوعیت وہی ہے جو مدعی نے بیان کی ہے۔ لہذا آپ نے مدعی کو…
Read the full tafseer →24۔ حضرات انبیاء کوئی ضمنی اور اتفاقی موقع بھی تبلیغ کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یوسف (علیہ السلام) نے جیل خانہ میں ایک قیدی کے تعبیر خواب پوچھ لینے پر ان لوگوں کے سامنے ایک مستقل وعظ رد شرک واقرار توحید میں فرماڈالا تھا۔ (آیت) ” ان ..... بعض “۔ یہ سارا فقرہ مسلک شرک پر ایک تعریض ہے۔ (آیت) ” وقلیل ماھم “۔ مازائدہ ان کی قلت پر اظہار تعجب کے لیے ہے۔ وما مزیدۃ للابھام والتعجب من قلتھم (بیضاوی)
25۔ (اپنے پروردگار کی طرف خاص طور سے) (آیت) ” وظن داؤد “۔ آپ کی اپنے نفس سے یہ بدظنی غایت خشیت وتقوی کی بنا پر تھی۔ ظن کا لفظ خاص طور پر نظر میں رہے۔ قرآن مجید خود کسی واقعہ کا اثبات نہیں کرتا صرف آپ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ وان کثیرا من الخلطاء لیبغی بعضھم علی
بعض الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وقلیل ما ھم داؤد نے کہا : بلاشبہ اس نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں تیری دنبی کو (چھین کر) ملا لینے کا طلبگار ہوا اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسر پر (یونہی) زیادتی کیا کرتے ہیں ‘ مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ‘ وہ مستثنیٰ ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔
قَال یعنی مدعیٰ علیہ کے اقرار کے بعد حضرت داؤد نے کہا۔ لقد ظلمک بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تیری بات صحیح ہے تو بلاشبہ اس نے تیری حق تلفی کی۔ جملہ کو مؤکد بقسم ذکر کرنے سے مدعیٰ علیہ کے…
Read the full tafseer →حضرت داؤد نے فرمایا جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں باوجود اس کے کہ وہ زیادہ ہیں ملانے کی درخواست کرتا ہے تو واقعتا یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے اور اکثر شرکاء اور بھائی یوں ہی ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں۔
سوائے ان لوگوں کے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ اس طرح ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے اس کے بعد یہ دونوں اہل مقدمہ جس طرف سے آئے تھے باہر چلے گئے۔
اور اس کے بعد حضرت داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے اس واقعہ میں ان کے صبر کا امتحان لیا ہے تو انہوں نے اس سے بھی اپنے رب کے سامنے توبہ کی اور سجدہ میں گر پڑے اور خصوصی طور پر اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ : داؤد ؑ نے فرمایا کہ اس نے تمہاری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تم پر ظلم کیا ہے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ دیوار پھاند کر آئے، پھر انھوں نے مقدمہ پیش کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ وہ اس شخص سے ہم کلام ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت کا شرف بھی عطا فرمایا ہے اور جس سے حق کے خلاف یا بےانصافی پر مبنی فیصلہ کرنے کی توقع نہیں۔ اس کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں۔ یہ دونوں جملے ہی کسی شخص کا غصہ بھڑکانے کے لیے کافی ہیں، کجا یہ کہ ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21 ۔ 25:۔ اس میں چوبیس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر -1 خصم کا لفظ ایک ‘ دو اور جماعت پر واقع ہوتا ہے (1) کیونکہ اصل میں یہ مصدر ہے۔ شاعر نے کہا :
و خصیم غضاب ینفضون لحاھم کنفض البراذین العراب المخالیا
وہ غصیلے دشمن ہیں وہ اپنی داڑھیوں کو یوں جھاڑتے ہیں جس طرح ترکی و عربی گھوڑے تو بروں کو جھاڑتے ہیں۔
نحاس نے کہا : اہل تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں خصم سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تسوروا یہ لفظ خصم پر محمول کرتے ہوئے جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے اگرچہ جھگڑا کرنے والے دو تھے کیونکہ یہ جمع کے لفظ کے ساتھ ہے اور اس کے مشابہ ہے جس طرح الرکب اور الصحب ہے۔ اس کی تقدیر پر دو کے لئے ذواخصم ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
1:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی اگر وہ کسی آزمائش میں ڈالے گئے اور تو وہ اپنا بچاؤ کریں گے ان سے کہا گیا آپ عنقریب آزمائش میں مبتلا کئے جائیں گے اور عنقریب آپ اس دل کو جان لیں گے کہ جس میں آپ مبتلا کئے جائیں گے لہذا اپنا بچاؤ کرلیجئے پھر ان سے کہا گیا کہ وہ یہ وہ دن ہے جس میں آپ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو انہوں نے زبور لی اور عبادت گاہ میں داخل ہوگئے اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کردیا زبور کو اپنی گود میں رکھ لیا اور دروازے پر ایک مصنف کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ آج کے دن میرے پاس آنے کی کسی کو اجازت نہ…
Read the full tafseer →قَالَ [انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] لَقَدْ ظَلَمَكَ [بیشک اس نے ظلم کیا ہے تجھ پر ] بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ [تیری بھیڑ کو مانگنے سے ] اِلٰى نِعَاجِهٖ ۭ [اپنی بھیڑوں کی طرف ] وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ [بیشک شریک کاروں میں سے اکثر ] لَيَبْغِيْ [یقینا زیادتی کرتے ہیں ] بَعْضُهُمْ [ان کا کوئی ] عَلٰي بَعْضٍ [کسی پر ] اِلَّا الَّذِيْنَ [سوائے ان کے جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] وَقَلِيْلٌ مَّا [اور بہت ہی تھورے ہیں ] هُمْ ۭ [وہ لوگ ] وَظَنَّ دَاوٗدُ [اور گمان کیا داؤد (علیہ السلام) نے ] اَنَّمَا [کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] فَتَنّٰهُ [ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
شرکاء مالیات کا عام طریقہ
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دو شخصوں کے درمیان جو فیصلہ فرمایا صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی عام شرکاء کی ایک حالت بھی بتادی جنہیں خلطاء سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس دنیا میں بسنے والے لوگ جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا تجارت میں یا کسب اموال کے دوسرے طریقوں میں ساجھا رہتا ہے عام طور سے یہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں جو خیانت وغیرہ کی صورت میں ہوتی ہے عام طور سے لوگوں کا یہی حال ہے ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں یہ لوگ اپنے شرکاء پر زیادتی نہیں کرتے لیکن ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
23:۔ وھل الخ۔ تسوروا : دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔ ولا تشطط : حق سے تجاوز نہ کرنا۔ نعجۃ : ولد الضان، دنبے کا بچہ۔ اکفلنیہا : وہ مجھے دیدے۔ عزنی : مجھ پر غالب آگیا۔ یہاں سے لے کر وقلیل ماھم تک ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچاند دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ان کے بلا اجازت اور پھر اس انداز سے داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…
Read the full tafseer →قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِہٖ 0 ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ لَيَبْغِيْ بَعْضُہُمْ عَلٰي بَعْضٍ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا ہُمْ 0 ۭ وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ 2 4 ۞
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَـآئِ لَیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ھُمْ ط وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَـتَـنّٰـہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّـہٗ وَخَرَّرَاکِعًاوَّاَنَابَ ۔ (صٓ: 24)
(حضرت دائود نے کہا کہ تمہارے بھائی نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور بیشتر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں اور وہ بہت تھوڑے ہیں اور حضرت دائود نے گمان کیا کہ ہم نے اس کو آزمایا، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا اہم واقعہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی انداز تکلم ہے کہ وہ بعض دفعہ اہم ترین واقعات کو سوالیہ انداز میں شروع کرتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو کر بات سنے اسی بنا پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے دو آدمیوں کی خبر پہنچی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کے خلوت خانہ میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے۔ یہاں سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے بتلا یا گیا ہے کہ ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور اس کے بھائی کے پاس ایک تھی ننانوے دنبی رکھنے والے کی حرص کا یہ عالم تھا کہ اسے…
Read the full tafseer →24: قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ (دائود (علیہ السلام) نے کہا یہ جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرتا ہے۔ تو واقعی تجھ پر ظلم کرتا ہے) تاکہ وہ اپنے حکم سے رکاوٹ بنے۔ یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ اس میں شریک کے فعل کا سخت انکار و مذمت ہے۔
: السوالؔ یہ مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ اور یہ اضافت کے معنی کو متضمن ہے اسی لئے اس کی طرف متعدی کیا گیا۔ گویا تقدیرکلام یہ ہے باضافۃ نعجتک الی نعاجہٖ علی وجہ السوال والطلب۔ وہ طلب وسوال کے انداز سے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی کا اضافہ چاہتا ہے۔ اس میں دوسرے کو ظالم قرار دیا گیا اس کے بعد کہ اس کے…
Read the full tafseer →24، قال، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا، لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ، یعنی تمہاری نعجہ کو اپنے ساتھ ملاکر اس نے ظلم کیا۔
شبہ اور اس کا ازالہ
سوال حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کیسے کہہ دیا کہ اس نے ظلم کیا حالان کہ دوسرے شخص سے اس کے بارے میں پوچھاہی نہیں ؟ جواب اگر واقعہ اسی طرح ہے جس طرح یہ کہہ رہے ہیں تو یہ ظلم ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ اس کے ساتھی کے اعتراف کے بعد فرمایا۔ ، وان کثیرامن الخلطائ، اس سے مراد شرکاء ہیں ۔ ، لیبغی بعضھم علی بعض ، یعنی بعض ، بعض پر ظلم کرتے ہیں۔ ، الا الذین آمنواوعملوا الصالحات، ان صفات والے لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے ۔ ، وقلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 25۔ فارسی اور اردو کے فائدہ میں جو قصہ حضرت دائودہ کا شاہ ولی اللہ علیہ رحمۃ اور شاہ عبد القادر علیہ رحمۃ نے بیان کیا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اسی قصہ پر قاضی عیاض اور امام فخر الدین رازی وغیرہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس طرح کے قصے انبیا کی شان سے بعید ہے۔ اس اعتراض سے بچنے کی غرض سے حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کو اپنی تفسیر میں ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس قصہ کو ابن 1 ؎ ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرہ سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس 2 ؎ روایت کو صحیح کہا ہے۔ اس قدر محدثین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…
Read the full tafseer →قول باری (لقد ظلمک بسئوال نعجتک الی نعاجہ۔ اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کرکے واقعی تجھ پر ظلم کیا ہے) اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے دوسرے فریق کا بیان لئے بغیر یہ بات جو کہہ دی وہ فیصلہ سنانے کے طور پر نہیں کہی بلکہ حکایت اور مثل کے طور پر کہی تھی جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
نیز حضرت دائود (علیہ السلام) نے مقدمے کا پورا پس منظر ایک فریق کے بیان سے سمجھ لیا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ دوسرے فریق کا بیان لئے بغیر اس پر ظالم ہونے کا حکم نہ لگاتے، مدعا علیہ کے بیان کے بعد یا تو وہ اس بات کا اعتراف کرلیتا یا اس کے خلاف گواہی وغیرہ کی صورت میں ثبوت…
Read the full tafseer →31 حضرت داؤد کا فریقین کے درمیان فیصلہ : سو اس پر حضرت داؤد نے ان کے جھگڑے سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " بیشک اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے تجھ پر ظلم کیا ہے " اور امر واقعہ یہی ہے کہ " زیادہ تر شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتیاں ہی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ اور ایسے نیک بخت لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں "۔ اور زیادہ تر لوگ تو غلط کار اور برے ہی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ۔ { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ } ۔ سو اس سے پھر اس حقیقت کا پتہ چلا کہ عوام کی اکثریت کی تائید و حمایت کسی امر کے حق یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →ف 2 ممکن ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) نے یہ فیصلہ دوسرے فریق کا بیان سنے بغیر صادر کردیاہو اور یہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کا قصور تھا جسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔3 اس مقام پر سجدہ کرنا پڑھنے اور سننے والے دونوں کے لئے مستحب ہے۔ ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ سورة ص کا سجدہ با عزیمت سجدوں یعنی ان سجدوں میں سے نہیں ہے جن کی تاکید آئی ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ص میں سجدہ کیا اور فرمایا :” دائود ( علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(38:24) الخطائ : خلیط کی جمع ۔ شرکاء شریک۔
یبغی مضارع واحد مذکر غائب ۔ بغی (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ زیادتی کرتا ہے۔ وہ ظلم کرتا ہے۔
قلیل ماہم : قلیل خبر مقدم ہم مبتداء مؤخر۔ ما زائدہ۔ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ قلیل کی تنکیر۔ اور ما کی زیادتی سے مبالغہ کے معنی مقصود ہیں۔
فتنۃ : فتنا ماضی جمع متکلم فتنۃ باب ضرب سے مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کی آزمائش کی۔ ہم نے اسے آزمائش میں ڈالا۔ ضمیر جمع متکلم رب کے لئے ہے۔
خر ماضی واحد مذکر غائب خر (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کا اوپر سے اس طرح گرنے کے ہیں کہ اس کے گرنے سیخریر (پانی کی روانی، ہوا کا سنانا) کی آواز پیدا ہو۔ وہ گرپڑا۔
راکعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ف 1) حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ سن کر وہ دونوں فرشتے جیسے آئے تھے ویسے ہی چل دیے تب داؤد (علیہ السلام) کے خیال میں یہ بات آئی کہ اس مقدمہ کی صورت ان ہی کے حال کے موافق ہے روایت ہے کہ آپ کی ننانوے بیویاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دیدیا ، جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکے تھے لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزاوقارب دوسرے کی طرف کیا التفات کرنے والے تھے آپ کے لیے راضی ہوگئے ، جب حضرت داوؤد (علیہ السلام) نے مقدمہ کی رواداد کو اپنے اوپر صادق پایا تو سمجھے کہ درحقیقت یہ مقدمہ والے نہ تھے بلکہ خدا کے فرشتے تھے بھیجے ہوئے اور اس بات کا یقین ہوا کہ ہم نے ان کو محنت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1: حضرت داؤد کے نہایت فصاحت وبلاغت سے اور حسن خطاب کے انداز سے فیصلہ سنایا جس میں معمولی واقعہ کو ایمان وعمل کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنالیا ۔ اور بتایا ۔ کہ عام طور پر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اور اعمال صالحہ کی قدروقیمت کو صحیح معنوں میں نہیں جانتے ۔ ان سے اس نوع کی زیادتیاں ضرور صادر ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ تاکہ ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے کا ان کو موقع ملے ۔ اور آئندہ حق و انصاف کو اپنا مذہبی شعار بنائیں ۔ یہ نہیں کہ اس واقعہ کو صرف سطحی نظروں سے دیکھیں اور اس کے حقیقی اسباب پر غور نہ کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد کو محسوس…
Read the full tafseer →(24) داود نے کہا یہ شخص جو تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کی مانگ کرتا ہے تو یقینا تجھ پر ظلم کرتا ہے اور بیشک بہت سے شرکاء آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی اور ظلم کرتے ہیں مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اور نیک اعمال کے پابند رہتے ہیں وہ باہم زیادتی نہیں کیا کرتے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور دائود یہ سمجھ گیا کہ ہم نے اس کو آزمایا اور آزمائش میں مبتلا کردیا۔ لہٰذا وہ یہ گمان کرتے ہی اور سمجھتے ہی اپنے پروردگار سے استغفار اور بخشش طلب کرنے لگا اور سجدے میں گڑ پڑا اور خالص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کی کوئی خاص غلطی تو معلوم ہوئی صرف اس قدر کہا جاسکتا ہے کہ مظلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 1۔ ان کا مجموعہ اقوال و افعال نہایت درجہ گستاخی درگستاخی ہے، پس اس میں داود (علیہ السلام) کے تحمل وصبر کا امتحان ہوگیا کہ آیا زور سلطنت میں ان متواتر گستاخیوں پر داروگیر کرتے ہیں یا غلبہ نور نبوت سے عفو فرماتے ہیں۔ چناچہ امتحان میں صابر ثابت ہوئے، اور مقدمہ کو نہایت ٹھنڈے دل سے سماعت اور فیصل فرمایا لیکن عدل کے جس درجہ علیاء قصوی کو مقتضی ہے اس سے بظاہر ایک گونہ بعید اتنا خفیف سا یہ امر پیش آگیا کہ بعد قیام برہان شرعی بجائے اس کے کہ صرف ظالم سے یہ خطاب فرماتے کہ تو نے ظلم کیا اس مظلوم سے یہ خطاب فرمایا کہ تجھ پر ظلم کیا، جس سے ایک صورت طرفداری کی متوہم ہوتی ہے لیکن اس متوہم طرفداری کا بھی…
Read the full tafseer →دائود (علیہ السلام) نے اس کی بات سن کر کہا کہ وہ سراسر تجھ پر زیادتی کر رہا ہے
24۔ ایک نے اپنی بات بیان کی جو کی لیکن دوسرے نے کوئی جواب سوال کیا یا نہیں کیا ؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے نے اور کچھ نہیں تو پہلے بیان کرنے والے کے بیان کی تردید نہیں کی بلکہ اس کی تائید کی اور 5 یقینا کی کیونکہ دو فریق کے درمیان فیصلہ اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک دونوں اپنا اپنا موقف بیان نہ کردیں اور ظاہر ہے کہ پہلے کے بیان کی تصدیق بھی دوسرے کے موقف کی وضاحت کردیتی ہے کہ اس لیے آپ نے دوبارہ اس سے کچھ نہیں پوچھا اور اپنے فیصلہ کو اسی طرح قلمبند…
Read the full tafseer →A man of stature should observe patience to the best of his ability over errors made by those in need
This tells us that a person whom Allah has blessed with some high rank - and the needs of people are tied to him should do his best to remain patient over their irregular behavior and errors of expression, for this is the demand of his rank or office. Particularly so, a Hakim (official of the government), a Qadi (judge of the judiciary) and a Mufti (authentic consultant responsible for giving fatwa in the light of Islam's sources of jurisprudence) should pay full attention to this need.…
Read the full tafseer →25 Here, one should not doubt that the Prophet David gave his decision after hearing only what one party had to say. The fact of the matter, is that when the respondent kept quiet at the complaint of the complainant and said nothing in defence it by itself amounted to a confession by him. That is why the Prophet David came to the conclusion that the facts of the case were the same as the complainant had stated.
26 There is a difference of opinion as to whether it is obligatory to perform a sajdah (prostration) on this occasion or not. Imam Shafe'i says that it is not obligatory, for this is…
Read the full tafseer →