Saad 38:23

Saad · from ayah 23

38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ ۫— لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ ۫— فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۟اِنَّ هٰذَاۤ اَخِىۡ لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً وَّلِىَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا وَعَزَّنِىۡ فِى الۡخِطَابِ

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed this, my brother, has ninety-nine ewes, and I have one ewe; so he said, 'Entrust her to me,' and he overpowered me in speech."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:23

یہ میرا بھائی ہے، اِس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(سنیے) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کرو، اور اس نے زور بیان سے مجھے دبا لیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ میرا بھائی ہے، اِس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے، پھر کہتا ہے یہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور گفتگو میں (بھی) مجھے دبا لیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے، تو اس نے کہا کہ یہ میرے سپرد کر دے اور اس نے بات کرنے میں مجھ پر بہت سختی کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور گفتگو میں بھی اس نے مجھے دبا لیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دبنیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دبنی ہے پس اس نے ہا کہ یہ بھی میرے حالے کر دے اور بحث میں اس نے مھے دبا لیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(پھر ایک نے صورت مقدمہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ تو وہ بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے دبا لیا گفتگو میں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ شخص میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھ کو دے ڈال اور بات چیت میں مجھے دباتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دو اور گفتگو میں اس نے مجھے دبا لیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بات یہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کر دے اور بات چیت میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, this is my brother; he has ninety-nine ewes and I have only one ewe.” And yet he said: “Give her into my charge,” and he got the better of me in argument.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is my brother; he has ninety nine ewes, and I have a single ewe; still he said, _Give it into my charge.‘ And he overpowered me in speech.

— Muhammad Taqi Usmani

This is my brother; he has ninety nine ewes, and I have a single ewe; still he said, _Give it into my charge.‘ And he overpowered me in speech.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! this my brother hath ninety and nine ewes while I had one ewe; and he said: Entrust it to me, and he conquered me in speech.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed this, my brother, has ninety-nine ewes, and I have one ewe; so he said, 'Entrust her to me,' and he overpowered me in speech."

— Saheeh International

One of them said, "This is my brother who has ninety-nine ewes when I have only one. He has demanded me to place that one in his custody; he had the stronger argument".

— Muhammad Sarwar

Surely this is my brother; he has ninety-nine ewes and I have a single ewe; but he said: Make it over to me, and he has prevailed against me in discourse.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this my brother hath nine and ninety ewes while I have one ewe; and he saith: entrust it to me, and he hath prevailed upon me in speech.

— Abdul Majid Daryabadi

"This man is my brother: He has nine and ninety ewes, and I have (but) one: Yet he says, 'commit her to my care,' and is (moreover) harsh to me in speech."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 24 آگے کی بات سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی ضروری ہے کہ استغاثہ کا یہ فریق یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اس شخص نے میری وہ ایک دنبی چھین لی اور اپنی دنبیوں میں ملا لی، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مجھ سے میری دنبی مانگ رہا ہے، اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا ہے، کیونکہ یہ بڑی شخصیت کا آدمی ہے اور میں ایک غریب آدمی ہوں، میں اپنے اندر اتنی سکت نہیں پاتا کہ اس کا مطالبہ رد کر دوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

فَفَزِعَ مِنْهُمْ (پس حضرت داؤد ان سے گھبرا گئے) گھبرانے کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ دو آدمیوں کا بےوقت پہرہ توڑ کر اس طرح گھس آنا عموماً کسی بری نیت ہی سے ہوتا ہے۔ طبعی خوف نبوت یا ولایت کے منافی نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی خوفناک چیز سے طبعی طور پر گھبرا جانا نبوت اور ولایت کے منافی نہیں ہے۔ ہاں اس خوف کو دل و دماغ پر طاری کر کے اپنے فرائض کو چھوڑ دینا ضرور برا ہے۔ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم میں انبیاء کی شان یہ بیان کی گئی ہے لایخشون احداً الا اللہ۔ (وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) پھر یہاں حضرت داؤد ؑ کو خوف کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈرنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک ڈر تو موذی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(آیت) اصل قضیہ کی تفصیل یہ اصل جھگڑے کی تفصیل ہے جو مظلوم فریق نے پیش کی۔ اس نے دوسرے فریق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرا بھائی ہے جس کے پاس ننانوے و نبی اں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اپنی دنبی بھی اس کے حوالے کر دوں۔ اس کے لئے یہ مجھ سے جھگڑتا ہے اور جھگڑے میں یہ مجھ پر غالب آگیا ہے۔ یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ اس زمانے میں اسی علاقہ کی اصلی دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عباتر تھی۔ حضرت دائود ؑ کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑ سالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری ہے۔ تاریخوں سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکہ پر تصور بھی دنبی کی تھی اور اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔ 23۔ 2 یعنی ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہوجاؤں۔ 23۔ 3 دوسرا ترجمہ ہے ' اور یہ گفتگو میں بھی مجھ پر غالب آگیا ' یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی و طراری کی وجہ سے لوگوں کو قائل کرلیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–24

11: یہاں سے آیت نمبر 24 تک جو واقعہ بیان ہوا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی لغزش ہوگئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس لغزش پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو آدمی غیر معمولی طریقے سے آپ کے پاس اس وقت بھیجے جب آپ اپنی عبادت گاہ میں تھے۔ ان دونوں نے اپنا ایک جھگڑا فیصلے کے لیے آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فیصلہ تو فرما دیا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف پیرائے میں انہیں تنبیہ کی ہے، اس لیے وہ فوراً سجدے میں گرگئے، اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔ قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ وہ لغزش کیا تھی ؟ اور اس مقدمے کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ھذا۔۔۔۔۔ الخطاب (38: 23) ” یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ ایک دنبی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبالیا “۔ اکفلنی کے معنی ہیں مجھے دے دے ، میری ملکیت میں دے دے اور میری کفالت میں دے دے اور عزنی کے معنی ہیں مجھ میں غالب ہوگیا۔ جہاں تک مقدمے کا تعلق ہے خود بیان دعویٰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ظالمانہ فعل ہے جس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ چناچہ حضرت داؤد نے بھی جواب دعویٰ سننے سے پہلے ہی فیصلہ کرنا شروع کردیا ۔ کیونکہ بادی النظر میں اس بھائی کا فعل ظالمانہ تھا۔ اس لیے حضرت داؤد نے دوسرے فریق سے بات ہی نہ کی ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جھگڑا یہ ہے کہ میرے اس بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے ہاں صرف ایک دنبی ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر اپنی سو پوری کرلے۔ اور مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جیسے مال میں یہ مجھ سے زیادہ ہے بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے۔ جب بولتا ہے تو مجھ کو دبا لیتا ہے اور لوگ بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ غرض میرا حق چھیننے کے لیے زبردستی کی باتیں کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 { اِنَّ ہٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌقف } ”یہ میرا بھائی ہے ‘ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک ہی دنبی ہے۔“ اگر ہم اس کی توجیہہ تورات کے مطابق کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مدعی نے کنائے کے انداز میں بات کی۔ وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ میری ایک ہی بیوی ہے جبکہ میرے مخالف کی ننانوے بیویاں ہیں۔ { فَقَالَ اَکْفِلْنِیْہَا وَعَزَّنِیْ فِی الْْخِطَابِ } ”اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دو ‘ اور گفتگو میں اس نے مجھے دبا لیا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 اس تمہیدی مشترکہ بیان کے بعد مدعی نے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ یہ (مدعا علیہ) میرا بھائی ہے (بھائی سے مراد یہ نہیں کہ وہ رشتے سے بھائی ہو، بلکہ دینی بھائی بھی مراد ہوسکتا ہے اور کسی کاروباری اشتراک کی بنا پر بھی) اس کے پاس ننانوے دنبیاں تو پہلے ہی موجود ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور مجھے اس سے اپنے حق کی حفاظت کے لئے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ مجھے ایسی بات کرنے ہی نہیں دیتا اور دبا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ (اور اپنے آگے میری بات نہیں چلنے دیتا) (آیت) ” اخی “۔ اخ سے لازمی طور پر بھائی ہی مراد نہیں ہوتا، دوست یا دینی بھائی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ بالدین او بالصحبۃ (بیضاوی) والمراد اخوۃ الدین اواخوۃ الصداقۃ والالفۃ اواخوۃ الشرکۃ والخلطۃ (مدارک) (آیت) ” فاحکم ...... لاتشطط “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ فریق مقدمہ کے لیے جائز ہے کہ حاکم سے اس لہجہ میں خطاب کرے۔ یدل علی ان اللخصم ان یخاطب الحاکم بمثلہ (جصاص) (آیت) ” لہ ..... اکفلنیھا “۔ عہد داؤدی میں فلسطین میں بھیڑوں، دنبوں کی گلہ بانی کا عام رواج تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–26

آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ فقال اکفلنیھا وعزنی فی الخطاب (پھر ایک شخص بولا :) یہ میرا (دینی) بھائی ہے (ہم دونوں ایک ہی شریعت کو مانتے ہیں) اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک دنبی ہے۔ سوہ وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھی مجھے دے دے (میری دنبیوں کے ساتھ اس کو بھی ملا دے) اور بات چیت میں اس نے مجھ کو دبایا ہے۔ درپردہ نعجہ سے مراد اس کی عورت تھی۔ عرب لوگ بطور کنایہ نعجہ بول کر عورت مراد لیتے ہیں۔ حسن بن فضل نے کہا : یہ لفظ اس نے تنبیہ کرنے اور سمجھانے کیلئے کہا تھا ‘ واقع میں وہاں دنبیاں نہیں تھیں۔ اَکْفِلْنِیْھَا حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی وہ دنبی مجھے دے دے۔ مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر ان میں سے ایک کہنے لگا کہ صورت مقدمہ یہ ہے کہ یہ شخص میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے دے دے اور بات چیت میں دباتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ ھٰذَآ اَخِيْ ۣ لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً : یہ میرا حقیقی یا دینی بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے۔ تو اس نے مجھے کہا ہے کہ وہ ایک بھی میں اس کے سپرد کر دوں اور بات کرنے میں اس نے مجھ پر بہت سختی کی اور مجھے دبا لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–25

21 ۔ 25:۔ اس میں چوبیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر -1 خصم کا لفظ ایک ‘ دو اور جماعت پر واقع ہوتا ہے (1) کیونکہ اصل میں یہ مصدر ہے۔ شاعر نے کہا : و خصیم غضاب ینفضون لحاھم کنفض البراذین العراب المخالیا وہ غصیلے دشمن ہیں وہ اپنی داڑھیوں کو یوں جھاڑتے ہیں جس طرح ترکی و عربی گھوڑے تو بروں کو جھاڑتے ہیں۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں خصم سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تسوروا یہ لفظ خصم پر محمول کرتے ہوئے جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے اگرچہ جھگڑا کرنے والے دو تھے کیونکہ یہ جمع کے لفظ کے ساتھ ہے اور اس کے مشابہ ہے جس طرح الرکب اور الصحب ہے۔ اس کی تقدیر پر دو کے لئے ذواخصم ہوگی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–24

1:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی اگر وہ کسی آزمائش میں ڈالے گئے اور تو وہ اپنا بچاؤ کریں گے ان سے کہا گیا آپ عنقریب آزمائش میں مبتلا کئے جائیں گے اور عنقریب آپ اس دل کو جان لیں گے کہ جس میں آپ مبتلا کئے جائیں گے لہذا اپنا بچاؤ کرلیجئے پھر ان سے کہا گیا کہ وہ یہ وہ دن ہے جس میں آپ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو انہوں نے زبور لی اور عبادت گاہ میں داخل ہوگئے اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کردیا زبور کو اپنی گود میں رکھ لیا اور دروازے پر ایک مصنف کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ آج کے دن میرے پاس آنے کی کسی کو اجازت نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ ھٰذَآ [بیشک یہ ] اَخِيْ ۣ [میرا بھائی ہے ] لَهٗ [اس کے لئے ] تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ [ننانوے ] نَعْجَةً [بھیڑیں ہیں ] وَّلِيَ [اور میرے لئے ] نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ ۣ [ایک بھیر ہے ] فَقَالَ [پھر اس نے کہا ] اَكْفِلْنِيْهَا [تو میری کفالت میں دے اس کو ] وَعَزَّنِيْ [اور وہ غالب ہوا مجھ پر ] فِي الْخِطَابِ [بات میں ] ۔ ن ع ح (س) نعجا خالص سفید رنگ ہونا۔ نعجۃ ج نعاج۔ بھیڑ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔ 24 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–25

شرکاء مالیات کا عام طریقہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دو شخصوں کے درمیان جو فیصلہ فرمایا صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی عام شرکاء کی ایک حالت بھی بتادی جنہیں خلطاء سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس دنیا میں بسنے والے لوگ جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا تجارت میں یا کسب اموال کے دوسرے طریقوں میں ساجھا رہتا ہے عام طور سے یہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں جو خیانت وغیرہ کی صورت میں ہوتی ہے عام طور سے لوگوں کا یہی حال ہے ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں یہ لوگ اپنے شرکاء پر زیادتی نہیں کرتے لیکن ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–26

تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔ (ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–24

23:۔ وھل الخ۔ تسوروا : دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔ ولا تشطط : حق سے تجاوز نہ کرنا۔ نعجۃ : ولد الضان، دنبے کا بچہ۔ اکفلنیہا : وہ مجھے دیدے۔ عزنی : مجھ پر غالب آگیا۔ یہاں سے لے کر وقلیل ماھم تک ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچاند دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ان کے بلا اجازت اور پھر اس انداز سے داخل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–25

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ھٰذَآ اَخِيْ۝ 0 ۣ لَہٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِيَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۝ 0 ۣ فَقَالَ اَكْفِلْنِيْہَا وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ۝ 23 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–26

ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔ تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔ وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ قف فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 23) (بیشک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، پس میرے اس بھائی نے کہا کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور جھگڑے میں اس نے مجھے دبا لیا۔ ) تنازع کی تفصیل ان دونوں کے درمیان جو تنازع چل رہا تھا یہ اس کی تفصیل ہے۔ جس فریق کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ جو میرے ساتھ دوسرا فریق ہے یہ میرا بھائی ہے، بھائی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا دینی بھائی ہے یا ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں یا ہماری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–25

فہم القرآن ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا اہم واقعہ۔ قرآن مجید کا یہ بھی انداز تکلم ہے کہ وہ بعض دفعہ اہم ترین واقعات کو سوالیہ انداز میں شروع کرتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو کر بات سنے اسی بنا پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے دو آدمیوں کی خبر پہنچی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کے خلوت خانہ میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے۔ یہاں سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے بتلا یا گیا ہے کہ ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور اس کے بھائی کے پاس ایک تھی ننانوے دنبی رکھنے والے کی حرص کا یہ عالم تھا کہ اسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نعجہکا واقعہ : 23: اِنَّ ھٰذَا اَخِیْ (یہ شخص میرا بھائی ہے) نحو : اخیؔ یہ ھذا کا بدل یا خبر ہے۔ کیونکہ مراد اخوت ِدین یا اخوت الفت و صداقت یا اخوت ِشراکت وخلاطت مراد ہے جیسا کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا ان کثیرًا من الخلطاء ] ص : 24 [ لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّ لِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے) ۔ قراءت : یہ حفص کی قراءت ہے وَلِیْ یہ نافع ابن کثیر، حمزہ کی قراءت ہے۔ النعجۃ یہ مرأۃ سے کنایہ ہے اور جب یہ مسئلہ کی تصویر ہے۔ اور بطور فرض یہ ذکر کیا گیا تو ملائکہ کیلئے اپنے نفسوں کے بارے میں فرض کرنا ممتنع نہیں۔ جیسا تم کہو۔ لی اربعون شاۃً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 23، ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ان ھذا أخی ، میرادینی بھائی ہے۔ ، لہ تسع وتسعون نعجۃ ، یعنی میری ایک بیوی ہے۔ ، ولی نعجۃ واحدۃ، اور میری ایک بیوی ہے۔ عرب لوگ ، نعجۃ ، کو بیوی سے کنایۃ استعمال کرتے تھے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ لفظ تنبیہ کرنے اور بطور سمجھا نے کے کہا تھا حالانکہ وہاں کوئی ، نعجۃ، نہیں تھی۔ ، فقال اکفلنیھا، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنبی مجھے دے دے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کو میرے لیے چھوڑدے۔ یعنی اس کو طلاق دے دے یا اس سے نکاح نہ کر۔ ، وعزلی، اور میرے اوپر غالب آتا ہے۔ ، فی الخطاب، بات کرنے میں میرے سے آگے ہے۔ بعض نے کہا کہ اپنی بادشاہت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–23

18۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–28

آیت 21 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–23

خصم کا اسم، واحد اور جماعت دونوں پر واقع ہوتا ہے ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) ان آنے والوں سے اس لئے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ یہ آپ کے پاس اجازت کے بغیر انسانوں کی صورت میں آپ کی نماز گاہ میں دیوار پھاند کر آئے تھے۔ آنے والوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے کہا (لا تخف خصمان بغی بعضنا علی بعض۔ آپ ڈریے نہیں، ہم دو اہل مقدمہ ہیں ایک نے دوسرے سے زیادتی کی ہے) اس کے معنی ہیں۔ دیکھیے، اگر آپ کے پاس دواہل مقدمہ آجائیں اور آکر یہ کہیں کہ ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی ہے تو آپ کیا فیصلہ کریں گے۔ “ یہ بات اضمار کی صورت میں بیان ہوئی ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ مقدمہ کے دونوں فریق فرشتے تھے اور کسی نے کسی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–23

30 فریقین کے جھگڑے کی تفصیل کا ذکر : سو ان دونوں فریقوں میں سے ایک نے جھگڑے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ " یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے۔ اور اس نے مجھے دبا لیا اپنی گفتگو میں "۔ اور اپنی چرب لسانی کی وجہ سے یہ میری ایک نہیں چلنے دیتا۔ آگے رہ جاتی ہے یہ بات کہ آیا یہ مقدمہ فرضی تھا یا واقعی۔ اور یہ دونوں شخص دو آدمی تھے یا آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے ؟ اس بارے میں حضرات اہل علم سے دونوں قول منقول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دو انسان ہی تھے جو ایسا مقدمہ لے کر آئے تھے جو ان کے یہاں واقعتہً پیش آیا تھا۔ جبکہ بعض کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–26

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 یعنی دینی بھائی یا ساتھ رہنے والا بھائی۔ 1 یعنی وہ مجھ سے زیادہ چرب زبان ہے اس لئے لوگ اس کی طرف داری کرتے ہیں اور میری کوئی نہیں سنتا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:23) نعجۃ واحد نعاج جمع۔ ونبیاں ۔ واحد دنبی۔ اکفلنیھا ۔ اکفل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اکفال (افعال) مصدر سے جس کے معنی کفیل بنانا۔ دوسرے کا حصہ قرار دینا کے ہیں۔ یعنی اس کو میرا حصہ قرار دیدے۔ مجھے اس کا کفیل بنا دے۔ ن وقایہ ی متکلم کی ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعجۃ کی طرف راجع ہے اس دنبی کو میرا حصہ قرار دیدے یا اس دنبی کو مجھے کفیل بنا دے۔ عزنی عز ماضی واحد مذکر غائب عز باب ضرب سے مصدر ۔ غلبہ کرنا۔ زبردستی کرنا ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ پر دباؤ ڈالا۔ عزنی فی الخطاب۔ اس نے مجھ پر گفتگو میں دباؤ ڈالا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–26

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا) تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–24

[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–23

حضرت داؤد 1: اس مقام پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر مدح و ستائش کے انداز میں ہے ۔ یہ کہا گیا ہے کہ وہ صاحب قوت واقتدار تھے ۔ وہ خدا کے حضور میں خشوع قلب کے ساتھ جھکتے تھے ۔ پہاڑ ان کے مستخر تھے ۔ پرندے ان کے اشارہ وچشم کے منتظر رہتے ۔ ان کی حکومت نہایت مضبوط اور مستحکم تھی ۔ اللہ نے حکمت وتدبیر اور فصاحت وبلاغت کی نعمتوں سے انہیں نوازا تھا ۔ اللہ کے ہاں ان کو قرب حاصل تھا ۔ یہ انجام وعاقبت کے لحاظ سے بہترین انسان تھے ۔ اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں میں حق و انصاف کے ساتھ فیصلے صادر فرمادیں ۔ اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کریں ۔ ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) جھگڑایہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ پس یہ کہتا ہے وہ ایک دنبی اپنی بھی میرے سپرد کردے اور میرے حوالے کردے اور زبردستی اور سختی کرتا ہے میرے ساتھ بات کرنے اور گفتگو کرنے میں مجھ کو دبا لیتا ہے۔ یعنی یہ میرا بھائی ہے دین میں یا ملاقاتی بھائی ہے، بہرحال ! اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک دنبی بھی میں اس کے حوالے کردوں اور گفتگو میں اپنی منہ زوری سے مجھ کو دبا لیتا ہے۔ حضرت دائود کی عبادت میں جو خلل واقع ہوا اور توجہ بٹ گئی پھر ان لوگوں کا اس طرح بےموقع آنا اس پریشانی میں مقدمہ کی طرح نہ کرسکے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–23

ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جھگڑا کیا ہے ؟ ایک نے اس کی وضاحت اس طرح کر دی 23۔ ایک نے دوسرے کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے خواہ حقیقی بھائی یا دینی ومذہبی یا انسانی ناطہ کے لحاظ سے بہر حال اس کے پاس نناویں دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ یہ مجھے کہتا ہے کہ یہ ایک دنبی بھی مجھے دے دے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا اور اس طرح میری دنبیوں کی تعداد بھی پوری سو ہوجائے گی اور تو اس دنبی کی حفاظت کے جھنجھٹ سے چھوٹ جائے گا کہ میرے لیے خواہ مخواہ یہ پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور یہ جب مجھ سے بات کرتا ہے تو اس طرح مجھ پر چھا جاتا ہے کہ مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے یہ تو بالکل حق ہے کہ مجھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

About Sayyidna Dawud (علیہ السلام) ، it was said in verse 22: فَفَزِعَ مِنْهُمْ (and he was scared of them). The reason of being scared was quite obvious. Two men barging into one's privacy in that manner at an odd hour beating the security cordon can only be because of some bad intention in most cases. Natural fear is not contrary to the station of a prophet or man of Allah This tells us that being naturally affected at the sight of something fearful is not contrary to the station of a prophet or man of Allah. Yes, allowing this fear to overtake one's heart and mind and abandoning duties…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 "Brother" dces not mean a real brother but a brother-in-faith and a member of one's own clan. 24 To understand what follows one should note that the complainant did not say that the other person had taken away his only ewe and added it to his own ewes, but said that he was asking for it, and since he was a powerful person he had prevailed over him in the matter and he could not reject his demand, being a weak and poor man.

Read the full tafseer →