Explained with ayahs 21–25
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة صٓ 22
گھبرانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی فرمانروائے وقت کے پاس اس کی خلوت گاہ میں سیدھے راستے سے جانے کے بجائے یکایک دیوار چڑھ کر جا پہنچے تھے۔
سورة صٓ 23
بھائی سے مراد حقیقی بھائی نہیں بلکہ دینی اور قومی بھائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فَفَزِعَ مِنْهُمْ (پس حضرت داؤد ان سے گھبرا گئے) گھبرانے کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ دو آدمیوں کا بےوقت پہرہ توڑ کر اس طرح گھس آنا عموماً کسی بری نیت ہی سے ہوتا ہے۔
طبعی خوف نبوت یا ولایت کے منافی نہیں ہے
اس سے معلوم ہوا کہ کسی خوفناک چیز سے طبعی طور پر گھبرا جانا نبوت اور ولایت کے منافی نہیں ہے۔ ہاں اس خوف کو دل و دماغ پر طاری کر کے اپنے فرائض کو چھوڑ دینا ضرور برا ہے۔ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم میں انبیاء کی شان یہ بیان کی گئی ہے لایخشون احداً الا اللہ۔ (وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) پھر یہاں حضرت داؤد ؑ کو خوف کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈرنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک ڈر تو موذی…
Read the full tafseer →آیت
ان کے اس طرزح داخل ہونے سے حضرت دائود ؑ پر گھبراہٹ طاری ہونا ایک امر فطری تھا۔ چناچہ وہ گھبرائے کہ شاید ڈاکو یا ان کے دشمن، پہرہ داروں کی نظریں بچا کر، محل کے اندر گھس آئے ہیں لیکن داخل ہونے الوں نے ان کو اطمینان دلایا کہ ہم دشمن نہیں ہیں اس وجہ سے آپ کوئی اندیشہ نہ کریں بلکہ ہم ایک مقدمہ کے دونوں فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر تعدی کی ہے تو آپ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیجیے اور فیصلہ میں کوئی طرفداری اور ناانصافی نہ کیجیے بلکہ ہماری رہنمائی عدل کی صراط مستقیم کی طرف کیجیے۔
اگرچہ ان لوگوں کی مداخلت بالکل ناوقف تھی اور اس کے لئے انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی نہایت…
Read the full tafseer →22۔ 1 آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
11: یہاں سے آیت نمبر 24 تک جو واقعہ بیان ہوا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی لغزش ہوگئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس لغزش پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو آدمی غیر معمولی طریقے سے آپ کے پاس اس وقت بھیجے جب آپ اپنی عبادت گاہ میں تھے۔ ان دونوں نے اپنا ایک جھگڑا فیصلے کے لیے آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فیصلہ تو فرما دیا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف پیرائے میں انہیں تنبیہ کی ہے، اس لیے وہ فوراً سجدے میں گرگئے، اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔ قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ وہ لغزش کیا تھی ؟ اور اس مقدمے کے…
Read the full tafseer →قالو۔۔۔ بعض (38: 22) ” انہوں نے کہا ڈریئے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے “۔ چناچہ ہم فیصلے کے لیے آئے ہیں۔
فاحکم بیننا۔۔۔۔ الصراط (38: 22) ” آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجئے بےانصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے “۔ اس کے بعد ایک نے بیان دعویٰ شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
1 حضرت داؤد نے تین دن کی باری رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل خصومات کا، ایک دن اپنے اہل و عیال کے پاس رہنے کا، ایک دن خالص اللہ کی عبادت کا۔ اس دن خلوت میں رہتے تھے دربان کسی کو آنے نہ دیتے۔ ایک دن عبادت میں مشغول تھے کہ ناگاہ کئی شخص دیوار پھاند کر ان کے پاس آکھڑے ہوئے داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت و شوکت کے یہ ناگہانی ماجرا دیکھ کر گھبرا اٹھے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے۔ آدمی ہیں تو ناوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟ دربانوں نے کیوں نہیں روکا ؟ اگر دروازے سے نہیں آئے تو اتنی اونچی دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی خدا جانے ایسے غیر معمولی طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ غرض…
Read the full tafseer →آیت 22 { اِذْ دَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ } ”جب وہ دائود علیہ السلام کے پاس آئے تو وہ ان سے ڈرا۔“
تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود دو افراد کا آپ علیہ السلام کی خلوت گاہ میں اچانک در آنا ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ چناچہ آپ علیہ السلام کو بجا طور پر تشویش ہوئی کہ نہ معلوم یہ لوگ کس نیت سے آئے ہیں۔
{ قَالُوْا لَا تَخَفْج خَصْمٰنِ بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ } ”انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ‘ ہم دو مخالف فریق ہیں ‘ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے“
عربی میں ”خصم“ سے مراد وہ شخص ہے جو کسی کے بالمقابل ہو ‘ یعنی دشمن یا مخالف فریق۔
{ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا…
Read the full tafseer →25 ایک دن آپ عبادت میں مصروف تھے اور یہ دن آپ کی عبادت کا دن تھا۔ اس دن آپ خلوت میں رہتے اور دربان کسی کو آپ کے پاس نہ آتے دیتے تھے۔ ناگہانی طور دو شخص دیوار پھاند کر آپ کے پاس آن کھڑے ہوئے۔ سیدنا داؤد یہ ماجرا دیکھ کر گھبرا گئے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے ؟ آدمی ہیں تو انہیں اس وقت آنے کی کیسے ہمت ہوئی۔ دربانوں نے انہیں کیوں نہیں روکا۔ اتنی اونچی دیواروں کو پھاند کر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ اچانک یہ عجیب اور مہیب واقعہ دیکھ کر گھبرا گئے۔
26 دیوار پھاند کر اندر آنے والے دو شخص اور مقدمہ کی نوعیت :۔ اکثر مفسرین کا یہ خیال ہے کہ یہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
20۔ (کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بجائے دروازہ سے آنے کے عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آگئے ہیں، دروازہ سے پہرہ داروں نے انہیں غالبا اس لیے آنے نہیں دیا تھا کہ وہ وقت آپ کی عبادت کا تھا، مقدمات فیصل کرنے کا نہ تھا۔ (آیت) ” ففزع منھم “۔ یعنی اس مجمع کے یوں بےاجازت اور ناوقت آنے سے آپ کو قدرۃ ہر اس پیدا ہوا کہ کہیں یہ کوئی خونی اور ڈاکو تو نہیں، طبعی جذبات و کیفیات (غصہ، غم، خوف، اندیشہ وغیرہ) کے طاری ہونے کو جو لوگ مرتبہ ولایت کے منافی سمجھتے ہیں، وہ حضرات انبیاء کے ان تاثرات طبعی کی مثالوں کو سامنے رکھ لیں۔ قرآن مجید نے یہ ساری تفصیلات بلاضرورت اور بےمصلحت تھوڑے ہی بیان کردی ہیں۔ (آیت) ” الخصم “۔ خصم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →اذ دخلوا علی داود ففزع منھم قالوا لا تخف خصمان بغی بعضنا علی بعض فاحکم بیننا
بالحق ولا تشطط واھدنا الی سوآء الصراط جب وہ داؤد کے پاس پہنچ گئے تو داؤد ان (کے اس طرح آنے) سے گھبرا گئے ‘ وہ کہنے لگے : آپ کچھ اندیشہ نہ کریں۔ ہم دونوں اہل مقدمہ ہیں (ایک مدعی ‘ دوسرا مدعیٰ علیہ) ایک نے دوسرے پر کچھ زیادتی کی ہے ‘ آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے (یعنی کسی کی رو رعایت نہ کیجئے) اور ہم کو (معاملہ کی) سیدھی راہ بتا دیجئے۔
فَفَزِعَ مِنْھُمْکسی شخض کے اندر آنے کی ممانعت تھی ‘ پہرے دار دروازوں پر موجود تھے جو کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ‘ پھر وہ دونوں شخص کیسے اندر آگئے ‘ اس سے…
Read the full tafseer →داؤد ان کے بےوقت آنے سے گھبرا گئے تو وہ دونوں کہنے لگے اے داؤد آپ ڈریں نہیں ہم دونوں کے درمیان ایک معاملہ ہے ایک نے دوسرے پر زیادتی و ظلم کیا ہے آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کردیجیے اور بےانصافی نہ کیجیے اور ہمیں سیدھی راہ بتایے۔
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلٰي دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ : داؤد ؑ ان کے اس طرح دیوار پھاند کر اچانک آ دھمکنے سے گھبرا گئے کہ یہ دشمن نہ ہوں، جو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے آئے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ بنی اسرائیل کا اپنے انبیاء کو قتل کرنا معروف تھا۔
قَالُوْا لَا تَخَفْ : انھوں نے آتے ہی سب سے پہلے تسلی دی کہ ڈرو نہیں، ہم کسی بری نیت سے نہیں آئے، بلکہ دونوں آپس کا ایک جھگڑا لے کر آپ کے پاس آئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں اور ہماری راہ نمائی سیدھے راستے کی طرف کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21 ۔ 25:۔ اس میں چوبیس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر -1 خصم کا لفظ ایک ‘ دو اور جماعت پر واقع ہوتا ہے (1) کیونکہ اصل میں یہ مصدر ہے۔ شاعر نے کہا :
و خصیم غضاب ینفضون لحاھم کنفض البراذین العراب المخالیا
وہ غصیلے دشمن ہیں وہ اپنی داڑھیوں کو یوں جھاڑتے ہیں جس طرح ترکی و عربی گھوڑے تو بروں کو جھاڑتے ہیں۔
نحاس نے کہا : اہل تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں خصم سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تسوروا یہ لفظ خصم پر محمول کرتے ہوئے جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے اگرچہ جھگڑا کرنے والے دو تھے کیونکہ یہ جمع کے لفظ کے ساتھ ہے اور اس کے مشابہ ہے جس طرح الرکب اور الصحب ہے۔ اس کی تقدیر پر دو کے لئے ذواخصم ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
1:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی اگر وہ کسی آزمائش میں ڈالے گئے اور تو وہ اپنا بچاؤ کریں گے ان سے کہا گیا آپ عنقریب آزمائش میں مبتلا کئے جائیں گے اور عنقریب آپ اس دل کو جان لیں گے کہ جس میں آپ مبتلا کئے جائیں گے لہذا اپنا بچاؤ کرلیجئے پھر ان سے کہا گیا کہ وہ یہ وہ دن ہے جس میں آپ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو انہوں نے زبور لی اور عبادت گاہ میں داخل ہوگئے اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کردیا زبور کو اپنی گود میں رکھ لیا اور دروازے پر ایک مصنف کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ آج کے دن میرے پاس آنے کی کسی کو اجازت نہ…
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا [جب وہ داخل ہوئے ] عَلٰي دَاوٗدَ [داؤد (علیہ السلام) پر ] فَفَزِعَ [تو وہ گھبرائے ] مِنْهُمْ [ان سے ] قَالُوْا [انھوں نے کہا ] لَا تَخَفْ ۚ [آپ (علیہ السلام) خوف مت کریں ] خَصْمٰنِ [(ہم ) دو فریق مخالف ہیں ] بَغٰى [زیادتی کی ] بَعْضُنَا [ہمارے کسی نے ] عَلٰي بَعْضٍ [کسی پر ] فَاحْكُمْ بَيْنَنَا [تو آپ (علیہ السلام) فیصلہ کریں ہمارے درمیان ] بِالْحَــقِّ [حق کے ساتھ ] وَلَا تُشْطِــطْ [اور آپ (علیہ السلام) زیادتی مت کریں ] وَاهْدِنَآ [اور آپ (علیہ السلام) ہماری رہنمائی کریں ] اِلٰى سَوَاۗءِ الصِّرَاطِ [راستہ کے درمیان ] ۔
Read the full tafseer →حضرت داؤد (علیہ السلام) کا مبتلائے امتحان ہونا پھر استغفار کرنا
اب رہی یہ بات کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جب صبر کے ساتھ مدعی اور مدعی علیہ کی بات سنی اور فیصلہ فرما دیا جو صحیح فیصلہ تھا تو اس میں وہ کون سی بات تھی جو ان کے امتحان کا سبب بن گئی ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی کی بات سن کر مدعی علیہ سے دریافت کیے بغیر جو یہ فرما دیا کہ اس شخص نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں ملانے کے لیے تیری دنبی ملانے کا سوال کیا اس میں فریقین میں سے ایک کی جانب جھکاؤ معلوم ہوتا ہے جو آداب قضاء کے خلاف ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مدعی علیہ نے اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
23:۔ وھل الخ۔ تسوروا : دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔ ولا تشطط : حق سے تجاوز نہ کرنا۔ نعجۃ : ولد الضان، دنبے کا بچہ۔ اکفلنیہا : وہ مجھے دیدے۔ عزنی : مجھ پر غالب آگیا۔ یہاں سے لے کر وقلیل ماھم تک ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچاند دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ان کے بلا اجازت اور پھر اس انداز سے داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلٰي دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ 0 ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰي بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَــقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاہْدِنَآ اِلٰى سَوَاۗءِ الصِّرَاطِ 22
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
داود
داود اسم أعجميّ.
( د و د ) داؤد )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
وَھَلْ اَتٰـکَ نَبَؤُا الْخَصْمِ م اِذْتَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ قَالُوْا لاَ تَخَفْ ج خَصْمٰنِ بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلاَ تُشْطِطْ وَاھْدِنَـآ اِلٰی سَوَآئِ الصِّرَاطِ ۔ (صٓ: 21، 22)
(کیا آئی ہے تمہارے پاس خبر ان فریقوں کی جبکہ وہ دیوار پھاند کرمحراب میں گھس گئے۔ جبکہ وہ دائود کے پاس پہنچے تو وہ ان سے گھبرایا، وہ بولے ڈریئے نہیں ہم دو فریقِ معاملہ ہیں۔ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے، کوئی بےانصافی نہ کیجیے، اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کیجیے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا اہم واقعہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی انداز تکلم ہے کہ وہ بعض دفعہ اہم ترین واقعات کو سوالیہ انداز میں شروع کرتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو کر بات سنے اسی بنا پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے دو آدمیوں کی خبر پہنچی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کے خلوت خانہ میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے۔ یہاں سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے بتلا یا گیا ہے کہ ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور اس کے بھائی کے پاس ایک تھی ننانوے دنبی رکھنے والے کی حرص کا یہ عالم تھا کہ اسے…
Read the full tafseer →22: اِذْدَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ (جب وہ دائود کے پاس ٓائے تو وہ ان سے گھبرا گئے)
نحو : اذؔ یہ پہلے اذ سے بدل ہے۔
روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس دو فرشتے انسانی شکلوں میں بھیجے پس انہوں نے ان کے پاس آنا چاہا۔ تو دائود کو عبادت کے دن میں پایا۔ پہرہ داروں نے ان کو روک لیا۔ وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر ان کے سامنے بیخبر ی کی حالت میں جا کھڑے ہوئے۔ اس دم آپ ان سے گھبرائے۔ کیونکہ وہ دونوں یوم الفصل کے علاوہ داخل ہوئے تھے۔ اور اوپر سے ان کے پاس اتر آئے۔ جبکہ یہ دن عبادت خانہ میں علیحدگی کا تھا اور پہرہ دار داخلہ کیلئے کسی کو چھوڑنے والے نہ تھے۔ قَالُوْا لَا تَخَفْ…
Read the full tafseer →، فقد صغت قلو بکما، اصل میں یہاں ، قلباکما، ہونا چاہیے تھا۔
22، اذ دخلواعلی داودففزع منھم، حضرت داؤد (علیہ السلام) ان دونوں سے خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ اصل راستہ دروازہ کا چھوڑکر محراب کی جانب سے آئے اور بغیر اجازت کے اندرداخل ہوگئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ دونوں میرے گھر کیوں داخل ہوئے ؟ ، قالوالاتخف خصمان، ہم دونوں فریقوں میں جھگڑا ہوگیا ، یعنی ہمارے درمیان ایک معاملہ ہے، بغی بعضنا علی بعض، ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے ہم اس بارے میں فیصلہ کروائیں ۔
سوال یہ ہوتا کہ یہ کیسے کہا کہ ، بغی بعضنا علی بعض، حالانکہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی نہیں ہوسکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
خصم کا اسم، واحد اور جماعت دونوں پر واقع ہوتا ہے ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) ان آنے والوں سے اس لئے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ یہ آپ کے پاس اجازت کے بغیر انسانوں کی صورت میں آپ کی نماز گاہ میں دیوار پھاند کر آئے تھے۔ آنے والوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے کہا (لا تخف خصمان بغی بعضنا علی بعض۔ آپ ڈریے نہیں، ہم دو اہل مقدمہ ہیں ایک نے دوسرے سے زیادتی کی ہے) اس کے معنی ہیں۔ دیکھیے، اگر آپ کے پاس دواہل مقدمہ آجائیں اور آکر یہ کہیں کہ ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی ہے تو آپ کیا فیصلہ کریں گے۔ “
یہ بات اضمار کی صورت میں بیان ہوئی ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ مقدمہ کے دونوں فریق فرشتے تھے اور کسی نے کسی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
30 فریقین کے جھگڑے کی تفصیل کا ذکر : سو ان دونوں فریقوں میں سے ایک نے جھگڑے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ " یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے۔ اور اس نے مجھے دبا لیا اپنی گفتگو میں "۔ اور اپنی چرب لسانی کی وجہ سے یہ میری ایک نہیں چلنے دیتا۔ آگے رہ جاتی ہے یہ بات کہ آیا یہ مقدمہ فرضی تھا یا واقعی۔ اور یہ دونوں شخص دو آدمی تھے یا آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے ؟ اس بارے میں حضرات اہل علم سے دونوں قول منقول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دو انسان ہی تھے جو ایسا مقدمہ لے کر آئے تھے جو ان کے یہاں واقعتہً پیش آیا تھا۔ جبکہ بعض کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →ف 14 گھبرانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بلا اجازت اور بےوقت دیوار پھاند کر یکایک اندر عبادت خانہ میں پہنچ گئے تھے (قرطبی)
Read the full tafseer →(38:22) اذ۔ یہ اذ مذکورہ آیت نمبر 21 کا بدل ہے۔
ففزع۔سببیہ ہے فزع۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب فزع مصدر باب سمع مصدر سے۔ وہ ڈرگیا۔ وہ گھبرا گیا۔
لا تخف۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ مت ڈر۔ خوف نہ کھا۔ گھراؤ مت۔
خصمن۔ خبر مبتدا محذوف۔ ای نحن خصمان۔ ہم دو فریق معاملہ ہیں۔
بغی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ بغی مصدر (باب ضرب) اس نے زیادتی کی اس نے سرکشی کی۔ بغی بعضنا علی بعض۔ اس جملہ کی بناء فرض و تسلیم پر ہے اور تعریض مقصود ہے۔ یعنی ہم دونوں مدعی مدعا علیہ فریقین مقدمہ ہیں تو ضرور ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ (تفسیر مظہری)
فاحکم : احکم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو حکم کر۔ تو فیصلہ کر۔ حکم باب نصر مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حضرت داؤد
1: اس مقام پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر مدح و ستائش کے انداز میں ہے ۔ یہ کہا گیا ہے کہ وہ صاحب قوت واقتدار تھے ۔ وہ خدا کے حضور میں خشوع قلب کے ساتھ جھکتے تھے ۔ پہاڑ ان کے مستخر تھے ۔ پرندے ان کے اشارہ وچشم کے منتظر رہتے ۔ ان کی حکومت نہایت مضبوط اور مستحکم تھی ۔ اللہ نے حکمت وتدبیر اور فصاحت وبلاغت کی نعمتوں سے انہیں نوازا تھا ۔ اللہ کے ہاں ان کو قرب حاصل تھا ۔ یہ انجام وعاقبت کے لحاظ سے بہترین انسان تھے ۔ اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں میں حق و انصاف کے ساتھ فیصلے صادر فرمادیں ۔ اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کریں ۔ ان…
Read the full tafseer →(22) دائود کے پاس جا پہنچے اور دائود ان کے اس طرح بےموقعہ آنے پر ان سے گھبراگئے وہ اہل مقدمہ کہنے لگے آپ ڈرئیے نہیں ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے آپ ہمارے درمیان انصاف کیساتھ فیصلہ کردیجئے اور انصاف کی حد سے تجاوز نہ کیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور ہم کو سیدھی اور صحیح راہ بتا دیجئے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) ایک دن عبادت کیا کرتے تھے محراب میں اس کسی کو ان کے پاس جانے کا حکم نہ تھا دربان ان کی محراب کی حفاظت کیا کرتے تھے اور ایک دن فصل خصومات اور دربار کا متعین تھا اور ایک دن گھر والوں کے پاس گزارتے تھے چناچہ یہ دو شخص یا چند اشخاص جو دراصل فرشتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔
Read the full tafseer →دائود (علیہ السلام) پر جب وہ داخل ہوئے تو آپ گھبرا گئے
22۔ چونکہ داخل ہونے والے اچانک داخل ہوئے اور اجازت طلب نہیں کی تھی اندریں وجہ دائودعلیہ السلام نے جب ان کو دیکھا تو چونک گئے اور آپ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی جو ایک فطری بات ہے۔ آنے والے دو آدمی تھے یا دو گروہ بہر حال وہ بھی بھانپ گئے کہ دائود (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرا گئے ہیں اور چہرے کے تاثرات انسان کی ساری حالت کھول کر دیکھنے والے کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ تو وہ بول اٹھے کہ اے دائود (علیہ السلام) گھبرائو نہیں ہم داخل ہوئے ہیں اور ہمارے داخل ہونے کا مطلب محض ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانا ہے جو ہم دونوں کے درمیان ہوچکا ہے۔ اور آپ کے پاس اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
About Sayyidna Dawud (علیہ السلام) ، it was said in verse 22: فَفَزِعَ مِنْهُمْ (and he was scared of them). The reason of being scared was quite obvious. Two men barging into one's privacy in that manner at an odd hour beating the security cordon can only be because of some bad intention in most cases.
Natural fear is not contrary to the station of a prophet or man of Allah
This tells us that being naturally affected at the sight of something fearful is not contrary to the station of a prophet or man of Allah. Yes, allowing this fear to overtake one's heart and mind and abandoning duties…
Read the full tafseer →22 He was alarmed because the two men had appeared in the private quarters of the ruler of the land suddenly, by climbing over the wall, instead of going before him by the proper entrance.
Read the full tafseer →