Explained with ayahs 2–7
صراط مستقیم کی وضاحت۔
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں جیسے یہاں یاسین ہے ان کا پورا بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں لہذا اب یہاں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یٰسین سے مراد اے انسان ہے۔ بعض کہتے ہیں حبشی زبان میں اے انسان کے معنی میں یہ لفظ ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ اللہ کا نام ہے، پھر فرماتا ہے قسم ہے محکم اور مضبوط قرآن کی جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا، کہ بالیقین اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سچے اچھے مضبوط اور عمدہ سیدھے اور صاف دین پر آپ ہیں، یہ راہ اللہ رحمٰن و رحیم صراط مستقیم کی ہے، اسی کا اترا ہوا یہ دین ہے جو عزت والا اور مومنوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة یٰسٓ 2
اس طرح کلام کا آغاز کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ کو اپنی نبوت میں کوئی شک تھا اور آپ کو یقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو یہ بات فرمانے کی ضرورت پیش آئی۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کفار قریش پوری شدت کے ساتھ حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کر رہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی تمہید کے بغیر تقریر کا آغاز ہی اس فقرے سے فرمایا کہ " تم یقیناً رسولوں میں سے ہو " یعنی وہ لوگ سخت غلط کار ہیں جو تمہاری نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ پھر اس بات پر قرآن کی قسم کھائی گئی ہے، اور قرآن کی صفت میں لفظ " حکیم " استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ قرآن ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر
یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
والقران الحکیم انک لمن المرسلین (2۔ 3)
’ و ‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاد مولانا فراہی ؒ نے اپنی کتاب ’ الامعان فی اقسام القرآں ‘ میں وضاحت فرمائی ہے۔ شہادت کے لئے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔
Read the full tafseer →3۔ 1 مشرکین نبی ﷺ کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لئے آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ 43) 13۔ الرعد :43) ' تو تو پیغمبر ہی نہیں ' اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ ﷺ اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ ﷺ شرف و فضل و اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لئے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ ﷺ کی امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی رسالت کے اثبات کے لئے قسم کھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
انک لمن المرسلین۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3 – 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن قرآن اور حروف قرآن کی یہ قسم ، ان چیزوں کو جلالت شان عطا کرتی ہے جن کی قسم اٹھائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عظیم الشان اور اہم چیز کی قسم اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اس چیز کی اہمیت ایک شاہد اور ثابت کنندہ کی ہوجاتی ہے۔
انک لمن المرسلین (36: 3) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو “۔ جس انداز سے یہ آیت آئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں رسولوں کا بھیجنا اور انتخاب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خلیفہ بیان کی صورت میں بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2 یعنی قرآن کریم اپنی اعجازی شان، پُر حکمت تعلیمات، اور پختہ مضامین کے لحاظ سے بڑا زبردست شاہد اس بات کا ہے کہ جو نبی امی اس کو لے کر آیا یقینا وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بیشک و شبہ سیدھی راہ پر ہے۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی اندیشہ منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 3 { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”کہ اے محمد ﷺ ! یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں۔“
گویا حضور ﷺ کی رسالت کا سب سے بڑا ”مُصدِّق“ تصدیق کرنے والا اور سب سے بڑا ثبوت قرآن حکیم ہے۔ اور قرآن حکیم ہی آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کرلیجیے کہ قرآن کی قسم اور بھی کئی سورتوں کے آغاز میں کھائی گئی ہے مگر وہاں قسم کے بعد مقسم علیہ کا ذکر نہیں ہے۔ مثلاً سورة صٓ کی پہلی آیت میں یوں فرمایا گیا : { صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ۔ ‘ سورة الزخرف کے شروع میں یوں فرمایا گیا : { حٰمٓ۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔ ‘ سورة ق کا آغاز یوں ہوتا ہے : { قٓقف وَالْقُرْاٰنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
3 قرآن کا نزول ہی آپ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے :۔ واؤ قسمیہ ہے اور قسم شہادت کے قائم مقام ہوا کرتی ہے۔ لعان کی صورت میں جو قسمیں اٹھائی جاتی ہیں تو وہ شہادتوں ہی کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ ان تین مختصر سی آیات کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکمتوں سے لبریز قرآن حکیم اس بات پر قوی شہادت ہے کہ (1) آپ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں اور (2) یہ کہ آپ سیدھی راہ پر گامزن ہیں اور وہ شہادت یہ ہے کہ آپ امی تھے۔ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا۔ لکھ پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ نبوت سے پہلے آپ نے کبھی کوئی ایسا کلام یا اس سے ملتا جلتا کلام بھی پیش نہیں کیا تھا جس سے یہ شبہ ہوسکے کہ شاید یہ ملکہ اس کی فطرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ (یہاں تک کہ جو آپ کی پیروی کرے وہ بھی سیدھے راستے پر پڑجائے، اور اللہ تک پہنچ جائے) (آیت) ” یس ٓ “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ مخفف ہے، یا انسان کا۔ یس ٓ بمعنی یا انسان (ابن کثیر۔ عن ابن عبا سؓ وعکرمہ ؓ والضحاک والحسن وسفیان) (آیت) ” والقران الحکیم “۔ یعنی اس قرآن کی حکیمانہ وپر مغز تعلیمات خود اس کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہیں۔ کوئی غیر خدائی ماخذ ایسی تعلیمات کا ہو ہی نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آیت نمبر 1 تا 12
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…
Read the full tafseer →انک لمن المرسلین . بلاشبہ آپ اللہ کے بھیجے ہونے انبیاء میں سے ہیں۔
ایک شبہ : خبر دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو جو بات معلوم نہ ہو ‘ وہ معلوم ہوجائے اور اگر مخاطب کو اس بات کا علم ہو تو کم سے کم مخاطب کو یہ معلوم ہوجائے کہ متکلم کو بھی اس بات کا علم ہے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ میں پیغمبر ہوں اور میرا پیغمبر ہونا اللہ کو معلوم ہے ‘ پھر یہ کہنا کہ آپ مرسلین میں سے ہیں ‘ بےسود ہے۔
جواب : کافروں کو اطلاع دینا مقصود ہے اور ان کے انکار کو رد کرنے مطلوب ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کہا تھا : لَسْتَ مُرْسَلاً (آپ رسول نہیں ہیں) ۔
جواب کا حاصل یہ ہے کہ خبر کے دو فائدے تو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) حضرت ابن عباس سورة یسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب سریانی زبانی میں یہ ہے کہ اے انسان یا یہ کہ بطور تاکید کے یہ قسم ہے یعنی میں ایسے قرآن حکیم کی قسم کھا کر جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کے بیان میں محکم ہے۔
کہتا ہوں کہ آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں اور پسندیدہ دین یعنی دین اسلام پر قائم ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ کو اپنے رسول ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ در اصل یہ ان کفار کی تردید ہے جو آپ ﷺ سے صاف کہتے تھے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ کلام پیش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ) [ الرعد : 43 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمہارے درمیان اللہ کا فیگواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یسین میں قرأت کی کئی صورتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور نسائی نے نون کو واد میں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ ابو عمروف ‘ اعمش اور حمزہ نے یٰسٓکو نون کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے عیسیٰ بن عمر نے یٰسنٓ یعنی نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن ابی اسحاق اور نصر بن عاصم نے اسے نون کے کسرہ کی ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے یٰسنٓ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ پہلی قرأت ادغام کے ساتھ ہے جس طرح لغت عربیہ میں ضروری ہے کیونکہ نون کو واو میں مدغم کیا جاتا ہے جس نے ادغام کے بغیر پڑھا ہے اس نے کہا : حروف ہجاء کا طریقیہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے ادغام تو درمیان کلام میں ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے محمد ﷺ کی ذات اقدس اور دوسرے لفظ میں یوں ہے : یامحمد (اے محمد ﷺ
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے یا محمد (اے محمد ﷺ
3:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اے انسان۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن عکرمہ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اسے انسان حبشی زبان میں۔
6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…
Read the full tafseer →اِنَّكَ [بیشک آپ ﷺ ] لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہو ئوں میں سے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آپ اللہ کے رسول ہیں، قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو تبلیغ کریں جن کے باپ دادوں کے پاس ڈرانے والے نہیں آئے
لفظ یٰسٓ متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، منکرین جو آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں) اور مزید یہ فرمایا (عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم) (کہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں) آپ کے دشمن جو آپ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں اور آپ جس راہ پر ہیں یعنی توحید اور عبودیت للہ، اس سے جو مخاطبین بدکتے ہیں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است
ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید
مکذبین نبوت ومنکرین قیامت
قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔
(ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3:۔ لتنذر الخ : یہ المرسلین سے متعلق ہے آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور وہ تعلیمات الٰہیہ سے بیخبر ہیں۔ مراد مشرکین عرب ہیں۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد ان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک حیث لم یبعث بمکۃ نبی بعد اسماعیل (علیہ السلام) فھم اشدا احیتاجا الی الرسالۃ من غیرہم (مظہری ج 8 ص 6) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع…
Read the full tafseer →اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ 3 ۙ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : یٰس کلام فی الاعراب و اُختلف فی معانہ فقال ابن عباس یا انسان بلغۃ طیّ اُقتصر علی شطرہ لکثرۃ النداء والمراد بہ محمد ﷺ وقال ابوبکر الوّراق معناہ یا سید البشر، وقیل ھو اسم من اسماء النبی ﷺ وقیل حروف اختصرت من الفاظ معدوۃ ابتدأت بھافی مفاتح السور لرموز یعلمھا اللہ تعالیٰ و قدمر الکلام فی سورة البقرۃ، قرء الجمور بسکون النون والقرآن الحکیم بالجبر علی انہ مقسم بہ ابتداء و قیل ھو معطوف علی یٰس علی تقدیر کو نہ مجرو رابا ضما رالقسم والاصح ان الواو للقسم، انک الخ جواب القسم علی صراط خبر آخرلان تنزیل قرء ابن عامر و حفص و الکسائی بالنصب باضما راعنی اوعلیٰ انہ مفعول مطلق ای نزل اللہ ذلک تنزیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ اِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْن۔ َ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 1 تا 4)
(یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں۔ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ )
یٰسٓ، حروفِ مقطَّعات میں سے ہے۔ ان پر بحث ہم سورة بقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس لحاظ سے بہتر یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے معنی اور مفہوم کو جانتا ہے۔ امام مالک اسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے ایک روایت اسی کی تائید میں ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، اے انسان۔ اور مراد اس سے نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو کفار آپ کے مخالف ہوگئے۔ ان کی مخالفت کا سبب بیان کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید کے بارے میں کفار کا پروپیگنڈہ تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ سردار عبد المطلب کا پوتا راہ راست سے بھٹک چکا ہے۔ ان الزامات کی تردید کے لیے آپ کو سردار کے لقب سے پکارتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا حلف دے کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اس لیے صاحب قرآن رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو متنبّہ نہیں کیا گیا تھا اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر آپ کے رب کا…
Read the full tafseer →3: اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (بیشک آپ من جملہ پیغمبروں میں سے ہیں) ۔ یہ جواب قسم ہے اس میں کفار کے اس مقولہ کی تردید ہے جس کو دوسرے مقام پر ذکر فرمایا۔ لست مرسلاً ۔ ] الرعد : 43[
Read the full tafseer →3، انک لمن المرسلین، اللہ تعالیٰ قرآن میں قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کفار کی تردید ہے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے ‘ یہ سورة مکی ہے مکہ کے مشرک آنحضرت ﷺ کی نبوت کو نہیں مانتے تھے کبھی تو جادو گر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے اور کبھی فقط اتنا ہی کہہ دیتے کہ لست مرسلا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ہو اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر کیا ہے ان آیتوں میں قریش کی بات کا جواب تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خاندان قریش کا ذکر لتنذ رقوما ما آنذر آباء ھم سے فرمایا ورنہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے عام ہے چناچہ اور آیتوں میں ہے وقل للذین اوتوا الکتاب والا میبن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 راہ حق کی تعیین و تشخیص : سو راہ حق کی تعیین و تشخیص اور پیغمبر کی صداقت و حقانیت کے ذکر وبیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح اور قطعی طور پر ارشاد و اعلان فرمایا گیا " آپ اے پیغمبر قطعی طور پر رسولوں میں سے ہیں۔ اور یقینا آپ ﷺ سیدھی راہ پر ہیں "۔ یعنی اس راہ پر جو انسان کو سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی راہ ہے اور جنت کو پہنچانے والی اور بندے کو اپنے رب کی رضا سے مشرف کرنے والی راہ ہے ۔ { اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم بیک وقت دو باتوں کا شاہد ہے۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ قطعی طور پر اللہ کے رسولوں میں سے ہیں اور دوسری یہ کہ آپ ﷺ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12:
اسرار و معارف :
سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 7 اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی ﷺ کو اپنے پیغمبر ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ اس سے مقصود ان کفار قریش کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ سے کہا کرتے تھے ( لست مرسلا) تم اللہ کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔
Read the full tafseer →(36:3) انک لمن المرسلین۔ یہ جواب قسم ہے اور کفار کے اس اعتراض کے جواب میں جس کا ذکر اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویقول الذین کفروا لست مرسلا۔ (13:43) اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم خدا کے رسول نہیں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ف 1) حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز ک لیے قلب ہے اور قرآن کا قلب یسین ہے اور جس نے یسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے بزرگان دین نے فرمایا کہ ہر سختی کے وقت یسین پڑھنا چاہیے اس کی برکت سے وہ سختی دفع ہوجاتی ہے مراد حاصل ہوتی ہے اور موت کے آنے کے وقت پڑھنے سے میت کی روح آسانی سے نکلتی ہے اور ایمان نصیب ہوتا ہے اور یسین کے معنی میں اختلاف ہے ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد جناب رسول اللہ ہیں کیونکہ آپ کے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے یہ بھی آپ کا نام ہے ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مکہ کے مشرک نبی کی نبوت کو نہین مانتے تھے کبھی تو جادوگر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
[1] یعنی تمہارے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ قرآن ہے جو سراسر حکمت سے لبریز ہے۔ یہ چیز خود شہادت دے رہی ہے کہ جو شخص ایسا حکیمانہ کلام پیش کر رہا ہے وہ یقینا اللہ کا رسول ہے۔ (نیز قرآنی قسموں کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القران بر صفحہ 1262)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔
قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…
Read the full tafseer →(3) بیشک آپ ﷺ پیغمبروں میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →قسمیہ طور پر کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے :
3۔ مخاطبین اول نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کو نہیں مانتے تھے اور صرف یہی نہیں کہ مانتے نہیں تھے بلکہ شدت سے انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے ، ان کے اس انکار کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی ذات کی قسم کھا کر جس طرح قرآن کریم کو آپ ﷺ پر نازل فرمایا اس کی تصدیق فرمائی کہ یہ کلام بھی عین حکمت الہی ہے اور اس کلام کے بھیجنے والا بھی اللہ ہے اور جس پر قرآن کریم نازل کیا گیا وہ بھی یقینا اللہ کا رسول ہے اس جگہ صرف اشارہ کیا ہے اور وہ بلاشبہ مضبوط کرنے کے لئے قسمیہ طور پر کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary
The Merits of Surah Ya Sin
Sayyidna Ma'qil Ibn Yasar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: یٰسٓ قَلبُ القُرآن (Surah Ya Sin is the heart of the Qur'an) and some words of this Hadith tell us that a person who recites Surah Ya Sin exclusively for the sake of Allah and the 'Akhirah is forgiven, and that it should be recited over the dead among us (reported by Ahmad and Abu Dawud and an-Nas'i and Ibn Hibban and al-Hakim and others - as in Ruh-ul-Ma’ ani and al-Mazhari).
Imam al-Ghazzali said that one reason for calling Surah Ya Sin the heart of the Qur'an could be that, in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2 To begin a discoursc like this does not mean that the Holy Prophet, God forbid, had some doubt about his Prophethood, and Allah had to say this in order to reassure him of it. But the reason is that the disbelieving Quraish at that time were most vehemently refusing to believe in his Prophethood; therefore. Allah at the very beginning of the discoursc has said: "You are indeed one of the Messengers," which implies that the people who deny your Prophethood, are misled and mistaken. To further confirm the same, an oath has been taken by the Qur'an, and the word "wise" has been used as an…
Read the full tafseer →