Yaseen 36:2

Yaseen · from ayah 2

36:2

وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِ ۟ۙوَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

By the wise Qur'an.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:2

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے قرآن باحکمت کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

حکمت والے قرآن کی قسم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حکمت سے معمور قرآن کی قَسم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس حکمت سے بھرے ہوئے قرآن کی قسم !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قسم ہے اس حکمتوں بھرے قرآن کی

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے قرآن حکیم کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By the Qur‘an, that is full of wisdom,

— Muhammad Taqi Usmani

By the Qur‘an, that is full of wisdom,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the Qur'an, full of wisdom,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By the wise Qur'an.

— Saheeh International

and the Quran, the Book of wisdom,

— Muhammad Sarwar

I swear by the Quran full of wisdom

— Muhammad Habib Shakir

By the Qur'an full of wisdom.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 36:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

صراط مستقیم کی وضاحت۔ حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں جیسے یہاں یاسین ہے ان کا پورا بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں لہذا اب یہاں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یٰسین سے مراد اے انسان ہے۔ بعض کہتے ہیں حبشی زبان میں اے انسان کے معنی میں یہ لفظ ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ اللہ کا نام ہے، پھر فرماتا ہے قسم ہے محکم اور مضبوط قرآن کی جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا، کہ بالیقین اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سچے اچھے مضبوط اور عمدہ سیدھے اور صاف دین پر آپ ہیں، یہ راہ اللہ رحمٰن و رحیم صراط مستقیم کی ہے، اسی کا اترا ہوا یہ دین ہے جو عزت والا اور مومنوں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 1 ابن عباس، عکرمہ، ضحاک، حسن بصری اور سفیان بن عُیَیْنہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں " " اے انسان " یا ‘’ اے شخص "۔ اور بعض مفسرین نے اسے " یا سید“ کا مخفف بھی قرار دیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے ان الفاظ کے مخاطب نبی ﷺ ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

والقران الحکیم انک لمن المرسلین (2۔ 3) ’ و ‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاد مولانا فراہی ؒ نے اپنی کتاب ’ الامعان فی اقسام القرآں ‘ میں وضاحت فرمائی ہے۔ شہادت کے لئے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یا قرآن محکم کی، جو نظم و معنی کے لحاظ سے محکم یعنی پختہ ہے۔ واؤ قسم کے لئے ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

درس نمبر 205 تشریح آیات 1 ۔۔ تا۔۔۔ 29 ﷽ یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12) اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

2 یعنی قرآن کریم اپنی اعجازی شان، پُر حکمت تعلیمات، اور پختہ مضامین کے لحاظ سے بڑا زبردست شاہد اس بات کا ہے کہ جو نبی امی اس کو لے کر آیا یقینا وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بیشک و شبہ سیدھی راہ پر ہے۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی اندیشہ منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ٓیت 1 { وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ } ”قسم ہے قرآن حکیم کی !“ عربی زبان میں ”قسم“ سے گواہی مراد لی جاتی ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ حکمت بھرا قرآن گواہ ہے۔ اس قسم کا مقسم علیہ کیا ہے ؟ یعنی یہ قسم کس چیز پر کھائی جا رہی ہے ؟ اور یہ قرآن کس عظیم حقیقت پر گواہ ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیت میں ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3 قرآن کا نزول ہی آپ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے :۔ واؤ قسمیہ ہے اور قسم شہادت کے قائم مقام ہوا کرتی ہے۔ لعان کی صورت میں جو قسمیں اٹھائی جاتی ہیں تو وہ شہادتوں ہی کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ ان تین مختصر سی آیات کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکمتوں سے لبریز قرآن حکیم اس بات پر قوی شہادت ہے کہ (1) آپ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں اور (2) یہ کہ آپ سیدھی راہ پر گامزن ہیں اور وہ شہادت یہ ہے کہ آپ امی تھے۔ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا۔ لکھ پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ نبوت سے پہلے آپ نے کبھی کوئی ایسا کلام یا اس سے ملتا جلتا کلام بھی پیش نہیں کیا تھا جس سے یہ شبہ ہوسکے کہ شاید یہ ملکہ اس کی فطرت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ (یہاں تک کہ جو آپ کی پیروی کرے وہ بھی سیدھے راستے پر پڑجائے، اور اللہ تک پہنچ جائے) (آیت) ” یس ٓ “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ مخفف ہے، یا انسان کا۔ یس ٓ بمعنی یا انسان (ابن کثیر۔ عن ابن عبا سؓ وعکرمہ ؓ والضحاک والحسن وسفیان) (آیت) ” والقران الحکیم “۔ یعنی اس قرآن کی حکیمانہ وپر مغز تعلیمات خود اس کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہیں۔ کوئی غیر خدائی ماخذ ایسی تعلیمات کا ہو ہی نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والقران الحکیم قرآن حکیم کی قسم۔ یعنی اس قرآن کی قسم جو ندرت معانی اور عبادت کی تعجب انگیزی کے لحاظ سے محکم ہے۔ واؤ قسمیہ ہے اور یٰسین کو قسم قرار دیا جائے تو واؤ عاطفہ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) حضرت ابن عباس سورة یسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب سریانی زبانی میں یہ ہے کہ اے انسان یا یہ کہ بطور تاکید کے یہ قسم ہے یعنی میں ایسے قرآن حکیم کی قسم کھا کر جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کے بیان میں محکم ہے۔ کہتا ہوں کہ آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں اور پسندیدہ دین یعنی دین اسلام پر قائم ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ : قسم سے مقصود اس بات کا یقین دلانا ہوتا ہے جس کے لیے قسم اٹھائی جائے اور قسم اس بات کی دلیل ہوتی ہے جو اس قسم کے بعد اس کے جواب کے طور پر آرہی ہوتی ہے، پھر بعض اوقات جس کی قسم اٹھائی جائے اس کی عظمت ہی کو جواب قسم کی شہادت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مثلاً اللہ کی قسم، اور بعض اوقات قسم کا مفہوم جواب قسم کی دلیل ہوتا ہے اور اس کے سچے ہونے کی شہادت دے رہا ہوتا ہے۔ ”الْحَكِيْمِ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن دانائی اور حکمت سے بھرپور ہے، اس کی کوئی بات نہ خطا ہے نہ عقل کے خلاف اور نہ کم تر درجہ کی، بلکہ ہر بات ہی کمال عقل و دانش پر مبنی ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

یسین میں قرأت کی کئی صورتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور نسائی نے نون کو واد میں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ ابو عمروف ‘ اعمش اور حمزہ نے یٰسٓکو نون کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے عیسیٰ بن عمر نے یٰسنٓ یعنی نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن ابی اسحاق اور نصر بن عاصم نے اسے نون کے کسرہ کی ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے یٰسنٓ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ پہلی قرأت ادغام کے ساتھ ہے جس طرح لغت عربیہ میں ضروری ہے کیونکہ نون کو واو میں مدغم کیا جاتا ہے جس نے ادغام کے بغیر پڑھا ہے اس نے کہا : حروف ہجاء کا طریقیہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے ادغام تو درمیان کلام میں ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے محمد ﷺ کی ذات اقدس اور دوسرے لفظ میں یوں ہے : یامحمد (اے محمد ﷺ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے یا محمد (اے محمد ﷺ 3:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اے انسان۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن عکرمہ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اسے انسان حبشی زبان میں۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

آپ اللہ کے رسول ہیں، قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو تبلیغ کریں جن کے باپ دادوں کے پاس ڈرانے والے نہیں آئے لفظ یٰسٓ متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، منکرین جو آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں) اور مزید یہ فرمایا (عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم) (کہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں) آپ کے دشمن جو آپ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں اور آپ جس راہ پر ہیں یعنی توحید اور عبودیت للہ، اس سے جو مخاطبین بدکتے ہیں ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ والقراٰن۔ تا۔ واجر کریم، یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت، قرآن کی عظمت اور مشرکین کے عناد و انکار کا ذکر کیا گیا ہے۔ انک لمن المرسلین، جواب قسم ہے اور علی صراط مستقیم خبر بعد خبر ہے۔ تنزیل العزیز الرحیم، یہ نزل مقدر کا مفعول مطلق ہے (مظہری، قرطبی) اور یہ جملہ القرآن سے حال واقع ہے یہ حکمت و دانش سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر گامزن ہیں یہ قرآن خدائے عزیز و رحیم نے آپ پر نازل فرمایا ہے جو منکرین کو سزا دینے اور ماننے والوں پر رحمت کرنے والا ہے اس لیے ایسی عظیم الشان کتاب پر ضرور ایمان لانا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ يٰسۗ۝ 1ۚوَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ۝ 2ۙ يس يس قيل معناه يا إنسان والصحیح أنّ يس هو من حروف التّهجّي كسائر أوائل السّور، قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : یٰس کلام فی الاعراب و اُختلف فی معانہ فقال ابن عباس یا انسان بلغۃ طیّ اُقتصر علی شطرہ لکثرۃ النداء والمراد بہ محمد ﷺ وقال ابوبکر الوّراق معناہ یا سید البشر، وقیل ھو اسم من اسماء النبی ﷺ وقیل حروف اختصرت من الفاظ معدوۃ ابتدأت بھافی مفاتح السور لرموز یعلمھا اللہ تعالیٰ و قدمر الکلام فی سورة البقرۃ، قرء الجمور بسکون النون والقرآن الحکیم بالجبر علی انہ مقسم بہ ابتداء و قیل ھو معطوف علی یٰس علی تقدیر کو نہ مجرو رابا ضما رالقسم والاصح ان الواو للقسم، انک الخ جواب القسم علی صراط خبر آخرلان تنزیل قرء ابن عامر و حفص و الکسائی بالنصب باضما راعنی اوعلیٰ انہ مفعول مطلق ای نزل اللہ ذلک تنزیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ اِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْن۔ َ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 1 تا 4) (یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں۔ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ ) یٰسٓ، حروفِ مقطَّعات میں سے ہے۔ ان پر بحث ہم سورة بقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس لحاظ سے بہتر یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے معنی اور مفہوم کو جانتا ہے۔ امام مالک اسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے ایک روایت اسی کی تائید میں ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، اے انسان۔ اور مراد اس سے نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن سورۃ فاطر کے آخری رکوع میں اہل مکہ کے ایک قول کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ جو نہی نبی آخرالزماں آئے گا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت پانے والے ہوں گے لیکن جب آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو یہ لوگ تکبر کی بنا پر کفر و شرک میں اور ہی آگے بڑھ گئے اور پروپگنڈا کرنے لگے محمد ﷺ صراط مستقیم سے بھٹک چکا ہے۔ سورة یٰس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سردار ہیں، انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت میں شامل ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ اہل علم نے لفظ ” یٰسین “ کے دو معانی ذکر کیے ہیں۔ عربی کی ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: وَالْقُرْٰانِ الْحَکِیْمِ والقرآن ؔ قسم ہے الحکیمؔ۔ (حکمت والا) ۔ نمبر 2۔ یہ حکمت کی منہ بولتی دلیل ہے۔ نمبر 3۔ یہ حکیم کا کلام ہے۔ پس متکلم کی صفت سے اس کو موصوف کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر 1۔ ، یس، واؤنون ۔ بعض حضرات نے واؤ نون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ قرأۃ ابن عامر ، کسائی ، ابوبکر اور ورش کے ہاں ہے اور بعض نے واؤاور نون کے اثبات کے ساتھ ، یس، پڑھا ہے اس لفظ کی تاویل میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کے ہاں، یس، قسم کے معنی میں ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا معنی ہے، یا انسان ، لغت طئی کے ہاں ہے۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں اور یہ قول حسن ، سعید بن جبیر اور ایک جماعت کے ہاں ہے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، یارجل ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، اے سید البشر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے ‘ یہ سورة مکی ہے مکہ کے مشرک آنحضرت ﷺ کی نبوت کو نہیں مانتے تھے کبھی تو جادو گر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے اور کبھی فقط اتنا ہی کہہ دیتے کہ لست مرسلا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ہو اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر کیا ہے ان آیتوں میں قریش کی بات کا جواب تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خاندان قریش کا ذکر لتنذ رقوما ما آنذر آباء ھم سے فرمایا ورنہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے عام ہے چناچہ اور آیتوں میں ہے وقل للذین اوتوا الکتاب والا میبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو حکمت قرآن اس کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ چناچہ قرآن حکیم کی قسم سے واضح فرما دیا گیا کہ حکمت قرآن اس کتاب حکیم اور اس کے پیش کرنے والے پیغمبر کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ یعنی یہ عظیم الشان اور حکمتوں بھرا کلام جس کی نظیر لانے سے دنیا ساری عاجز ہے خود اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں (علیہ الصلوۃ والسلام) سو قرآنی قسمیں جیسا کہ ہم نے اور بھی کئی جگہ ذکر کیا ہے اپنے مقسم علیہ کی شہادت اور گواہی کیلئے ہوتی ہیں نہ کہ محض تعظیم کیلئے۔ جیسا کہ عام طور پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی اس قرنٓن کی جو حکمت اور دانئی کی باتوں سے لبریز ہے یا جو اس قدر محکم ( پختہ) ہے کہ اس میں کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعد میں جو بات بیان کی جا رہی ہے اس کی صحبت پر قرآن حکیم شاہد ہے اور فی الواقع یہ قرآن معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:2) والقران الحکیم وائو قسم کے لئے ہے بعض نے یس کو قسم قرار دیا ہے اس صورت میں وائو عاطفہ ہوجائے گی القران الحکیم موصوف و صفت ہے۔ حکیم فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے یعنی بڑی حکمت والا۔ پراز حکمت۔ یا اس کا معنی محکم بھی ہوسکتا ہے یعنی ایسی محکم کتاب جو ندرت معانی اور عبارت کی تعجب انگیزی کے لحاظ سے محکم ہے یا ایسی محکم کہ باطل کسی گوشہ سے اس پر حملہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

(ف 1) حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز ک لیے قلب ہے اور قرآن کا قلب یسین ہے اور جس نے یسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے بزرگان دین نے فرمایا کہ ہر سختی کے وقت یسین پڑھنا چاہیے اس کی برکت سے وہ سختی دفع ہوجاتی ہے مراد حاصل ہوتی ہے اور موت کے آنے کے وقت پڑھنے سے میت کی روح آسانی سے نکلتی ہے اور ایمان نصیب ہوتا ہے اور یسین کے معنی میں اختلاف ہے ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد جناب رسول اللہ ہیں کیونکہ آپ کے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے یہ بھی آپ کا نام ہے ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مکہ کے مشرک نبی کی نبوت کو نہین مانتے تھے کبھی تو جادوگر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) قسم ہے اس قرآن حکمت والے کی۔ بعض نے قرآن باحکمت کیا ہے اور بعض نے پختہ اور مضبوط کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے احکام حکمت سے لبریز ہیں یا یہ کہ اس کے دلائل نہایت محکم اور مضبوط ہیں جواب قسم آگے مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکمت بھرے قرآن کریم کے رب کی قسم اٹھا کر بات کو پختہ کیا گیا ہے : 2۔ عربوں کے رواج کے مطابق بعض حروف قسمیہ بتائے گئے ہیں جیسے ب اور ت اسی طرح واؤ بھی قسمیہ حروف میں شامل ہے اور بعض اوقات لا کو بھی قسمیہ تسلیم کیا جاتا ہے ، اس جگہ (والقرآن) کی واؤ بھی قسمیہ تسلیم کی گئی ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم کے لفظ سے قبل رب کا لفظ محذوف تسلیم کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکمت والے قرآن کریم کے رب کی قسم آنے والی بات جس پر قسم اٹھائی گئی ہے بالکل صحیح اور بغیر کسی شک وشبہ کے سچ ہے ، سچی ‘ صاف اور سیدھی بات کو قسم سے مزید پکا کرنا فطرت انسانی میں سے ہے جس سے قرآن کریم نے منع نہیں فرمایا بلکہ تاکید کی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The Merits of Surah Ya Sin Sayyidna Ma'qil Ibn Yasar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: یٰسٓ قَلبُ القُرآن (Surah Ya Sin is the heart of the Qur'an) and some words of this Hadith tell us that a person who recites Surah Ya Sin exclusively for the sake of Allah and the 'Akhirah is forgiven, and that it should be recited over the dead among us (reported by Ahmad and Abu Dawud and an-Nas'i and Ibn Hibban and al-Hakim and others - as in Ruh-ul-Ma’ ani and al-Mazhari). Imam al-Ghazzali said that one reason for calling Surah Ya Sin the heart of the Qur'an could be that, in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Dahhak, Hasan Basri and Sufyan bin 'Uyainah have opined that it means, "O man", or "O person"; some other commentators have regarded it as an abbreviation of "Ya Sayyid" as well, which, according to this interpretation, would be an address to the Holy Prophet.

Read the full tafseer →