Yaseen 36:1

36. Yaseenيس

Yaseen · Meccan · 83 ayahs · 5 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

36:1

یٰسٓ ۟ۚيٰسٓ

یٰسٓ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ya, Seen.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:1

Tafseer of 36:1

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یس 1 یہ حروف مقطعات میں سے ہے جن پر ایک جامع بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ یہ اس سورة کا قرآن نام ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی یایھا الانسان کے لئے ہیں لیکن یہ بات بالکل بےدلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 بعض نے اس کے معنی یا رجل یا انسان کے کئے ہیں۔ بعض نے اسے نبی ﷺ کے نام اور بعض نے اسے اللہ کے اسمائے حسنٰی میں سے بتلایا ہے۔ لیکن یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔ یہ بھی ان حروف مقطعات میں سے ہی ہے۔ جن کا معنی و مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

درس نمبر 205 تشریح آیات 1 ۔۔ تا۔۔۔ 29 ﷽ یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12) اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

2 یعنی قرآن کریم اپنی اعجازی شان، پُر حکمت تعلیمات، اور پختہ مضامین کے لحاظ سے بڑا زبردست شاہد اس بات کا ہے کہ جو نبی امی اس کو لے کر آیا یقینا وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بیشک و شبہ سیدھی راہ پر ہے۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی اندیشہ منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ٓیت 1 { یٰسٓ۔ ”یٰـسٓ !“ زیادہ تر مفسرین کی رائے میں ”یٰـسٓ“ حضور ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اسی طرح ”طٰہٰ“ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کا نام ہے۔ واللہ اعلم !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اگرچہ یہ لفظ بھی دو حروف مقطعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم اس کے پہلے لفظ یا سے جو حرف ندا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ندا اور منادیٰ سے مل کر ایک جملہ بن رہا ہے۔ اسی لئے اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ اے شخص، اے مرد یا اے انسان سے کیا ہے۔ اور اس سے مراد رسول اللہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ (یہاں تک کہ جو آپ کی پیروی کرے وہ بھی سیدھے راستے پر پڑجائے، اور اللہ تک پہنچ جائے) (آیت) ” یس ٓ “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ مخفف ہے، یا انسان کا۔ یس ٓ بمعنی یا انسان (ابن کثیر۔ عن ابن عبا سؓ وعکرمہ ؓ والضحاک والحسن وسفیان) (آیت) ” والقران الحکیم “۔ یعنی اس قرآن کی حکیمانہ وپر مغز تعلیمات خود اس کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہیں۔ کوئی غیر خدائی ماخذ ایسی تعلیمات کا ہو ہی نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یٰسٓ ابو نعیم نے دلائل میں بیان کیا یہ کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ مسجد (کعبہ) میں اونچی آواز سے قراءت کرتے تھے۔ قریش کے کچھ لوگوں کو اس سے دکھ ہوتا تھا۔ (ایک روز) حضور ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کیلئے وہ لوگ اٹھے ‘ لیکن فوراً گردنوں سے ان کے ہاتھ بندھ گئے اور آنکھیں اندھی ہوگئیں ‘ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ مجبور ہو کر خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دے کر دعا کرنے کی درخواست کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری اس سے نہ ہو ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اور وہ مصیبت اللہ نے ان سے دور کردی۔ اس پر یٰسٓ سے لاَ یُؤْمِنُوْنَ تک آیات نازل ہوئیں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) حضرت ابن عباس سورة یسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب سریانی زبانی میں یہ ہے کہ اے انسان یا یہ کہ بطور تاکید کے یہ قسم ہے یعنی میں ایسے قرآن حکیم کی قسم کھا کر جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کے بیان میں محکم ہے۔ کہتا ہوں کہ آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں اور پسندیدہ دین یعنی دین اسلام پر قائم ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

یسین میں قرأت کی کئی صورتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور نسائی نے نون کو واد میں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ ابو عمروف ‘ اعمش اور حمزہ نے یٰسٓکو نون کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے عیسیٰ بن عمر نے یٰسنٓ یعنی نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن ابی اسحاق اور نصر بن عاصم نے اسے نون کے کسرہ کی ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے یٰسنٓ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ پہلی قرأت ادغام کے ساتھ ہے جس طرح لغت عربیہ میں ضروری ہے کیونکہ نون کو واو میں مدغم کیا جاتا ہے جس نے ادغام کے بغیر پڑھا ہے اس نے کہا : حروف ہجاء کا طریقیہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے ادغام تو درمیان کلام میں ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے محمد ﷺ کی ذات اقدس اور دوسرے لفظ میں یوں ہے : یامحمد (اے محمد ﷺ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے یا محمد (اے محمد ﷺ 3:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اے انسان۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن عکرمہ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اسے انسان حبشی زبان میں۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰسۗ نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سورة یٰسن قرآن کا دل ہے۔ امام غزالی نے فرمایا کہ سورة یٰسن کو قرآن کا دل فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اس سورة میں قیامت اور حشر ونشر کے مضامین خاص تفصیل اور بلاغت کے ساتھ آئے ہیں اور اصول ایمان میں سے عقیدئہ آخرت وہ چیز ہے جس پر انسان کے اعمال کی صحت موقوف ہے۔ خوف آخرت ہی انسان کو عمل صالح کے لئے مستعد کرتا ہے اور وہی اس کو ناجائز خواہشات اور حرام سے روکتا ہے۔ جس طرح بدن کی صحت قلب کی صحت پر موقوف ہے اسی طرح ایمان کی صحت آخرت پر موقوف ہے۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

آپ اللہ کے رسول ہیں، قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو تبلیغ کریں جن کے باپ دادوں کے پاس ڈرانے والے نہیں آئے لفظ یٰسٓ متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، منکرین جو آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں) اور مزید یہ فرمایا (عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم) (کہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں) آپ کے دشمن جو آپ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں اور آپ جس راہ پر ہیں یعنی توحید اور عبودیت للہ، اس سے جو مخاطبین بدکتے ہیں ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ والقراٰن۔ تا۔ واجر کریم، یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت، قرآن کی عظمت اور مشرکین کے عناد و انکار کا ذکر کیا گیا ہے۔ انک لمن المرسلین، جواب قسم ہے اور علی صراط مستقیم خبر بعد خبر ہے۔ تنزیل العزیز الرحیم، یہ نزل مقدر کا مفعول مطلق ہے (مظہری، قرطبی) اور یہ جملہ القرآن سے حال واقع ہے یہ حکمت و دانش سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر گامزن ہیں یہ قرآن خدائے عزیز و رحیم نے آپ پر نازل فرمایا ہے جو منکرین کو سزا دینے اور ماننے والوں پر رحمت کرنے والا ہے اس لیے ایسی عظیم الشان کتاب پر ضرور ایمان لانا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ يٰسۗ۝ 1ۚوَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ۝ 2ۙ يس يس قيل معناه يا إنسان والصحیح أنّ يس هو من حروف التّهجّي كسائر أوائل السّور، قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : یٰس کلام فی الاعراب و اُختلف فی معانہ فقال ابن عباس یا انسان بلغۃ طیّ اُقتصر علی شطرہ لکثرۃ النداء والمراد بہ محمد ﷺ وقال ابوبکر الوّراق معناہ یا سید البشر، وقیل ھو اسم من اسماء النبی ﷺ وقیل حروف اختصرت من الفاظ معدوۃ ابتدأت بھافی مفاتح السور لرموز یعلمھا اللہ تعالیٰ و قدمر الکلام فی سورة البقرۃ، قرء الجمور بسکون النون والقرآن الحکیم بالجبر علی انہ مقسم بہ ابتداء و قیل ھو معطوف علی یٰس علی تقدیر کو نہ مجرو رابا ضما رالقسم والاصح ان الواو للقسم، انک الخ جواب القسم علی صراط خبر آخرلان تنزیل قرء ابن عامر و حفص و الکسائی بالنصب باضما راعنی اوعلیٰ انہ مفعول مطلق ای نزل اللہ ذلک تنزیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ اِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْن۔ َ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 1 تا 4) (یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں۔ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ ) یٰسٓ، حروفِ مقطَّعات میں سے ہے۔ ان پر بحث ہم سورة بقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس لحاظ سے بہتر یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے معنی اور مفہوم کو جانتا ہے۔ امام مالک اسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے ایک روایت اسی کی تائید میں ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، اے انسان۔ اور مراد اس سے نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن سورۃ فاطر کے آخری رکوع میں اہل مکہ کے ایک قول کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ جو نہی نبی آخرالزماں آئے گا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت پانے والے ہوں گے لیکن جب آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو یہ لوگ تکبر کی بنا پر کفر و شرک میں اور ہی آگے بڑھ گئے اور پروپگنڈا کرنے لگے محمد ﷺ صراط مستقیم سے بھٹک چکا ہے۔ سورة یٰس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سردار ہیں، انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت میں شامل ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ اہل علم نے لفظ ” یٰسین “ کے دو معانی ذکر کیے ہیں۔ عربی کی ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ (یٰسٓؔ قرآن پر حکمت کی قسم ہے) ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (کہ بیشک آپ من جملہ رسولوں میں سے ہیں۔ سیدھے راستہ پر ہیں) ۔ یسؔ۔ قول ابن عباس ؓ : اے انسان۔ یہ بنوطے کی لغت ہے۔ قول ابن حنفیہ (رح) : یا محمد ﷺ حدیث میں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مجھے سات ناموں سے پکارا ہے محمد، احمد، طہ، یس، المزمل، المدثر، عبد اللہ (کنزالعمال : 32169) ۔ ایک قول یہ ہے اے سردار۔ قراءت : علی، حماد، حمزہ، خلف، حماد، یحییٰ نے اس میں امالہ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر 1۔ ، یس، واؤنون ۔ بعض حضرات نے واؤ نون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ قرأۃ ابن عامر ، کسائی ، ابوبکر اور ورش کے ہاں ہے اور بعض نے واؤاور نون کے اثبات کے ساتھ ، یس، پڑھا ہے اس لفظ کی تاویل میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کے ہاں، یس، قسم کے معنی میں ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا معنی ہے، یا انسان ، لغت طئی کے ہاں ہے۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں اور یہ قول حسن ، سعید بن جبیر اور ایک جماعت کے ہاں ہے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، یارجل ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، اے سید البشر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے ‘ یہ سورة مکی ہے مکہ کے مشرک آنحضرت ﷺ کی نبوت کو نہیں مانتے تھے کبھی تو جادو گر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے اور کبھی فقط اتنا ہی کہہ دیتے کہ لست مرسلا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ہو اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر کیا ہے ان آیتوں میں قریش کی بات کا جواب تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خاندان قریش کا ذکر لتنذ رقوما ما آنذر آباء ھم سے فرمایا ورنہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے عام ہے چناچہ اور آیتوں میں ہے وقل للذین اوتوا الکتاب والا میبن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو حکمت قرآن اس کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ چناچہ قرآن حکیم کی قسم سے واضح فرما دیا گیا کہ حکمت قرآن اس کتاب حکیم اور اس کے پیش کرنے والے پیغمبر کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ یعنی یہ عظیم الشان اور حکمتوں بھرا کلام جس کی نظیر لانے سے دنیا ساری عاجز ہے خود اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں (علیہ الصلوۃ والسلام) سو قرآنی قسمیں جیسا کہ ہم نے اور بھی کئی جگہ ذکر کیا ہے اپنے مقسم علیہ کی شہادت اور گواہی کیلئے ہوتی ہیں نہ کہ محض تعظیم کیلئے۔ جیسا کہ عام طور پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یٰسین حروف مقلعات میں سے ہے جن کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض تابعین ؓ نے اس کے معنی اے مرد یا اے انسان اور بعض نے یا سید البشر ﷺ ( اے انسانوں کے سردار) بیان کئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں۔ امام مالک فرماتے ہیں : یہ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:1) یس۔ یا اور س حروف مقطعات میں سے ہیں اس کے مراد ی معنی سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی کو معلوم نہیں۔ یہ سورة کا عنوان بھی ہے ۔ اس سورة کے کئی دیگر نام بھی ہیں مثلاً معمہ۔ کیونکہ اس کے پڑھنے والے کو دونوں جہانوں کی بھلائی بھی عطا ہوتی ہے اس کو دافعہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی کو دفع کرتی ہے اس کا نام قاضیہ بھی ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کی ہر ضرورت کو پورا کرتی ہے وغیرہ ذلک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یس حروف مقطعات میں سے ہے ‘ نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام بھی : 1۔ یس کوئی لفظ نہیں بلکہ دو الگ الگ حروف ہیں یا ۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ ن اور یہ اسی طرح حروف مقطعات سے ہے جس طرح قرآن کریم کی بعض سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں ، یہ کل 29 سورتیں ہیں جن کے شروع میں حروف مقطعات بیان ہوئے ہیں اور انہی 29 سورتوں میں یہ سورت بھی شامل ہے جس طرح طہ کو بھی رسول اللہ ﷺ کا ایک نام بتایا گیا ہے پھر جس طرح طہ کو اس سورت کا نام بھی تسلیم کیا گیا ہے اس طرح یس کو بھی اس سورت کا نام بتایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے یہ بھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The Merits of Surah Ya Sin Sayyidna Ma'qil Ibn Yasar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: یٰسٓ قَلبُ القُرآن (Surah Ya Sin is the heart of the Qur'an) and some words of this Hadith tell us that a person who recites Surah Ya Sin exclusively for the sake of Allah and the 'Akhirah is forgiven, and that it should be recited over the dead among us (reported by Ahmad and Abu Dawud and an-Nas'i and Ibn Hibban and al-Hakim and others - as in Ruh-ul-Ma’ ani and al-Mazhari). Imam al-Ghazzali said that one reason for calling Surah Ya Sin the heart of the Qur'an could be that, in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Dahhak, Hasan Basri and Sufyan bin 'Uyainah have opined that it means, "O man", or "O person"; some other commentators have regarded it as an abbreviation of "Ya Sayyid" as well, which, according to this interpretation, would be an address to the Holy Prophet.

Read the full tafseer →