Explained with ayahs 44–45
عبرت ناک مناظر سے سبق لو۔
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہوگئی، ان کے مال تباہ کردیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کردی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لئے گئے، تباہ و برباد کردیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کرسکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا۔ وہ تمام کائنات کا عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة فَاطِر 72
یعنی اللہ کا یہ قانون ان پر بھی جاری ہوجائے کہ جو قوم اپنے نبی کو جھٹلاتی ہے وہ تباہ کر کے رکھ دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
معارف و مسائل
(آیت) ولا یحیق المکر السیی الا باھلہ، لا یحیق کے معنی لا یحیط یا لا یصیب کے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بری تدبیر کا وبال اور کسی پر نہیں پڑتا، بلکہ خود ایسی تدبیر کرنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کا برا چاہتا ہے وہ خود برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں تو بہت مرتبہ یہ بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ بری تدبیر کرنے والے کی تدبیر چل جاتی ہے اور جس کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کو نقصان پہنچ جاتا ہے اس کا ایک جواب تو خلاصہ تفسیر میں آ گیا ہے کہ اس کو جو تکلیف یا نقصان پہنچا وہ تو دنیا کا نقصان ہے، اور ایسی بری تدبیر کرنے والے کا نقصان آخرت کا عذاب ہے، جو…
Read the full tafseer →آیت 45
یہ اسی سنت الٰہی کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی پکڑ تو لازماً ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ مجرمین کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً نہیں پکڑا کرتا۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ تو نہیں پکڑ سکتا، وہ چشم زون میں روئے زمین سے مہر زندہ کو ختم کردے، لیکن وہ حلیم و غفور ہے اور اس وہج سے ایک معین مدت تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ جس کو توفیق ہو وہ توبہ اور اصلاح کرلے اور جو اپنی ضد ہی پر مرنا چاہے اس پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ جب ان کی معین مدت مہلت پوری ہوجائے گی تو پھر اللہ ان کو دیکھے گا کہ وہ کس پاداش کے مستحق ہیں۔
’ بما کسبوا ‘ کے بعد ’ عنی عجل ‘ یا اس کے…
Read the full tafseer →45۔ 1 انسانوں کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جانوروں کو انسانوں کی نحوست کی وجہ سے یا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل زمین کو ہلاک کردیتا، انسانوں کو بھی اور جن جانوروں اور روزیوں کے وہ مالک ہیں ان کو بھی یا مطلب ہے کہ آسمان سے بارشوں کا سلسلہ منقطع فرما دیتا ہے جس سے زمین پر چلنے والے سب دابتہ مرجاتے ہیں۔
45۔ 1 یہ میعاد معین دنیا میں بھی ہوسکتی ہے اور یوم قیامت تو ہے ہی۔
45۔ 3 یعنی اس دن ان کا محسابہ کرے گا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کا پورا بدلہ دے گا اہل ایمان واطاعت کو اجرو ثواب اور اہل کفر و معصیت کو عتاب و عقاب۔ اس میں مومنوں کے لیے تسلی ہے اور کافروں کے لیے وعید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
13: بدنیتی سے کسی کے خلاف جو ناحق تدبیریں کی جاتی ہیں، اکثر تو دنیا ہی میں وہ الٹی پڑجاتی ہیں، اور ان کا نقصان خود تدبیر کرنے والے کو اٹھانا پڑتا ہے، چنانچہ کافروں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف جو چالیں چلی تھیں، وہ آخر کار انہی کے خلاف پڑیں، اور اگر کبھی دنیا میں نقصان اٹھانا نہ پڑے تو ان بری تدبیروں کا عذاب آخرت میں تو ہوتا ہی ہے جو دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔
Read the full tafseer →ولو یؤاخذ اللہ۔۔۔۔۔ بعبادہ بصیرا (45)
لوگ جو اللہ کے انعامات کا کفر کرتے ہیں ، زمین میں شروفساد کا ارتکاب کرتے ہیں اور ظلم و زیادتی اور سرکشی کرتے ہیں یہ ان کی جانب سے بہت ہی بری حرکت ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ان کی اس بری حرکت پر پکڑتا تو اللہ کی پکڑ کا دائرہ پورے کرہ ارض تک پھیل جاتا اور یہ پورا کرہ ارض زندگی کے قابل ہی نہ رہتا۔ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ کوئی زندہ چیز بھی یہاں نہ رہتی۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ بہت برا اور گھناؤنا کام ہے اور اگر اللہ اس پر فوراً ہی پکڑ لیتا تو لوگوں کے اعمال کے طبعی اور اخلاقی نتائج ان کی فوری بربادی پر منتج ہوئے۔ لیکن اللہ…
Read the full tafseer →6 یعنی لوگ جو گناہ کماتے ہیں اگر ان میں سے ہر ہر جزئی پر گرفت شروع کر دے تو کوئی جاندار زمین میں باقی نہ رہے، نافرمان تو اپنی نافرمانی کی وجہ سے تباہ کردیے جائیں۔ اور کامل فرمانبردار جو عادۃ بہت تھوڑے ہوتے ہیں قلت کی وجہ سے اٹھا لیے جائیں۔ کیونکہ نظام عالم کچھ ایسے انداز پر قائم کیا گیا ہے کہ محض معدودے چند انسانوں کا یہاں بستے رہنا خلاف حکمت ہے۔ پھر جب انسان آباد نہ رہے تو حیوانات کا ہے کے لیے رکھے جائیں گے۔ ان کا وجود بلکہ تمام عالم ہستی تو اس حضرت انسان کے لیے ہے۔
1 یعنی ایک مقرر میعاد اور حد معین تک اللہ نے ڈھیل دے رکھی ہے کہ ہر ایک جرم پر فورا گرفت نہیں کرتا۔ جب وقت موعود آجائے گا تو یاد…
Read the full tafseer →آیت 45{ وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ } ”اور اگر اللہ فوری گرفت کرتا لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا“
{ وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } ”لیکن وہ موخر کرتا رہتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک۔“
اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی ہے کہ وہ کسی مجرم یا نافرمان کی فوری طور پر پکڑ کرنے کے بجائے اسے ایک طے شدہ وقت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔
{ فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا } ”پھر جب ان کا وقت ِمعین ّآ جائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے حالات کو خود…
Read the full tafseer →52 دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ ورنہ زمین پر کوئی جاندار زندہ نہ رہ سکتا :۔ انسان اور جن کے علاوہ دوسرا کوئی جاندار نہ شریعت کا مکلف ہے اور نہ اللہ کا نافرمان ہوتا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ اصل مجرم تو انسان ہے۔ مگر اس کی سزا سے دوسرے جاندار بیچارے مفت میں مار کھاتے ہیں جیسے گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ مثلاً انسانوں کے جرم کی پاداش میں اگر اللہ تعالیٰ بارش روک دے تو دوسرے جاندار بھی بےچارے پانی کی نایابی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرجائیں گے۔ اسی طرح اگر سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے تو متاثرہ علاقہ کے جاندار بھی متاثر ہوں گے اور مرجائیں گے۔ مجرم انسانوں کو فوری طور پر گرفت نہ کرنے اور انہیں ڈھیل…
Read the full tafseer →61۔ (اور ہر ایک سے اس کے مناسب حال برتاؤ کرے گا) (آیت) ’ ولو ...... دآبۃ “۔ یعنی یہ تو مشیت تکوینی سرے سے ہے ہی نہیں کہ معاصی وذنوب پر گرفت فی الفور اور اسی دنیا میں ہوجایا کرے، یہ اگر ہوتا تو کوئی کافر زندہ ہی نہ رہنے پاتا، اور اہل ایمان اس لیے اٹھا لیے جاتے کہ نظام عالم مجموعہ کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور جب انسان نہ رہتے تو کوئی حیوان بھی نہ باقی رہنے دیا جاتا۔ کہ حیوانات کی حیثیت تو محض انسانوں کے خادم کی ہے۔ (آیت) ” من دآبۃ “۔ اس سیاق میں (آیت) ” دآبۃ “۔ سے کیا مراد ہے، اس پر اچھی خاصی بحث ہوئی ہے۔ ہر متحرک جانور، جن وانس، اور نوع انسانی یہ سب مراد لیے گئے ہیں۔ اور مآل ہر تفسیر کا ایک ہی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
آیت نمبر 38 تا 45
ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…
Read the full tafseer →ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبہۃ ولکن یؤخرھم الی اجل
مسمی اور اگر اللہ (ان) لوگوں کی (فوری) گرفت ان کے اعمال پر کرتا تو زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن اللہ ایک معین میعاد (یعنی قیامت) تک ان کو مہلت دے رہا ہے۔
دَآبَّۃً جاندار جو زمین پر چلتے ہیں یعنی کسی گناہگار متنفس کو نہ چھوڑتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کی بداعمالی کی نحوست سب زندہ جانوروں پر پڑتی اور اللہ سب کو تباہ کردیتا۔
اَجَلٍ مُّسَمَّیً سے مراد ہے موت یا قیامت۔
فاذا جاء اجلھم فان اللہ کان بعبادہ بصیرا . پھر جب ان کی وہ میعاد آجائے گی ‘ اس وقت اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عباد…
Read the full tafseer →اور اگر اللہ تعالیٰ جن و انس پر ان کے اعمال کے سبب فورا پکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر جن و انس میں سے خاص طور پر ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے۔
سو جب ان کی ہلاکت کا وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا کہ کس کو ہلاک کرے اور کسے بچائے۔
Read the full tafseer →وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل کی آیت (61) کی تفسیر۔
فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا : یعنی جب ان کا مقرر وقت آگیا تو اللہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کون کہاں ہے۔ لہٰذا اس وقت نہ کوئی اس سے چھپا رہ سکے گا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکے گا، پھر کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں، وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلا دے گا۔
Read the full tafseer →آیت : و لو یوء اخذا اللہ الناس بما کسبوا ما کسبو سے مراد گناہ ہیں (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 479) آیت : ما ترک علی ظھرھا من دابۃ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا مراد تمام حیوانات ہیں جو رینگ کر چلتے تھے یا کسی اور صورت میں چلتے تھے
(2) (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 444 ) ۔ قتادہ نے کہا : یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا۔ کلبی نے کہا : دابہ سے مراد جن اور انسان ہیں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں، کیونکہ دونوں عقل ہونے کی وجہ سے مکلف ہیں (3) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 619) ۔ ابن جریر، اخفش، اور حسین بن فضل نے کہا : یہاں دابہ سے مراد صرف لوگ ہیں کوئی اور نہیں۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ ظاہر…
Read the full tafseer →وقولہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس :
8:۔ الفریابی وابن المنذر والطبرانی والحاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو گوہ کا کیڑا البتہ عذاب دیا جاتا جاتا اپنے سوراخ میں انسان کے گناہ کی وجہ سے پھر (یہ آیت) پڑھی ” ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبۃ “ (اور اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی فوری گرفت ان کے اعمال پر کرتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا) واللہ اعلم۔
الحمد اللہ سورة فاطر مکمل ہوئی :
Read the full tafseer →وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ [اور اگر مؤاخذہ کرتا اللہ ] النَّاسَ [لوگوں کا ] بِمَا كَسَبُوْا [بسبب اس کے جو انھوں نے کمایا ] مَا تَرَكَ [تو وہ نہ چھوڑتا ] عَلٰي ظَهْرِهَا [اس کی پیٹھ پر ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [کوئی بھی جاندار ] وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ [اور لیکن وہ مؤخر کرتا ہے ان کو ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ [ایک مقررہ خاتمے کے وقت تک ] فَاِذَا جَاۗءَ [پھر جب آتا ہے ] اَجَلُهُمْ [ان کے خاتمے کا وقت ] فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ [تو بیشک اللہ ہے ] بِعِبَادِهٖ [اپنے بندوں کو ] بَصِيْرًا [دیکھنے سمجھنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →سورت کے ختم پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا، دنیا میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے کفر کی وجہ سے بربادی کے مستحق ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ فرمائے تو زمین پر کسی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑے، لیکن اس کے یہاں تاخیر ہے اور ڈھیل ہے اس نے جو اجل اور میعاد مقرر فرما رکھی ہے جب وہ آئے گی تو عذاب آجائے گا۔ اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ کتنے کافر گزر گئے اور کتنوں نے بد عملی کرلی ان سب کی فہرست کہاں ہے اور ہر ایک کا مواخذہ کیسے ہوگا، جو شخص ایسا خیال کرتا ہے یہ اس کی جہالت کی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنے ہر ہر بندہ کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے، جب مقررہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تشنیع و تقریع برکفر ومکر
قال اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ مشرکین کفروشرک کی وجہ سے بھی قہر الٰہی کے مستحق ہیں لیکن اللہ کے حلم سے بچے ہوئے ہیں اب آئندہ آیات میں ان کے مکروفریب اور ان کی بدعہدی کو بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ بدعہدی کی وجہ سے مستحق قہرو غضب ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرکین عرب آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی تاکید کے ساتھ قسمیں کھایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے مجھے اگر خدا کی طرف سے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آتا تو ہم ہدایت اختیار کرنے میں پہلی امتوں سے بڑھ کر ہوتے یعنی یہودونصاری کی طرح تکذیب نہ کرے…
Read the full tafseer →45:۔ ولو یؤاخذ الخ : اللہ تعالیٰ کے حلم کا بیان ہے کہ وہ نہ تو ہر گناہ پر گرفت کرتا ہے اور نہ گناہگار کو فورًا ہی پکڑ لیتا ہے بلکہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور قابل مؤاخذہ گناہوں کے بعد مہلت دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ بنی آدم پر ہر گناہ کی وجہ سے مؤخذاہ فرماتا تو زمین پر کوئی بھی انسان اب تک زندہ موجود نہ ہوتا بلکہ سب کسی نہ کسی گناہ کے بدلے ہلاک ہوچکے ہوتے۔ دابۃ سے خاص انسان مراد ہیں۔ قیل المراد بالدابۃ الانس وحدہم واید بقولہ تعالیٰ ولکن یوخرھم الخ (روح ج 22 ص 207) ۔ یا دابۃ سے ہر ذی روح مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ بنی آدم کے گناہوں کی شوم اور نحوست سے ہر جاندار ہلاک ہوجاتا۔ ای من حیوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے کچھ عقلی دلائل پیش کیے تھے اور شرک کی تردید فرمائی تھی۔ فرمایا وہ اللہ کی ذات ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ تھام رکھا ہے اور اگر وہ ان دونوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو کوئی دوسرا ان کو تھامنے والا نہیں اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے ، وہ انسانوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے مگر لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید سرکشی اختیار کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت مقررہ پر اللہ کی گرفت آجاتی ہے اور نافرمانوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
اب آج کی پہلی آیت میں مشرکین مکہ کے…
Read the full tafseer →وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَہْرِہَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى 0 ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِيْرًا 45ۧ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ترکیب : استکبار مفعولا لہ وکذا مکرالسّیئِ ای لاجل الاستکبار ولا جل مکر العمل السیء وقولہ تعالیٰ مازادھم جواب لما وقیل مکرالسیء اصلہ ان مکرو المکرالسیّئِ فحذف الموصوف ای المکر استغنائً بوصفہ ای السیء ثم بدل ان مع الفصل بالمصدر ثم اضیف بیضاوی۔
تفسیر : توحید کے بعد انکار رسالت کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہاں تو یوں کہیں گے اور یہاں توحید میں بھی ناقص ہیں اور رسالت کے اس درجہ منکر ہیں، فقال و اقسموا باللہ جہد ایمانہم الخ ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ ہم میں سے کسی نبی کو بھیجے گا تو ہم اس کی اور اس کی کتاب کی ایسی اطاعت اور پابندی کریں گے کہ…
Read the full tafseer →وَلَوْ یُؤَاخِذُاللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَاتَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰـکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا۔ (فاطر : 45)
(اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کیے کرتوتوں پر فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا، مگر وہ انھیں ایک مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے اور جب ان کا وقت آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے۔ )
ایک شبے کا ازالہ
عذاب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی سنت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کو یہ اشتباہ ہونے لگتا ہے کہ قومیں اللہ تعالیٰ کے نبیوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اس کے حضور اپنے گناہوں کی توبہ کرلیں۔
رب کریم کی عطاکردہ مہلت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کی بجائے مجرم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فی الفور ہماری گرفت نہیں کرتا اور ہمیں بدستور دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت دیئے جارہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہم پر ناراض نہیں۔ ایسے لوگوں کی خوش فہمی دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے جرائم کی وجہ سے انہیں دنیا میں پوری، پوری سزا دینا چاہے تو روئے زمین پر کوئی بھی چلنے پھر نے والا باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک وقت معین تک مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے…
Read the full tafseer →فوری پکڑ پر کوئی متنفس نہ بچتا :
45: وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا (اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دار وگیر فرمانے لگتا) بما کسبوا کا معنی ان معاصی پر جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔ مَاتَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا (تو روئے زمین پر نہ چھوڑتا) ھاؔ کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے کیونکہ الارض کا تذکرہ اس ارشاد میں موجود ہے۔ لیعجزہ من شیٔ فی السمٰوٰت ولافی الارض مِنْ دَآ بَّۃٍ (کوئی متنفس) کوئی جان دارجو زمین پر چلنے والا ہو وَّ لٰکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے) ۔ اجل مسمًیسے مراد قیامت کا دن ہے۔ فَاِذَا…
Read the full tafseer →45، ولویؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا، اس مراد جرائم ہیں۔ ، ماترک علی ظھرھا، زمین کی پیٹھ پر۔ ، من دابۃ، جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں زمین پر جو کچھ تھا سب کو ہلاک کردیا مگر وہ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں موجود تھے ۔ ، ولکن یو خرھم الی اجل مسمی فاذا جاء اجلھم فان اللہ کان بعبادہ بصیرا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ عباد سے مراد تمام بنوے ہیں ، اطاعت گزارہوں یانا فرمان۔ اللہ تعالیٰ سب کے احوال کو دیکھ رہے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44‘ 45۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ کا دستور بدلنے اور ٹلنے والا نہیں اگر یہ لوگ پہلے کے سرکشوں کے قدم بقدم چلیں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے کے سرکشوں کا ہوا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح بڑھ کر تھے لکنس ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کو قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ آفت سے اب تک اس واسطے…
Read the full tafseer →آیت 45
اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لئے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنہوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا۔ جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے اور اللہ تعالیٰ کی قدتر اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ (وما کان اللہ لیعجزہ من شیء فی السموت ولا فی الارض) ” اور اللہ ایسا نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھ داری کی عمر
قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…
Read the full tafseer →100 اللہ تعالیٰ کی سنت امہال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ کہیں لوگوں کو انکے کیے کرائے پر۔ فوری طور پر۔ پکڑنے لگتا تو زمین پر کس جاندار کو باقی نہ چھوڑتا۔ کہ انسان اپنے گناہوں کی پاداش میں نیست و نابود کر دئیے جاتے اور جانور وغیرہ جو اس کی خدمت اور فائدے کے لئے تھے ان کے باقی رکھنے کا کوئی مقصد نہ رہ جاتا کہ وہ تو انسان ہی کی خدمت اور بھلے کے لئے پیدا کئے جاتے ہیں۔ تو جب مخدوم ہی نہ رہے تو پھر خادموں کے باقی رکھنے کا کیا فائدہ ؟ اس لئے ان کو بھی مٹا دیا جاتا۔ مگر اللہ پاک اپنی شان کریمی سے کام لیتے ہوئے انسان کو ڈھیل پر ڈھیل اور مہلت پر مہلت ہی دئیے جا رہا ہے کہ شاید یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45:
اسرار و معارف :
یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…
Read the full tafseer →ف 2 جاندار سے مراد جن و انس کے علاوہ عام جاندار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن و انس تو اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے۔ اور دوسری جاندار چیزیں جن و انس کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے بعض آثار میں ہے۔ (کاذ الجعل ان یعذب فی حجرہ بذنب ابن ادم) (قرطبی)3 کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیگا۔
Read the full tafseer →(35:45) لو یؤاخذ۔ مضارع واحد مذکر غائب، مواخذۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر وہ گرفت کرے۔ اگر وہ پکڑے۔ وہ داروگیر کرے
بما۔ باء سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے۔ کسبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے کمایا۔ انہوں نے (اچھا یا برا کام) کیا۔ یہاں برے کا ہی کے متعلق آیا ہے۔ علی ظھرھا۔ ای علی ظھر الارض۔ زمین کی پشت پر۔ زمین پر۔
فائدہ : مولانا عبد الماجد دریا بادی صاحب تفسیر الماجدی رقمطراز ہیں :۔
ولو۔۔ دابۃ۔ یعنی یہ تو مشیت تکوینی سرے سے ہے ہی نہیں کہ معاصی وذنوب پر گرفت فی الفور اور اسی دنیا ہی میں ہوجایا کرے۔ یہ اگر ہوتا ہے تو کوئی کافر زندہ ہی نہ رہنے پاتا۔ اور اہل ایمان اس لئے اٹھا لئے جاتے کہ نظام عالم مجموعہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد (آگے بڑھ گیا) ایمان ( یمن) (قسمیں) اھدی (زیادہ ہدایت والا) السیی ( برائی ، گناہ) لا یحیق ( نہیں گھبرا تا ہے) عاقبۃ ( انجام) یو اخذ ( وہ پکڑتا ہے) اجل ( مدت) بصیر (بہت دیکھنے والا)
تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں اپنی عملی برتری کا اظہار کرنے کے لئے کفار عرب کو طعنے دیتے تھے کہ تم گمراہ ہو اور تمہاری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ تمہارے اندر تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا اور نہ تمہیں کوئی کتاب ہدایت دی گئی ہے۔
وہ کہتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلو تمہاری نجات اسی میں ہے کیونکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں، جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح سے بڑھ کر تھے لیکن ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے انکوطرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کی قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ افت سے اب تک اس واسطے بچے ہوئے ہیں کہ عادت الٰہی میں ایسے لوگوں کی پکڑ کی جلدی نہیں ہے کیونکہ وہ رایک کی بداعمالی پر لوگوں کو جلدی پکڑنے لگے تو زمین پر کوئی جاندار ہلاکت سے نہ بچ سکے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
[21] یعنی نافرمان اپنی نافرمانی کی وجہ سے تباہ کر دئیے جاتے اور کامل فرماں بردار جو عادۃً بہت تھوڑے ہوتے ہیں قلت کی وجہ سے اٹھا لئے جاتے کیونکہ چند انسانوں کا بسے رہنا خلاف حکمت ہوتا۔ پھر جب انسان نہ رہے تو حیوانات کا ہے کے لئے رکھے جاتے۔ ان کا وجود تو صرف انسان کے لئے ہے۔
[22] یعنی کسی کا ذرہ بھر برا یا بھلا عمل اس کے علم سے باہر نہیں۔ بس ہر ایک کا اپنے علم کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1: یعنی ان لوگوں کو جو نشہ قوت میں مست ہیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ اللہ کا عذاب ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا ۔ کیونکہ اس دنیا میں ان سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں آباد ہوئی ہیں ۔ مگر جب انہوں نے اللہ کے قانون حیات کی مخالفت کی ہے ۔ حرف غلط کی طرح مٹ گئی ہیں ۔ اور ان کے ابوانوں اور محلات میں سے صرف کھنڈرات کی صورت میں باقی ہیں ۔ جو ان کی بیچارگی پر ماتک کناں ہیں ان فریب خوردگان شراب مستی کو چاہیے کہ ان اقوام ولیل کی تاریخ کو ان کے آثار باقیہ میں تلاش کریں اور معلوم کریں ۔ کہ کیا کوئی قوم اپنی مادی شان و شوکت کی وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ سکی ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سزا کے لئے…
Read the full tafseer →(45) اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کسب اور ان کے اعمال کی وجہ سے گرفت اور مواخذہ کرنے لگے تو روئے زمین پر کسی حرکت کرنے والے اور کسی متنفس کو بھی نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ تک لوگوں کو مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ وقت مقررہ اور میعاد معینہ آجائے گی تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں۔ یعنی اگر بندوں کو ان کی شامت اعمال کے سبب گرفتار کرنا شروع کر دے تو ایک بھی متنفس باقی نہ رہے اور روئے زمین پر کوئی چلنے والا نہ دکھائی دے اور جب انسان ہی نہ رہیں تو حیوانات جو انتفاع خلق کے لئے ہیں وہ بھی بیکار ہوجائیں۔ لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1۔ پس علم سے اپنے ہر ارادہ کے نافذ کرنے کا طریقہ جانتا ہے اور قدرت سے اس کو نافذ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →لوگوں کے کرتوتوں پر وہ ہر قوت مواخذہ کرتا تو اس زمین پر کوئی نظر ہی کیوں آتا ؟
45 ۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں بلکہ ہرچیز ظاہر اور حاضر ہے اور وہ ہر ایک انسان کو دیکھ رہا ہے کہ صبح سے شام تک کس کس کام ، کس کس اسکیم اور کس کس ارادہ میں ہے پھر اگر وہ ہر وقت انسان کو پکڑنا چاہتا تو آخر کون تھا جو اس سے بچ کر نکل جاتا اور کون تھا جو اس سے کسی کو بچا لیتا لیکن اس نے جو قانون مشیت بنایا ہے وہ اسی کے مطابق اس نظام کو چلارہا ہے اور کسی کو گناہ کرتے دیکھ کر اسی وقت اس کا ہاتھ نہیں پکڑ لیتا بلکہ وہ اپنے قانون امہال کے تحت ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلے جارہا ہے اور نہایت ہی خاموشی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
Commentary
The word: لَا يَحِيقُ (la yahiq) in verse 43: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (And the evil plot envelops none but its own people ( who make it) carries the sense of: لَا یُحِیطُ (la yuhit: does not surround) or: لَا یُصیبُ (la usib: does not afflict). Thus, it comes to mean that the curse of making an evil plan falls on none but the one who makes it. In other words, a person who wishes evil for others, he himself falls a victim to it.
A doubt may arise at this point. It is commonly seen in this worldly life that someone with an evil plan gets away with it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
72 That is, this Law of Allah that the nation which repudiates its Prophet, is destroyed should be applied in their case as well.
Read the full tafseer →