Explained with ayahs 44–45
عبرت ناک مناظر سے سبق لو۔
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہوگئی، ان کے مال تباہ کردیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کردی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لئے گئے، تباہ و برباد کردیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کرسکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا۔ وہ تمام کائنات کا عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة فَاطِر 72
یعنی اللہ کا یہ قانون ان پر بھی جاری ہوجائے کہ جو قوم اپنے نبی کو جھٹلاتی ہے وہ تباہ کر کے رکھ دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
معارف و مسائل
(آیت) ولا یحیق المکر السیی الا باھلہ، لا یحیق کے معنی لا یحیط یا لا یصیب کے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بری تدبیر کا وبال اور کسی پر نہیں پڑتا، بلکہ خود ایسی تدبیر کرنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کا برا چاہتا ہے وہ خود برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں تو بہت مرتبہ یہ بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ بری تدبیر کرنے والے کی تدبیر چل جاتی ہے اور جس کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کو نقصان پہنچ جاتا ہے اس کا ایک جواب تو خلاصہ تفسیر میں آ گیا ہے کہ اس کو جو تکلیف یا نقصان پہنچا وہ تو دنیا کا نقصان ہے، اور ایسی بری تدبیر کرنے والے کا نقصان آخرت کا عذاب ہے، جو…
Read the full tafseer →آیت 44
اللہ کی جو سنت پچھلی قوموں کے معاملے میں ظاہر ہوئی اور جس کے آثار و خود ملک عرب میں موجود تھے یہ ان کی طرف توجہ دلائی کہ کیا ان لوگوں نے اپنے ملک کی سیاحت کبھی اس مقصد سے نہیں کی کہ اپنی ان پیشرو قوموں کے آثارو نشانات دیکھتے جو قوت و شوکت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ان کا انجام نہایت عبرت انگیر ہو !
’ اولم یسیروا فی الارض فینظروا۔ ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس کی سیاحت تو انہوں نے بہت کی ہے۔ اپنے تجارتی سفروں میں برابر معذب قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے رہے ہیں لیکن کبھی خاص اس مقصد سے انہوں نے ان کے آثار پر نظر نہیں ڈالی کہ وہ اس کیفرِ کردار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 1 یعنی آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی بجائے، انکار و مخالفت کا راستہ محض استکبار اور سرکشی کی وجہ سے اختیار کیا۔
43۔ 2 اور بری تدبیر یعنی حیلہ، دھوکا اور عمل قبیح کی وجہ سے کیا۔
43۔ 3 یعنی لوگ مکر و حیلہ کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بری تدبیر کا انجام برا ہی ہوتا ہے اور اس کا وبال بالآخر مکر و حیلہ کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے۔
43۔ 4 یعنی کیا یہ اپنے کفر و شرک، رسول ﷺ کی مخالفت اور مومنوں کو ایذائیں پہنچانے پر مصر رہ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی اس طرح ہلاک کیا جائے جس طرح پچھلی قومیں ہلاکت سے دو چار ہوئیں۔
43۔ 5 بلکہ یہ اسی طرح جاری ہے اور ہر مکذب (جھٹلانے والے) کا مقدر ہلاکت ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
13: بدنیتی سے کسی کے خلاف جو ناحق تدبیریں کی جاتی ہیں، اکثر تو دنیا ہی میں وہ الٹی پڑجاتی ہیں، اور ان کا نقصان خود تدبیر کرنے والے کو اٹھانا پڑتا ہے، چنانچہ کافروں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف جو چالیں چلی تھیں، وہ آخر کار انہی کے خلاف پڑیں، اور اگر کبھی دنیا میں نقصان اٹھانا نہ پڑے تو ان بری تدبیروں کا عذاب آخرت میں تو ہوتا ہی ہے جو دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔
Read the full tafseer →اولم یسیروا۔۔۔۔۔ علیما قدیرا (44) ”
اس زمین میں سیر کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اس میں گزشتہ اقوام کے واقعات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں کہ وہ کیا کرتے تھے اور ان کا انجام کیا ہوا۔ زمین کے واقعات و حادثات سے انسانی شعور اور دل میں خدا کا خوف اور عبرت آموز اشارات کا بیٹھنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ زمین میں پھرو اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانوں کا مطالعہ کرو ، ہلاک شدہ اقوام کے شب و روز دیکھو ! جن کا نام و نشان اس زمین سے مٹا دیا گیا۔ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان دلوں کو جگاؤ جن کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہے تو ان کے اندر احساس…
Read the full tafseer →5 یعنی بڑے بڑے زور آور مدعی اللہ کی گرفت سے نہ بچ سکے مثلا عاد وثمود وغیرہ۔ یہ بیچارے تو چیز کیا ہیں۔ خوب سمجھ لو کہ آسمان و زمین کی کوئی طاقت اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی علم اس کا محیط اور قدرت اس کی کامل۔ پھر معاذ اللہ عاجز ہو تو کدھر سے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 44{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں ‘ پس یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے“
{ وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ”حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے !“
{ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کرسکے۔“
{ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا } ”یقینا وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ ہرچیز پر قادر ہے۔“
Read the full tafseer →51 اگر قریش مکہ نے پہلی قوموں کے کھنڈرات کو پہلے اس نظر سے نہیں دیکھا تو اب جاکر دیکھ لیں۔ ان کے کھنڈرات سے بھی یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں شان و شوکت، قوت و دبدبہ اور عیش و عشرت میں ان قریش مکہ سے کہیں بڑھ کر تھے۔ پھر جب انہوں نے یہ سرکشی کی روش اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کچل کے رکھ دیا۔ اس وقت اللہ کے مقابلہ میں نہ ان کی شان و شوکت کسی کام آئی اور نہ قوت و دبدبہ۔ پھر کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنی اس معاندانہ روش اور خفیہ سازشوں سے اللہ کے دین کی راہ روک سکو گے ؟ تم اس کی گرفت سے کیسے بچ سکو گے جب کہ وہ تمہاری ایک ایک حرکت کو جانتا بھی ہے اور تمہیں سزا دینے کی قدرت…
Read the full tafseer →59۔ تاریخ عالم کا سبق یہی ہے کہ جو قوم بھی خدا فراموشی میں مبتلا ہوئی، وہ آخر کو ہلاک وبرباد ہو کر رہی۔ (آیت) ” الذین .... قوۃ “۔ قوم عاد، قوم ثمود، اہل بابل وکلدانیہ، قبطیان مصر وغیرہا۔
60۔ چناچہ اپنے علم کامل سے وہ ہر ارادہ کے نفاذ کا طریقہ وتدبیرجانتا ہے، اور اپنی قدرت کامل سے اسے نافذ کردیتا ہے۔ اس لیے کائنات کی کوئی سی قوت اس سے مقابلہ کی مجال نہیں رکھتی۔ (آیت) ” وما کان ...... الارض۔ مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ان کا خدائے ذوالجلال مشرکوں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح محدود القوی نہیں کہ آج فلاں سے مغلوب ہوگئے اور کل فلاں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
آیت نمبر 38 تا 45
ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…
Read the full tafseer →اولم لیسیروا انی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم وکانوا اشد منھم قوۃ
کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے بھالتے کہ جو (منکر) لوگ ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں ‘ ان کا انجام کیسا ہوا ‘ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا میں استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا ان لوگوں نے گذشتہ کافروں کے نشانات نہیں دیکھے اور کیا یہ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ گذشتہ لوگوں کا برا انجام ان کو نظر آجاتا۔ مطلب یہ کہ شام ‘ عراق اور یمن کو آتے جاتے میں انہوں نے گذشتہ کافروں کے کھنڈر دیکھے ہیں ‘ وہ مکہ کے باشندوں سے زیادہ قوت والے تھے ‘ اس…
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ نے سفر نہیں کیا کہ یہ دیکھتے بھالتے کہ جو منکر ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کا رسولوں کو جھٹلانے پر کیا انجام ہوا حالانکہ وہ جسمانی اور مالی قوت میں ان سے زیادہ تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کو ہرا دے اور وہ تمام مخلوق سے واقف اور ان پر قدرت والا ہے۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْض۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی تفسیر۔
وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ۔۔ : یعنی آسمان و زمین یعنی ساری کائنات میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتی کہ وہ اسے پکڑ نہ سکے، یا پکڑنے کے بعد وہ اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائے۔
اِنَّهٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا : کیونکہ وہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا ہے اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اسے عاجز کر دے، وہ اسے اس لیے نہ پکڑ سکے کہ اسے پتا ہی نہ چلے کہ وہ کہاں ہے، یا اسے معلوم تو ہو مگر وہ اسے پکڑنے کی طاقت نہ رکھے۔ ہمیشہ کا معنی ”کَانَ“ کا لفظ ادا…
Read the full tafseer →جس صفت کا ذکر کیا تھا اس کو بیان کیا گیا انہوں نے نہیں دیکھا جو ہم نے قوم عاد، قوم ثمود، مدین اور ان جیسی قوموں پر اسے نازل کیا ؟ جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اگر انہوں نے دیکھا ہے تو وہ ان کے مسکنوں اور گھروں کو دیکھ کر تدبر کرتے اور ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کو تواتر سے سن کر غورو فکر کرتے کیا اس میں ان کے لیے عبرت اور ان کے لیے بیان نہیں یہ لوگ ان سے بہتر اور قوی نہیں بلکہ وہ زیادہ قوی تھے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : کانوا اشد منھم قوۃ و ما کان اللہ لیعجذہ من شیء فی السموت ولا فی الارض یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
6:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل ینظرون الا سنت الاولین “ سے مراد ہے کیا یہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کو ایسا عذاب دیا جائے گا جیسے پہلے لوگوں یعنی کافروں کو عذاب پہنچا۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان اللہ لیعجزہ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کم نہیں پائے گی۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا [اور کیا انھوں نے سیر نہیں کی ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [نتیجتاً وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے تھے ] وَكَانُوْٓا [حالانکہ وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ان سے زیادہ شدید ] قُوَّةً ۭ [بلحاظ قوت کے ] وَمَا كَانَ اللّٰهُ [اور نہیں ہے اللہ ] لِيُعْجِزَهٗ [کہ عاجز کرسکے اس کو ] مِنْ شَيْءٍ [کوئی بھی چیز ] فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ [آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں ] اِنَّهٗ كَانَ [بیشک وہ ہے ] عَلِــيْمًا قَدِيْرًا [جاننے والا قدرت والا ] ۔
Read the full tafseer →زمین میں چل پھر کر دیکھتے ہیں پھر بھی سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کرتے، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مواخذہ فرماتا تو زمین کی پشت پر کسی کو بھی نہ چھوڑتا
مکہ والے تجارت کے لیے شام کے اسفار میں جایا کرتے تھے راستہ میں قوم ثمود کی برباد شدہ بستیاں پڑتی تھیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بستی (سدوم) کے پاس سے بھی گزر ہوتا تھا اس لیے انہیں یاد دہانی فرمائی، اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے، یعنی جن قوموں پر عذاب آیا اور ہلاک کیے گئے ان کا حال انہیں معلوم ہے ؟ ان کی آبادیوں کے نشان دیکھتے ہوئے گزرتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تشنیع و تقریع برکفر ومکر
قال اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ مشرکین کفروشرک کی وجہ سے بھی قہر الٰہی کے مستحق ہیں لیکن اللہ کے حلم سے بچے ہوئے ہیں اب آئندہ آیات میں ان کے مکروفریب اور ان کی بدعہدی کو بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ بدعہدی کی وجہ سے مستحق قہرو غضب ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرکین عرب آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی تاکید کے ساتھ قسمیں کھایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے مجھے اگر خدا کی طرف سے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آتا تو ہم ہدایت اختیار کرنے میں پہلی امتوں سے بڑھ کر ہوتے یعنی یہودونصاری کی طرح تکذیب نہ کرے…
Read the full tafseer →44:۔ اولم یسیروا الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ ماقبل کی تنویر و تفصیل ہے۔ یعنی اگر وہ ہماری سنت جاریہ کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو زمین میں چل پھر کر گذشتہ سرکش قوموں کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھیں وہ لوگ قوت و شوکت میں ان سے بڑھ کر تھے۔ لیکن جب انہوں نے ہمارے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ کیونکہ زمین و آسمان میں کوئی بھی اس پر غالب نہیں اور کوئی اس سے قوی تر نہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ وہ معاندوں اور سرکشوں کو جانتا بھی ہے اور ان کو پکڑنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے کچھ عقلی دلائل پیش کیے تھے اور شرک کی تردید فرمائی تھی۔ فرمایا وہ اللہ کی ذات ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ تھام رکھا ہے اور اگر وہ ان دونوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو کوئی دوسرا ان کو تھامنے والا نہیں اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے ، وہ انسانوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے مگر لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید سرکشی اختیار کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت مقررہ پر اللہ کی گرفت آجاتی ہے اور نافرمانوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
اب آج کی پہلی آیت میں مشرکین مکہ کے…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَكَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً 0 ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِيُعْجِزَہٗ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا 44
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ترکیب : استکبار مفعولا لہ وکذا مکرالسّیئِ ای لاجل الاستکبار ولا جل مکر العمل السیء وقولہ تعالیٰ مازادھم جواب لما وقیل مکرالسیء اصلہ ان مکرو المکرالسیّئِ فحذف الموصوف ای المکر استغنائً بوصفہ ای السیء ثم بدل ان مع الفصل بالمصدر ثم اضیف بیضاوی۔
تفسیر : توحید کے بعد انکار رسالت کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہاں تو یوں کہیں گے اور یہاں توحید میں بھی ناقص ہیں اور رسالت کے اس درجہ منکر ہیں، فقال و اقسموا باللہ جہد ایمانہم الخ ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ ہم میں سے کسی نبی کو بھیجے گا تو ہم اس کی اور اس کی کتاب کی ایسی اطاعت اور پابندی کریں گے کہ…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَکَانُوْٓا اَشَدَّمِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْ ئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا۔ (فاطر : 44)
(کیا انھوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ وہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے اور آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکے۔ بیشک وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔ )
معذب قوموں کے آثار سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت
سابقہ آیت کریمہ میں چونکہ پہلی قوموں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کی آمد اور حقائق جاننے کے باوجود اہل مکہ آپ کے خلاف مکروفریب کر رہے تھے اس لیے انہیں تاریخ کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے ایک بار پھر سمجھایا گیا ہے۔
دنیا میں عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع میں ایک بہت بڑا ذریعہ تاریخ عالم پڑھنا اور اس پر غور کرنا ہے۔ جس سے آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ پہلی اقوام کا کردار کیا تھا اور ان کا انجام کیا نکلا ؟ اسی لیے قرآن مجید کئی مرتبہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا اور فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے برے کردار کے برے انجام کے بارے میں شک ہے تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور اس کا جغرافیہ دیکھو ! یقیناً تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ تم سے پہلے…
Read the full tafseer →زمین میں سفر کیا مگر عبرت نہیں ہوئی :
44: اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا (کیا وہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ یہ دیکھتے بھالتے) کہ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ان کا انجام کیا ہوا) ۔ اس آیت میں شام کے اسفار اور یمن و عراق کے سفروں میں امم ماضیہ کے آثار بالیہ اور علامات ہلاکت و دمار جو ان کے مشاہدات میں آتے تھے۔ اس سے استشہاد پیش کیا۔ وَکَانُوا اَشَدَّ مِنْھُمْ (حالانکہ وہ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے) ھمؔ سے مراد اہل مکہ ہیں۔
قُوَّۃً سے اقتدار مراد ہے۔ مگر قوت کے باوجود وہ عذاب الٰہی سے فرار اختیار نہ کرسکے۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →تفسیر 44۔ اولم یسیروافی الا رض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم وکانو ا اشد منھم قوۃ وما کان اللہ لیعجزہ، ہم ان سے وہ چیز فوت کردیں گے ۔ من شیء فی السموات ولا فی الارض انہ کان علیما قدیرا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44‘ 45۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ کا دستور بدلنے اور ٹلنے والا نہیں اگر یہ لوگ پہلے کے سرکشوں کے قدم بقدم چلیں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے کے سرکشوں کا ہوا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح بڑھ کر تھے لکنس ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کو قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ آفت سے اب تک اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42
اے اللہ کے رسول ! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ (لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم) ” اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ “ یعنی وہ یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انہوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا (فلما جآء ھم نذیر) ” چناچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آگیا “ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ( ْازادھم) ” نہیں زیادہ کیا ان کو “ اس گمراہی نے (الا نفوراً ) ” مگر نفرت ہی میں “ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھ داری کی عمر
قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
94 استکبار باعث خسارہ و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ استکبار انسان کی محرومی کا ایک اہم اور بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہی ہے وہ اہم اور بنیادی وجہ جو ہمیشہ ایسے لوگوں کے لئے حق کے انکار اور اس سے محرومی کا باعث بنی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ پس استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ خرابی و فساد اور خسارئہ محرومی کی اصل وجہ اور جڑ بنیاد ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ کلمہ حق سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور حق بات انکے دلوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ تو پھر وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز ہوں تو کس طرح اور کیونکر ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
95 حق کیخلاف بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45:
اسرار و معارف :
یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی وہ اسے ہونے کا حکم دے یا کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرے اور وہ نازل نہ ہو۔
1 کوئی چیز اس سے سے پوشیدہ یا کوئی کام اس کیلئے دشوار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(35:44) اولم یسیروا میں ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ ہے تقدیر کلام ہے اقعدوا ولم یسیروا۔ مضارع نفی حجد بلم (مضارع مجزوم بوجہ عمل لم) کیا وہ زمین میں چلے پھر نہیں۔ یہاں ضمیر فاعل مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے اور زمین سے مراد ممالک شام، یمن عراق، وغیرہ ہیں۔ جہاں ان کا اکثر گذر ہوا کرتا تھا۔” ینظروا فاء ناصبہ ہے مضارع پر بہ تقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے “۔
عاقبۃ۔ انجام۔ الذین من قبلہم جو (لوگ) ان سے پہلے ہوئے ہیں مراد قوم عاد، ثمود، اہل بابل وکلدانیہ۔ قبطیان مصر وغیرہ ہیں۔ ھم ضمیر کا مرجع مشرکین مکہ ہیں۔
ما کان اللہ۔ اللہ ایسا نہیں ہے۔ ای لیس من شانہ۔ اس کی شان کے شایاں نہیں ہے۔
لیعجزہ۔ لام تاکید نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد (آگے بڑھ گیا) ایمان ( یمن) (قسمیں) اھدی (زیادہ ہدایت والا) السیی ( برائی ، گناہ) لا یحیق ( نہیں گھبرا تا ہے) عاقبۃ ( انجام) یو اخذ ( وہ پکڑتا ہے) اجل ( مدت) بصیر (بہت دیکھنے والا)
تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں اپنی عملی برتری کا اظہار کرنے کے لئے کفار عرب کو طعنے دیتے تھے کہ تم گمراہ ہو اور تمہاری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ تمہارے اندر تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا اور نہ تمہیں کوئی کتاب ہدایت دی گئی ہے۔
وہ کہتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلو تمہاری نجات اسی میں ہے کیونکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں، جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح سے بڑھ کر تھے لیکن ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے انکوطرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کی قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ افت سے اب تک اس واسطے بچے ہوئے ہیں کہ عادت الٰہی میں ایسے لوگوں کی پکڑ کی جلدی نہیں ہے کیونکہ وہ رایک کی بداعمالی پر لوگوں کو جلدی پکڑنے لگے تو زمین پر کوئی جاندار ہلاکت سے نہ بچ سکے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
[21] یعنی نافرمان اپنی نافرمانی کی وجہ سے تباہ کر دئیے جاتے اور کامل فرماں بردار جو عادۃً بہت تھوڑے ہوتے ہیں قلت کی وجہ سے اٹھا لئے جاتے کیونکہ چند انسانوں کا بسے رہنا خلاف حکمت ہوتا۔ پھر جب انسان نہ رہے تو حیوانات کا ہے کے لئے رکھے جاتے۔ ان کا وجود تو صرف انسان کے لئے ہے۔
[22] یعنی کسی کا ذرہ بھر برا یا بھلا عمل اس کے علم سے باہر نہیں۔ بس ہر ایک کا اپنے علم کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1: یعنی ان لوگوں کو جو نشہ قوت میں مست ہیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ اللہ کا عذاب ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا ۔ کیونکہ اس دنیا میں ان سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں آباد ہوئی ہیں ۔ مگر جب انہوں نے اللہ کے قانون حیات کی مخالفت کی ہے ۔ حرف غلط کی طرح مٹ گئی ہیں ۔ اور ان کے ابوانوں اور محلات میں سے صرف کھنڈرات کی صورت میں باقی ہیں ۔ جو ان کی بیچارگی پر ماتک کناں ہیں ان فریب خوردگان شراب مستی کو چاہیے کہ ان اقوام ولیل کی تاریخ کو ان کے آثار باقیہ میں تلاش کریں اور معلوم کریں ۔ کہ کیا کوئی قوم اپنی مادی شان و شوکت کی وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ سکی ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سزا کے لئے…
Read the full tafseer →(44) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں چلیں پھریں تو دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کار کیونکر ہوا اور کیسا ہوا یعنی تکذیب کی وجہ سے ان کا آخری انجام کیا ہوا حالانکہ وہ گزشتہ لوگ قوت اور زور میں ان کفار مکہ سے زیادہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ اس کو آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی عاجز اور بےبس کرسکے اور تھکا سکے۔ بلاشبہ وہ کمال علم اور کمال قدرت کا مالک ہے۔
یعنی ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ گزشتہ قوموں کا اس تکذیب اور پیغمبروں کی نافرمانی کے باعث کیا انجام ہوا حالانکہ وہ قوت و طاقت میں ان کفار مکہ سے بہت زیادہ زور آور تھے اور وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 1۔ پس علم سے اپنے ہر ارادہ کے نافذ کرنے کا طریقہ جانتا ہے اور قدرت سے اس کو نافذ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →کیا وہ زمین میں کبھی نہیں چلے پھرے کہ اپنے سے پہلوں کا انجام دیکھتے
44 ۔ کیا ان لوگوں کو کبھی کوئی سفر درپیش نہیں آیا ؟ بلا شبہ آیا اور انہوں نے ایک بار نہیں کئی بار ان بستیوں کو دیکھا جو تجارتی شاہراہوں پر اپنے دیکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ پیش کررہی تھیں لیکن یہ بھی ایک فطری چیز ہے کہ آدمی کو جب تک خود تکلیف نہ پہنچے اس کو دوسرے کی تکلیف کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو خود خیروعافیت سے وقت گزار رہا ہو اس کو دوسروں کی پریشانی سے کبھی عبرت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ دن رات ان بستیوں کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں لیکن ان کے ذہن و دماغ میں کبھی چوکا نہیں لگا کہ یہ لوگ کبھی اس طرح آباد تھے جیسے ہم ہیں اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
Commentary
The word: لَا يَحِيقُ (la yahiq) in verse 43: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (And the evil plot envelops none but its own people ( who make it) carries the sense of: لَا یُحِیطُ (la yuhit: does not surround) or: لَا یُصیبُ (la usib: does not afflict). Thus, it comes to mean that the curse of making an evil plan falls on none but the one who makes it. In other words, a person who wishes evil for others, he himself falls a victim to it.
A doubt may arise at this point. It is commonly seen in this worldly life that someone with an evil plan gets away with it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
72 That is, this Law of Allah that the nation which repudiates its Prophet, is destroyed should be applied in their case as well.
Read the full tafseer →