Explained with ayahs 42–43
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم۔
قریش نے اور عرب نے حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول ﷺ ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، یعنی اس لئے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہوجاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة فَاطِر 72
یعنی اللہ کا یہ قانون ان پر بھی جاری ہوجائے کہ جو قوم اپنے نبی کو جھٹلاتی ہے وہ تباہ کر کے رکھ دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
معارف و مسائل
(آیت) ولا یحیق المکر السیی الا باھلہ، لا یحیق کے معنی لا یحیط یا لا یصیب کے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بری تدبیر کا وبال اور کسی پر نہیں پڑتا، بلکہ خود ایسی تدبیر کرنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کا برا چاہتا ہے وہ خود برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں تو بہت مرتبہ یہ بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ بری تدبیر کرنے والے کی تدبیر چل جاتی ہے اور جس کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کو نقصان پہنچ جاتا ہے اس کا ایک جواب تو خلاصہ تفسیر میں آ گیا ہے کہ اس کو جو تکلیف یا نقصان پہنچا وہ تو دنیا کا نقصان ہے، اور ایسی بری تدبیر کرنے والے کا نقصان آخرت کا عذاب ہے، جو…
Read the full tafseer →آیت 43
یہ رسول سے ان کی بیزاری کا سبب بیان ہوا ہے کہ اس کا سبب صرف استکبار ہے۔ حق ان پر اچھی طرح واضح ہے لیکن ملک میں جو قیادت و سیادت ان کو حاصل ہے اس کو یہ کسی قیمت پر قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس وجہ سے اس صریح حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اگر انہوں نے محمد ﷺ کی رسالت تسلیم کرلی تو ان کی سیادت ختم ہوجائے گی۔
’ ومکرا السی ‘ کا عطف ’ نفورا ‘ پر ہے۔ یعنی جس رسول کی ہدایت کے علمبردار بننے کے مدعی تھے جب وہ آیاتو اس کے دشمن بن کے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو زک پہنچانے کے لئے اس کے خلاف مکروہ سازشوں میں سرگرم ہوگئے۔ لفظ ’ مکر ‘ چونکہ اچھے معنوں میں بھی آتا ہے اس وجہ سے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 1 یعنی آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی بجائے، انکار و مخالفت کا راستہ محض استکبار اور سرکشی کی وجہ سے اختیار کیا۔
43۔ 2 اور بری تدبیر یعنی حیلہ، دھوکا اور عمل قبیح کی وجہ سے کیا۔
43۔ 3 یعنی لوگ مکر و حیلہ کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بری تدبیر کا انجام برا ہی ہوتا ہے اور اس کا وبال بالآخر مکر و حیلہ کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے۔
43۔ 4 یعنی کیا یہ اپنے کفر و شرک، رسول ﷺ کی مخالفت اور مومنوں کو ایذائیں پہنچانے پر مصر رہ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی اس طرح ہلاک کیا جائے جس طرح پچھلی قومیں ہلاکت سے دو چار ہوئیں۔
43۔ 5 بلکہ یہ اسی طرح جاری ہے اور ہر مکذب (جھٹلانے والے) کا مقدر ہلاکت ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
13: بدنیتی سے کسی کے خلاف جو ناحق تدبیریں کی جاتی ہیں، اکثر تو دنیا ہی میں وہ الٹی پڑجاتی ہیں، اور ان کا نقصان خود تدبیر کرنے والے کو اٹھانا پڑتا ہے، چنانچہ کافروں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف جو چالیں چلی تھیں، وہ آخر کار انہی کے خلاف پڑیں، اور اگر کبھی دنیا میں نقصان اٹھانا نہ پڑے تو ان بری تدبیروں کا عذاب آخرت میں تو ہوتا ہی ہے جو دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
چوتھا سفر اہل مکہ اور اس کے اردگرد کے مشرکین کے احوال کا ہے۔ ان لوگوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر اللہ ان میں رسول بھیج دے اور اسے کتاب دے دے تو وہ ایمان لائیں گے۔ پھر انہوں نے نقص عہد کیا اور فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی۔
واقسموا باللہ۔۔۔۔ لسنت اللہ تحویلا (42 – 43) ” “۔
اہل عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جزیرۃ العرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کو ایک کتاب دیدی گئی ہے اور وہ دیکھتے تھے کہ یہ یہودی اپنے دین سے منحرف ہوگئے ہیں اور بےعمل ہیں۔ عرب ان کی تاریخ بھی پڑھتے تھے کہ انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
3 عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود وغیرہ دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی یوں نافرمانی کی تو کہتے کہ کبھی ہم میں ایک نبی آئے تو ہم ان قوموں سے بہتر نبی کی اطاعت ورفاقت کر کے دکھلائیں۔ جب اللہ نے نبی بھیجا جو سب نبیوں سے عظمت شان میں بڑھ کر ہے تو حق سے اور زیادہ بدکنے لگے۔ ان کا غرور تکبر کہاں اجازت دیتا کہ نبی کے سامنے گردن جھکائیں۔ رفاقت اور اطاعت اختیار کرنے کے بجائے عداوت پر کمر بستہ ہوگئے اور طرح طرح کی مکرو تدبیریں اور داؤ گھات شروع کردیے مگر یاد رہے کہ برا داؤ خود داؤ کرنے والوں پر الٹے گا۔ گو چند روز عارضی طور پر اپنے دل میں خوش ہو لیں کہ ہم نے تدبیریں کر کے یوں نقصان پہنچا دیا، لیکن انجام کار…
Read the full tafseer →آیت 43{ نِ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَ السَّیِّیِٔ } ”زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور ُ بری چالیں چلتے ہوئے۔“
انہوں نے حضور ﷺ کے خلاف متکبرانہ رویہ بھی اختیار کیا اور آپ ﷺ کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں بھی کیں۔
{ وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ } ”اور ُ بری چال کا وبال نہیں پڑتا مگر اس کے چلنے والے پر ہی۔“
{ فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ } ”تو وہ کس چیز کے انتظار میں ہیں سوائے پہلے والوں کے انجام کے !“
”سُنّتُ الاَوّلیْن“ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق پچھلی نافرمان قومیں ہلاک ہوئیں۔ گویا اب یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ قانونِ…
Read the full tafseer →49 یعنی ان چودھریوں اور سرداروں کا اپنے نبی کی مخالفت کرنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پہلے بھی سرکش اور نافرمان قومیں یہی کچھ کرتی رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ بھی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ ایسے باغیوں کو سر کچلتا رہا۔ اور اپنے انبیاء کی اور اس پر ایمان لانے والوں کی سرپرستی کرتا اور ان کی مدد کرکے ان ظالموں سے نجات دلاتا رہا ہے۔ اور اللہ کا یہ ایسا طریقہ ہے جس میں تخلف یا تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ گویا اس آیت میں معاندین حق کے لئے یہ دھمکی اور پیشین گوئی تھی کہ اگر تم نے اپنا یہ معاندانہ رویہ نہ بدلا تو تمہیں بھی ایسے برے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جس سے سابقہ اقوام دوچار ہوچکی ہیں۔
50 اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
56۔ یہ کہنے والے مشرکین قریش تھے یہ لوگ قبل بعثت نبوی زور دے دے کر کہا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں اس کثرت سے نبی آئے اور ان لوگوں نے انکی قدر نہ کی۔ ہماری قوم میں اگر کوئی نبی آئے تو ہم البتہ اس کی پوری قدر کرکے دکھادیں۔ پھر جب آپ ﷺ آئے تو جیسی قدر کی ظاہر ہے۔ (آیت) ” مازادھم الا نفورا استکبارا “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں وہی مذکور ہے جو صوفیہ کہا کرتے ہیں کہ جس کی استعداد فاسد ہے اس کا مرض اور ادواشغال سے اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے کو بزرگوں میں شمار کرنے لگتا ہے۔
57۔ (اور وہ دستور یہ ہے کہ وقت مقرر پر سزا وہلاکت آئے) (آیت) ” سنت الاولین “۔ وہ ماجرا جو ساری اگلی سرکش ونافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
آیت نمبر 38 تا 45
ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…
Read the full tafseer →استکبار فی الارض ومکرا لسیئ . دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور بری تدبیر کی وجہ سے۔
یعنی برے عمل کی وجہ سے۔ کلبی نے کہا : مَکْرَ السَّیِّیءِسے مراد ہے سب کا شرک پر اتفاق کرلینا۔ میں کہتا ہوں : ان کا برا فریب یہ تھا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قید یا قتل کردینا یا وطن سے نکال دینا چاہا تھا اور اس تدبیر پر سب کا اتفاق رائے ہوگیا تھا۔
ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ . اور بری تدبیروں کا وبال تدبیر والوں پر ہی پڑتا ہے۔ چناچہ بدر کے دن بری تدبیر کا وبال تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑا (کچھ) مارے گئے (کچھ گرفتار کئے گئے) ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : شرک کا برا نتیجہ مشرکوں پر ہی پڑتا ہے ‘ یعنی شرک…
Read the full tafseer →بلکہ رسول اکرم کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کی بری تدبیروں کو ترقی ہوتی رہی کیونکہ میری تدبیروں اور برے کاموں کا اصلی وبال ان تدبیروں والوں ہی پر پڑتا ہے سو اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو یہ اسی عذاب کے منتظر ہیں جو رسولوں کی تکذیب کرنے پر اگلے لوگوں پر نازل ہوتا رہا اور آپ عذاب الہی کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے اور اسی طرح آپ عذاب الہی کو کبھی دوسروں کی طرف منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
Read the full tafseer →اسْـتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَمَكْرَ السَّــﮧ ۭ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّ : یعنی ان کی رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور ہدایت سے بدکنے اور دور بھاگنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا سمجھتے تھے، بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ زمین پر رہ کر، جو اللہ تعالیٰ کی کائنات میں پستی کی انتہا ہے، اونچے اور بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے، جو پیغمبر کی اطاعت قبول کرنے کی صورت میں ممکن نہ تھا، کیونکہ اس وقت انھیں اپنی مرضی چھوڑ کر اللہ کے حکم کے تابع ہونا پڑتا تھا، جو انھیں منظور نہ تھا۔
وَمَكْرَ السَّــی : اور حق سے زیادہ دور ہونے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے صدق و امانت کو…
Read the full tafseer →آیت : و مکر السیء برے عمل کا مکر۔ اس سے مراد کفر اور کمزور لوگوں کو دھوکہ دینا ہے اور ان کا ایمان سے لوگوں کو رو کنا ہے تاکہ ان کے پیرو کار زیادہ ہوں۔ امت کے مونث ہونے کی وجہ سے من احدی الا مم کو مونث ذکر کیا ؛ یہ اخفش کا قول ہے۔ حمزہ اور اخفش نے و مکر السی ولا یحیق المکر السیء پڑھا یعنی پہلے مکر سے اعراب کو حذف کیا اور دوسرے میں اسے ثابت رکھا۔ زجاج نے کہا : یہ لحن ہے، یہ لحن اس لیے ہوا کیونکہ اس سے اعراب کو حذف کیا گیا ہے۔ مبرد نے گمان کیا ہے : یہ انداز کلام اور شعر میں جائز نہیں کیونکہ اعراب کی حرکات کو حذف کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرکات معانی میں فرق کرنے کے لیے داخل ہوئیں۔ بعض نحویوں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
6:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل ینظرون الا سنت الاولین “ سے مراد ہے کیا یہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کو ایسا عذاب دیا جائے گا جیسے پہلے لوگوں یعنی کافروں کو عذاب پہنچا۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان اللہ لیعجزہ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کم نہیں پائے گی۔
Read the full tafseer →اسْـتِكْبَارًا [بڑا بننے کے لئے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَمَكْرَ السَّــﮧ ۭ [اور برائی کی تدبیر کے لئے ] وَلَا يَحِيْقُ [اور گھیرے میں نہیں لیتی ] الْمَكْرُ السَّيِّئُ [بری تدبیر (کسی کو)] اِلَّا بِاَهْلِهٖ ۭ [سوائے اپنے لوگوں کے ] فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ [تو یہ لوگ (اب) کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ ۚ [سوائے اگلوں کے دستور کے ] فَلَنْ تَجِدَ [تو آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُنَّتِ اللّٰهِ [اللہ کی سنت میں ] تَبْدِيْلًا ڬ [کچھ تبدیل کرنا ] وَلَنْ تَجِدَ [اور آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُنَّتِ اللّٰهِ [اللہ کی سنت میں ] تَحْوِيْلًا [کوئی تغیر لانا ] ۔
نوٹ۔ 1: وَلَا…
Read the full tafseer →قریش مکہ نے قسم کھا کر کہا کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آگیا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے، پھر جب ڈرانے والا آگیا تو متکبر بن گئے اور حق سے منحرف ہوگئے
قریش مکہ مشرک تھے، تجارت کے لیے شام جایا کرتے تھے وہاں نصاریٰ کی حکومت تھی اور یہودیوں کا بھی انہیں کچھ علم تھا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ان دونوں قوموں نے اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے تو کہنے لگے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو ان کے پاس اللہ کے رسول آئے تو انہیں جھٹلا دیا ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آگیا تو ان لوگوں سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں گے، یہ بات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کہی تھی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تشنیع و تقریع برکفر ومکر
قال اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ مشرکین کفروشرک کی وجہ سے بھی قہر الٰہی کے مستحق ہیں لیکن اللہ کے حلم سے بچے ہوئے ہیں اب آئندہ آیات میں ان کے مکروفریب اور ان کی بدعہدی کو بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ بدعہدی کی وجہ سے مستحق قہرو غضب ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرکین عرب آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی تاکید کے ساتھ قسمیں کھایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے مجھے اگر خدا کی طرف سے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آتا تو ہم ہدایت اختیار کرنے میں پہلی امتوں سے بڑھ کر ہوتے یعنی یہودونصاری کی طرح تکذیب نہ کرے…
Read the full tafseer →43:۔ فھل ینظرون الخ : کیا یہ ہمارے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلے زمانے کے کافروں پر نازل ہوا تو اگر یہ تکذیب و انکار پر قائم رہے تو ہمارا عذاب ان پر ضرور آئے گا۔ کیونکہ ہماری سنت جاریہ بدل نہیں سکتی۔ بین ان سنتہ التیھی الانقام من مکذبی الرسل سنۃ لا یبدلہا فی ذا تھا ولا یحولہا عن اوقاتہا وان ذلک مفعول لا محالۃ (مدارک ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے کچھ عقلی دلائل پیش کیے تھے اور شرک کی تردید فرمائی تھی۔ فرمایا وہ اللہ کی ذات ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ تھام رکھا ہے اور اگر وہ ان دونوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو کوئی دوسرا ان کو تھامنے والا نہیں اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے ، وہ انسانوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے مگر لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید سرکشی اختیار کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت مقررہ پر اللہ کی گرفت آجاتی ہے اور نافرمانوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
اب آج کی پہلی آیت میں مشرکین مکہ کے…
Read the full tafseer →اسْـتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ 0 ۭ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ 0 ۭ فَہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ 0 ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِيْلًا 0ۥۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَحْوِيْلًا 43
الاسْتِكْبارُ
والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة .
والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين :
أحدهما :
أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ترکیب : استکبار مفعولا لہ وکذا مکرالسّیئِ ای لاجل الاستکبار ولا جل مکر العمل السیء وقولہ تعالیٰ مازادھم جواب لما وقیل مکرالسیء اصلہ ان مکرو المکرالسیّئِ فحذف الموصوف ای المکر استغنائً بوصفہ ای السیء ثم بدل ان مع الفصل بالمصدر ثم اضیف بیضاوی۔
تفسیر : توحید کے بعد انکار رسالت کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہاں تو یوں کہیں گے اور یہاں توحید میں بھی ناقص ہیں اور رسالت کے اس درجہ منکر ہیں، فقال و اقسموا باللہ جہد ایمانہم الخ ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ ہم میں سے کسی نبی کو بھیجے گا تو ہم اس کی اور اس کی کتاب کی ایسی اطاعت اور پابندی کریں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ج فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلاَّ نُفُوْرَانِ ۔ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَالسَّیِّیِٔ ط وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِیُٔ اِلاَّ بِاَھْلِہٖ ط فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ ج فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً 5 ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلاً ۔ (فاطر : 42، 43)
(اور انھوں نے اللہ کی کڑی کڑی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے، پس جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : اے پیغمبر ﷺ ! آج جو لوگ آپ کی دعوت اور ذات کی مخالفت کرتے ہیں ان کی حالت یہ تھی کہ آپ کی بعثت کے انتظار میں ایک دوسرے کے سامنے قسمیں اٹھایا کرتے اور کہتے تھے کہ ہم مبعوث ہونے والے نبی پر ضرور ایمان لائیں گے۔
مکہ اور سرزمین حجاز میں مدت مدید تک کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہاں کے باسیوں کو اہل کتاب جہالت اور گمراہی کے طعنہ دیتے تھے جس کے جواب میں اہل مکہ قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے کہ جب ہم میں کوئی نبی مبعوث ہوگا تو ہم اس کی دعوت ضرور قبول کریں گے اور تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں حضرت محمد ﷺ کو رسول منتخب فرمایا اور آپ نے اپنی دعوت…
Read the full tafseer →43: اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ (دنیا میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے) وَمَکْرَ السَّیِّی ئِ (اور بری تدبیروں کی وجہ سے)
نحو : استکبارًا اور مکرالسیٔ یہ دونوں مفعول لہ ہیں۔ معنی یہ ہوگا : وما زادھم الا نفورًا للاستکبار ومکر السییٔ۔ (ان کی نفرت میں اضافہ ہوا اپنے کو بڑا سمجھنے اور بری تدبیروں کی وجہ سے) نمبر 2۔ حال ہیں۔ یعنی وہ اپنے کو بڑا سمجھنے والے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف تدابیر کرنے والے ہیں۔ ومکرالسئی کی اصل واِنْ مکروا السئی ہے یعنی المکر السّیّیُٔ پھر یہ ومکرًا السَّیّیُٔ ہوا پھر ومکر السیئی بن گیا۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے ولا یحیق المکْرالسئیُ ہے۔
برائی کا وبال ہونے پر :
وَلَا…
Read the full tafseer →43، استکبارا فی الارض ، منصوب ہے بدل ہونے کی وجہ سے۔ ، ومکر السییء ، اس سے مراد براعمل ہے ۔ کلبی کا بیان ہے کہ، مکر السییئ، سے مراد یہ ہے کہ سب کا شرک پر اتفاق کرلینا اور نبی کریم ﷺ کا قتل کردینا ۔ حمزہ نے ، مکرالسییئ، ہمزہ کے ساکن کے ساتھ ، یہ اعمش کی قرأت ہے۔ ، ولا یحیق المکرالسییء الا باھلہ، بری مدبیر شرک کا وبال انہی پر لوٹ کر پڑتا ہے۔ ، فھل ینظرون ، کیا وہ اس کے منتظر ہیں ؟ ، الا سنۃ الا والین ، یہ ضابطہ الٰہیہ ہے کہ جب کا فر کفر پر جمع رہے تو اللہ نے ان کو بیخ وبن سے اکھاڑدیا۔ ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 43۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے پہلے سے یہود ونصاریٰ کو اہل کتاب دیکھ کر حرص کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری قوم میں اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نبی کر کے بھیجے تو ہم خوب راہ راست پر آئیں اور اللہ کے رسول کی پوری فرما نبرداری کریں جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے اور قریش نے آپ سے طرح طرح کی مخالفت کرنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے قریش کے قائل کرنے کو اس مضمون کی چند آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ قوم عرب میں اللہ کے رسول کے آنے کی آرزو کرتے تھے اور اللہ سے وعدہ کرتے تھے کہ اللہ کا رسول ان کی قوم میں اگر پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42
اے اللہ کے رسول ! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ (لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم) ” اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ “ یعنی وہ یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انہوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا (فلما جآء ھم نذیر) ” چناچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آگیا “ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ( ْازادھم) ” نہیں زیادہ کیا ان کو “ اس گمراہی نے (الا نفوراً ) ” مگر نفرت ہی میں “ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھ داری کی عمر
قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
94 استکبار باعث خسارہ و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ استکبار انسان کی محرومی کا ایک اہم اور بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہی ہے وہ اہم اور بنیادی وجہ جو ہمیشہ ایسے لوگوں کے لئے حق کے انکار اور اس سے محرومی کا باعث بنی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ پس استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ خرابی و فساد اور خسارئہ محرومی کی اصل وجہ اور جڑ بنیاد ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ کلمہ حق سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور حق بات انکے دلوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ تو پھر وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز ہوں تو کس طرح اور کیونکر ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
95 حق کیخلاف بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45:
اسرار و معارف :
یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی یہ اگر اپنی روش نہ بدلیں گے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے جائیں گے تو پچھلے کافروں کی طرح ان پر عذاب نازل ہو کر رہے گا۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ یہ اس کی پکڑ سے محفوظ رہیں۔
Read the full tafseer →(35: 43) استکبارا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ مفعول لہ ہے ای لا جل الاستکبار اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے۔
(2) یہ حال ہے ای مستکبرین۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ۔ درآں حالیکہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے (3) یہ نفورا کا بدل ہے
(4) یہ نفورا پر عطف ہے یعنی فلما جاء ہم نذیر ما زادہم الا نفورا وما زادہم الا استکبارا فی الارض وما زادوا الا مکر السیء یعنی جب وہ نذیر تشریف لایا تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی بجائے وہ اس سے نفرت کرنے لگے اس کی آمد کے بعد ان کے غرور اور سرکشی میں اضافہ ہوتا گیا اور انہوں نے اس کے خلاف بڑھ چڑھ کر گھنائونی سازشیں شروع کردیں۔ (ضیاء القرآن) ۔
ومکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد (آگے بڑھ گیا) ایمان ( یمن) (قسمیں) اھدی (زیادہ ہدایت والا) السیی ( برائی ، گناہ) لا یحیق ( نہیں گھبرا تا ہے) عاقبۃ ( انجام) یو اخذ ( وہ پکڑتا ہے) اجل ( مدت) بصیر (بہت دیکھنے والا)
تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں اپنی عملی برتری کا اظہار کرنے کے لئے کفار عرب کو طعنے دیتے تھے کہ تم گمراہ ہو اور تمہاری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ تمہارے اندر تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا اور نہ تمہیں کوئی کتاب ہدایت دی گئی ہے۔
وہ کہتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلو تمہاری نجات اسی میں ہے کیونکہ ہم…
Read the full tafseer →نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ روسا قریش نے سنا کہ اہل کتاب نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ کیسے دو گروہ ہیں کہ اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں قسم خدا کی اگر کوئی پیغمبر ہمارے پاس آتا تو ہم ان سے زیادہ راہ پائے ہوئے ہوتے اور اللہ کے رسول کی پوری فرمانبرداری کرتے، جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ سے طرح طرح کی مخالفت کرنی چروع کی تو اللہ نے قریش کے قائل کرنے کو اس مضمون کی چند آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ قوم عرب میں اللہ کے رسول کے آنے کی آرزو کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری کی تو اللہ کے رسول سے انہوں نے مخالفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
[19] مشرکین عرب جب یہ سنتے کہ یہود وغیرہ دوسری قوموں نے اپنے پیغمبروں کی نافرمانی کی تو کہتے کہ ہم میں پیغمبر آئے تو ہم ان قوموں سے بڑھ کر پیغمبر کی اطاعت ورفاقت کر کے دکھلائینگے۔ جب اللہ نے پیغمبر بھیجا تو حق سے اور زیادہ بدکنے لگے۔ ان کا غرور وتکبر کہاں اجازت دیتا کہ پیغمبر کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اطاعت ورفاقت اختیار کرنے کے بجائے عداوت پر کمربستہ ہوگئے اور پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے مکروہ داؤ گھات شروع کر دئیے۔
[20] تبدیلی یہ کہ مجرموں کو بجائے سزا کے انعام و اکرام ملنے لگے اور منتقلی یہ کہ مثلاً عذاب بجائے مجرموں کے کسی اور پر ہونے لگے۔
Read the full tafseer →ف 2: وہ سب سے بڑا گناہ جس کی وجہ سے ان پر آسمان کو گرپڑنا چاہیے ۔ اور زمین کو پھٹ جانا چاہیے ۔ یہ ہے کہ انہوں نے باوجود عہد ومواثیق کیا للہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی تذلیل کی ۔ اور اپنے طرز عمل سے سخت نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا ۔ حالانکہ کہتے یہ تھے ۔ کہ اگر ہمارے پاس کوئی نذیر آیا ۔ تو اس کا بڑھ کر خیرمقدم کریں گے ۔ اور تمام لوگوں سے زیادہ ہدایت حاصل کرینگے پھر صرف محرومی اور انکار پر بس نہیں کی ۔ کہ یہ ان کی شقاوت کے لئے کافی تھا ۔ بلکہ ازراہ کبر و غرور اس نوع کی مساعی بھی اختیار کیں جن سے حضور کو نقصان پہنچے ۔ اور اسلام کا علم سرنگوں ہوجائے ۔ فرمایا یہ لوگ اپنے ارادوں میں…
Read the full tafseer →(43) وہ یہ کہ ملک میں مزید غرور اور سرکشی اور بری بری تدبیریں کرنے لگے حالانکہ بری تدبیر اور بری چال پلٹ کر اس چال چلنے والی کو گھیر لیا کرتی ہے۔ سو کیا یہ کافر اسی طریقے اور دستور کے منتظر ہیں اور اسی آئین عقوبت کی راہ دیکھ رہے ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ وہی برتائو ان کفار قریش کے ساتھ بھی ہوگا کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے اس دستور کو کبھی بدلتا نہیں پائیں گے اور آپ اس کے آئین میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں پائیں گے اور آپ ہرگز اللہ تعالیٰ کے دستور کو پھرتا اور منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ کفار جب اہل کتاب کی بےراہ روی دیکھتے اور ان کے مظالم اور…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی تکبر کی وجہ سے آپ کے اتباع سے عار تو ہوئی ہی تھی مگر یہ بھی نہ کیا کہ نہ اتباع ہوتا اور نہ درپے ایذاء ہوتے، بلکہ آپ کی ایذاء رسانی کی فکر میں لگ گئے۔ چناچہ ہر وقت ان کا اسی میں لگا رہنا معلوم و مشہور ہے۔
9۔ یعنی سزا و اہلاک۔
01۔ مطلب یہ کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کافروں کو عذاب ہوگا خواہ دنیا میں بھی خواہ صرف آخرت میں بھی، اور حق تعالیٰ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے، پس نہ یہ احتمال ہے کہ ان کو عذاب نہ ہو، نہ یہ احتمال ہے کہ دوسروں کو ہونے لگے، مقصود اس تکریر سے تاکید ہے وقوع عذاب کی۔
Read the full tafseer →نفرت کا سبب کیا ہوا ؟ فرمایا زمین میں سرکشی اور خفیہ بدبیروں کی برائی
43 ۔ ہمارے مفسرین نے زیر نظر آیت کا مفہوم گزشتہ آیت سے جو رنے میں بہت مغزماری کی اور اپنے اپنے علم کا زور دکھایا حالانکہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں تھی جس کے لئے اتنا زور خرچ کیا گیا اور علم کی بوریاں اور خرجیاں اس جگہ خالی کردی گئیں بات بالکل آسان اور صاف ہے کہ گزشتہ آیت میں سوال اٹھایا تھا کہ ان کو اتنی نفرت آخر کیوں ہوئی ؟ اور اس آیت میں جواب دیا گیا کہ ان کو نفرت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اس سرزمین میں اپنے آپ کو نبی اعظم وآخر ﷺ سے بڑا سمجھا اور ہم چوما دیگرے نیست کی نظر بد نے ان کی مت ماردی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
Commentary
The word: لَا يَحِيقُ (la yahiq) in verse 43: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (And the evil plot envelops none but its own people ( who make it) carries the sense of: لَا یُحِیطُ (la yuhit: does not surround) or: لَا یُصیبُ (la usib: does not afflict). Thus, it comes to mean that the curse of making an evil plan falls on none but the one who makes it. In other words, a person who wishes evil for others, he himself falls a victim to it.
A doubt may arise at this point. It is commonly seen in this worldly life that someone with an evil plan gets away with it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
72 That is, this Law of Allah that the nation which repudiates its Prophet, is destroyed should be applied in their case as well.
Read the full tafseer →