Explained with ayahs 42–43
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم۔
قریش نے اور عرب نے حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول ﷺ ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، یعنی اس لئے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہوجاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 71
یہ بات نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے لوگ عموماً اور قریش کے لوگ خصوصاً یہود و نصاریٰ کی بگڑی ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ ان کے اس قول کا ذکر اس سے پہلے سورة انعام (آیت 156۔ 157) میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سورة صافّات (167 تا 169) میں بھی آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ان کفار (قریش) نے (قبل بعثت رسول اکرم ﷺ ، بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے (یعنی ہمارے) پاس کوئی ڈرانے والا (یعنی پیغمبر) آئے تو وہ (یعنی ہم) ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں (یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ کی طرح ہم تکذیب نہ کریں گے سو پہلے سے تو یہ قسمیں کھایا کرتے تھے) پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر (یعنی رسول اللہ ﷺ آپہنچے تو اب ان کی نفرت ہی کو ترقی ہوئی دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور (صرف نصرت ہی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ) ان کی بری تدبیروں کو (بھی ترقی ہوئی، یعنی تکبر کی وجہ سے آپ کے اتباع سے عار تو ہوئی ہی تھی، مگر یہ بھی نہ کیا کہ نہ اتباع ہوتا اور نہ…
Read the full tafseer →آیت 42
اہل ِ عرب چونکہ امی یعنی کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس وجہ سے اہل کتاب بالخصوص یہود ان کو حقیر خیال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے علماء نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ ان امیوں کی امانت ہڑپ کر جانے اور ان سے سود لینے میں ان کے لئے کوئی قباحت نہیں ہے۔ آیت ’ لیس علینا فے الامیین سبیل ‘ کے تحت ہم ان خانہ زاد فتوئوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ مشرکین جب یہود کی اس طرح کی باتیں سنتے تو فطری طور پر ان کے اندر ایک قسم کا احساسِ کمتری پیدا ہوتا اور وہ ان کے جواب میں قسمیں کھا کے، بڑے طنطنہ کے ساتھ، یہ کہتے کہ اگر ہمارے اندر کسی رسول کی بعثت ہوئی تو ہم دوسرے تمام قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ قوم بن کے دکھا دیں…
Read the full tafseer →42۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ بعث محمدی سے قبل یہ مشرکین عرب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا، تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔ یہ مضمون دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ 156ۙ اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ…
Read the full tafseer →12: حضور اقدس ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے کفار قریش نے غالباً یہودیوں اور عیسائیوں سے بحث کرتے ہوئے بڑی جوشیلی قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر آیا تو ہم اور ساری امتوں سے زیادہ اس کی ہدایت پر عمل کریں گے، لیکن جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو وہ آپ کی بات ماننے سے مکر گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
چوتھا سفر اہل مکہ اور اس کے اردگرد کے مشرکین کے احوال کا ہے۔ ان لوگوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر اللہ ان میں رسول بھیج دے اور اسے کتاب دے دے تو وہ ایمان لائیں گے۔ پھر انہوں نے نقص عہد کیا اور فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی۔
واقسموا باللہ۔۔۔۔ لسنت اللہ تحویلا (42 – 43) ” “۔
اہل عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جزیرۃ العرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کو ایک کتاب دیدی گئی ہے اور وہ دیکھتے تھے کہ یہ یہودی اپنے دین سے منحرف ہوگئے ہیں اور بےعمل ہیں۔ عرب ان کی تاریخ بھی پڑھتے تھے کہ انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
3 عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود وغیرہ دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی یوں نافرمانی کی تو کہتے کہ کبھی ہم میں ایک نبی آئے تو ہم ان قوموں سے بہتر نبی کی اطاعت ورفاقت کر کے دکھلائیں۔ جب اللہ نے نبی بھیجا جو سب نبیوں سے عظمت شان میں بڑھ کر ہے تو حق سے اور زیادہ بدکنے لگے۔ ان کا غرور تکبر کہاں اجازت دیتا کہ نبی کے سامنے گردن جھکائیں۔ رفاقت اور اطاعت اختیار کرنے کے بجائے عداوت پر کمر بستہ ہوگئے اور طرح طرح کی مکرو تدبیریں اور داؤ گھات شروع کردیے مگر یاد رہے کہ برا داؤ خود داؤ کرنے والوں پر الٹے گا۔ گو چند روز عارضی طور پر اپنے دل میں خوش ہو لیں کہ ہم نے تدبیریں کر کے یوں نقصان پہنچا دیا، لیکن انجام کار…
Read the full tafseer →آیت 42{ وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ہُمْ نَذِیْـرٌ لَّـیَکُوْنُنَّ اَہْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ } ”اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر۔“
{ فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرَا } ”پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس چیز نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔“
جب محمد عربی ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے انہیں دعوت دینا شروع کی تو وہ آپ ﷺ کی دعوت سے بدکنے اور دور بھاگنے لگے۔
Read the full tafseer →48 مشرکین مکہ کا یہ قول کہ اگر نبی ہم میں آتا تو ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے :۔ آپ کی بعثت سے پہلے کفار مکہ جب یہود و نصاریٰ کی بگڑی ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھتے تھے تو ان سے بڑھ چڑھ کر باتیں بناتے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آیا ہوتا جو ہماری رہنمائی کرتا تو ہم یقینا ً ہر لحاظ سے تم سے بہتر ہوتے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنا نبی مبعوث فرما دیا اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب انہیں اپنی اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں سے دستبردار ہو کر اس نبی کا مطیع فرمان بن کر رہنا پڑے گا تو اکڑ بیٹھے۔ انہیں یہود و نصاریٰ کے سامنے کئے ہوئے قول وقرار بھول بھلا گئے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
56۔ یہ کہنے والے مشرکین قریش تھے یہ لوگ قبل بعثت نبوی زور دے دے کر کہا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں اس کثرت سے نبی آئے اور ان لوگوں نے انکی قدر نہ کی۔ ہماری قوم میں اگر کوئی نبی آئے تو ہم البتہ اس کی پوری قدر کرکے دکھادیں۔ پھر جب آپ ﷺ آئے تو جیسی قدر کی ظاہر ہے۔ (آیت) ” مازادھم الا نفورا استکبارا “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں وہی مذکور ہے جو صوفیہ کہا کرتے ہیں کہ جس کی استعداد فاسد ہے اس کا مرض اور ادواشغال سے اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے کو بزرگوں میں شمار کرنے لگتا ہے۔
57۔ (اور وہ دستور یہ ہے کہ وقت مقرر پر سزا وہلاکت آئے) (آیت) ” سنت الاولین “۔ وہ ماجرا جو ساری اگلی سرکش ونافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
آیت نمبر 38 تا 45
ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…
Read the full tafseer →واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جاء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم . اور انہوں
نے اللہ کی پکی قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانیوالا (یعنی پیغمبر) آئے گا تو وہ ہر امت سے زیادہ قبول کرنے والے ہوں گے۔
اَیْمَان قسمیں۔ جَھْدَ اَیْمَان زور دار پکی قسمیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش کو اطلاع ملی تھی کہ اہل کتاب نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ اس پر انہوں نے کہا : یہودیوں اور عیسائیوں پر خدا کی لعنت ‘ ان کے پاس ان کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا ‘ پھر انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ اگر ہمارے پاس کئی پیغمبر (ہماری ہدایت کیلئے) آیا تو گذشتہ امتوں…
Read the full tafseer →اور ان کفار مکہ نے رسول اکرم کی بعثت سے پہلے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر آیا تو ہم یہود و نصاری سے زائد ہدایت قبول کرنے والے اور دین کی طرف سبقت کرنے والے ہوں گے۔
چناچہ جب ان کے پاس رسول اکرم قرآن حکیم لے کر آئے تو یہ رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان لانے سے منہ پھیر کر دور ہی بھاگتے رہے۔
شان نزول : وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ (الخ)
اور ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے روایت کیا ہے کہ قریش کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم میں نبی بھیج دے تو کوئی قوم ہم سے زیادہ اپنے خالق کی پیروی کرنے والی اور ہم سے زیادہ اپنے نبی کی بات پر لبیک کہنے والی…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ۔۔ : مشرکین کے کفر اور ناشکری کا اظہار شرک کی صورت میں بھی ہوتا تھا اور پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں بھی، چناچہ شرک کی تردید کے بعد پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں ان کی ناشکری کا ذکر فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مشرکین مکہ کی سفر کے دوران میں عرب کے دوسرے شہروں مثلاً یثرب اور خیبر وغیرہ میں یا دوسرے ملکوں مثلاً شام وغیرہ میں اہل کتاب سے ملاقات ہوتی تو وہ ان کی بت پرستی اور دوسری جہالتوں پر طعن کرتے، تو یہ اس کے جواب میں کہتے کہ تم لوگوں کے پاس تو اللہ کے رسول اور اس کی کتابیں آئیں، اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر آیا تو ہم کسی بھی امت سے زیادہ…
Read the full tafseer →آیت : و اقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جائھم نذیر قسم اٹھانے والوں سے مراد قریش ہیں (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 476) اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمائے قریش نے یہ قسم اٹھائی تھی جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ اہل کتاب نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا قریش نے ان پر لعنت کی جنہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا تھا اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائی تھی کہ اگر ان کے پاس نبی آیا۔
آیت : لیکونن اھدی من احدی الامم یعنی اہل کتاب میں سے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ وہ ان سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ عرب یہ آرزو کرتے تھے کہ کاش ان میں سے بھی کوئی رسول ہوتا جس طرح بنی اسرائیل میں سے رسول تھے۔ جب…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابو ہلال (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان نبی بھیج دیں امتوں میں سے کوئی امت ایسی نہیں ہوگی جو زیادہ اطاعت کرنے والی ہو اپنے خالق کے لئے اور اپنے نبی کی بات کو سننے والی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے والی نہ ہوگی (یعنی کتاب پر عمل کرنے والی نہیں ہوگی) تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ (آیت) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (الصافات آیت آیت 168) (اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کوئی کتاب ہوتی) (آیت) ” ولو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منہم “ (الانعام آیت 157) (اور اگر ہمارے اوپر کوئی کتاب اتاری جاتی ہم ان سے…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ [اور انھوں نے قسم کھائی اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے ] لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ [یقینا اگر آیا ان کے پاس ] نَذِيْرٌ [کوئی خبردار کرنے والا ] لَّيَكُوْنُنَّ [تو وہ لوگ لازما ہوں گے ] اَهْدٰى [زیادہ ہدایت والے ] مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ [امتوں کی کسی ایک سے (بھی)] فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ [پھر جب آیا ان کے پاس ] نَذِيْرٌ [ایک خبردار کرنے والا ] مَّا زَادَهُمْ [تو زیادہ نہیں کیا ان کو ] اِلَّا نُفُوْرَۨا [مگر بیزاریوں میں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
اس کے بعد اللہ جل شانہٗ کی قوت قاہرہ ایک اور طریقہ پر بیان فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے، ان کی جو جگہ مقرر ہے وہاں سے نہیں ٹل سکتے (اپنے محور ہی میں رہتے ہیں) اور اگر بالفرض اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ دیں تو اس کے علاوہ کوئی ان کو تھام نہیں سکتا، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اسی نے ان کی جگہ مقرر فرمائی ہے، کسی کو ان میں ذرا سے تصرف کا بھی اختیار نہیں ہے وہی ان کی حفاظت فرماتا ہے ہی ان کا مالک ہے، ان میں جو چیزیں ہیں وہ ان کا بھی خالق ومالک ہے پھر اس کے علاوہ دوسرا کوئی مستحق عبادت کیسے ہوسکتا ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (بےشک وہ حلیم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تشنیع و تقریع برکفر ومکر
قال اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ مشرکین کفروشرک کی وجہ سے بھی قہر الٰہی کے مستحق ہیں لیکن اللہ کے حلم سے بچے ہوئے ہیں اب آئندہ آیات میں ان کے مکروفریب اور ان کی بدعہدی کو بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ بدعہدی کی وجہ سے مستحق قہرو غضب ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرکین عرب آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی تاکید کے ساتھ قسمیں کھایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے مجھے اگر خدا کی طرف سے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آتا تو ہم ہدایت اختیار کرنے میں پہلی امتوں سے بڑھ کر ہوتے یعنی یہودونصاری کی طرح تکذیب نہ کرے…
Read the full tafseer →41:۔ واقسموا الخ : یہ زجر ہے مع تخویف دنیوی۔ آں حضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش کو معلوم ہوا کہ یہود اور نصاری میں پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلا دیا اور ان کا اتباع نہ کیا اس پر قریش یہود و نصاری کو ملامت کرتے تھے کہ خدا ان پر لعنت کرے انہوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلا دیا۔ خدا کی قسم اگر ہم میں اللہ کا رسول مبعوث ہو تو ہم ان جھٹلانے والی تمام امتوں سے زیادہ ہدایت کو قبول کرنے والے اور اپنے پیغمبر کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ قریش کی آرزو تھی کہ ان میں اللہ کا رسول مبعوث ہو اور وہ نہایت ہی پختہ قسمیں کھاتے کہ وہ رسول کی پیروی کریں گے۔ احدی الامم میں اضافت استغراقی ہے یعنی ہر امت سے اہدی ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے کچھ عقلی دلائل پیش کیے تھے اور شرک کی تردید فرمائی تھی۔ فرمایا وہ اللہ کی ذات ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ تھام رکھا ہے اور اگر وہ ان دونوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو کوئی دوسرا ان کو تھامنے والا نہیں اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے ، وہ انسانوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے مگر لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید سرکشی اختیار کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت مقررہ پر اللہ کی گرفت آجاتی ہے اور نافرمانوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
اب آج کی پہلی آیت میں مشرکین مکہ کے…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا بِاللہِ جَہْدَ اَيْمَانِہِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَہُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَہْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ 0 ۚ فَلَمَّا جَاۗءَہُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ
قْسَمَ ( حلف)
حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ترکیب : استکبار مفعولا لہ وکذا مکرالسّیئِ ای لاجل الاستکبار ولا جل مکر العمل السیء وقولہ تعالیٰ مازادھم جواب لما وقیل مکرالسیء اصلہ ان مکرو المکرالسیّئِ فحذف الموصوف ای المکر استغنائً بوصفہ ای السیء ثم بدل ان مع الفصل بالمصدر ثم اضیف بیضاوی۔
تفسیر : توحید کے بعد انکار رسالت کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہاں تو یوں کہیں گے اور یہاں توحید میں بھی ناقص ہیں اور رسالت کے اس درجہ منکر ہیں، فقال و اقسموا باللہ جہد ایمانہم الخ ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ ہم میں سے کسی نبی کو بھیجے گا تو ہم اس کی اور اس کی کتاب کی ایسی اطاعت اور پابندی کریں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ج فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلاَّ نُفُوْرَانِ ۔ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَالسَّیِّیِٔ ط وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِیُٔ اِلاَّ بِاَھْلِہٖ ط فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ ج فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً 5 ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلاً ۔ (فاطر : 42، 43)
(اور انھوں نے اللہ کی کڑی کڑی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے، پس جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : اے پیغمبر ﷺ ! آج جو لوگ آپ کی دعوت اور ذات کی مخالفت کرتے ہیں ان کی حالت یہ تھی کہ آپ کی بعثت کے انتظار میں ایک دوسرے کے سامنے قسمیں اٹھایا کرتے اور کہتے تھے کہ ہم مبعوث ہونے والے نبی پر ضرور ایمان لائیں گے۔
مکہ اور سرزمین حجاز میں مدت مدید تک کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہاں کے باسیوں کو اہل کتاب جہالت اور گمراہی کے طعنہ دیتے تھے جس کے جواب میں اہل مکہ قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے کہ جب ہم میں کوئی نبی مبعوث ہوگا تو ہم اس کی دعوت ضرور قبول کریں گے اور تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں حضرت محمد ﷺ کو رسول منتخب فرمایا اور آپ نے اپنی دعوت…
Read the full tafseer →آنے سے پہلے مانتے تھے اب ضد سے منکر ہوگئے :
42: وَاَقْسَمَوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ (اور ان کفار نے بڑی زور دارقسم کھائی تھی) جَھَدَ یہ نمبر 1۔ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اقسامًا بلیغًا نمبر 2۔ حال کی وجہ سے منصوب ہے ای جاھدین فی ایمانھم وہ اپنی قسموں میں زور لگانے والے ہیں۔
لَپنْ جَآ ئَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ (کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت) اِحْدَی الْاُمَمِ (قبول کرنے والے ہوں) ۔
رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش کو یہ اطلاع ملی کہ اہل کتاب نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ کہنے لگے یہود و نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ ان…
Read the full tafseer →42، واقسمواباللہ جھد ایمانھم ، اس سے مراد کفار مکہ ہیں ۔ ، ایمان ، قسمیں ۔ ، جھد ایمان ، زوردار پکی قسمیں ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعث سے پہلے قریش کو اطلاع ملی تھی کہ اہل کتاب نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ، اس پر انہوں نے کہا یہودیوں اور عیسائیوں پر خدا کی لعنت ، ان کے پاس ان کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا، پھر انہوں نے قسمیں کھاکرکہا کہ اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر (ہماری ہدایت کے لیے) آیا تو گزشتہ امتوں میں سے ہر امت سے زیادہ ہم اس کی ہدایت پر چلیں گے۔ کفار قریش نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے باہم ایک دوسرے کی تکذیب کی تھی ، یہودیوں۔ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 43۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے پہلے سے یہود ونصاریٰ کو اہل کتاب دیکھ کر حرص کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری قوم میں اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نبی کر کے بھیجے تو ہم خوب راہ راست پر آئیں اور اللہ کے رسول کی پوری فرما نبرداری کریں جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے اور قریش نے آپ سے طرح طرح کی مخالفت کرنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے قریش کے قائل کرنے کو اس مضمون کی چند آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ قوم عرب میں اللہ کے رسول کے آنے کی آرزو کرتے تھے اور اللہ سے وعدہ کرتے تھے کہ اللہ کا رسول ان کی قوم میں اگر پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42
اے اللہ کے رسول ! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ (لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم) ” اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ “ یعنی وہ یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انہوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا (فلما جآء ھم نذیر) ” چناچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آگیا “ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ( ْازادھم) ” نہیں زیادہ کیا ان کو “ اس گمراہی نے (الا نفوراً ) ” مگر نفرت ہی میں “ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھ داری کی عمر
قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…
Read the full tafseer →93 انسان کے کفران نعمت اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہلے تو یہ لوگ کڑی اور زوردار قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آجائے تو یہ ضرور بالضرور دوسری ہر امت سے بڑھ کر راست رو ہوں گے۔ لیکن جب ان کے پاس ایک عظیم الشان خبردار کرنے والا آگیا تو ان کی نفرت اور گریز و فرار ہی میں اضافہ ہوتا گیا۔ یعنی مشرکین مکہ پہلے تو رسول اور آسمانی وحی کی تمنائیں کیا کرتے تھے۔ مگر جب اللہ پاک نے ان کو اس نعمت سے سرفراز فرما دیا تو یہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ اور یہی حال اس انسان کفور کا ہمیشہ رہا کہ جب اس کو کوئی نعمت نہیں ملتی تو یہ رہ رہ کر اس کی تمنائیں کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45:
اسرار و معارف :
یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…
Read the full tafseer →ف 5 جس کی طرف اللہ نے کبھی اپنا کوئی پیغمبر بھیجا ہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” عرب کے لوگ جو سنتے یہود کی بےحکیماں اپنے نبی سے تو کہتے۔ ہم میں اگر نبی آوے تو ہم ان سے بہتر رفاقت کریں۔ سو منکروں نے اور عداوت کی “۔ اکثر مفسرین (رح) نے آیت کی یہ تفسیر بیان کی ہے۔ اور ( سورة صفافات : 137، 169) سے بھی اس کی تائید وضاحت ہوئی ہے۔ فرمایا (وان کانو لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ الخلصین) اور یہ قرآن اترنے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر پچھلوں کی کوئی کتاب ہمارے پاس ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوجاتے۔ مگر امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ تو رسالت اور حشر کے قائل ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(35:41) یمسک مضارع واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر۔ وہ روکتا ہے وہ تھامتا ہے۔ وہ روکے ہوئے ہے، وہ تھامے ہوئے ہے۔
ان تزولا۔ ان مصدریہ ہے تزولا مضارع تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر (باب نصر) کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہوجانا۔ اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ کہ وہ دونوں ( سموت والارض) اپنے مقام سے ہٹ جائیں۔ تزولا اصل میں تزولان تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لتزول منہ الجبال (14:46) کہ اس سے پہاڑ ہی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔
زالتا۔ ماضی تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر سے ان زالتا۔ اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ یا ہٹ جائیں یا ہٹنے لگیں۔
ان امسکھما۔ ان نافیہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد (آگے بڑھ گیا) ایمان ( یمن) (قسمیں) اھدی (زیادہ ہدایت والا) السیی ( برائی ، گناہ) لا یحیق ( نہیں گھبرا تا ہے) عاقبۃ ( انجام) یو اخذ ( وہ پکڑتا ہے) اجل ( مدت) بصیر (بہت دیکھنے والا)
تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں اپنی عملی برتری کا اظہار کرنے کے لئے کفار عرب کو طعنے دیتے تھے کہ تم گمراہ ہو اور تمہاری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ تمہارے اندر تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا اور نہ تمہیں کوئی کتاب ہدایت دی گئی ہے۔
وہ کہتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلو تمہاری نجات اسی میں ہے کیونکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
(ف 1) اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن انجام کا ذکر فرماکران آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس لیے اس نے اپنے علم کے موافق ابھی سے لوگوں خو قیامت کے انجام سے ہوشیار کردیا اور اس کو دلوں کا بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزاوسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام، یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر فرمایا کہ پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرکے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا، اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی بستیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہے کہ اللہ کی نافرمانی سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
[19] مشرکین عرب جب یہ سنتے کہ یہود وغیرہ دوسری قوموں نے اپنے پیغمبروں کی نافرمانی کی تو کہتے کہ ہم میں پیغمبر آئے تو ہم ان قوموں سے بڑھ کر پیغمبر کی اطاعت ورفاقت کر کے دکھلائینگے۔ جب اللہ نے پیغمبر بھیجا تو حق سے اور زیادہ بدکنے لگے۔ ان کا غرور وتکبر کہاں اجازت دیتا کہ پیغمبر کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اطاعت ورفاقت اختیار کرنے کے بجائے عداوت پر کمربستہ ہوگئے اور پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے مکروہ داؤ گھات شروع کر دئیے۔
[20] تبدیلی یہ کہ مجرموں کو بجائے سزا کے انعام و اکرام ملنے لگے اور منتقلی یہ کہ مثلاً عذاب بجائے مجرموں کے کسی اور پر ہونے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
اللہ حلیم اور غفور ہے
1: اس حقیقت طبیعہ کے اظہار کے بعد کہ محض اللہ کے دست قدرت نے اجرام علوی وسفلی کو تھام رکھا ہے ۔ اور ان کو قائم کررکھا ہے ۔ یہ کہنا کہ وہ حلیم اور غفور ہے ۔ اس انتباہ کی طرف تلمیح ہے کہ جہاں تک تمہارے گناہوں کا تعلق ہے ۔ تمہاری سرکشی اور تمرہ کا تقاضا ہے ۔ ان اجرام کو باہم متصادم ہوکر تم پر گرجانا چاہئے تھا ۔ اور تمہاری اس پر از معصیت زندگی کو ختم کردینا چاہیے تھا ۔ یہ تو محض اللہ کا علم اللہ سے آرہا ہے ۔ اور اس کا فضل روک رہا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ خدائے برتر بدرجہ غایت بردباراہ ۔ متحمل مزاج ہے ۔ اور اپے بندوں سے محبت رکھنا ہے ۔ ورنہ تمہارے اعمال بد کا نتیجہ یہی ہونا چاہئے ۔…
Read the full tafseer →(42) اور یہ کفار قریش نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی سخت ترین قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے گا تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ راہ پانے والے اور راہ یافتہ ہوں گے۔ پھر جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس کے آنے سے بس ان میں نفرت کے جذبات کو ہی ترقی ہوئی۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ۔
Read the full tafseer →یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو ہم یہ ہدایت قبول کریں گے
42 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت سے پہلے کی بات کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ میرے رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے تو تم سخت قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کیسے ہیں جن کے پاس نبی ورسول آتے اور انہوں نے ان کی تعلیمات کو ٹھکرادیا اگر اس طرح ہمارے پاس کوئی نبی ورسول آیا ہوتا تو ہم اس کو ہتھیلیوں پر اٹھاتے اور اس کے قدموں کے نیچے آنکھیں بچھاتے۔ نہ معلوم کیسے لوگ تھے جنہوں نے اللہ ، نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا ، سرکشی اور عصیان کوشی میں مگن رہے جس کے نتیجے میں اللہ کا عذاب ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
In the expression: إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ (Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth - 35:41), the 'holding' of the heavens or the skies does not mean that their movement was stopped. Instead, it means holding them from moving askance - as the word: أَن تَزُولَا (an tazula: from leaving their existing state,) bears it out. Therefore, in this verse, there exists no supporting evidence on either side as to the skies move or they are static.
Read the full tafseer →71 Before the advent of the Holy Prophet, the same thing used to be said by the Arabs, in general, and by the Quraish, in particular, when they witnessed the moral degeneration of the Jews and the Christians. Mention of this saying of theirs has also been made in Surah Al-An'am :156-157 above, and in Surah AsSaffat: 167-169 below.
Read the full tafseer →