Faatir 35:41

Faatir · from ayah 41

35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ۚ۬— وَلَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِهٖ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا ۟اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۚوَلَئِنۡ زَالَــتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا‏

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah holds the heavens and the earth, lest they cease. And if they should cease, no one could hold them [in place] after Him. Indeed, He is Forbearing and Forgiving.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:41

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا انہیں تھامنے والا نہیں ہے بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وه ٹل نہ جائیں اور اگر وه ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ وه حلیم غفور ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹلیں نہیں، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو انہیں تھام سکے۔ یقینا اللہ بڑا بردبار، بہت بخشنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کو (اپنے نظامِ قدرت کے ذریعے) اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ وہ (اپنی اپنی جگہوں اور راستوں سے) ہٹ سکیں، اور اگر وہ دونوں ہٹنے لگیں تو اس کے بعد کوئی بھی ان دونوں کو روک نہیں سکتا، بیشک وہ بڑا بُردبار، بڑا بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور یقینا اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی ان دونوں کو نہیں تھامے گا، بیشک وہ ہمیشہ سے نہایت برد بار، بےحد بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ ہی یقینا آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں سرک نہ جائیں اور اگر وہ سرک جائیں تو اس کے بعد انہیں کوئی بھی اپنی جگہ پر برقرار نہیں رکھ سکتا۔ بلاشبہ وہ بڑا بردبار اور معاف کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے بعد کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک وہ نہایت حلیم و غفور ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ ہی نے روک (اور تھام) رکھا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو اس سے کہ یہ دونوں ٹل جائیں اپنی اپنی جگہ سے اور اگر کبھی یہ ٹل جائیں تو پھر کون ہے جو ان کو روک سکے اس کے بعد ؟ بیشک وہ بڑا ہی بردبار نہایت ہی (درگزر اور) معاف کرنے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ اور اگر وہ ٹلنے لگیں بھی تو پھر اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ بڑا حلم والا ہے بڑا مغفرت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ (اپنے راستے سے) ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد یقینا وہ بہت بردبار بہت بخشنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے بیشک وہ بردبار اور بخشنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah holds the heavens and the earth, lest they should be displaced there, for if they were displaced none would be able to hold them after Him. Surely He is Most Forbearing, Most Forgiving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth from leaving their existing state, and if they were to leave, there is none who can hold them back, except Him. Surely He is Forbearing, Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani

Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth from leaving their existing state, and if they were to leave, there is none who can hold them back, except Him. Surely He is Forbearing, Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they should move away from their places, and if they were to move away from their places, there is not one that could grasp them after Him. Truly, He is Ever Most Forbearing, Oft-Forgiving.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah graspeth the heavens and the earth that they deviate not, and if they were to deviate there is not one that could grasp them after Him. Lo! He is ever Clement, Forgiving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah holds the heavens and the earth, lest they cease. And if they should cease, no one could hold them [in place] after Him. Indeed, He is Forbearing and Forgiving.

— Saheeh International

God prevents the heavens and the earth from falling apart. If they do fall apart, then, no one besides Him can restore them. He is All-forbearing and All-forgiving.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah upholds the heavens and the earth lest they come to naught; and if they should come to naught, there Is none who can uphold them after Him; surely He is the Forbearing, the Forgiving.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah withholdeth the heavens and the earth lest they cease; and should they cease, not any one could withhold them after Him. Verily He is ever Forbearing, Forgiving.

— Abdul Majid Daryabadi

It is Allah Who sustains the heavens and the earth, lest they cease (to function): and if they should fail, there is none - not one - can sustain them thereafter: Verily He is Most Forbearing, Oft-Forgiving.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–41

مدلل پیغام۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے ؟ یا یہی ثابت کردو کہ آسمانوں میں ان کا کونسا حصہ ہے ؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارو ؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کردو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 69 یعنی یہ اتھاہ کائنات اللہ تعالیٰ کے قائم رکھنے سے قائم ہے۔ کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی اس کو سنبھالے ہوئے نہیں ہے۔ کائنات کو سنبھالنا تو درکنار، یہ بےبس بندے تو اپنے وجود کے سنبھالنے پر بھی قادر نہیں۔ ہر ایک اپنی پیدائش اور اپنے بقاء کے لیے ہر آن اللہ جل شانہ کا محتاج ہے۔ ان میں سے کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ خدائی کی صفات اور اختیارات میں اس کا کوئی حصہ ہے خالص حماقت اور فریب خوردگی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سورة فَاطِر 70 یعنی یہ سراسر اللہ کا حلم اور اس کی چشم پوشی ہے کہ اتنی بڑی گستاخیاں اس کی جناب میں کی جا رہی ہیں اور پھر بھی وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ان اللہ یمسک السموٰت، آسمانوں کو روکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی حرکت بند کردی بلکہ مراد اپنی جگہ سے ہٹ جانا اور ٹل جانا ہے، جیسا کہ لفظ ان تزولا اس پر شاہد ہے اس لئے اس آیت میں آسمان کے متحرک یا ساکن ہونے میں سے کسی جانب پر کوئی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان اللہ یمسک المسوت والارض ان تزولا ولئن ذالتا ان امسکھما من احد بعدہ انہ کان حلیما غفورا (41) یعنی اگر یہ اس غلط فہمی میں ہیں کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اس سے ان کے مزعومہ دیوی دیوتا بچالیں گے یا بچائے ہوئے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کو ان کے محور و مدار پر خدا ہی ٹکائے ہوئے ہے۔ اگر وہ ذرا ان کی باگ ڈھیلی چھوڑدے تو پھر کسی کی طاقت نہیں ہے کہ ان کو تھام سکے۔ پھر جشم زدن میں سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ انہ کان حلیما غفورا۔ ‘ یعنی لوگوں کی سرکشی اور استکبار کے باوجود خدا لوگوں کو جو ڈھیل دیتا ہے تو اس وجہ سے دیتا ہے کہ وہ حلیم و غفور ہے۔ وہ قہر کرنے میں جلدی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت وصنعت کا بیان ہے بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک اقتضاء ہے کہ آسمان و زمین اپنی حالت پر برقرار نہ رہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں جیسے آیت تکاد السموات۔۔ مریم) کا مفہوم ہے۔ 41۔ 2 یعنی یہ اللہ کے کمال قدرت کے ساتھ اس کی کمال مہربانی بھی ہے کہ وہ آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں اپنی جگہ سے ہلنے اور ڈولنے نہیں دیتا ہے ورنہ پلک جھپکتے میں دنیا کا نظام تباہ ہوجائے کیونکہ اگر وہ انہیں تھامے نہ رکھے اور انہیں اپنی جگہ سے پھیر دے تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان کو تھام لے۔ اللہ نے اپنے اس احسان اور نشانی کا تذکرہ دوسرے مقامات پر بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–41

11: کسی دعوے کو ثابت کرنے کے دو ہی طریقے ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ انسان عقل کی کسی دلیل سے اسے ثابت کرے، اور دوسرا یہ کہ اس کے پاس کسی واجب التعمیل ذات کی طرف سے کوئی حکم ملا ہو۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ من گھڑت خدا مان رکھے ہیں، ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے، اس لیے کہ وہ کسی طرح ثابت نہیں کرسکتے کہ ان کے گھڑے ہوئے خداؤں نے زمین یا آسمان کا کوئی حصہ پیدا کیا ہے، یا ان کی تخلیق میں کسی بھی طرح کا کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ ہدایت دی ہو کہ فلاں فلاں دیوتاؤں کو خدا مان کر ان کی عبادت کیا کرو

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان اللہ یمسک ۔۔۔۔ حلیما غفورا (41) “۔ ذرا اس آسمان پر نگاہ ڈالو ، ذرا زمین کو دیکھو اور ان لاتعداد اربوں اجرام فلکی کو دیکھو جو اس لا انتہا فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تمام کے تمام اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جو اپنے افلاک میں پھر رہے ہیں۔ اپنے مدارات میں مقرر ، پھر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ نہ ان کی رفتار میں کوئی خلل آتا ہے نہ مدار سے نکل سکتے ہیں ، نہ ان کی رفتار سست ہوسکتی ہے ، اور نہ تیز ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کو اس طرح اپنے مقام پر ٹھہرانے کے لیے کوئی ستون نہیں لگا ہوا اور نہ یہ مضبوط رسیوں سے باندھے ہوئے ہیں۔ کسی چیز کا بظاہر ان پر کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس عظیم مخلوق کو دیکھتے ہو جو اربوں کھربوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اسی کی قدرت کا ہاتھ ہے جو اتنے بڑے بڑے کر ات عظام کو اپنے مرکز سے ہٹنے اور اپنے مقام و نظام سے ادھر ادھر سرکنے نہیں دیتا اور اگر بالفرض یہ چیزیں اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو پھر بجز خدا کے کسی کی طاقت ہے کہ ان کو قابو میں رکھ سکے۔ چناچہ قیامت میں جب یہ سارا نظام اللہ تعالیٰ درہم برہم کرے گا، کوئی قوت اسے روک نہ سکے گی۔ 2 یعنی لوگوں کے کفر و عصیان کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ سارا نظام ایک دم میں تہ وبالا کردیا جائے گا لیکن اس کے تحمل و بردباری سے تھما ہوا ہے۔ اس کی بخشش نہ ہو تو سب دنیا ویران ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41{ اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا } ”یقینا اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ اپنے راستے سے ہٹ نہ جائیں۔“ { وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْم بَعْدِہٖ } ”اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد !“ { اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } ”یقینا وہ بہت بردبار ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی لوگوں کی غلطیوں پر فوراً پکڑ نہیں کرتا اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 آسمانوں اور زمین کے الفاظ بول کر قرآن کریم بالعموم اس سے پورا نظام کائنات مراد لیتا ہے اور یہ اس قدر پیچیدہ نظام ہے جو سائنس کے آئے دن کے انکشافات اور ایجادات کے باوجود انسان کے لئے محیر العقول بنا پڑا ہے۔ کہ آیا یہ سب سیارے فضا میں پوری تیزی کے ساتھ گھومنے کے باوجود کس طرح اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ کوئی سیارہ ایک دوسرے پر گر نہیں پڑتا کہیں ٹکراتا بھی نہیں۔ اس کی رفتار میں بھی فرق نہیں آتا۔ وہ اپنے رخ اور سمت میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو انسان کو اس اعتراف پر مجبور کردیتی ہے کہ اس نظام کو بنانے والی، جاری رکھنے والی اور کنٹرول کرنے والی ہستی انتہا درجہ کی دانشور، مدبر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ (اپنے انتظام معین وہیئت مقرر سے) آیت میں بتایا ہے کہ حق تعالیٰ دنیا کا خالق وفاطر ہی نہیں، بلکہ اس کا منتظم، مدبر، حاکم بھی ہے، وہی اپنے دست قدرت سے اس کے سارے انتظامات بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ پیدا کرنے والے برہماجی ہوں، پالنے والے اور حفاظت کرنے والے، وشنوجی، اور مارنے والے شیوجی، !۔ غرض مختصر سی عبارت سے متعدد جاہلی تخیلات پر ضرب لگ گئی، لفظ امساک سے یہ مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں کہ حق تعالیٰ (نعوذ باللہ) کسی بڑے عظیم الشان دیوپیکر دیوتا کی طرح زمین و آسمان کی باگیں اپنے ہاتھ میں پکڑے اور سمیٹے ہوئے بیٹھے ہیں ! امساک سے مراد صرف ان اجرام کی ہیئت منتظمہ پر انہیں قائم رکھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–45

آیت نمبر 38 تا 45 ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا . یعنی بات ہے کہ اللہ آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ (کہیں) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں۔ یعنی اللہ آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ یہ اپنے مقام سے ہٹ نہ سکیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کو زوال سے روکے ہوئے ہے ‘ کیونکہ جس طرح کسی چیز کے وجود کیلئے کسی علت موجدہ کا ہونا ضروری ہے ‘ اسی طرح کسی چیز کو اس کی حالت پر باقی رکھنے کیلئے بھی باقی رکھنے والی علت کا ہونا لازم ہے۔ ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ اور اگر (بالفرض) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ بھی دیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ یعنی اگر یہ دونوں ذاتی امکان کے تقاضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں وہ یہود و نصاری کی باتیں سن کر کہ عزیر ؑ اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مسیح ؑ اللہ کے بیٹے ہیں وہ اپنی اس موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں ار اگر بالفرض وہ اپنی حالت موجودہ کو چھوڑ بھی دیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ یہود و نصاری کی باتوں پر تحمل والا ہے جو ان میں سے توبہ کرے تو اس کے حق میں غفور ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ڬ۔۔ : یعنی تمہارے بنائے ہوئے شریکوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ انھوں نے زمین یا اس کی کوئی چیز پیدا کی، نہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، وہ بےچارے تو اپنا آپ بھی نہیں سنبھال سکتے، جب کہ اللہ جل شانہ وہ ہے جس نے ساری کائنات پیدا فرمائی اور وہی اس کا نظام چلا رہا ہے۔ اسی نے اتنے عظیم آسمانوں کو اور زمین کو ان کی اپنی اپنی جگہ تھام رکھا ہے کہ کسی زلزلے یا حادثے سے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوتے اور اگر یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھام سکے۔ اگر تم کہتے ہو کہ تمہارے شریک پیدا تو نہیں کرسکتے، نہ آسمانوں میں ان کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت): ان اللہ یمسک السموت و لا رض ان تزولا جب اس امر کو واضح کیا کہ ان کے معبود آسمانوں اور زمین کی کسی چیز کا پیدا کرنے پر قادر نہیں تو اس امر کو بیان کیا کہ ان کا خالق اور ان کو انکی جگہ روکنے والا اللہ تعالیٰ ہے کوئی حادث چیز پیدا نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ ہی اسے پیدا فرماتا ہے اور کوئی چیز باقی نہیں رہتی مگر اس کی بقاء کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ ان محل نصب میں ہے اور اس معنی میں ہے کر اھت ان تزولا یا لئلا تزولا یا اس معنی پر محمول ہوگا کیونکہ معنی ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو سرکنے سے روکتا ہے۔ اس کی تعبیر کی بناء پر اضمار کی کوئی ضرورت نہیں ؛ یہ زجاج کا قول ہے۔ (آیت): و لئن زالتا ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابویعلی وابن جریر ابن ابی حاتم دارقطنی نے الافراد میں وابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں اور الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ اللہ عزوجل نیند کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تین دن تک جگائے رکھا اور ان کو دو شیشے کی بوتلیں دیں ہر ہاتھ میں بوتل تھی کہ ان کو حکم دیا کہ ان کی حفاظت کریں انہوں نے نیند کرنا شروع کردی اور آپ کے ہاتھ آپس میں ملنے لگے پھر وہ جاگتے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دور کرتے یہاں تک کہ وہ سو گئے ان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ [بیشک اللہ تھامتا ہے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں کو اور زمین کو ] اَنْ تَزُوْلَا ڬ [کہ (کہیں) وہ دونوں کھسک جائیں ] وَلَىِٕنْ [اور یقینا اگر ] زَالَتَآ [وہ دونوں کھسک گئے ] اِنْ اَمْسَكَـهُمَا [تو نہیں تھام سکے گا دونوں کو ] مِنْ اَحَدٍ [کوئی ایک بھی ] مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭ [اس (اللہ) کے بعد ] اِنَّهٗ كَانَ [یقینا وہ ہے ] حَلِــيْمًا غَفُوْرًا [بردبار بےانتہاء بخشنے والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–42

اس کے بعد اللہ جل شانہٗ کی قوت قاہرہ ایک اور طریقہ پر بیان فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے، ان کی جو جگہ مقرر ہے وہاں سے نہیں ٹل سکتے (اپنے محور ہی میں رہتے ہیں) اور اگر بالفرض اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ دیں تو اس کے علاوہ کوئی ان کو تھام نہیں سکتا، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اسی نے ان کی جگہ مقرر فرمائی ہے، کسی کو ان میں ذرا سے تصرف کا بھی اختیار نہیں ہے وہی ان کی حفاظت فرماتا ہے ہی ان کا مالک ہے، ان میں جو چیزیں ہیں وہ ان کا بھی خالق ومالک ہے پھر اس کے علاوہ دوسرا کوئی مستحق عبادت کیسے ہوسکتا ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (بےشک وہ حلیم ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–41

بیان علم وحلم خداوندی قال اللہ تعالی۔ ان اللہ عالم غیب السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان حلیما غفورا۔ (ربط) اوپر اکثر آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک اور دلائل قدرت اور صفات کمال کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اور اپنے حکم بیان کرتے ہیں کہ وہ باوجود علیم وقدیر ہونے کے حلیم و غفور بھی ہے مجرمین کے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ کما قال تعالی۔ لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا۔ ان کے شرک کا مقتضی تو یہ تھا کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں لیکن اللہ کے حلم کی وجہ سے تھمے ہوئے ہیں جیسا کہ ان آیات کے اخیر میں ہے۔ انہ کان حلیما…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

40:۔ ان اللہ الخ : یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ ہی نے تھام رکھا ہے اور وہ اپنی جگہ ادہر ادہر نہیں ہٹ سکتے۔ اگر بفرض محال وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا کوئی انہیں تھامنے والا نہیں اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور کارساز نہیں ہوسکتے۔ لما بین ان الہتہم لا تقدر علی خلق شیء من السموات والارض بین ان خالقہما و ممسکھما ھو اللہ فلا یوجد حارث الا بایجادہ ولا یبقی الا ببقائہ (قرطبی ج 14 ص 306) ۔ انہ کان حلیما غفورا۔ وہ ایسا برد بار ہے کہ مشرکین کو فورًا نہیں پکڑتا اور ایسا مہربان ہے کہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے یہ دلیل پہلی دلیل سے متعلق ہے اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

ربط آیات گزشتہ درس میں انذار کا مضمون ذکر ہوا تھا۔ قرآن کے ورثاء تین قسم کے آدمی ہیں۔ بعض وہ ہیں جو صغائر و کبائر کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں جب کہ تیسرا گروہ وہ ہے جو بھلائیوں میں سبقت کرتا ہے۔ یہ سارے گروہ اہل اسلام حاملین قرآن ہیں۔ پھر اللہ نے نیکی کرنے والوں کے انعامات کا ذکر کیا اور کفر کرنے والوں کے عذاب اور ان کی چیخ و پکار کو بیان کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ تمہیں دنیا میں کتنی عمر تک مہلت دی تھی۔ اس مہلت کے دوران تمہارے پاس اللہ کے نبی بھی آئے جو تمہیں ڈر سناتے رہے ، اللہ کی وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں آگاہ کرتے رہے۔ انسانی زندگی کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا۝ 0ۥۚ وَلَىِٕنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَـہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِہٖ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا۝ 41 مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–41

قل ارئیتم شرکاء الخ یہاں سے پھر توحید کا مسئلہ شروع کرتا ہے اور مشرکوں کو صریح الزام دیتا ہے کہ ان سے دریافت کرو کہ تمہارے ان معبودوں نے آسمانوں اور زمین میں سے کون سی چیز بنائی ہے ؟ یا ان کا کوئی حصہ ہے یا تمہارے پاس کوئی آسمانی سند ہے کہ اللہ نے کتاب آسمانی میں یہ بات بتلادی ہو ؟ صرف تمہارے ڈھکوسلے ہیں کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے تھے، بلکہ خدا یا مہادیو اور بشن اور برہما دنیا کے پیدا کرنے میں شریک تھے یا یہ کہ رزق روزی فلاں دیتا ہے۔ بیماری فلاں دفع کرتا ہے بلکہ ان اللہ یمسک السمٰوٰت والارض الخ اللہ ہی اپنے ید قدرت سے آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اور اگر وہ بگڑ جاویں یا اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلاَ 5 ج وَلَئِنْ زَالَـتَـآ اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍمِّنْ م بَعْدِہٖ ط اِنَّـہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔ (فاطر : 41) (بےشک اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انھیں تھامنے والا نہیں، بیشک وہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل مشرکین نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا ان کی بےحقیقتی اور بےبسی کو واضح کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہاری قسمتیں تو کیا بنائیں گے اور تمہارے کام کیا سنواریں گے، ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر زمین و آسمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، ان کے قائم رکھنے میں بھی کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی انہیں تھامے ہوئے ہے۔ تاکہ اپنے مقام سے ہلنے نہ پائیں اگر وہ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو پھر کون ہے جو انہیں اسی جگہ پر لے آئے ؟ آسمان کو تھامنا تو درکنار، پوری دنیا کے حکمران اور عوام مل کر زمین کو ہلنے یعنی زلزلہ سے نہیں بچا سکتے۔ زلزلہ سے بچانا تو دور کی بات ہے ارضیات کے سائنسدان یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ زمین میں کہاں اور کب زلزلہ واقع ہوگا۔ تاریخ انسانی میں کتنی بار زلزلہ آیا جس نے چند لمحوں کے اندر نہ صرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آسمان کو اللہ ہی تھامنے والا ہے : 41: اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اَنْ تَزُوْلَا (کہ وہ موجودہ حالت کو چھوڑدیں) ان کو زائل ہونے سے روکنے والا ہے، کیونکہ امساک روکنے کو کہتے ہیں۔ وَلَپنْ زَالَتَآ (اور اگر وہ بالفرض موجودہ حالت کو چھوڑ دیں) اِنْ اَمْسَکَھُمَا (نہیں ان کو تھام سکتا) ۔ مِنْ اَحَدٍ مِّنْ 0 بَعْدِہٖ (کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے سواء) اس کے تھامنے کے بعد۔ نحو : پہلا مِنْ تاکید نفی کیلئے ہے اور دوسرا من ابتدائیہ ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا (بیشک وہ حلیم غفور ہے) وہ سزا دینے میں جلدی کرنے والا نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41، ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولا، ایسانہ ہو کہ وہ زائل ہوجائے، ، ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ ، اگر موجودہ حالت کو چھوڑ دیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ ، انہ کان حلیما غفورا، سوال : حلم کے یہاں کیا معنی ہیں ؟ جواب : آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے تھا مے رکھا ہے ورنہ کفار کی سزا کے لیے ان پر گرپڑتالیکن اللہ کے حلم کے باعث وہ ان پر نہیں گرتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

41۔ یہاں ابوہریرہ ؓ یک روایت سے بعضی تفسیروں 1 ؎ میں ایک حدیث نقل کی ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 254 ج 5) کہ حضرت موسیٰ کے دل میں ایک دفعہ یہ خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ بھی کبھی سوتا ہے یا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے دو آئینے حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ میں رکھیں پھر حضرت موسیٰ کے اونگھ جانے سے وہ ایک آئینہ دوسرے پر گرا اور دونوں آئینے ٹوٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یوں کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کیوں کر قائم رہتے حافظ ابن کثیر 2 ؎ اور اور مفسروں نے اس اثر کی صحت پر اعتراض کیا ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 561 ج 3۔ ) اور اس کو بنی اسرائیل کی روایت قرار دیا ہے لیکن ابویعلی موصلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال قدرت، بےپایاں رحمت اور وسعت حلم و مغفرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روک رکھا ہے، اگر وہ ٹل جائیں تو اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انہیں روک سکے۔ ان کی طاقت اور ان کے قویٰ ان کے بارے میں عاجز آجائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ زمین و آسمان ویسے ہی رہیں جیسے وجود میں لائے گئے تاکہ مخلوق کو استقرار، فائدہ اور عبرت حاحصل ہو، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان، قوت اور قدرت کو جان لیں اور ان کے دل اللہ کے جلال و تعظیم اور محبت و تکریم سے لبریز ہوں اور تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ گاروں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھ داری کی عمر قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 اللہ تعالیٰ کی صفت حلم و مغفرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ۔ اللہ ۔ بڑا ہی بردبار، انتہائی درگزر فرمانے والا ہے "۔ اور یہ اسی حلیم مطلق کی شان حلم و کرم ہے کہ اس نے اتنی بےمثال و لا محدود قوت وقدرت کے باوجود ایسے مشرکوں اور باغیوں کو اتنی ڈھیل دے رکھی ہے۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ اگر مجرموں کو فوری طور پر پکڑتا نہیں تو اس سے کسی کو کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ جرم و قصور پر گرفت و پکڑ نہیں ہوگی۔ نہیں ایسا نہیں اور ہرگز نہیں کہ ایسا ہونا اس کی شان عدل و انصاف کیخلاف اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45: اسرار و معارف : یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ان کے معبودوں سے خلق وقدرت کی نفی کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا۔ یعنی جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آسمان و زمین کا بنانے والا صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی ان کا بنانے والا اور اس نظام کو چلانے والا نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے ہوئے ہے۔ کوئی دوسرا ان کے تھامنے اور ان کا نظام چلانے میں اس کا شریک نہیں ہے۔4 یعنی اللہ تعالیٰ کا حلم اور اس کی مغفرت نہ ہوتی تو بندوں کا کفر و عصیان ( خصوصاً شرک) اس بات کا متقاضی ہے کہ آسمان و زمین اپنی جگہ پر قائم نہ رہیں جیسے فرمایا (تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ھدا ان دعوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(35:41) یمسک مضارع واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر۔ وہ روکتا ہے وہ تھامتا ہے۔ وہ روکے ہوئے ہے، وہ تھامے ہوئے ہے۔ ان تزولا۔ ان مصدریہ ہے تزولا مضارع تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر (باب نصر) کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہوجانا۔ اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ کہ وہ دونوں ( سموت والارض) اپنے مقام سے ہٹ جائیں۔ تزولا اصل میں تزولان تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لتزول منہ الجبال (14:46) کہ اس سے پہاڑ ہی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔ زالتا۔ ماضی تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر سے ان زالتا۔ اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ یا ہٹ جائیں یا ہٹنے لگیں۔ ان امسکھما۔ ان نافیہ ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–41

لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں) تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–42

(ف 1) اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن انجام کا ذکر فرماکران آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس لیے اس نے اپنے علم کے موافق ابھی سے لوگوں خو قیامت کے انجام سے ہوشیار کردیا اور اس کو دلوں کا بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزاوسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام، یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر فرمایا کہ پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرکے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا، اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی بستیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہے کہ اللہ کی نافرمانی سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–43

[19] مشرکین عرب جب یہ سنتے کہ یہود وغیرہ دوسری قوموں نے اپنے پیغمبروں کی نافرمانی کی تو کہتے کہ ہم میں پیغمبر آئے تو ہم ان قوموں سے بڑھ کر پیغمبر کی اطاعت ورفاقت کر کے دکھلائینگے۔ جب اللہ نے پیغمبر بھیجا تو حق سے اور زیادہ بدکنے لگے۔ ان کا غرور وتکبر کہاں اجازت دیتا کہ پیغمبر کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اطاعت ورفاقت اختیار کرنے کے بجائے عداوت پر کمربستہ ہوگئے اور پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے مکروہ داؤ گھات شروع کر دئیے۔ [20] تبدیلی یہ کہ مجرموں کو بجائے سزا کے انعام و اکرام ملنے لگے اور منتقلی یہ کہ مثلاً عذاب بجائے مجرموں کے کسی اور پر ہونے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

اللہ حلیم اور غفور ہے 1: اس حقیقت طبیعہ کے اظہار کے بعد کہ محض اللہ کے دست قدرت نے اجرام علوی وسفلی کو تھام رکھا ہے ۔ اور ان کو قائم کررکھا ہے ۔ یہ کہنا کہ وہ حلیم اور غفور ہے ۔ اس انتباہ کی طرف تلمیح ہے کہ جہاں تک تمہارے گناہوں کا تعلق ہے ۔ تمہاری سرکشی اور تمرہ کا تقاضا ہے ۔ ان اجرام کو باہم متصادم ہوکر تم پر گرجانا چاہئے تھا ۔ اور تمہاری اس پر از معصیت زندگی کو ختم کردینا چاہیے تھا ۔ یہ تو محض اللہ کا علم اللہ سے آرہا ہے ۔ اور اس کا فضل روک رہا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ خدائے برتر بدرجہ غایت بردباراہ ۔ متحمل مزاج ہے ۔ اور اپے بندوں سے محبت رکھنا ہے ۔ ورنہ تمہارے اعمال بد کا نتیجہ یہی ہونا چاہئے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اس بات سے تھام رکھا ہے کہ وہ اپنے مرکز سے کہیں ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ بالفرض اپنے مرکز سے ٹل جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان آسمان و زمین کو نہ کوئی تھام سکتا ہے اور نہ کوئی ان کو روک سکتا ہے بیشک وہ اللہ تعالیٰ بڑا بردبار علیم اور بڑی مغفرت و بخشش کرنیوالا ہے۔ یعنی یہ نظام عالم جو حضرت حق تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے اس کو درہم برہم کرنے سے اسی نے روک رکھا ہے اگر خدانخواستہ درہم برہم ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے بعد اس نظام عالم کو کوئی روک ہی نہیں سکتا۔ تمام مخلوق فنا ہوجائے گی جس طرح قیامت کے دن ہوگا۔ لیکن چونکہ وہ حلیم ہے اس لئے مہلت دیئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 4۔ تاکہ دلیل عقلی سے ان کا استحقاق عبادت ثابت ہو۔ 5۔ اصل یہ ہے کہ نہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی ہے۔ 6۔ ان کے بڑوں نے ان کو بےسد غلط بات بتلادی کہ ھولاء شفعائنا عنداللہ حالانکہ واقع میں وہ محض بےاختیار ہیں، پس وہ مستحق عبادت بھی نہیں، البتہ مختار مطلق حق تعالیٰ ہے، تو وہی قابل عبادت بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے ذرا سرک جائیں تو کیا ہو ؟ 41 ۔ مانو نہ مانو تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ تمہارے شریکوں کا آسمان و زمین کی تخلیق میں کسی قسم کا برائے نام بھی حصہ نہیں نہ علی ؓ مشکل کشا کا ، نہ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کا اور نہ علی ہجویری (رح) کا اور نہ صابر کلیری (رح) کا۔ منہ بنائو یا منہ بسورو حقیقت بہرحال حقیقت ہی ہے اب ہم سے سنو ! ہم تم کو بتا رہے ہیں کہ اس کارخانہ ہستی کو بنانے والا بھی وہی ہے اور چلانے والا بھی وہی ہے۔ زمین کا یہ کشادہ فرش اسی نے بچھایا ہے اور آسمانوں کا یہ محیرالعقول سائبان اسی نے تان رکھا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرایا ہوا بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

In the expression: إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ (Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth - 35:41), the 'holding' of the heavens or the skies does not mean that their movement was stopped. Instead, it means holding them from moving askance - as the word: أَن تَزُولَا (an tazula: from leaving their existing state,) bears it out. Therefore, in this verse, there exists no supporting evidence on either side as to the skies move or they are static.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

69 That is, "This limitless universe is being sustained by Allah alone. No angel, or jinn, or prophet, or saint can sustain it. Not to speak of sustaining the universe these helpless creatures do not even have the power to Sustain their own selves. Each one of them is entirely dependent on Allah Almighty for his birth and survival every moment. To think that any one of them has any share in the attributes and powers of Divinity is sheer folly and deception. " 70 That is, "It is Allah's Clemency and Forbearance that He is not seizing the culprits immediately in punishment in spite of All kinds…

Read the full tafseer →