Explained with ayahs 40–41
مدلل پیغام۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے ؟ یا یہی ثابت کردو کہ آسمانوں میں ان کا کونسا حصہ ہے ؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارو ؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کردو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 66
" اپنے شریک " کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت وہ خدا کے شریک تو ہیں نہیں، مشرکین نے ان کو اپنے طور پر اس کا شریک بنا رکھا ہے۔
سورة فَاطِر 67
یعنی کیا ہمارا لکھا ہوا کوئی پروانہ ان کے پاس ایسا ہے جس میں ہم نے یہ تحریر کیا ہو کہ فلاں فلاں اشخاص کو ہم نے بیماروں کو تندرست کرنے، یا بےروزگاروں کو روزگار دلوانے، یا حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرنے کے اختیارات دیے ہیں، یا فلاں فلاں ہستیوں کو ہم نے اپنی زمین کے فلاں حصوں کا مختار کار بنادیا ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کی قسمتیں بنانا اور بگاڑنا اب ان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا ہمارے بندوں کو اب انہی سے دعائیں مانگنی چاہییں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
معارف و مسائل
(آیت) ہوالذی جعلکم خلئف فی الارض، خلائف خلیفہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نائب اور قائم مقام۔ مراد یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو یکے بعد دیگرے زمین و مکان وغیرہ کا مالک بنایا ہے ایک جاتا ہے تو دوسرے کو اس کی جگہ ملتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے لئے بڑی عبرت ہے۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خطاب امت محمدیہ کو ہو کہ ہم نے پچھلی قوموں کے بعد ان کے خلیفہ کی حیثیت سے تم کو مالک و متصرف بنایا ہے، لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو، عمر کے قیمتی لمحات کو غفلت میں نہ گزارو۔
Read the full tafseer →آیت 40
یہ ان کے شرکاء کی بےحقیقتی کی طرف توجہ دلائی کہ کیا ان کے بل پر خد ا کی پکڑ سے نچنت بیٹھے ہو ! ذرا ان کو دیکھو تو بھلا ان کی کیا حقیقت ہے ! ’ اور ءیتم ‘ اس طرح کے مواقع ہیں اظہار تعجب اور تحقیر کے لئے آتا ہے۔ فرمایا کہ اگر زمین میں سے کوئی چیز انہوں نے پیدا کی ہو تو وہ مجھے دکھائو۔ یا آسمانوں میں ان کی کوئی حصہ داری ہو تو وہ مجھے بتائو۔
’ ام اتینھم کتابا الایۃ ‘۔ اس ٹکڑے میں اسلوبِ کلام بدل کر حاضر کے بجائے غائب کا ہوگیا ہے جس سے تعجب اور اظہار بیزاری کے مضمون میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فرمایا کہ جب آسمانوں اور زمین میں کسی نوعیت سے ان کی کوئی حصہ داری ثابت نہیں تو آخر کس دلیل کی بنا پر…
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی ہم نے ان پر کوئی کتاب نازل کی ہو، جس میں درج ہو کہ میرے بھی کچھ شریک ہیں جو آسمان اور زمین کی تخلیق میں حصے دار اور شریک ہیں۔
40۔ 2 یعنی ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہے بلکہ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو گمراہ کرتے آئے ہیں۔ ان کے لیڈر کہتے تھے کہ یہ معبود انہیں نفع پہنچائیں گے، انہیں اللہ کے نزدیک کردیں گے اور ان کی شفاعت کریں گے۔ یا یہ باتیں شیاطین مشرکین سے کہتے تھے یا اس سے وہ وعدہ مراد ہے جس کا اظہار وہ ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے کہ وہ مسلمانوں پر غالب آئیں گے جس سے ان کو کفر پر جمے رہنے کا حوصلہ ملتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
11: کسی دعوے کو ثابت کرنے کے دو ہی طریقے ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ انسان عقل کی کسی دلیل سے اسے ثابت کرے، اور دوسرا یہ کہ اس کے پاس کسی واجب التعمیل ذات کی طرف سے کوئی حکم ملا ہو۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ من گھڑت خدا مان رکھے ہیں، ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے، اس لیے کہ وہ کسی طرح ثابت نہیں کرسکتے کہ ان کے گھڑے ہوئے خداؤں نے زمین یا آسمان کا کوئی حصہ پیدا کیا ہے، یا ان کی تخلیق میں کسی بھی طرح کا کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ ہدایت دی ہو کہ فلاں فلاں دیوتاؤں کو خدا مان کر ان کی عبادت کیا کرو
Read the full tafseer →قل ارءیتم۔۔۔۔۔ الا غرورا (40) “۔
یہ حجت بالکل واضح ہے اور یہ دلیل محتاج تشریح نہیں ہے۔ یہ زمین اور اس کے اندر جو بھی ہے اس کے ساتھ وہ اللہ کی مخلوق ہے اور یہ آسمان اپنی وسعتوں تک اللہ کا ہے۔ اس زمین کے اندر نظر آنے والی اشیاء میں سے کون سی چیز ایسی ہے جس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی اور دعویٰ کرسکتا ہو یا کسی اور کے بارے میں دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو ہر چیز اس کے دعویٰ کے خلاف پکار اٹھے گی کہ یہ غلط ہے اور ہر چیز پکار کر کہے گی کہ اسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز اپنے اندر ایسے آثار اٹھائے ہوئے ہے کہ وہ کسی مدعی کے دعویٰ کو رد کرنے کے لیے کافی…
Read the full tafseer →6 یعنی اپنے معبودوں کے احوال میں غور کر کے مجھے بتلاؤ کہ زمین کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا، یا آسمانوں کے بنانے اور تھامنے میں ان کی کس قدر شرکت ہے۔ اگر کچھ نہیں تو آخر خدا کس طرح بن بیٹھے۔ کچھ تو عقل سے کام لو۔
7 یعنی عقل نہیں تو کوئی معتبر نقلی دلیل پیش کرو۔ جس کی سند پر یہ مشرکانہ دعویٰ کرتے ہو۔
8 یعنی عقلی یا نفلی دلیل کوئی نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے اغوا سے یہ وعدہ بتلاتے چلے آئے کہ ہولاء شفعآؤنا عند اللہ (یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے) اور اس کا قرب عطا کرینگے۔ حالانکہ یہ خالص دھوکہ اور فریب ہے یہ تو کیا شفیع بنتے، بڑے سے…
Read the full tafseer →آیت 40{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟“
{ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں !“
{ اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ } ”یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں !“
کیا ان کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب موجود ہے جس کی کسی واضح دلیل کی بنیاد پر انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →44 شریکوں کے جواز کی ممکنہ بنیادیں ؟ یعنی تم لوگوں نے اپنے جن معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات و تصرفات میں اللہ کا شریک بنا رکھا ہے اس کی بنیاد کیا ہے ؟ ایک بنیاد تو یہ ہوسکتی ہے کہ کائنات کا کوئی دسواں بیسواں حصہ انہوں نے بھی بنایا ہو۔ دوسری بنیاد یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے کائنات کا الگ تو کوئی حصہ نہیں بنایا، البتہ جب اللہ تعالیٰ کائنات پیدا کر رہا تھا تو اس وقت تمہارے ان معبودوں نے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بٹایا ہو اس طرح اختیارات و تصرفات میں ان کا بھی کچھ حق بن سکتا ہے۔ تیسری بنیاد یہ بھی بن سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انہیں کوئی مختار نامہ لکھ دیا ہو کہ فلاں علاقہ کے لوگ، فلاں آستانے…
Read the full tafseer →52۔ (جو کبھی بھی پورے ہونے کے نہیں) آیت میں اثبات توحید وابطال شرک پر پوری حجت قائم کی گئی ہے۔ (آیت) ” ارء یتم “۔ اراء ۃ کے معنی یہاں دکھانے کے نہیں۔ بتانے یا خبر دینے کے ہیں۔ معنی ارء یتم اخبرونی (کشاف) المراد منہ اخبرونی (کبیر) (آیت) ” ارونی ...... السموت “۔ یعنی شرک پر کوئی بھی دلیل، عقلی وتجربی قسم کی قائم ہے ؟ (آیت) ” شرک فی السموت “۔ سے مراد خلقت آسمان میں شرکت ہے اے شرکۃ مع اللہ فی خلق السموت (ابوسعود) (آیت) ” ام ...... منہ “۔ یعنی شرک پر کوئی بھی دلیل، نقلی وکتب آسمانی سے ماخوذ قائم ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
آیت نمبر 38 تا 45
ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…
Read the full tafseer →قل ارء تیم شرکاء کم الذین تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم
شرک فی السموت (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہئے کہ تم اپنے قرار دادہ شریکوں کا حال تو بتاؤ ‘ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو ‘ مجھے بتاؤ کہ انہوں نے اس زمین کا کونسا حصہ جزء بنایا ہے یا ان کو آسمان (بنانے) میں کچھ ساجھا ہے ؟
شُرَکَاءَ سے مراد ہیں بت۔ شَُرکَآءَکُمْ کہنے کے دو معنی ہیں (فاعل کی طرف اضافت ہے یا مفعول کی طرف):
(1) تم نے ان کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے۔
(2) تم نے اپنے مال میں ان کو شریک بنا رکھا ہے (کہ ان کی منت مانتے اور بھینٹ چڑھاتے ہو) ۔
اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ یا اللہ کے ساتھ تخلیق سماوات میں ان کی شرکت ہے جس کی…
Read the full tafseer →آپ ان کفار مکہ سے یہ تو کہیے کہ تم معبودوں کا حال تو بتاؤ جن کی تم پوجا کرتے ہو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا ان کا آسمانوں کے بنانے میں کچھ حصہ ہے یا ہم نے ان کفار مکہ کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کتاب کی کسی دلیل پر قائم ہوں کہ ان کو عذاب نہیں ہوگا۔
بلکہ یہ مشرک سردار دنیا میں اپنے پیروکاروں سے ایسا وعدہ کرتے آئے ہیں جو آخر بالکل ہی بےبنیاد اور دھوکا ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین کی خلافت بخشی، تو تم نے اس کی عبادت میں کچھ اوروں کو شریک بنا لیا اور انھیں پکارنا اور ان سے مانگنا شروع کردیا، تو یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے بنائے ہوئے ان شریکوں نے، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، زمین یا زمین کی کوئی چیز پیدا کی ہے ؟ اگر کی ہے تو مجھے بھی دکھاؤ وہ کون سی چیز ہے ؟ (دیکھیے حج : 73۔ رعد : 16) یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو اس کی نشان دہی کرو، یا ہم نے انھیں کوئی تحریر دی ہے، جو اس بات کی دلیل ہو کہ فلاں فلاں کو ہم نے بیماروں کو تندرست…
Read the full tafseer →آیت : قل ارء یتم شر کاء کم الذین تد عون، شرکاء کم فعل رویتہ کی وجہ سے منصوب ہے اس پر رفع دینا جائز نہیں۔ سیبویہ کے نزدیک رفع دینا جائز ہے ان کا قول ہے : قد علمت زیدا ابو من ھو ؟ زید مستفھم عنہ کے معنی میں ہے اگر تو کہے : اریت زیدا ابو من ھو ؟ اس صورت میں زید پر رفع دینا جائز نہیں۔ دونوں میں فعق یہ ہے اس کا معنی ہے مجھے اس کے بارے میں بتائیے اسی طرح اس آیت کا معنی ہے مجھے اپنے شریکوں کے بارے بتائو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو کیا تم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہو کیونکہ ان کا آسمانوں کی تخلیق میں کوئی حصہ ہے یا انہوں نے زمین کی کسی چیز کو پیدا کیا ہے ؟
آیت : ام اتینھم کتبا یا ان کے پاس کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر جو ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ (وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا) یعنی امت کے بعد ایک امت بنایا۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ سے مراد ہے کہ امت کے بعد ایک امت بنایا اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم بنایا (آیت) ” ارونی ما ذا خلقوا من الارض “ (مجھے بتاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا) یعنی کوئی چیز (پیدا نہیں کی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میں سے پیدا فرمایا (آیت) ” ام لھم شرک فی السموت “ (کیا آسمانوں میں ان کی کوئی شراکت ہے) نہیں اللہ…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ [آپ ﷺ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ [اپنے ان شریکوں پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے علاوہ ] اَرُوْنِيْ [تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا خَلَقُوْا [کیا انھوں نے تخلیق کیا ] مِنَ الْاَرْضِ [زمین میں سے ] اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ [یا ان کے لئے کوئی شراکت ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ ۚ [آسمانوں میں ] اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا [یا ہم نے دی ان کو کوئی کتاب ] فَهُمْ عَلٰي بَيِّنَةٍ [تو وہ کسی دلیل پر ہیں ] مِّنْهُ ۚ [اس (کتاب) میں سے ] بَلْ اِنْ يَّعِدُ [بلکہ وعدہ نہیں کرتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ظالم لوگ ] بَعْضُهُمْ بَعْضًا [ان کا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ یہ جو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا رکھے ہیں جن کی پوجا کرتے ہیں اور جن کو پکارتے ہیں ان کے بارے میں ان سے دریافت کیجیے کہ ان کا کیا حال ہے، انہیں جو تم نے معبود بنایا ہے ان میں کون سی صفت دیکھ رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ مستحق عبادت سمجھے گئے ؟ انہوں نے زمین کا کوئی سا حصہ پیدا کیا ہے ؟ کیا آسمانوں میں ان کا کچھ ساجھا ہے ؟ اس میں سے کوئی بات نہیں ہے ! زمین اللہ کی ہے جس پر رہتے سہتے ہو، آسمان اللہ کے ہیں جن کے نیچے زندگی گزارتے ہو، یہ سب کچھ جانتے ہوئے غیروں کی عبادت کرنا کون سی سمجھداری ہے۔
(اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ کِتٰبًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ ) (کیا ہم نے انہیں کوئی کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
بیان علم وحلم خداوندی
قال اللہ تعالی۔ ان اللہ عالم غیب السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان حلیما غفورا۔
(ربط) اوپر اکثر آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک اور دلائل قدرت اور صفات کمال کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اور اپنے حکم بیان کرتے ہیں کہ وہ باوجود علیم وقدیر ہونے کے حلیم و غفور بھی ہے مجرمین کے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔
کما قال تعالی۔ لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا۔ ان کے شرک کا مقتضی تو یہ تھا کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں لیکن اللہ کے حلم کی وجہ سے تھمے ہوئے ہیں جیسا کہ ان آیات کے اخیر میں ہے۔ انہ کان حلیما…
Read the full tafseer →37:۔ قل ارءیتم الخ : یہ دلائل مذکورہ کا دوسرا تفصیلی ثمرہ ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر غیر اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہو۔ اور حاجات میں غیر اللہ کو کیوں پکارتے ہو۔ بتاؤ تو سہی جن خود ساختہ معبودوں کو تم پکارتے ہو ان کے عبادت اور پکار کے لائق ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ ارونی ماذا الخ : یہ عقلی دلیل کا مطالبہ ہے یعنی مستحق عبادت تو صرف وہی ہوسکتا ہے جو خالق ہو۔ تو کیا تمہارے ان معبودوں نے زمین کا کوئی خطہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق ہی میں ان کا کوئی حصہ ہے ذرا دکھاؤ تو اعبدتموہم لان لہم شکرۃ فی خلق السموات ام خلقوا من الارض شیئا (قرطبی ج 14 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ربط آیات
گزشتہ درس میں انذار کا مضمون ذکر ہوا تھا۔ قرآن کے ورثاء تین قسم کے آدمی ہیں۔ بعض وہ ہیں جو صغائر و کبائر کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں جب کہ تیسرا گروہ وہ ہے جو بھلائیوں میں سبقت کرتا ہے۔ یہ سارے گروہ اہل اسلام حاملین قرآن ہیں۔ پھر اللہ نے نیکی کرنے والوں کے انعامات کا ذکر کیا اور کفر کرنے والوں کے عذاب اور ان کی چیخ و پکار کو بیان کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ تمہیں دنیا میں کتنی عمر تک مہلت دی تھی۔ اس مہلت کے دوران تمہارے پاس اللہ کے نبی بھی آئے جو تمہیں ڈر سناتے رہے ، اللہ کی وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں آگاہ کرتے رہے۔ انسانی زندگی کے…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0 ۭ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ 0 ۚ اَمْ اٰتَيْنٰہُمْ كِتٰبًا فَہُمْ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْہُ 0 ۚ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا 40
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قل ارئیتم شرکاء الخ یہاں سے پھر توحید کا مسئلہ شروع کرتا ہے اور مشرکوں کو صریح الزام دیتا ہے کہ ان سے دریافت کرو کہ تمہارے ان معبودوں نے آسمانوں اور زمین میں سے کون سی چیز بنائی ہے ؟ یا ان کا کوئی حصہ ہے یا تمہارے پاس کوئی آسمانی سند ہے کہ اللہ نے کتاب آسمانی میں یہ بات بتلادی ہو ؟ صرف تمہارے ڈھکوسلے ہیں کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے تھے، بلکہ خدا یا مہادیو اور بشن اور برہما دنیا کے پیدا کرنے میں شریک تھے یا یہ کہ رزق روزی فلاں دیتا ہے۔ بیماری فلاں دفع کرتا ہے بلکہ ان اللہ یمسک السمٰوٰت والارض الخ اللہ ہی اپنے ید قدرت سے آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اور اگر وہ بگڑ جاویں یا اپنی…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ج اَمْ اٰتَیْنٰـھُمْ کِتٰبـًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ ج بَلْ اِنْ یَّعِدُالظّٰلِمُوْنَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا اِلاَّ غُرُوْرًا۔ (فاطر : 40)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، کیا تم نے دیکھا ہے اپنے ان شریکوں کو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھائو، انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا ان کی آسمانوں میں کوئی حصہ داری ہے یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دے رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان نے نا صرف اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے بلکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر اپنے خلیفہ ہونے کی بھی توہین کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں حکمرانی عطا فرمائی اور زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگایا (الجاثیۃ : 31) اور اسے حکم دیا کہ میرے سوا تو نے کسی کے سامنے نہ جھکنا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا۔ مگر بیشمار لوگوں نے صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی بجائے اس کے شریک بنائے، اور ذات کبریاء کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے اپنی فریادیں رکوع و سجود اور نذر ونیاز پیش کیے اور ان کا حکم مانا۔ ایسے لوگوں کو چیلنج کے…
Read the full tafseer →جب خلقت میں ان کا حصہ نہیں تو عبادت میں کیسے شریک ہوگئے :
40: قُلْ اَرَئَ یَتُمْ شُرَکَآ ئَ کُمُ (آپ کہیے تم اپنے مقرر کردہ شرکاء کا حال تو بتلائو) تمہارے وہ مجوزہ معبود جن کو تم نے عبادت میں حصہ دار بنا رکھا ہے۔ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا (جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو یعنی مجھے یہ بتلائو کہ انہوں) خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ (نے زمین کا کونسا جزوبنایا ہے)
نحو : أرایتم سے یہ بدل ہے۔ کیونکہ أرایتم کا معنی یہ ہے تم مجھے بتلائو۔ گویا اس طرح فرمایا گیا اخبرونی عن ھٰؤلاء الشرکاء و عما استحقوا بہٖ الشرکۃ ارونی ای جزء من اجزاء الارض استبدوا بخلقہ دون…
Read the full tafseer →40، قل ارائیتم شرکاء کم الذین تدعون من دون اللہ ، یعنی تم نے میرے شریک بتوں کو ٹھہر الیا ہے ۔ ، ارونی ماذا خلقوامن الارض ام لھم شرک فی السموات ام اتینا ھم کتابا، مقاتل نے کہا یعنی ہم نے کفار مکہ کو کوئی ایسی کتاب دی ہے جو ظاہرکررہی ہو کہ جن معبودوں کو انہوں نے شرکاء بنارکھا ہے وہ شریک ٹھہرائے گئے ہیں ؟ ، فھم علی بینت ، بیہ واحد ہے اور دوسرے قراء نے اس کو جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی واضح ولائل۔ ، بل ان یعد، صرف دھوکے کی باتیں کرتے ہیں۔ ، الظالمون بعضھم بعضا الا غرورا، غرور جو انسان کسی کو دھو کہ دے جس بات کی کوئی اصل موجودنہ ہو۔ مقاتل کا بیان ہے جو وعدہ شیطان نے بنی آدم کے کفار کے ساتھ کیا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ اوپر فرما نبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن کا انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب د ان ہے اس لیے اس نے اپنے علم غیب کے موافق ابھی سے لوگوں کو قیامت کے انجام سے ہو شیار کردیا اور اس کو دلوں کی بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزا وسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رو سکتی پھر فرمایا پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شرک سے اللہ تعالیٰ کس قدر نیرار ہے اور شرک کے سبب سے…
Read the full tafseer →آیت 40
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی بےبسی، ان کے نقص اور ہر لحاظ سے ان کے شرک کے بطلان کو واضح کرتے ہئے فرماتا ہے : (قل) یعنی اے رسول ! ان سے کہہ دیجیے : (ارء یتم) مجھے اپنے شریکوں کے بارے میں آگاہ کرو (الذین تدعون من دون اللہ) ” جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو “ کیا وہ دعا اور عبادت کے مستحق ہیں ؟ (ارونی ماذا خلقوا من الارض) ” مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے ؟ “ آیا انہوں نے سمندروں کو پیدا کیا ہے یا پہاڑوں کو ؟ انہوں نے حیوانات کو پیدا کیا ہے یا جمادات کو ؟ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان تمام چیزوں کا خلاق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کیا تمہارے خود ساختہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھ داری کی عمر
قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…
Read the full tafseer →89 مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء کی بےحقیقتی : سو مشرکوں سے انکے خود ساختہ شریکوں کی بےحقیقتی کے بارے میں یہ اہم سوال کیا گیا کہ " کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا زمین میں یا ان کا کوئی حصہ ہے آسمانوں میں " ؟۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں کہ نہ تو انہوں نے کسی چیز کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی آسمان و زمین کے کسی حصے میں یہ خدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ تو پھر آخر عقل و نقل کی کون سی دلیل ان کو پوجنے پکارنے کا جواز مہیا کرسکتی ہے ؟ سو اس استفہام کے ذریعے مشرکوں کے ان خودساختہ شریکوں کی بےحقیقی واضح فرما دی گئی ہے کہ اپنے ان من گھڑت اور بےحقیقت شرکاء کے بل پر تم لوگ جو خداوند قدوس کی گرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45:
اسرار و معارف :
یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…
Read the full tafseer →ف 1 جس کی بناء پر تم یہ سمجھو کہ یہ خدا کی خدائی میں شریک قرار دیئے جاسکتے ہیں۔2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر حجت قائم کی ہے کہ ان معبودوں کو نہ تو آسمان و زمین کو پیدا کرنے میں کچھ دخل ہے اور نہ کسی سماوی کتاب ہی میں ان کے شریک ہونے کی کوئی دلیل موجود ہے تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ دراصل یہ اپنے پیشوائوں کے اس قول پر فریفتہ ہوگئے ہیں کہ جن کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ اللہ سے ہماری کرینگے ( یا پیر، فقیر، عوام سے جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا دامن تھام لو دنیا میں بھی سکھی رہو گے اور آخرت میں بھی وہ تمہیں خدا کے عذاب سے بچا لیں گے) سو یہ جھوٹ اور فریب ہے۔ ( سلفیہ…
Read the full tafseer →(35:40) قل ای قل یا محمد ﷺ ۔
ارایتم۔ میں ہمزہ استفہام کا ہے رایتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کیا تم نے دیکھا ؟ کیا تم دیکھتے ہو۔ الاتقان میں ہے جب ہمزہ استفہام ” رایت “ پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرونی (مجھ کو خبر دو ) کے ہوتے ہیں۔ لیکن اردو محاورہ میں لفظی معنی تقریبا وہی رکھتے ہیں جو اخبرونی کے ہیں۔
شرکائکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے شریک۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے (یعنی ذرا اپنے ان شریکوں کے متعلق تو بتائو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو) شرکاء سے مراد بت ہیں۔
ارونی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں)
تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔
کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
(ف 1) اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن انجام کا ذکر فرماکران آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس لیے اس نے اپنے علم کے موافق ابھی سے لوگوں خو قیامت کے انجام سے ہوشیار کردیا اور اس کو دلوں کا بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزاوسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام، یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر فرمایا کہ پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرکے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا، اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی بستیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہے کہ اللہ کی نافرمانی سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
خلافت کا اعزاز
1: اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلافت کے اعزاز سے نوازنا ہے ۔ اور کائنات میں اس کے رتبہ کو سب سے بلند رکھا ہے ۔ اس لئے اس سے توقع ہے کہ یہ اقوام صالحہ کا صحیح معنوں میں جانشین ہوگا ۔ یا صفات الٰہیہ کا پورے طور پر مظہر ہوگا ۔ زمین کی قیادت اس کے سپرد ہے ۔ اور ساری کائنات اس کے مسختر ہے ۔ مگر یہ ہے کہ شرک وکفر کی پستیوں اور ذلتوں میں گرفتار ہے ۔ فرمایا ۔ تم یہ سمجھ لو کہ تمہاری گمراہی سے صرف تمہیں نقصان پہنچے گا ۔ اور صرف تم اللہ کی ناراضی اور غضب خریدوگے ۔ کیونکہ کفر کی فطرت ہی میں گھاٹا اور خسارہ ہے ۔ اس لئے ناممکن ہے ۔ کہ تم اس کو اختیار کرے دین اور دنیا کی بہتری حاصل کرسکو
حل لغات…
Read the full tafseer →(40) اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے بھلا تم نے اپنے خودساختہ شریکوں کو دیکھا بھی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کو تم پکارا کرتے ہو۔ ذرا مجھ کو بھی تو بتائو اور ذرا مجھ کو بھی تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ بنایا ہے اور زمین سے انہوں نے کیا بنایا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے یا ہم نے ان مشرکوں کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل اور حجت پر قائم ہیں کچھ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم جو آپس میں ایک دوسرے کو امیدیں دلاتے ہیں وہ صرف دھوکا ہی دھوکا ہے۔ یعنی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو ان کا حال تو بیان کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 4۔ تاکہ دلیل عقلی سے ان کا استحقاق عبادت ثابت ہو۔
5۔ اصل یہ ہے کہ نہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی ہے۔
6۔ ان کے بڑوں نے ان کو بےسد غلط بات بتلادی کہ ھولاء شفعائنا عنداللہ حالانکہ واقع میں وہ محض بےاختیار ہیں، پس وہ مستحق عبادت بھی نہیں، البتہ مختار مطلق حق تعالیٰ ہے، تو وہی قابل عبادت بھی ہے۔
Read the full tafseer →جن لوگوں کو تم نے میرا شریک بنایا ہے ان کی کوئی تخلیق ؟ نہیں ! تو شرکت نامہ کی تحریر ؟
40 ۔ سوال کیا ہے ؟ یہ کہ اے پیغمبر اسلام ان سے پوچھو کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا ہے جنہیں تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ” اپنے شریکوں کو ؟ “ ہاں ! اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہ تھا ، ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا لیکن اس کے باوجود آخر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا شریک بنائے۔ یہ سوال کن لوگوں سے ہے ؟ اس وقت قریش مکہ سے اور اس وقت کے سارے دوسرے پرستاروں سے تھا خواہ کسی کی پرستش کرتے اور کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ پھر ہم سے ہے جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں اور پھر ان لوگوں سے ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
Commentary
The word: خَلَائِفَ (khala'if) in verse 39: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ (He is the One who has made you successors (of the past generations) in the earth.) is the plural of: خَلِیفَہ (khalifah) which means deputy or vice-regent. The general sense is that Allah Ta’ ala has let human beings have lands and houses that keep passing on from one to the other. In this phenomena, there is a great lesson - turn to Allah. Then, the statement could also be taken to have been addressed to the ummah of the Holy Prophet t saying, 'After past communities, We made you take…
Read the full tafseer →66 "Associates of yours", because they are not in fact the associates of Allah, but the ones whom the polytheists themselves have made associates of Allah.
67 That is, "Do they possess a written sanction from Us in which We might have indicated that We have given such and such persons the powers to heal the sick, or to get jobs for the jobless, or to fulfil needs of the needy, or that We have made such and such beings Our representatives in such and such parts of the earth and now it is in their hands to make or mar the destinies of the people of those parts; therefore, Our servants now…
Read the full tafseer →