Faatir 35:39

Faatir · from ayah 39

35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِی الْاَرْضِ ؕ— فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ ؕ— وَلَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا ۚ— وَلَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا ۟هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَـكُمۡ خَلٰٓئِفَ فِى الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ ؕ وَلَا يَزِيۡدُ الۡـكٰفِرِيۡنَ كُفۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ اِلَّا مَقۡتًا ۚ وَلَا يَزِيۡدُ الۡـكٰفِرِيۡنَ كُفۡرُهُمۡ اِلَّا خَسَارًا

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who has made you successors upon the earth. And whoever disbelieves - upon him will be [the consequence of] his disbelief. And the disbelief of the disbelievers does not increase them in the sight of their Lord except in hatred; and the disbelief of the disbelievers does not increase them except in loss.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:39

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (پچھلے لوگوں کا) جانشین بنایا۔ اب جو شخص کفر کرے گا تو اس کا کفر اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے پاس غضب کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کرتا، اور کافروں کو ان کے کفر سے خسارے کے سوا کسی چیز میں ترقی حاصل نہیں ہوتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا تو جو کفر کرے اس کا کفر اسی پر پڑے اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنایا، پس جس نے کفر کیا سو اس کا وبالِ کفر اسی پر ہوگا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر اُن کے رب کے حضور سوائے ناراضگی کے اور کچھ نہیں بڑھاتا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر سوائے نقصان کے کسی (بھی) اور چیز کا اضافہ نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا، پھر جس نے کفر کیا تو اس کا کفر اسی پر ہے اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے ہاں ناراضی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے ہاں خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا۔ پھر جو کوئی کفر کرے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے۔ اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے ہاں اس کا غضب ہی بڑھاتا ہے یا پھر ان کافروں کا کفر خسارے میں ہی اضافہ کرتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے تم کو زمین میں جانشین بنایا تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر آئے گا اور کافروں کے لئے ان کا کفر، ان کے رب کے نزدیک، اس کے غضب کی زیادتی ہی کا موجب ہوگا اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ وہی ہے جس نے تم لوگوں کو خلیفہ (اور جانشین) بنایا اپنی زمین میں سو جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال خود اسی پر ہوگا اور کافروں کا کفر ان کے رب کے یہاں ناراضگی ہی میں اضافہ کرتا ہے اور کافروں کے لئے ان کا کفر خسارے (اور گھاٹے) ہی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہی ایسا ہے جس نے تمہیں زمین میں آباد کیا سو جو کوئی کفر کرے گا اس کا کفر اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کے لئے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی تو ہے جس نے تمہیں جانشین بنایا زمین میں تو جس کسی نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک سوائے غضب کے کسی چیز میں اضافہ نہیں کرے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں جانشین بنایا تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا نقصان اسی کو ہے، اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کفار کو ان کا کفر ہی زیادہ نقصان دیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who made you vicegerents in the earth. So whoever disbelieves will bear the burden of his unbelief. The unbelievers' unbelief adds nothing but Allah's wrath against them. The unbelievers' unbelief adds nothing but their own loss.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has made you successors (of the past generations) on the earth. So the one who becomes infidel, his infidelity will go against himself. Their infidelity adds nothing to the infidels but anger from their Lord, and their infidelity adds nothing to the infidels but loss.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has made you successors (of the past generations) on the earth. So the one who becomes infidel, his infidelity will go against himself. Their infidelity adds nothing to the infidels but anger from their Lord, and their infidelity adds nothing to the infidels but loss.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who has made you successors generations after generations in the earth, so whosoever disbelieves, on him will be his disbelief. And the disbelief of the disbelievers adds nothing but hatred of their Lord. And the disbelief of the disbelievers adds nothing but loss.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath made you regents in the earth; so he who disbelieveth, his disbelief be on his own head. Their disbelief increaseth for the disbelievers, in their Lord's sight, naught save abhorrence. Their disbelief increaseth for the disbelievers naught save loss.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who has made you successors upon the earth. And whoever disbelieves - upon him will be [the consequence of] his disbelief. And the disbelief of the disbelievers does not increase them in the sight of their Lord except in hatred; and the disbelief of the disbelievers does not increase them except in loss.

— Saheeh International

It is He who has made you each other's successors on earth. Whoever disbelieves, does so against his own self. The disbelief of the unbelievers will only increase the anger of their Lord and will only cause them greater loss.

— Muhammad Sarwar

He it is Who made you rulers in the land; therefore whoever disbelieves, his unbelief is against himself; and their unbelief does not increase the disbelievers with their Lord in anything except hatred; and their unbelief does not increase the disbelievers in anything except loss.

— Muhammad Habib Shakir

He it is who hath made you successors in the earth. So whosoever disbelieveth, on him will befall his infidelity. And for the infidels their infidelity increaseth with their Lord naught save abhorence. And for the infidels their infidelity increastth naught save loss.

— Abdul Majid Daryabadi

He it is That has made you inheritors in the earth: if, then, any do reject (Allah), their rejection (works) against themselves: their rejection but adds to the odium for the Unbelievers in the sight of their Lord: their rejection but adds to (their own) undoing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–39

وسیع العلم اللہ تعالیٰ کا فرمان۔ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان اور زیاں ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 64 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس نے پچھلی نسلوں اور قوموں کے گزر جانے کے بعد اب تم کو ان کی جگہ اپنی زمین میں بسایا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس نے تمہیں زمین میں تصرف کے جو اختیارات دیے ہیں وہ اس حیثیت سے نہیں ہیں کہ تم ان چیزوں کے مالک ہو، بلکہ اس حیثیت سے ہیں کہ تم اصل مالک کے خلیفہ ہو۔ سورة فَاطِر 65 اگر پہلے فقرے کا یہ مطلب لیا جائے کہ تم کو پچھلی قوموں کا جانشین بنایا ہے تو اس فقرے کے معنی یہ ہوں گے کہ جس نے گزشتہ قوموں کے انجام سے کوئی سبق نہ لیا اور وہی کفر کا رویہ اختیار کیا جس کی بدولت وہ قومیں تباہ ہوچکی ہیں، وہ اپنی اس حماقت کا نتیجہ بد دیکھ کر رہے گا۔ اور اگر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–40

معارف و مسائل (آیت) ہوالذی جعلکم خلئف فی الارض، خلائف خلیفہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نائب اور قائم مقام۔ مراد یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو یکے بعد دیگرے زمین و مکان وغیرہ کا مالک بنایا ہے ایک جاتا ہے تو دوسرے کو اس کی جگہ ملتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے لئے بڑی عبرت ہے۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خطاب امت محمدیہ کو ہو کہ ہم نے پچھلی قوموں کے بعد ان کے خلیفہ کی حیثیت سے تم کو مالک و متصرف بنایا ہے، لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو، عمر کے قیمتی لمحات کو غفلت میں نہ گزارو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

8۔ آگے کا مضمون۔ آیات 39۔ 45 آگے کی آیات میں مشرکین عرب کو دھمکی ہے کہ تم اس ملک میں پہلی قوم نہیں ہو بلکہ پچھلی قوموں کے جانشین ہو تو ان کے حالات اور انجام سے سبق لو۔ اگر وہ قوت و شوکت میں تم سے بڑھ کر ہونے کے باوجود رسولوں کی تکزیب کے جرم میں تباہ کردی گئیں تو اسی جرم کا ارتکاب کرکے خدا کے قہر و غضب سے تم کس طرح بچ جائو گے ؟ خدا کا قانون تو ہر قوم کے لئے ایک ہی ہے، اس میں کوئی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ یاد رکھو کہ آسمان و زمین تمہارے ان معبودوں کے تھامے نہیں تھمے ہوئے ہیں بلکہ خدا ہی کے تھامے تھمے ہیں۔ اگر خدا ان کو درہم برہم کر دے تو کوئی دوسرا انکو نہیں سنبھال سکتا۔ تمہاری سرکشی کے باوجود اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 یعنی اللہ کے ہاں کفر کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، بلکہ اس سے اللہ کے غضب اور ناراضگی میں بھی اضافہ ہوگا اور انسان کے اپنے نفس کا خسارہ بھی زیادہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–39

10: انسان کو اوسطاً جتنی عمر دی جاتی ہے، وہ اتنی طویل ہے، اور اس میں انسان اتنے مختلف مراحل سے گزرتا ہے کہ اگر وہ واقعی حق تک پہنچنا چاہے تو پہنچ سکتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے والے بھی اسی عمر کے دوران آتے رہتے ہیں، خبر دار کرنے والے سے مراد انبیاء کرام اور اس امت کے لئے آنحضرت ﷺ ہیں جنہوں نے انسان کو آخرت کے عذاب سے آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ اور ہر دور میں علماء بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہے ہیں، اور بعض مفسرین نے خبردار کرنے والے کی تفسیر یہ کی ہے کہ انسانی عمر کے مختلف مرحلوں پر جو چیزیں موت کی یاد دلاتی ہیں یہاں خبر دار کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 204 ایک نظر میں یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اور یہ وسیع مطالعاتی اسفار پر مشتمل ہے۔ اس میں جابجا دل و دماغ کو تیز احساس دلایا گیا ہے اور اشارات و ہدایات دی گئی ہیں۔ انسان کی تاریخ کی طویل وادی میں دور تک یہ سفر ہے ، جس میں بیشمار نشیب و فراز آتے ہیں۔ بعض اقوام و ملل کیا اور بعض کچھ ہیں۔ پھر زمین و آسمان کا ایک سفر بھی اس میں ہے جس میں سعی بسیار کے باوجود اللہ کا کوئی شریک اور ہمسر نہ ملا۔ پوری کائنات کو چھان مارا۔ پھر ایک سفر اس مطالعہ کے لیے ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے کس طرح تھام رکھا ہے وہ مہین توازن کیا ہے جس کی وجہ سے کائنات کے یہ دیوہیکل کرے باہم نہیں ٹکراتے۔ پھر ایک سفر اس قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگلی امتوں کی جگہ تم کو زمین پر آباد کیا اور ان کے بعد ریاست دی۔ چاہیے اب اس کا حق ادا کرو۔ 5 یعنی کفر و ناشکری اور اللہ کی آیات کے انکار سے اس کا کچھ نقصان نہیں۔ وہ ہماری حمد و شکر سے مستغنی ہے۔ البتہ ناشکری کرنے والے پر اس کے فعل کا وبال پڑتا ہے۔ کفر کا انجام بجز اس کے کچھ نہیں کہ اللہ کی طرف سے برابر ناراضی اور بیزاری بڑھتی جائے اور کافر کے نقصان و خسران میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ } ”وہی تو ہے جس نے تمہیں جانشین بنایا زمین میں۔“ { فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ } ”تو جس کسی نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا۔“ { وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلَّا مَقْتًاج } ”اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک سوائے غضب کے کسی چیز میں اضافہ نہیں کرے گا۔“ { وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُہُمْ اِلَّا خَسَارًا } ”اور کافروں کے لیے ان کا کفر سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھائے گا۔“ ان کے کفر کے سبب ان کے خلاف اللہ کے غصے اور اس کی بےزاری میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح ان کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

43 انسان زمین میں خلیفہ کس کا ہے ؟ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم سے پہلی قوم کو ان کے جرم کی پاداش میں ہلاک کرکے تمہیں ان کا جانشین بنایا۔ دوسرا یہ کہ تم سے پہلی نسل مرگئی تو ان کی جگہ تم ان کے جانشین ہوئے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کا اور اسی طرح اس زمین کا اصل مالک اور حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور تمہیں اس کے نائب کی حیثیت سے یہاں بھیجا گیا ہے۔ اور اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اس کی عطا کردہ چیزوں کو اسی کے حکم اور اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہو۔ یا اس کے باغی بن کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہو۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات کا اس کی مرضی کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ یہاں کفر اور اہل کفر سے متعلق تین حقیقتیں بیان ہوئی ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... کفرہ “۔ کفر کا وبال اسی کافر ہی پر پڑتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے پر۔ پہلی حقیقت یہ ہوئی۔ اے وبال کفرہ لایتعدی الی غیرہ (ابوسعود) (آیت) ” ولا ....... مقتا “۔ اہل کفر ڈھیل پاکر اپنے کفر پر نازاں نہ ہوں۔ حق تعالیٰ کے ہاں ان کے ہر کفر سے انکی مغضوبیت اور معتوبی اور بڑھتی جاتی ہے۔ اور اس کا تحقق اسی دنیا میں ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” ولا ....... خسارا “۔ کفر سے اہل کفر کا خسارہ آخرت میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اور وہ خسارہ کیا ہے ؟ جنت سے محرومی، اور دوزخ میں دخول۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–45

آیت نمبر 38 تا 45 ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض فمن کفر فعلیہ کفرہ ولا یزید الکفرین کفرھم عندربھم الا مقتا ولا یزید الکفرین کفرھم الاخسارا . وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا ‘ سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کیلئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کیلئے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھاتا ہے۔ خلائف ‘ خلیفہ کی جمع ہے اور خلفاء ‘ خلیف کی یعنی بعض انسان بعض کے جانشین ہوتے ہیں ‘ اس صورت میں تمام انسان مخاطب ہوں گے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے تم کو ایک ایسی امت بنایا جو پچھلی امتوں کے بعد آئی ہے اور گذشتہ امتوں کے احوال اس امت کیلئے عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہی ایسا ہے اے امت محمدیہ جس نے تمہیں پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد زمین پر آباد کیا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔ اور نیز کافروں کے لیے ان کا دنیوی کفر آخرت میں خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ ۭ : اس کے انعام اور اپنے کفر اور ناشکری پر غور کرو، اس کا احسان دیکھو کہ اس نے پہلی نسل کو فوت کرکے تمہیں اس کی جگہ زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا مالک بنادیا۔ (خلیفہ کا مطلب سمجھنے کے لیے سورة بقرہ کی آیت (30) ”اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً“ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) اگر ہر آنے والی نسل کے ساتھ پہلی تمام نسلیں بھی موجود رہتیں تو زمین میں نہ رہنے کی گنجائش رہتی، نہ ان کی ضروریات پوری ہوتیں۔ اس احسان کا بدلا تم نے یہ دیا کہ اس کی ناشکری کی، اس کا احسان ماننے سے انکار کیا اور اس کے ساتھ شریک بنا لیے، جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا، نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض قتادہ نے کہا : نائب کے بعد نائب، قوم کے بعد قوم۔ خلف سے مراد متقدم کے بعد آنے والا ہوتا ہے، اسی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا گیا : اے اللہ کے خلیفہ ! میں تو اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ میں تو رسول اللہ کا خلیفہ ہوں اور میں اس پر راضی ہوں (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 477) ۔ آیت : فمن کفر فعلیہ کفرہ یعنی اس پر کفر کی جزا ہے اس سے مراد عقاب اور عذاب ہے۔ آیت : ولا یذید الکفرین کفرھم عند ربھم الا مقتا، مقت سے مراد بغض اور غضب ہے۔ آیت : و لا یذید الکفرین کفر ھم الا خسارا، خسارا سے مراد ہلاکت اور گمراہی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر جو ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ (وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا) یعنی امت کے بعد ایک امت بنایا۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ سے مراد ہے کہ امت کے بعد ایک امت بنایا اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم بنایا (آیت) ” ارونی ما ذا خلقوا من الارض “ (مجھے بتاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا) یعنی کوئی چیز (پیدا نہیں کی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میں سے پیدا فرمایا (آیت) ” ام لھم شرک فی السموت “ (کیا آسمانوں میں ان کی کوئی شراکت ہے) نہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جس نے ] جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ [بنایا تم کو خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ ۭ [زمین میں ] فَمَنْ كَفَرَ [تو جس نے کفر کیا ] فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ ۭ [تو اس پر ہے اس کا کفر ] وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [اور زیادہ نہیں کرتا کافروں کو ] كُفْرُهُمْ [ان کا کفر ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ان کے رب کے پاس ] اِلَّا مَقْتًا ۚ [سوائے بیزاری کے ] وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [اور زیادہ نہیں کرتا کافروں کو ] كُفْرُهُمْ [ان کا کفر ] اِلَّا خَسَارًا [سوائے خسارے کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کفر کا وبال اہل کفر ہی پر پڑے گا، کافر آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں، آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ ہی روکے ہوئے ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم وقدرت کو بیان فرمایا ہے اور مشرکوں اور کافروں کی گمراہی اور بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم ہے یعنی جو چیزیں مخلوق کے علم سے غائب ہیں وہ ان سب کو پوری طرح جانتا ہے۔ دوم یہ فرمایا کہ وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ سوم یہ فرمایا کہ تم لوگوں کو اس نے زمین میں خلیفہ بنایا ہے یعنی تم سے پہلے جو لوگ زمین میں رہتے اور بستے تھے ان کے بعد تمہیں بسا دیا، سارے انسانوں پر لازم ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–41

بیان علم وحلم خداوندی قال اللہ تعالی۔ ان اللہ عالم غیب السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان حلیما غفورا۔ (ربط) اوپر اکثر آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک اور دلائل قدرت اور صفات کمال کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اور اپنے حکم بیان کرتے ہیں کہ وہ باوجود علیم وقدیر ہونے کے حلیم و غفور بھی ہے مجرمین کے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ کما قال تعالی۔ لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا۔ ان کے شرک کا مقتضی تو یہ تھا کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں لیکن اللہ کے حلم کی وجہ سے تھمے ہوئے ہیں جیسا کہ ان آیات کے اخیر میں ہے۔ انہ کان حلیما…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

36:۔ ھو الذی الخ : یہ ترغیب الی الایمان مع تخویف اخروی ہے۔ تمہارے باپ دادے کی جگہ اللہ نے اب تمہیں زمین کا وارث بنایا اور ان کا جانشین بنایا ہے۔ اس لیے اگر تم نے بھی ناشکری کی اور شرک کیا تو اس کی سزا پاؤ گے۔ یاد رکھو جس قدر زیادہ کفر کرو گے اسی قدر زیادہ اللہ کے قہر و غضب کے مستحق بنو گے اور اسی قدر زیادہ خسارے اور نقصان میں رہوگے۔ اس لیے اگر اللہ کے عذاب سے، اس کے قہر و غضب سے اور خسارہ آخرت سے بچنا چاہتے ہو تو اس کی توحید پر اور تمام ضروریات دین پر ایمان لے آؤ اور اس کے فرمانبردار بندے بن جاؤ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

ربط آیات گزشتہ درس میں انذار کا مضمون ذکر ہوا تھا۔ قرآن کے ورثاء تین قسم کے آدمی ہیں۔ بعض وہ ہیں جو صغائر و کبائر کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں جب کہ تیسرا گروہ وہ ہے جو بھلائیوں میں سبقت کرتا ہے۔ یہ سارے گروہ اہل اسلام حاملین قرآن ہیں۔ پھر اللہ نے نیکی کرنے والوں کے انعامات کا ذکر کیا اور کفر کرنے والوں کے عذاب اور ان کی چیخ و پکار کو بیان کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ تمہیں دنیا میں کتنی عمر تک مہلت دی تھی۔ اس مہلت کے دوران تمہارے پاس اللہ کے نبی بھی آئے جو تمہیں ڈر سناتے رہے ، اللہ کی وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں آگاہ کرتے رہے۔ انسانی زندگی کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْہِ كُفْرُہٗ۝ 0 ۭ وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلَّا مَقْتًا۝ 0 ۚ وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُہُمْ اِلَّا خَسَارًا۝ 39 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ خلف والخِلافةُ النّيابة عن الغیر إمّا لغیبة المنوب عنه، وإمّا لموته، وإمّا لعجزه، وإمّا لتشریف المستخلف . وعلی هذا الوجه الأخير استخلف اللہ أولیاء ه في الأرض، قال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–39

ترکیب : عالم غیب قرء الجمہور بالاضافۃ وقریٰ بالتنوین ونصب غیب خلائف جمع خلیفۃ ویقال للمستخلف خلیفۃ و خلیف و یجمع الاول علی خلائف والثانی علی خلفاء ارونی بدل اشتمال من أَرأیتم ارونی ای شی خلقوا من الارض وقیل أَرأیتم وارونی تنازعا فی الفعل وقد اعمل الثانی علی قول البصریین، ام لہم و ام اٰتیناھم الضمیر یعو والی الشرکاء وام فی الموضعین منقطقہ بمعنی بل والھمزۃ فھو اضراب عن استفہام و شروع فی استفہام آخر ان تزدلا ای عن ان تزولا ویجوزان یکون مفعولا لہ ای مخالفۃ ان تزولا۔ تفسیر : کافر جو دوزخ میں کہیں گے، ہم کو باردگر دنیا میں بھیج دے کہ اچھے کام کریں گے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ان اللہ اعلم غیب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ ط فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ط وَلاَ یَزِیْدُالْـکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلاَّ مَقْتًا ج وَلاَ یَزِیْدُالْـکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ اِلاَّ خَسَارًا۔ (فاطر : 39) (وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا، تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک زیادہ نہیں کرتا، مگر اس کی ناراضگی میں، اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا۔ ) اللہ تعالیٰ کا عدل بےلاگ ہے اس آیت کے پہلے جملے میں ” خلائف “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو خلیفہ کی جمع ہے۔ اس کا معنی جانشین بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جہنمی فریاد پر فریاد کریں گے کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ہم صالح اعمال کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کو مستر کردے گا۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غیب ہی نہیں جانتا بلکہ وہ تو لوگوں کے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ماضی، حال اور مستقبل سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جہنمی دنیا میں واپس جاکر وہی اعمال کریں گے جن سے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور دین کے مبلغین منع کیا کرتے تھے اس لیے ان کی آہ وزاریوں کو مسترد کردیا جائے گا۔” اللہ “ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بنانے والا اور ان تک اپنے احکام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

زمین میں منافع شکر گزاری کے لئے ہے ناشکری اس کی ناراضی کا سبب ہے : 39: ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓپفَ فِی الْاَرْضِ (وہی ایسا ہے کہ جس نے تم کو زمین میں آباد کیا) بعد میں آنے والے کو خلیفہ کہا جاتا ہے اور اس کی جمع خلائف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں اپنی زمین میں نائب بنایا۔ اس میں تصرف کی چابیوں کا تمہیں مالک بنایا۔ اور جو کچھ زمین میں ہے اس پر تمہیں غلبہ دیا اور زمین کے منافع تمہارے لیے مباح کردیے تاکہ تو حیدو طاعت سے اس کے شکرگزار بنو۔ فَمَنْ کَفَرَ (جو شخص کفر کرے گا) تم میں سے اور اس جیسی عمدہ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کرے گا۔ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ (اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 39۔ ، ھو الذی جعل کم خلائف فی الارض، بعض انسان بعض کے جانشین ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اللہ نے تم کو ایک ایسی امت بنایاجوپچھلی امتوں کے بعد آئی۔ ، فمن کفر فعلیہ کفرہ ، ان پر ان کے کفر کا وبال ، ولا یزید الکافرین کفرھم عند ربھم الا مقتا، اس سے مراد غضب ہے۔ ولا یزید الکافرین کفرھم الا خسارا،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–40

38 تا 40۔ اوپر فرما نبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن کا انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب د ان ہے اس لیے اس نے اپنے علم غیب کے موافق ابھی سے لوگوں کو قیامت کے انجام سے ہو شیار کردیا اور اس کو دلوں کی بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزا وسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رو سکتی پھر فرمایا پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شرک سے اللہ تعالیٰ کس قدر نیرار ہے اور شرک کے سبب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 39 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمتکاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا وق در سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کئے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہوسکتی ہے ؟ (ولا یزید الکفرین کفرھم الاخسارا) ” اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔ “ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھ داری کی عمر قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

87 اللہ تعالیٰ کا قانون عدل و انصاف سب کے لیے یکساں : سو ارشاد فرمایا گیا " وہ ۔ اللہ ۔ وہی ہے جس نے جانشین بنایا تم لوگوں کو اپنی اس زمین میں "۔ " خلٓیِف "، " خلیفہ " کی جمع ہے جس کے معنیٰ نائب اور جانشین کے ہیں۔ اور یہ دونوں ہی معنیٰ یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک نے تمہیں اپنا نائب اور خلیفہ بنادیا تاکہ تم لوگ اس کی زمین میں اس کے احکام نافذ کرو۔ پس تم آزاد اور خود مختار نہیں ہو کہ جو مرضی کرو۔ بلکہ تم اپنے اس خالق ومالک کے احکامات و ارشادات کے پابند ہو کہ خلیفہ اپنے احکام نہیں چلایا کرتا۔ بلکہ وہ اس ہستی کے حکم و ارشاد کا پابند ہوتا ہے جس نے اس کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45: اسرار و معارف : یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی پچھلی نسلیں ختم ہوگئیں تو تم نے ان کی جگہ لے لی اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی رسولوں کے پیچھے تمہیں ریاست دی یا اگلی امتوں کے پیچھے اب اس کا حق ادا کرو “۔6 یعنی جو اس نعمت ( خلافت) کی ناشکری کرے۔ نہ حق بندگی ادا کرے اور نہ گزشتہ قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرے تو اس کی ناشکری کا وبال اسی پر پڑے گا۔ کسی دوسرے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 37–39

(35:37) یصطرخون۔ مضارع جمع مذکر غائب اصطراخ (افتعال) مصدر افتعال کی تا کو طا سے بدلا گیا ہے وہ چیخیں گے ۔ وہ چلائیں گے ۔ وہ فریاد کریں گے۔ اور جگہ قرآن مجید ہے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ (28:18) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ اور وان نشا نغرقہم فلا صریخ لہم (36:43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پس ان کا کوئی فریادرس نہ ہو۔ نعمل مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ ہم نیک کام کریں گے۔ غیر الذی کنا نعمل برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔ اولم نعمرکم۔۔ جواب من جھتہ تعالیٰ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–41

لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں) تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–42

(ف 1) اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن انجام کا ذکر فرماکران آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس لیے اس نے اپنے علم کے موافق ابھی سے لوگوں خو قیامت کے انجام سے ہوشیار کردیا اور اس کو دلوں کا بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزاوسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام، یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر فرمایا کہ پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرکے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا، اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی بستیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہے کہ اللہ کی نافرمانی سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–40

[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–40

خلافت کا اعزاز 1: اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلافت کے اعزاز سے نوازنا ہے ۔ اور کائنات میں اس کے رتبہ کو سب سے بلند رکھا ہے ۔ اس لئے اس سے توقع ہے کہ یہ اقوام صالحہ کا صحیح معنوں میں جانشین ہوگا ۔ یا صفات الٰہیہ کا پورے طور پر مظہر ہوگا ۔ زمین کی قیادت اس کے سپرد ہے ۔ اور ساری کائنات اس کے مسختر ہے ۔ مگر یہ ہے کہ شرک وکفر کی پستیوں اور ذلتوں میں گرفتار ہے ۔ فرمایا ۔ تم یہ سمجھ لو کہ تمہاری گمراہی سے صرف تمہیں نقصان پہنچے گا ۔ اور صرف تم اللہ کی ناراضی اور غضب خریدوگے ۔ کیونکہ کفر کی فطرت ہی میں گھاٹا اور خسارہ ہے ۔ اس لئے ناممکن ہے ۔ کہ تم اس کو اختیار کرے دین اور دنیا کی بہتری حاصل کرسکو حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) وہ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے جس نے تم کو زمین میں پہلوں کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں آباد کیا جو شخص کفروانکار کی روش اختیار کرے گا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے ہاں نہیں بڑھاتا مگر بیزاری اور اشد غضب ہی بڑھاتا ہے اور کافروں کو ان کا کفر نہیں بڑھاتا مگر نقصان اور ٹوٹا ہی بڑھاتا ہے۔ یعنی جانشین کیا پہلوں کا اور تم کو زمین میں آباد کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا احسان مانو اور اس کی نافرمانی اور کفر نہ کرو اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ جو کفر اختیار کرتا ہے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک بیزاری اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ ان دلائل و نعم کا مقتضاء یہ تھا کہ استدلالا و شکرا توحید و اطاعت وختیار کرتے، مگر بعضے اس کے خلاف کفر و خلاف پر مصر ہیں۔ 3۔ کسی دوسرے کا کیا بگڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے تم کو ” خلیفۃ فی الارض “ بنایا اور تم نے خلافت کی خوب دھجیاں اڑائیں 39 ۔ جس طرح عرف عام میں پورے گھر کے افراد میں سے ایک آدمی نمبردار ہو یا چیئرمین ہو یا کوئی ممبر ہو تو پورے گھر کے لوگوں کو نمبرداروں ، چیئرمینوں یا ممبروں کا گھر یا خاندان کہا جاتا ہے اس طرح جب آدم (علیہ السلام) کو خلافت ونیابت ہی کے لئے بنایا یا تخلیق کیا گیا تو اس لحاظ سے آدم کا پورا گھرانہ یعنی نسل آدمی خلیفۃ الارض قرار پائی اور ہر قوم یا فرد کے بعد کوئی قوم یا کوئی فرد خلیفہ قرار پا گیا اور اس طرح اس دھرتی پر آباد ہونے والے انسانوں کے تصرف میں جو کچھ دیا گیا وہ فی الحقیقت اس کے اصل مالک نہیں ہیں بلکہ ان کو صرف اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–40

Commentary The word: خَلَائِفَ (khala'if) in verse 39: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْ‌ضِ (He is the One who has made you successors (of the past generations) in the earth.) is the plural of: خَلِیفَہ (khalifah) which means deputy or vice-regent. The general sense is that Allah Ta’ ala has let human beings have lands and houses that keep passing on from one to the other. In this phenomena, there is a great lesson - turn to Allah. Then, the statement could also be taken to have been addressed to the ummah of the Holy Prophet t saying, 'After past communities, We made you take…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

64 This can have two meanings: (1) "Now He has settled you on His earth after the passing away of the previous generations and nations;" and (2) "the powers and authority that He has given you over different things in the earth are not meant to make you the owners of these things but are meant to enable you to function as the representatives of their real Owner. " 65 If the previous sentence is taken to mean that you have been made successors to the previous nations, this sentence would mean this: "The one who did not learn any lesson from the fate of the previous nations and adopted the…

Read the full tafseer →