Faatir 35:38

Faatir · from ayah 38

35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيۡبِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

بےشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah is Knower of the unseen [aspects] of the heavens and earth. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:38

بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بےشک اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیده چیزوں کا، بےشک وہی جاننے واﻻ ہے سینوں کی باتوں کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ بیشک وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کا، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے خوب واقف ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ یقینا آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ وہ تو دلوں کے راز تک خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے۔ بیشک وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ ہی ہے جاننے والا آسمانوں اور زمین کے غیب کا بلاشبہ وہ پوری طرح جانتا ہے سینوں کے بھیدوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا یقینا وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے، وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah knows the Unseen in the heavens and the earth. He even knows the secrets hidden in people's breasts.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely Allah is the Knower of the unseen in the heavens and the earth. Indeed He fully knows what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely Allah is the Knower of the unseen in the heavens and the earth. Indeed He fully knows what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah is the All-Knower of the Unseen of the heavens and the earth. Verily, He is the All-Knower of that is in the breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah is the Knower of the Unseen of the heavens and the earth. Lo! He is Aware of the secret of (men's) breasts.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah is Knower of the unseen [aspects] of the heavens and earth. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

God has knowledge of whatever is unseen in the heavens and the earth. He knows best what the hearts contain.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah is the Knower of what is unseen in the heavens and the earth; surely He is Cognizant of what is in the hearts.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah is the Knower of the unseen of the heavens and the earth. Verily, He is the Knower of that which is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily Allah knows (all) the hidden things of the heavens and the earth: verily He has full knowledge of all that is in (men's) hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–39

وسیع العلم اللہ تعالیٰ کا فرمان۔ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان اور زیاں ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة فَاطِر 63 اس سے مراد ہر وہ عمر ہے جس میں آدمی اس قابل ہوسکتا ہو کہ اگر وہ نیک و بد اور حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہے تو کرسکے اور گمراہی چھوڑ کر ہدایت کی طرف رجوع کرنا چاہے تو کرسکے۔ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے اگر کوئی شخص مر چکا ہو تو اس آیت کی رو سے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ البتہ جو اس عمر کو پہنچ چکا ہو وہ اپنے عمل کے لیے لازماً جواب دہ قرار پائے گا، اور پھر اس عمر کے شروع ہوجانے کے بعد جتنی مدت بھی وہ زندہ رہے اور سنبھل کر راہ راست پر آنے کے لیے جتنے مواقع بھی اسے ملتے چلے جائیں اتنی ہی اس کی ذمہ داری شدید تر ہوتی چلے جائے گی، یہاں تک کہ جو شخص بڑھاپے کو پہنچ کر بھی سیدھا نہ ہو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ (وہی) جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دل کی باتوں کا (پس کمال علمی تو اس کا ایسا ہے، اور کمال عملی جو کہ قدرت اور نعمت دونوں پر دلالت کرتا ہے یہ ہے کہ) وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا (اور ان دلائل احسانات کا مقتضا یہ تھا کہ استدلا لاً وشکراً توحید و اطاعت اختیار کرلیتے، مگر بعضے اس کے خلاف کفر و عداوت پر مصر ہیں) سو (کسی دوسرے کا کیا بگڑتا ہے، بلکہ) جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور (اس وبال کی تفصیل یہ ہے کہ) کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضگی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے (جو دنیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 38 اس سے دو باتیں واضح فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے تمام بھیدوں کو جاننے والا ہے اس وجہ سے کوئی ان باتوں کو محض ڈراوا نہ سمجھے بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن سب کے سامنے ظاہر ہو کے رہیں گے۔ دوسری یہ کہ جو لوگ یہ فریاد کریں گے کہ اگر ان کو دوبارہ مہلت ملے تو وہ نیکی کریں گے، خدا ان کے جھوٹ کو بی جانتا ہے۔ اس طرح کی لوگوں کو اگر پھر مہلت دی جائے تو وہی کریں گے جواب تک کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38۔ 1 یہاں یہ بیان کرنے سے یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ تم دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو کر رہے ہو اور دعوٰی کر رہے ہو کہ اب نافرمانی کی جگہ اطاعت اور شرک کی جگہ توحید اختیار کرو گے۔ لیکن ہمیں علم ہے تم ایسا نہیں کرو گے۔ تمہیں اگر دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو جیسے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا ' اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا '۔ 38۔ 2 یہ پچھلی بات کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم کیوں نہ ہو، جبکہ وہ سینوں کی باتوں اور رازوں سے بھی واقف ہے جو سب سے زیادہ پوشیدہ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–39

10: انسان کو اوسطاً جتنی عمر دی جاتی ہے، وہ اتنی طویل ہے، اور اس میں انسان اتنے مختلف مراحل سے گزرتا ہے کہ اگر وہ واقعی حق تک پہنچنا چاہے تو پہنچ سکتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے والے بھی اسی عمر کے دوران آتے رہتے ہیں، خبر دار کرنے والے سے مراد انبیاء کرام اور اس امت کے لئے آنحضرت ﷺ ہیں جنہوں نے انسان کو آخرت کے عذاب سے آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ اور ہر دور میں علماء بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہے ہیں، اور بعض مفسرین نے خبردار کرنے والے کی تفسیر یہ کی ہے کہ انسانی عمر کے مختلف مرحلوں پر جو چیزیں موت کی یاد دلاتی ہیں یہاں خبر دار کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اسے بندوں کے سب کھلے چھپے احوال و افعال اور دلوں کے بھید معلوم ہیں۔ کسی کی نیت اور استعداد اس سے پوشیدہ نہیں اسی کے موافق معاملہ کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو لوگ اب چلا رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو ، پھر ایسی خطا نہ کریں گے، وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ اگر ستر دفعہ لوٹائے جائیں تب بھی شرارت سے باز نہیں آسکتے۔ ان کے مزاجوں کی افتاد ہی ایسی ہے (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38{ اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا۔“ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ”یقینا وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 یعنی وہ ان فریاد کرنے والے اہل دوزخ کے متعلق خوب جانتا ہے کہ وہ اب بھی جھوٹ بک رہے ہیں۔ ان کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو اپنی خباثتوں اور شرارتوں سے کبھی باز نہ آئیں گے جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا : ( وَلَوْرُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَإنَّھُمْ لَکَاذِبُوْنَ ) (6: 28)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ یہ بیان ہوا حق تعالیٰ کے کمال علمی کا، صفت قدرت کے بعد صفت علم بھی تمام صفات باری تعالیٰ میں سے ایسی صفت ہے، جس کے باب میں مشرک، جاہلی قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکریں لگی ہیں۔ قرآن مجید کو اسی لیے ضرورت پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کاملیت کو اور اسرار وخفاء یا جزئیات ودقائق پر اس کے محیط ہونے کو بار بار بیان کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–45

آیت نمبر 38 تا 45 ترجمہ : بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہی دل کے رازوں سے واقف ہے لہٰذا دل کے رازوں کے علاوہ کا بطریق اولیٰ جاننے والا ہے، اور اولویت لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا خلائف، خلیفۃً کی جمع ہے یعنی بعض بعض کے جانشین ہوتے ہیں پس جس نے تم میں سے کفر کیا اسی پر اس کا کفر ہے یعنی کفر کا وبال اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزریک ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کا کفر آخرت میں ان کے لئے خسارہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے آپ کہئے کیا تم نے اپنے فرض کردہ شریکوں کا حال دیکھا ؟ جن کی تم اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ علم غیب السموت والارض انہ علیم بذات الصدور . بلاشبہ اللہ ہی آسمان کی اور زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا ہے ‘ کوئی شک نہیں ہ وہ دلوں کی باتوں سے (بھی) خوب واقف ہے۔ جب وہ آسمانوں کی اور زمین کی تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے تو لوگوں کے حالات اس سے پوشیدہ کیسے رہ سکتے ہیں ؟ وہ تو دلوں کے اندر کے پوشیدہ خیالات سے بھی بخوبی واقف ہے ‘ پھر لوگوں کے (بیرونی) احوال سے کس طرح لاعلم ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے اگر تمہیں پھر دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر تم ان ہی باتوں کا ارتکاب کرو گے جن سے تمہیں روکا گیا تھا اور دلوں میں جو نیکی اور برائی پوشیدہ ہے وہ ہی اس کا جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ : اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں ہر غائب چیز کو جاننے والا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے کفر پر اصرار سے بھی خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اتنی مدت تک عمر دینے پر جب تم کفر پر قائم رہے تو مزید عمر دینے پر بھی تم یہی کچھ کرتے اور اسے خوب معلوم ہے کہ اگر وہ تمہاری درخواست قبول کرکے تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تو تم پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 28 ]…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس کی وضاحت کئی مواقع گزر چکی ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے اگر وہ تمہیں دنیا کی طرف لو ٹائے تو تم اچھے اعمال نہیں کرو گے، جس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا : آیت : و لو ردوا لعادوا لما نھو عنہ (الانعام : 28) عالم، اسم فاعل کا صیغہ جب تنوین کے ساتھ نہ ہو تو یہ زمانہ ماضی اور زمانہ مستقبل کا معنی دیتا ہے اور جب تنوین کے ساتھ ہو تو صرف زمانہ ماضی کے لیے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–38

1:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم یصطرخون فیھا “ (اور وہ دوزخ کے اندر چیخیں گے) یعنی وہ اس میں مدد طلب کریں گے۔ 2:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ، حاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ (کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلیتا) اس سے ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ 3:۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں بیہقی نے اپنی سنن میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کے غیب کا جاننے والا ہے ] اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ [بیشک وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [سینوں والی (بات) کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 36–38

دوزخیوں کو نہ موت آئے گی نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ اس میں سے کبھی نکلیں گے اہل ایمان کا انعام و اکرام بیان فرمانے کے بعد اہل کفر کی سزا بیان فرمائی اور ان کے لیے دوزخ کی آگ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا تذکرہ فرمایا، نہ تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ (کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ) اسی طرح ہم ہر کافر کو جزا دیتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ جب اہل کفر دوزخ میں مبتلائے عذاب ہوں گے تو وہاں چیخیں اور چلائیں گے اور بارگاہ خدا وندی میں درخواست پیش کریں گے کہ ہمیں اس سے نکال دیجیے ہم پہلے جو عمل کیا کرتے تھے اب ان کے علاوہ عمل کریں گے یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–41

بیان علم وحلم خداوندی قال اللہ تعالی۔ ان اللہ عالم غیب السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان حلیما غفورا۔ (ربط) اوپر اکثر آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک اور دلائل قدرت اور صفات کمال کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اور اپنے حکم بیان کرتے ہیں کہ وہ باوجود علیم وقدیر ہونے کے حلیم و غفور بھی ہے مجرمین کے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ کما قال تعالی۔ لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا۔ ان کے شرک کا مقتضی تو یہ تھا کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں لیکن اللہ کے حلم کی وجہ سے تھمے ہوئے ہیں جیسا کہ ان آیات کے اخیر میں ہے۔ انہ کان حلیما…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ان اللہ الخ، یہ دسویں عقلی دلیل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے غیب داں ہونے کا اثبات ہے زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کو ہر جاندار کے دل کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی سب کا فریاد رس اور کارساز ہے اس لیے مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارا کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

ربط آیات گزشتہ درس میں انذار کا مضمون ذکر ہوا تھا۔ قرآن کے ورثاء تین قسم کے آدمی ہیں۔ بعض وہ ہیں جو صغائر و کبائر کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں جب کہ تیسرا گروہ وہ ہے جو بھلائیوں میں سبقت کرتا ہے۔ یہ سارے گروہ اہل اسلام حاملین قرآن ہیں۔ پھر اللہ نے نیکی کرنے والوں کے انعامات کا ذکر کیا اور کفر کرنے والوں کے عذاب اور ان کی چیخ و پکار کو بیان کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ تمہیں دنیا میں کتنی عمر تک مہلت دی تھی۔ اس مہلت کے دوران تمہارے پاس اللہ کے نبی بھی آئے جو تمہیں ڈر سناتے رہے ، اللہ کی وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں آگاہ کرتے رہے۔ انسانی زندگی کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ 38 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–39

ترکیب : عالم غیب قرء الجمہور بالاضافۃ وقریٰ بالتنوین ونصب غیب خلائف جمع خلیفۃ ویقال للمستخلف خلیفۃ و خلیف و یجمع الاول علی خلائف والثانی علی خلفاء ارونی بدل اشتمال من أَرأیتم ارونی ای شی خلقوا من الارض وقیل أَرأیتم وارونی تنازعا فی الفعل وقد اعمل الثانی علی قول البصریین، ام لہم و ام اٰتیناھم الضمیر یعو والی الشرکاء وام فی الموضعین منقطقہ بمعنی بل والھمزۃ فھو اضراب عن استفہام و شروع فی استفہام آخر ان تزدلا ای عن ان تزولا ویجوزان یکون مفعولا لہ ای مخالفۃ ان تزولا۔ تفسیر : کافر جو دوزخ میں کہیں گے، ہم کو باردگر دنیا میں بھیج دے کہ اچھے کام کریں گے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ان اللہ اعلم غیب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–38

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (فاطر : 38) (بےشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) ایک تنبیہ قیامت کے دن کافروں کا جو انجام ہوگا اس کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو بھی جاننے والا ہے یعنی یہ مت سمجھنا کہ تم سے قیامت سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اور تمہارے انجام کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے وہ محض خیال آرائی ہے اور یہ گمان نہ کرنا کہ ایک ایسی بات جو انسان کے علم کی بساط سے باہر ہے اور جس کی نہ تردید کی جاسکتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جہنمی فریاد پر فریاد کریں گے کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ہم صالح اعمال کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کو مستر کردے گا۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غیب ہی نہیں جانتا بلکہ وہ تو لوگوں کے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ماضی، حال اور مستقبل سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جہنمی دنیا میں واپس جاکر وہی اعمال کریں گے جن سے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور دین کے مبلغین منع کیا کرتے تھے اس لیے ان کی آہ وزاریوں کو مسترد کردیا جائے گا۔” اللہ “ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بنانے والا اور ان تک اپنے احکام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جو سینوں کی باتیں جانے وہ سفینوں کی کیوں نہ جانے : 38: اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا) غیب ؔ سے مراد وہ ہے جو تم سے آسمان اور زمین میں پوشیدہ ہے۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بلاشبہ وہ سینہ کی باتوں کا جاننے والا ہے) یہ تعلیل کی طرح ہے کیونکہ جب وہ سینوں کی باتوں کا علم رکھتا ہے حالانکہ وہ بہت ہی مخفی ہیں تو وہ تمام جہان کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے۔ ذات الصدور سے مراد دلوں کی چھپی باتیں۔ یہ ذوؔ کی مؤنث ہے۔ اس کی مثال ابوبکر ؓ کے اس قول میں ہے۔ ذو بطن خارجۃ جاریۃ (رواہ مالک فی مؤطا 2/752) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 37–38

37، وھم یصطر خون، وہ مددطلب کرتے ہیں اور چیختے ہیں۔ ، فیھا ربنا اخرجنا، اس آگ سے ۔ ، نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل ، دنیا میں شرک اور برائیوں سے اللہ تعالیٰ ان کی تو بیخ کے طور پر فرماتا ہے ۔ ، والم نعمر کم ما یتذکرفیہ من تذکر، بعض نے کہا اس سے بلو غ مراد ہے۔ آیت والم نعمر کم میں کتنی عمر مراد ہے آیت میں عمر سے کتنی مراد ہے ؟ علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ ، عطاء اور کلبی کے نزدیک اٹھا رہ سال کی عمر مراد ہے ۔ حسن نے چالیس کی حدمقر رکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے نزدیک ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ یہ وہ عمر ہے کہ اس کے بعد آدمی کو اللہ کے سامنے عذرخواہی کا کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–40

38 تا 40۔ اوپر فرما نبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن کا انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب د ان ہے اس لیے اس نے اپنے علم غیب کے موافق ابھی سے لوگوں کو قیامت کے انجام سے ہو شیار کردیا اور اس کو دلوں کی بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزا وسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رو سکتی پھر فرمایا پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شرک سے اللہ تعالیٰ کس قدر نیرار ہے اور شرک کے سبب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 38 اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کی جزا اور سزا اور ان کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اپنی وسعت علم سے آگاہ فرمایا، نیز وہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے مطلع ہے۔ ان امور غیبیہ کا علم رکھتا ہے جو مخلوق کے علم اور اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ تمام بھیدوں کو جانتا ہے۔ سینوں میں جو اچھی یا بری باتیں چھپی ہوئی ہیں سب اس کے علم میں ہیں۔ وہ ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا اور ہر ایک کے ساتھ اس کی قدر و منزلت کے مطابق سلوک کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھ داری کی عمر قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

85 عالم غیب اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ ہی ہے آسمانوں اور زمین کے غیب جاننے والا "۔ مبتدا اور خبر دونوں یہاں پر معرفہ ہیں جو کہ مفید حصر ہے۔ یعنی عالم غیب ۔ سب غیبوں کو جاننے والا ۔ اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ پس اللہ پاک کے سوا اور کسی کو بھی عالم غیب ماننا صحیح نہیں۔ سو اس عالم الغیب نے ان غیبی حقائق کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ تمام حقائق ایک دن اسی طرح سامنے آئیں گے۔ اس لیے ان کو محض ڈراوا یا خالی خولی دھمکی نہ سمجھا جائے۔ اس لیے انکو حقائق جان کر اس آنے والے وقت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45: اسرار و معارف : یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اس بناء پر اسے خوب معلوم ہے کہ اگر تمہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو تم ہرگز نیک کام نہ کرو گے جیسا کہ دوسرے مقام ( انعام : 28) پر فرمایا ( ولو اردوا لعادوا المانھوا عنہ) اور اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تب بھی وہی کام کرینگے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ ( قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 37–39

(35:37) یصطرخون۔ مضارع جمع مذکر غائب اصطراخ (افتعال) مصدر افتعال کی تا کو طا سے بدلا گیا ہے وہ چیخیں گے ۔ وہ چلائیں گے ۔ وہ فریاد کریں گے۔ اور جگہ قرآن مجید ہے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ (28:18) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ اور وان نشا نغرقہم فلا صریخ لہم (36:43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پس ان کا کوئی فریادرس نہ ہو۔ نعمل مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ ہم نیک کام کریں گے۔ غیر الذی کنا نعمل برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔ اولم نعمرکم۔۔ جواب من جھتہ تعالیٰ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–41

لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں) تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–42

(ف 1) اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن انجام کا ذکر فرماکران آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس لیے اس نے اپنے علم کے موافق ابھی سے لوگوں خو قیامت کے انجام سے ہوشیار کردیا اور اس کو دلوں کا بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزاوسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام، یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر فرمایا کہ پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرکے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا، اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی بستیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہے کہ اللہ کی نافرمانی سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–40

[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

علم غیب 2: یعنی خدا غیب کی باتوں کو جانتا ہے ۔ وہ آسمانوں اور زمین کی وستعوں میں جو کچھ مستور ہے ۔ سب سے آگاہ ہے ۔ اس کو سینے کے بھید تک معلوم ہیں ۔ اس لئے طبعات وہ ان تمام سازشوں اور حیلو کاریوں سے واقف ہے ۔ جو اسلام اور صاحب اسلام کی مخالفت میں اختیار کی جاتی ہیں ۔ مکہ والوں کو بتایا ہے ۔ کہ تم یہ نہ سمجھو ۔ کہ تمہاری فریب کارانہ چالیں پردہ خطا میں میں رہیں گی بلکہ علام الغیوب خدا ایک ایک بھید کو آشکارا کریگا ۔ اور تمہیں ذلیل کردیگا ۔ یہ ملحوظ رہے کہ علم غیب کا انتساب جب اللہ کی طرف ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ تمام باتیں جو انسانی عقل و شعور سے اوجھل ہیں ۔ وہ ان کو بغیر کسی وسیلہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) بلاشبہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کا عالم اور جاننے والا ہے۔ بلاشبہ وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ یعنی اس کے کمال علمی کا یہ حال ہے کہ مغیبات سماوی و ارضی سب کا عالم اور سینوں کے پوشیدہ بھید جاننے والا ہے آگے کمال قدرت کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–38

ف 1۔ مراد اس سے عمر بلوغ ہے کہ بقدر ضرورت اس سے کمال فہم حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے اس میں مکلف ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ آسمان و زمین کا غیب جانتا ہے اور دلوں کے رازوں سے بھی وہ واقف ہے 38 ۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں آسمانوں میں ہو یا زمین میں اور وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے اس کے باوجود اس نے تمہارے سارے اعمال کی مکمل کیسٹ تیار کررکھی ہے جس میں صرف تمہاری آواز ہی نہیں بلکہ ہر حرکت اس میں بند کردی ہے تم کو تمہارے ہاتھ پائوں اور شکل و صورت یہاں تک کہ تمہارے جسموں کی جلدیں اور چمڑے بھی بول بول کر تمہارے سارے کرتوتوں کو بتائیں گے اور تم کو اور تمہارے چہار دہ سالہ محبوبوں کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کردیں گے تاکہ تمہارا سارا شک وشبہ صاف ہوجائے۔ تم وہی حافظ ہو جو اس دیوان والے ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

When the people in Jahannam will plead with their Lord that they be delivered from its punishment, so that they could do good deeds then, and not do the bad ones they did earlier, at that time they will be told: أَوَلَمْ نُعَمِّرْ‌كُم مَّا يَتَذَكَّرُ‌ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ‌ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ‌ "Did We not give you an age in your life in which lesson could have been learnt by the one who wished to take lesson - 37) Sayyidna Ibn Husain Zain ul-` Abidin رضی اللہ تعالیٰ عنہ said, "It means the age of seventeen years." And Qatadah (رح) gave the age as eighteen years, meaning thereby the age of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

63 This implies every such age of life in which a person may be able to distinguish between good and evil, truth and falsehood, if he likes to, and turn to right guidance instead of deviation, if he wishes. If a person has died before attaining such an age, he will not be called to any account according to this verse. However, the one who has attained this age will certainly be held answerable for his actions. Then, as long as he lives after attaining this age and gets more and more opportunities for choosing and adopting the right path, his responsibility also will increase accordingly; so…

Read the full tafseer →