Faatir 35:37

Faatir · from ayah 37

35:37

وَهُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا ۚ— رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ ؕ— اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِیْرُ ؕ— فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ۟۠وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا ‌ۚ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَـعۡمَلۡ صَالِحًـا غَيۡرَ الَّذِىۡ كُـنَّا نَـعۡمَلُؕ اَوَلَمۡ نُعَمِّرۡكُمۡ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيۡهِ مَنۡ تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيۡرُؕ فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ

وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔ تو اب مزے چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they will cry out therein, "Our Lord, remove us; we will do righteousness - other than what we were doing!" But did We not grant you life enough for whoever would remember therein to remember, and the warner had come to you? So taste [the punishment], for there is not for the wrongdoers any helper.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:37

وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے" (انہیں جواب دیا جائے گا) "کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتاتھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا اب مزا چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔ تو اب مزے چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے، (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وه سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے واﻻ بھی پہنچا تھا، سو مزه چکھو کہ (ایسے) ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ اس دوزخ میں چیخ پکار مچائیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں باہر نکال دے تاکہ ہم جو کام پہلے کیا کرتے تھے انہیں چھوڑ کر نیک عمل کریں۔ (ان سے جواب میں کہا جائے گا کہ) بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچنا سمجھنا ہوتا، وہ سمجھ لیتا ؟ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا۔ اب مزا چکھو، کیونکہ کوئی نہیں ہے جو ایسے ظالموں کا مددگار بنے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمیں نکال کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا تو اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ اس دوزخ میں چِلّائیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں (یہاں سے) نکال دے، (اب) ہم نیک عمل کریں گے ان (اَعمال) سے مختلف جو ہم (پہلے) کیا کرتے تھے۔ (ارشاد ہوگا:) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزہ چکھو سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اس میں چلائیں گے، اے ہمارے رب ! ہمیں نکال لے، ہم نیک عمل کریں گے، اس کے خلاف جو ہم کیا کرتے تھے۔ اور کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا حاصل کرلیتا اور تمہارے پاس خاص ڈرانے والا بھی آیا۔ پس چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں وہ چیخ چیخ کر کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہمیں (اس سے) نکال کہ ہم نیک عمل کریں۔ ویسے نہیں جیسے پہلے کیا کرتے تھے۔ (اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا ؟ حالانکہ تمہارے پاس ڈرانے والا (بھی) آیا تھا اب (عذاب کا) مزا چکھو یہاں ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اس میں واویلا کریں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم کو اس سے نکال، اب ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال سے مختلف جو ہم اب تک کرتے رہے ہیں۔ کیا ہم نے تمکو اتنی عمر نہیں دی کہ جو یاددہانی حاصل کرنا چاہے اس میں یاددہانی حاصل کرسکے ! اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والا بھی پہنچا ! تو اب اس عذاب کو چکھو۔ ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والا نہیں بنے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ اس میں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں (ایک بار) نکال دے اس سے تاکہ ہم نیک کام کریں ان کاموں کے خلاف جو کہ ہم (اس سے پہلے) کرتے رہے تھے (جواب ملے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں سبق لے لیتا جس نے سبق لینا ہوتا اور پہنچ چکا تھا تمہارے پاس ہماری طرف سے خبردار کرنے والا ؟ پس اب تم لوگ مزہ چکھتے رہو (اپنے کئے کا) سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ اس کے اندر چلائیں گے کہ اے ہمارے پرورداگار ہم کو نکال (اب) ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے کہ جو کیا کرتے تھے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا۔ سو مزہ چکھو کہ ظالموں کا (یہاں) کوئی مددگار نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اس میں چیخ و پکار کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں (یہاں سے) نکال لے ! اب ہم نیک اعمال کریں گے ان اعمال سے مختلف جو ہم (پہلے) کیا کرتے تھے کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں سبق حاصل کرلیا جس نے سبق حاصل کرنا چاہا اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی تو آیا تھا تو اب چکھو (مزہ اس عذاب کا اور یاد رکھو کہ) ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اس میں چلائیں گے کہ ”اے رب ہم کو نکال لے اب ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ کہ وہ جو پہلے کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا، تو اب مزے چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They will cry out in Hell and say: “Our Lord, let us out so that we may act righteously, different from what we did before.” (They will be told): “Did we not grant you an age long enough for anyone to take heed if he had wanted to take heed? Besides, there came a warner to you. So have a taste of the torment now. None may come to the help of the wrong-doers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they will be crying therein, :Our Lord, take us out (from here), and we will act righteously, not in the way we have been doing before. (Allah will say to them,) :Did We not give you an age in your life in which lesson could have been learnt by the one who wished to take lesson? And (furthermore) the warner had (also) come to you. So, have a taste, because the wrongdoers will have no supporter.

— Muhammad Taqi Usmani

And they will be crying therein, :Our Lord, take us out (from here), and we will act righteously, not in the way we have been doing before. (Allah will say to them,) :Did We not give you an age in your life in which lesson could have been learnt by the one who wished to take lesson? And (furthermore) the warner had (also) come to you. So, have a taste, because the wrongdoers will have no supporter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used to do." (Allah will reply:) "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they cry for help there, (saying): Our Lord! Release us; we will do right, not (the wrong) that we used to do. Did not We grant you a life long enough for him who reflected to reflect therein? And the warner came unto you. Now taste (the flavour of your deeds), for evil-doers have no helper.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they will cry out therein, "Our Lord, remove us; we will do righteousness - other than what we were doing!" But did We not grant you life enough for whoever would remember therein to remember, and the warner had come to you? So taste [the punishment], for there is not for the wrongdoers any helper.

— Saheeh International

Therein they will cry-out, "Lord, take us out of here. We shall act righteously and behave different to what we did before." They will be told, "Did We not allow you to live long enough for you to seek guidance? Did We not send a warner to you? Suffer (the torment). There is no one to help the unjust."

— Muhammad Sarwar

And they shall cry therein for succour: O our Lord! take us out, we will do good deeds other than those which we used to do. Did We not preserve you alive long enough, so that he who would be mindful in it should mind? And there came to you the warner; therefore taste; because for the unjust, there is no helper.

— Muhammad Habib Shakir

And they will be shouting therein: our Lord! take us out; we shall work righteously, not that which we have been working. Gave We not you lives long enough so that whosoever would receive admonition could receive admonition therein? and there came Unto you a warner; taste therefore and for the wrong-doers there will be no helper.

— Abdul Majid Daryabadi

Therein will they cry aloud (for assistance): "Our Lord! Bring us out: we shall work righteousness, not the (deeds) we used to do!" - "Did We not give you long enough life so that he that would should receive admonition? and (moreover) the warner came to you. So taste ye (the fruits of your deeds): for the wrong-doers there is no helper."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

برے لوگوں کا روح فرسا حال۔ نیک لوگوں کا حال بیان فرما کر اب برے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ انہیں وہاں موت بھی نہیں آئے گی جو مرجائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي 13ۭ) 87۔ الأعلی :13) نہ وہاں انہیں موت آئے گی نہ کوئی اچھی زندگی ہوگی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ جو ابدی جہنمی ہیں انہیں وہاں موت نہیں آئے گی اور نہ اچھائی کی زندگی ملے گی۔ وہ تو کہیں گے کہ اے داروغہ جہنم تم ہی اللہ سے دعا کرو کہ اللہ ہمیں موت دے دے لیکن جواب ملے گا کہ تم تو یہیں پڑے رہو گے۔ پس وہ موت کو اپنے لئے رحمت سمجھیں گے لیکن وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة فَاطِر 63 اس سے مراد ہر وہ عمر ہے جس میں آدمی اس قابل ہوسکتا ہو کہ اگر وہ نیک و بد اور حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہے تو کرسکے اور گمراہی چھوڑ کر ہدایت کی طرف رجوع کرنا چاہے تو کرسکے۔ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے اگر کوئی شخص مر چکا ہو تو اس آیت کی رو سے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ البتہ جو اس عمر کو پہنچ چکا ہو وہ اپنے عمل کے لیے لازماً جواب دہ قرار پائے گا، اور پھر اس عمر کے شروع ہوجانے کے بعد جتنی مدت بھی وہ زندہ رہے اور سنبھل کر راہ راست پر آنے کے لیے جتنے مواقع بھی اسے ملتے چلے جائیں اتنی ہی اس کی ذمہ داری شدید تر ہوتی چلے جائے گی، یہاں تک کہ جو شخص بڑھاپے کو پہنچ کر بھی سیدھا نہ ہو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اولم نعمرکم ما یذکر فیہ من تذکر و جاء کم النذیر، یعنی جب جہنم میں یہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ ہمیں اس عذاب سے نکال دیجئے اب ہم نیک عمل کریں گے اور پچھلی بد اعمالیوں کو چھوڑ دیں گے۔ اس وقت یہ جواب دیا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر کی مہلت نہیں دی تھی جس میں غور کرنے والا غور کر کے صحیح راستہ پر آجائے۔ حضرت علی ابن حسین زین العابدین ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد سترہ سال کی عمر ہے۔ اور حضرت قتادہ نے اٹھارہ سال کی عمر بتلائی اور مراد اس سے عمر بلوغ ہے، اور سترہ اٹھارہ کا فرق بلوغ میں ہوسکتا ہے کہ کوئی سترہ سال میں بالغ ہو کوئی اٹھارہ سال میں۔ عمر بلوغ شریعت میں پہلی حد ہے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 36۔ 37 یہ کفار کے کے انجام کا بیان ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اتارے گا جہاں ان کا حال یہ ہوگا کہ نہ ان کو موت ہی آئے گی کہ مر کے اس عذاب سے رہائی پائیں۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہی کی جائے گی کہ ذرا دم لے لیں۔ من عذابھا کے بعد فیستر یحوا، یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔ ’ کذلک نجزی کل کفور۔ ‘ یعنی یہ جو کچھ ہم سنا رہے ہیں، یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ ہر ناشکرے نابکار کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی اسی سزا کے مستحق ٹھہریں گے جو آج ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اس فقرے سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ ’ وھم یصطرخون…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی غیروں کی بجائے تیری عبادت اور معصیت کی بجائے اطاعت کریں گے۔ 37۔ 2 اس سے مراد کتنی عمر ہے ؟ مفسرین نے مختلف عمریں بیان کی ہیں بعض نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر مراد ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں عمر کی تعیین صحیح نہیں اس لیے کہ عمریں مختلف ہوتی ہیں کوئی جوانی میں کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے پھر یہ ادوار بھی لمحہ گزراں کی طرح مختصر نہیں ہوتے، مثلا ہر دور خاصا لمبا ہوتا ہے مثلا جوانی کا دور، بلوغت سے کہولت تک اور کہولت کا دور شیخوخت بڑھاپے تک اور بڑھاپے کا دور موت تک رہتا ہے۔ اور سب سے یہ سوال کرنا صحیح ہوگا کہ ہم نے تجھے اتنی عمر دی تھی کہ اگر تو حق کو سمجھنا چاہتا تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–39

10: انسان کو اوسطاً جتنی عمر دی جاتی ہے، وہ اتنی طویل ہے، اور اس میں انسان اتنے مختلف مراحل سے گزرتا ہے کہ اگر وہ واقعی حق تک پہنچنا چاہے تو پہنچ سکتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے والے بھی اسی عمر کے دوران آتے رہتے ہیں، خبر دار کرنے والے سے مراد انبیاء کرام اور اس امت کے لئے آنحضرت ﷺ ہیں جنہوں نے انسان کو آخرت کے عذاب سے آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ اور ہر دور میں علماء بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہے ہیں، اور بعض مفسرین نے خبردار کرنے والے کی تفسیر یہ کی ہے کہ انسانی عمر کے مختلف مرحلوں پر جو چیزیں موت کی یاد دلاتی ہیں یہاں خبر دار کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وھم یصطرخون فیھا ۔۔۔۔۔ من نصیر (37) ” “۔ وھم یصطرخون فیھا (35: 37) ” وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے “۔ لفظ (یصطرخون) کے تلفظ کے اندر ہی اس کے تمام مفہوم ثبت ہیں۔ اس کرخت آواز ہی سے اس کا مفہوم ظاہر ہوجاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں : ربان اخرجنا ۔۔۔۔ نعمل (35: 37) ” اے ہمارے رب ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے “۔ اب یہ اللہ کی طرف جھک رہے ہیں۔ اعتراف گناہ کر رہے ہیں اور نادم ہیں لیکن جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دیکھئے کس قدر سخت اور دو ٹوک جواب سنتے ہیں ہم جس کے اندر سرزنش بھی ہے۔ اولم نعمر کم ۔۔۔۔ من نصیر (35: 37) ”(انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اس وقت تو اسی کو بھلا سمجھتے تھے پر اب وہ کام نہ کریں گے۔ ذرا دوزخ سے نکال دیجئے تو ہم خوب نیکیاں سمیٹ کر لائیں اور فرمانبردار بن کر حاضر ہوں۔ 2 یہ جواب دوزخیوں کو دیا جائے گا۔ یعنی ہم نے تم کو عقل دی تھی۔ جس سے سمجھتے اور کافی عمر دی جس میں سوچنا چاہتے تو سب نیک و بد سوچ کر سیدھا راستہ اختیار کرسکتے تھے۔ حتیٰ کہ تم میں بہت سے تو ساٹھ ستر برس دنیا میں زندہ رہ کر مرے۔ پھر اوپر سے ایسے اشخاص اور حالات بھیجے جو برے انجام سے ڈراتے اور خواب غفلت سے بیدار کرتے رہے۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی عذر باقی رہا۔ اب بڑے عذاب کا مزہ چکھتے رہو اور کسی طرف سے مدد کی توقع نہ رکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37{ وَہُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْہَاج رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ } ”اور وہ اس میں چیخ و پکار کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال لے ! اب ہم نیک اعمال کریں گے ‘ ان اعمال سے مختلف جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔“ { اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ } ”کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں سبق حاصل کرلیا جس نے سبق حاصل کرنا چاہا“ ہم نے تمہیں عمر کی مناسب مہلت دی تھی۔ اسی مہلت میں کچھ لوگوں نے دنیا میں رہتے ہوئے غیب کے پردوں میں ہمیں پہچانا۔ وہ ہم پر ایمان لائے اور بھلائی کا راستہ اختیار کر کے جنت میں پہنچ گئے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 جہنمیوں کی فریاد کے مختلف جوابات :۔ اہل دوزخ کی اس فریاد کا ذکر بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس کے مختلف جواب بھی۔ مثلاً ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو وہ پھر دل کی دلفریبیوں پر مفتون ہوجائیں گے اور پھر ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کرکے آئے ہیں۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ ان کی یہ آرزو بالکل لغو ہوگی۔ کیونکہ ایمان لانے سے مراد غیب پر ایمان لانا ہے اور اعمال صالحہ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے اور یہاں روز آخرت میں جب سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو پھر یہ تو ایمان بالشہادت ہوگیا۔ اور شہادت یا دیکھی ہوئی چیز پر تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

48۔ یہ سب اہل دوزخ سے ان کی جواب میں کہا جائے گا۔ (آیت) ” اولم ...... تذکر “۔ آخرت میں اہل جہنم پر جو حجت قائم ہوگی، اس کا پہلا جزو یہی ہے۔ یعنی کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی تھی کہ تم آیات حق پر غور کرسکتے اور اپنا نفع ونقصان سوچ لیتے ؟ (آیت) ” وجآء کم النذیر “۔ یہ جواب کا دوسرا جزوہوا۔ یعنی کیا تمہیں انبیاء اور ان کے سب نائبین کے لئے۔ 49۔ (جو ان کی فریاد رسی کرسکے) حق تعالیٰ خود تو مددگار وفریاد رس اس لیے نہ ہوگا کہ وہ ناراض ہی ہوگا، اور کوئی دوسرا اس لیے نہیں کہ اسے اس کی قدرت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھم یصطرخون فیھا ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل . اور وہ دوزخ کے اندر چیخیں گے : اے ہمارے رب ! ہم کو (اس دوزخ سے) نکال تاکہ جو عمل ہم پہلے کرتے تھے ‘ ان کے خلاف نیک عمل کریں۔ صراخ کا معنی ہے چیخنا ‘ مراد ہے فریاد کرنا یعنی دوزخی چیخ کر فریاد کریں گے۔ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا یعنی وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمیں دوزخ سے نکال۔ نعمل صالحًا یعنی دوزخیوں کو اپنے گذشتہ غیر صالح اعمال پر افسوس ہوگا ‘ یا گذشتہ اعمال کے غیر صالح ہونے کا اعتراف ہوگا اور یہ مقصد ہوگا کہ پہلے دنیا میں ہم ان اعمال کو صالح جانتے تھے ‘ اب ان کا غیر صالح ہونا کھل گیا اس لئے درخواست کرتے ہیں کہ گذشتہ اعمال کی تلافی کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ کافر اس دوزخ میں پڑے ہوئے فریاد اور واویلا اور آہ وزاری کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں دوزخ سے نکال کر پھر دنیا میں بھیج دیجیے تاکہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور خوب خلوص کے ساتھ نیک اعمال کریں بجائے ان کاموں کے جو کہ حالت شرک میں کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اے گروہ کفار کیا ہم نے تمہیں دنیا میں اتنی مہلت نہیں دیت کہ جس کو نصیحت حاصل کرنی اور ایمان لانا ہوتا وہ نصیحت حاصل کرلیتا اور ایمان لے آتا اور تمہارے پاس رسول اکرم قرآن کریم لے کر آئے تھے اور تمہیں اس دن سے ڈرایا تھا مگر پھر بھی تم ایمان نہیں لائے سو اب دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو ایسے کافروں کا عذاب خداوندی کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚ وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا۔۔ : ”يَصْطَرِخُوْنَ ‘ ”صَرَخَ یَصْرُخُ صُرَاخًا“ (ن) (سخت چیخنا) سے باب افتعال ہے، جس میں مزید مبالغہ ہے، اصل میں ”یَصْتَرِخُوْنَ“ تھا، ”صاد“ کی مناسبت سے ”تاء“ کو ”طاء“ سے بدل دیا، یعنی بہت چیخیں چلائیں گے۔ جہنمیوں کی تمنا کہ انھیں ایک دفعہ جہنم سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا جائے اور وہ پہلے کے برعکس نیک عمل کریں گے، قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر ہوئی ہے، مگر ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی۔ دیکھیے سورة اعراف (53) ، سجدہ (12) ، مؤمن (11) اور سورة شوریٰ (44) ایک مقام پر فرمایا کہ اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کچھ کریں گے جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : و ھم یصطر خون فیھا وہ جہنم میں بلند آواز سے چیخیں گے۔ صراح سے مراد بلند آواز ہے صارخ سے مراد طلب کرنے والا اور مصرخ سے مراد مدد کرنے والا ہے۔ شاعر نے کہا : کنا اذا ما اتانا صارخ فزع کان الصراخلہقرعالظنابیب جب کوئی خوف زدہ مدد کا طالب ہمارے پاس آتا ہے تو اس کی چیخ کیل کا ٹھوکنا ہوتی ہے۔ آیت : ربنا اخرجنا وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم سے نکال دو اور ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دو ۔ آیت : نعمل صالحا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ نقل کیا گیا ہے عمل صالح سے مراد لا الہ الاا للہ ہے۔ آیت : غیر الذی کنا نعمل جو ہم شرک کرتے تھے اس کے بر عکس ہے، یہی ان کے قول کا معنی ہے، یعنی ہم کفر کی بجائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–38

1:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم یصطرخون فیھا “ (اور وہ دوزخ کے اندر چیخیں گے) یعنی وہ اس میں مدد طلب کریں گے۔ 2:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ، حاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ (کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلیتا) اس سے ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ 3:۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں بیہقی نے اپنی سنن میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ [اور وہ لوگ چلائیں گے اس میں ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اَخْرِجْنَا [تو نکال ہم کو ] نَعْمَلْ صَالِحًا [تو ہم عمل کریں گے نیک ] غَيْرَ الَّذِيْ [اس کے علاوہ وہ جو ] كُنَّا نَعْمَلُ ۭ [ہم عمل کیا کرتے تھے ] اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [اور کیا ہم نے عمر نہیں دی تم لوگوں کو ] مَّا [اتنا عرصہ ] يَتَذَكَّرُ فِيْهِ [یاد دہانی حاصل کرتا جس میں ] مَنْ [وہ جو ] تَذَكَّرَ [یاد دہانی حاصل کرنا چاہے ] وَجَاۗءَكُمُ [اور آیا تمہارے پاس ] النَّذِيْرُ ۭ [خبردار کرنے والا ] فَذُوْقُوْا [تو (اب) چکھو ] فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ [پس نہیں ہے ظالموں کے لئے ] مِنْ نَّصِيْرٍ [کوئی بھی مددگار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 36–38

دوزخیوں کو نہ موت آئے گی نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ اس میں سے کبھی نکلیں گے اہل ایمان کا انعام و اکرام بیان فرمانے کے بعد اہل کفر کی سزا بیان فرمائی اور ان کے لیے دوزخ کی آگ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا تذکرہ فرمایا، نہ تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ (کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ) اسی طرح ہم ہر کافر کو جزا دیتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ جب اہل کفر دوزخ میں مبتلائے عذاب ہوں گے تو وہاں چیخیں اور چلائیں گے اور بارگاہ خدا وندی میں درخواست پیش کریں گے کہ ہمیں اس سے نکال دیجیے ہم پہلے جو عمل کیا کرتے تھے اب ان کے علاوہ عمل کریں گے یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–37

مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت وترغیب برتجارت آخرت قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–37

34:۔ والذین کفروا الخ : یہ کافروں کے لیے تخوف اخروی ہے کافروں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اور جہنم میں ان پر موت نہیں آئے گی تاکہ وہ عذاب سے راحت پائیں۔ اور نہ عذاب میں کچھ تخفیف اور کمی ہی کی جائے گی۔ کفر وعناد میں انتہا کو پہنچنے والوں کو ہم ایسی سخت سزا دیتے ہیں۔ وھم یصطرخون، وہ دوزخ میں فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار اس عذاب سے نکال کر دوبارہ دنیا میں بھیج ہم اپنے سابقہ اعمال کے برعکس اچھے کام کریں گے۔ اولم نعمرکم الخ۔ یہ اللہ کی طرف سے زجر و توبیخ کے طور پر جواب دیا جائے گا۔ کیا پہلے ہم نے تمہیں اس قدر طویل زندگی نہیں دی تھی۔ جس میں ہر وہ شخص جو عبرت حاصل کرنا اور راہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–37

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ورثائے کتاب کتابیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْہَا۝ 0 ۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ۝ 0 ۭ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْہِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاۗءَكُمُ النَّذِيْرُ۝ 0 ۭ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ۝ 37ۧ صرخ : يه لفظ مفردات القرآن سے نهيں ملا الصَّرْخَةُ : الصَّيْحَةُ الشَّدِيدَةُ عِنْدَ الْفَزَعِ أَو الْمُصِيبَةِ. وَقِيلَ الصُّراخُ الصَّوْتُ الشَّدِيدُ مَا كَانَ ؛ صَرَخَ يصرُخُ صُراخاً. وَمِنْ أَمثالهم : كانَتْ كَصَرْخَةِ الحُبْلى؛ للأَمر يفجَؤُك . وَالصَّارِخُ وَالصَّرِيخُ : الْمُسْتَغِيثُ. وَفِي الْمَثَلِ : عَبْدٌ صَريخُهُ أَمَةٌ أَي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–37

پھر اس فضل کبیر کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ جنات عدن اے قولہ تعالیٰ لغوب کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جہاں وہ آرائش اور تجمل کے ساتھ رہا کریں گے، عمدہ لباس پہنیں گے اور اللہ کی تعریف کریں گے کہ اس نے ہماری دنیاوی تکالیف کو دور کردیا، ہمارا رب معاف کرنے والا قدردان ہے۔ اس نے ہم کو ہمیشہ رہنے کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دی کہ جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف ہے نہ مشقت نہ وہاں بیماری اور بڑھاپے کا ڈر نہ موت کا خطر نہ معیشت کا فکر، نہ کوئی رنج والذین کفروا الخ یہاں سے منکرین کا حال بیان فرماتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جاویں گے، جہاں نہ ان کو موت آوے گی کہ مر کر چھوٹ جاویں نہ ان کے عذاب میں کمی ہوگی،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–38

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (فاطر : 38) (بےشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) ایک تنبیہ قیامت کے دن کافروں کا جو انجام ہوگا اس کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو بھی جاننے والا ہے یعنی یہ مت سمجھنا کہ تم سے قیامت سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اور تمہارے انجام کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے وہ محض خیال آرائی ہے اور یہ گمان نہ کرنا کہ ایک ایسی بات جو انسان کے علم کی بساط سے باہر ہے اور جس کی نہ تردید کی جاسکتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی آہ زاریاں۔ جو لوگ کفر وشرک، بدعت و رسومات پر قائم رہے انہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ نہ ان کو موت آئے گی اور نہ ہی ان پر جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ٹھیک، ٹھیک سزا دیں گے وہ جہنم میں چیختے چلاتے ہوئے اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں کریں گے کہ اے ہمارے رب ! تیرے حضور ہم فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ جہنم سے نکال دے اور ہمیں دنیا میں جانے کا موقعہ عنایت فرما ہم واپس جا کر بدی کی بجائے نیکی اور برائی کی جگہ اچھائی کریں گے۔ جہنمیوں کی آہ زاری کے جواب میں اس موقعہ پر صرف اتناارشاد ہوگا کہ کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : ابو عمرو نے یُجْزٰی کلُّ پڑھا ہے۔ 37: وَھُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْھَا (اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے) یصطرخون یہ الصراخ سے باب افتعال ہے۔ الصراخ پورے زور و قوت سے چیخنا۔ یہاں فریاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ فریاد کرنے والا فریاد کیلئے اپنی آواز بلند کرتا ہے۔ رَبَّنَآ (اے ہمارے رب) یعنی وہ پکاریں گے اے ہمارے رب اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ (ہم کو نکال لیجئے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے) یعنی تو ہمیں آگ سے نکال کر دنیا کی طرف واپس کردے۔ ہم کفر کے بدلے ایمان لائیں گے اور معصیت کے بعد اطاعت اختیار کریں گے پس ان کو دنیا کی عمر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 37–38

37، وھم یصطر خون، وہ مددطلب کرتے ہیں اور چیختے ہیں۔ ، فیھا ربنا اخرجنا، اس آگ سے ۔ ، نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل ، دنیا میں شرک اور برائیوں سے اللہ تعالیٰ ان کی تو بیخ کے طور پر فرماتا ہے ۔ ، والم نعمر کم ما یتذکرفیہ من تذکر، بعض نے کہا اس سے بلو غ مراد ہے۔ آیت والم نعمر کم میں کتنی عمر مراد ہے آیت میں عمر سے کتنی مراد ہے ؟ علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ ، عطاء اور کلبی کے نزدیک اٹھا رہ سال کی عمر مراد ہے ۔ حسن نے چالیس کی حدمقر رکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے نزدیک ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ یہ وہ عمر ہے کہ اس کے بعد آدمی کو اللہ کے سامنے عذرخواہی کا کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

37۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ آیت کے اس ٹکڑے میں عمر کی کس قدر مدت مقصود ہے جس مدت میں نصیحت پکڑنے والا آدمی نصیحت پکڑے سکے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو یہ عذر پیش نہ کرے کہ دنیا میں اس کو کم عمر کے سبب سے نصیحت کے قبول کرنے کا موقع نہیں ملا یہ تو ایک ظاہر بات ہے کہ دنیا میں اللہ کے رسول محض اس غرض سے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک طرح کا حکم جو مرضی الٰہی کے موافق ہو وہ لوگوں کو سمجھادیویں اسی واسطے جن مفسروں نے بغیر سند کلام رسول اللہ ﷺ کے اس آیت کی تفسیر کی ہے وہ تو کسی طرح مقبول ہونے کے قابل نہیں ہے کیوں کو قرآن شریف کی کسی آیت کا وہ مطلب صحیح نہیں ہوسکتا جس کی سند قرآن کا مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذین کفروا) جنہوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ (لھم نار جھنم) ” ان کے لئے جہنم کی آگ ہے “ جہاں انہیں نہایت سخت عاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (لایقضی علیھم) ” نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا “ موت کے ساتھ (فیموتوا) ” کہ وہ مرجائیں “ اور آرام پالیں (ولا یخفف عنھم من عذابھا) ” اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔ “ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ (کذلک نجزی کل کفور،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھ داری کی عمر قول باری ہے (اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکروجآء کم النذیر ۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنا تھا) حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق سے روایت ہے کہ سمجھ کی جس عمر کا اللہ نے ذکر کیا ہے وہ چالیس برس کی عمر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطبق نیز حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ ساٹھ برس ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں الحسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو غفار کے ایک شخص نے سعید المقبری سے روایت سنائی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

83 دوزخیوں کی وہاں پر چیخ و پکار اور اسکا ان کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دوزخی لوگ وہاں پر چیخ چیخ کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب اب ہمیں یہاں سے ایک مرتبہ نکال دے تاکہ ہم دنیا میں جا کر نیک عمل کریں۔ اس کے بالکل برعکس جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے۔ سو ان کی اس چیخ و پکار پر ان کو جواب ملے گا کہ کیا ہم نے تم لوگوں کو اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں سبق لے لیتا جس نے سبق لینا ہوتا ؟ "۔ یعنی ایسی عمر تم لوگوں کو ضرور دی گئی مگر تم نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اس کو تم لوگوں نے انکار و تکذیب اور لایعنی امور میں ضائع کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس عمر کی تحدید و تعیین میں حضرات علمائے کرام سے مختلف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3” اتنی عمر “ سے مراد ساٹھ برس کی عمر ہے۔ یہی قول حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر صحابہ ؓ سے منقول ہے۔ صحیح بخاری کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں ہے ( اعذر اللہ الی امری اخرعمرہ حتی بلغ ستین سنۃ) کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا عذرختم کردیا جسے اس نے ساٹھ برس کی عمر دے دی، پس یہی قول اصح ہے اور جن روایات و اقوال میں چھیالیس، ستر اور چالیس برس کی تحدید مذکور ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ ( ملخص از ابن کثیر وغیرہ) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 37–39

(35:37) یصطرخون۔ مضارع جمع مذکر غائب اصطراخ (افتعال) مصدر افتعال کی تا کو طا سے بدلا گیا ہے وہ چیخیں گے ۔ وہ چلائیں گے ۔ وہ فریاد کریں گے۔ اور جگہ قرآن مجید ہے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ (28:18) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ اور وان نشا نغرقہم فلا صریخ لہم (36:43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پس ان کا کوئی فریادرس نہ ہو۔ نعمل مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ ہم نیک کام کریں گے۔ غیر الذی کنا نعمل برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔ اولم نعمرکم۔۔ جواب من جھتہ تعالیٰ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–37

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار) تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 1) فرمانبردار لوگوں کے انجام کے ذکر کے بعد یہ نافرمان لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ان کا انجام ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جانا ہے دنیا کی آگ کا ایک انگارہ اگر انسان کے جسم پر رکھ دیاجائے تو اس کی برداشت اس سے نہیں ہوسکتی، دوزخ کی آگ تو وہ آگ ہے جس میں دنیا کی آگ سے انہتر حصے تیزی میں زیادہ ہے پھر فرمایا کہ دنیا کی تکلیف سے دوطرح چھٹکارا ہوتا ہے، یا تو آدمی تکلیف کی سختی سے مرجاتا ہے۔ یارفتہ رفتہ تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے دوزخ میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں گی دوزخ کی تکلیف تو ایسی ہوگی کہ چاروں طرف سے موت نظر آئے گی اور وہاں ان کی موت کا بھی حکم نہ دیاجائے گا جس سے مرکرچھوٹ جائیں اور نہ گھڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–40

[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

آج مکافات کا دن ہے 1: وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں پانی عمر عزیز کے ہر لمحہ کو سرکشی اور تقرب میں گزارا ہے جس دوزخ میں گریں گے ۔ تو اس وقت چیخ چیخ کر کہیں گے ۔ کہ موالا ایک دفعہ اور ہم کو دستگاری عطا فرما ۔ یقینا اس کے بعد ہمارے اعمال ایسے نہیں ہونگے ۔ جیسے اب ہیں ۔ ہم کوشش کریں گے کہ تیری رضا کو حاصل کیا جائے ۔ جواب ملے گا ۔ کیا تم کو غوروفکر کے لئے اور تذکیروعبرت پذیری کے لئے کافی مہلت نہیں دی گئی ؟ اور تمہارے پاس اللہ کا نذیر بھی تو پہنچا تھا ۔ جس نے تفصیل کے ساتھ عقبے کی اہمیت کو بیان کیا تھا ۔ اور دنیائے دوں کے ان کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ آج تو مکافات کا دن ہے ۔ ایسے لوگ جنہوں نے دنیا میں کبھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) اور یہ لوگ اس دوزخ میں پڑے چلاتے اور فریاد کرتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال دے ہم آئندہ نیک کام کیا کریں گے وہ کام نہیں جو ہم پہلے نیک سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ جواب ملے گا کیا تم کو اتنی عمر نہ دی تھی اور تم کو اس قدر زندگی نہیں دی تھی کہ جس کو سوچنا سمجھنا ہوتا وہ اس عمر اور اس زندگی میں سوچ سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا۔ پس اب عذاب کا مزہ چکھو، سو ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ ان کی مدد کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اے رب ہم کو اس جہنم سے نکال کر پھر دنیا میں بھیج دے تو آئندہ ہم نیک اعمال کریں گے اس پر شبہ تھا کہ تمام کافرانہ اعمال کو بھلا ہی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–38

ف 1۔ مراد اس سے عمر بلوغ ہے کہ بقدر ضرورت اس سے کمال فہم حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے اس میں مکلف ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخ میں وہ چیخیں چلائیں گے لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی جائے گی 37 ۔ { یصطر خون } اصطراخ کی اصل ص ر خ ہے۔ باب افتعال لیکن ت ط سے بدل گئی ہے معنی چیخنے چلانے اور استغاثہ کرنے کے ہیں اور استغاثہ اپیل کو ہمارے ہاں بھی رونے پیٹنے اور چیخنے چلانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کا چیخنا چلانا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ ہم اس حال سے ایک بار پھر اس حال کی طرف واپس کیا جائے جس حال سے ہم یہاں آئے تھے اس وقت ہم نے دینی ہادیوں اور ہدایت پیش کرنیوالوں کا مذاق اڑایا تھا اور نیک اعمال کو بزدلی سمجھا تھا لیکن اب ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم وہاں پہنچ کر نیک عمل کریں گے اور دین کی ہدایات دینے والوں کو ہدایت پر مکمل عمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

When the people in Jahannam will plead with their Lord that they be delivered from its punishment, so that they could do good deeds then, and not do the bad ones they did earlier, at that time they will be told: أَوَلَمْ نُعَمِّرْ‌كُم مَّا يَتَذَكَّرُ‌ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ‌ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ‌ "Did We not give you an age in your life in which lesson could have been learnt by the one who wished to take lesson - 37) Sayyidna Ibn Husain Zain ul-` Abidin رضی اللہ تعالیٰ عنہ said, "It means the age of seventeen years." And Qatadah (رح) gave the age as eighteen years, meaning thereby the age of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

63 This implies every such age of life in which a person may be able to distinguish between good and evil, truth and falsehood, if he likes to, and turn to right guidance instead of deviation, if he wishes. If a person has died before attaining such an age, he will not be called to any account according to this verse. However, the one who has attained this age will certainly be held answerable for his actions. Then, as long as he lives after attaining this age and gets more and more opportunities for choosing and adopting the right path, his responsibility also will increase accordingly; so…

Read the full tafseer →