Explained with ayahs 36–37
برے لوگوں کا روح فرسا حال۔
نیک لوگوں کا حال بیان فرما کر اب برے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ انہیں وہاں موت بھی نہیں آئے گی جو مرجائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي 13ۭ) 87۔ الأعلی :13) نہ وہاں انہیں موت آئے گی نہ کوئی اچھی زندگی ہوگی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ جو ابدی جہنمی ہیں انہیں وہاں موت نہیں آئے گی اور نہ اچھائی کی زندگی ملے گی۔ وہ تو کہیں گے کہ اے داروغہ جہنم تم ہی اللہ سے دعا کرو کہ اللہ ہمیں موت دے دے لیکن جواب ملے گا کہ تم تو یہیں پڑے رہو گے۔ پس وہ موت کو اپنے لئے رحمت سمجھیں گے لیکن وہ…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 62
یعنی اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
الذی احلنا دارالمقامة من فضلہ لا یمسنا فیہا نصب ولا یمسنا فیہا لغوب، اس آیت میں جنت کی چند خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ اول یہ کہ وہ دارالمقامة ہے، اس کے زوال یا وہاں سے نکالے جانے کا کسی وقت خطرہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہاں کسی کو کوئی غم پیش نہ آئے گا، تیسرے یہ کہ وہاں کسی کو تھکان بھی محسوس نہیں ہوگا جیسے دنیا میں آدمی کو تھکان ہوتا ہے، کام چھوڑ کر نیند کی ضرورت محسوس کرتا ہے، جنت اس سے بھی پاک ہوگی۔ بعض روایات حدیث میں بھی یہ مضمون مذکور ہے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36۔ 37
یہ کفار کے کے انجام کا بیان ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اتارے گا جہاں ان کا حال یہ ہوگا کہ نہ ان کو موت ہی آئے گی کہ مر کے اس عذاب سے رہائی پائیں۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہی کی جائے گی کہ ذرا دم لے لیں۔ من عذابھا کے بعد فیستر یحوا، یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔
’ کذلک نجزی کل کفور۔ ‘ یعنی یہ جو کچھ ہم سنا رہے ہیں، یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ ہر ناشکرے نابکار کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی اسی سزا کے مستحق ٹھہریں گے جو آج ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اس فقرے سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔
’ وھم یصطرخون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
33۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے لیکن یہ صحیح نہیں قرآن کا سیاق اس امر کا مقتاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔
33۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ ' ریشم کا لباس دنیا میں مت پہنو، اس لئے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
9: اس سے مراد مسلمان ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن براہ راست تو حضور سرور عالم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن پھر اس کا وراث ان مسلمانوں کو بنایا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے چن لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں، لیکن ایمان لانے کے بعد ان کی تین قسمیں ہوگئیں، ایک وہ تھے جو ایمان تو لے آئے لیکن اس کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، چنانچہ اپنے بعض فرائض چھوڑدئیے، اور گناہوں کا بھی ارتکاب کرلیا، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں جنت میں فوری داخلہ نصیب ہوتا، لیکن انہوں نے گناہ کرکے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا،…
Read the full tafseer →اب ذرا دوسری جانب آئیے ! قلق ، اضطراب اور پریشانی اور افراتفری۔
والذین کفروا۔۔ من عذابھا ” “۔ نہ یہ ہے اور نہ وہ۔ ان کے لیے موت بھی نہ ہوگی
کذلک نجزی کل کفور (36) ” “۔ اور اب ہمارے کان ایک کرخت اور سخت آواز سنتے ہیں۔ یہ ایک غوغا ہے جو مختلف آوازوں سے مل کر اٹھ رہا ہے۔ یہ مختلف اطراف سے آنے والی چیخ و پکار ہے۔ ان کی طرف سے جو جہنم میں پھینک دئیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →7 نہ کفار کو جہنم میں موت آئے گی کہ اسی سے تکالیف کا خاتمہ ہوجائے اور نہ عذاب کی تکلیف کسی وقت ہلکی ہوگی۔ ایسے ناشکروں کی ہمارے یہاں یہ ہی سزا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 36{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ } ”اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہوگی۔“
{ لَا یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ”نہ تو ان کا قصہ چکایا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ہی ان کے لیے اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔“
اس وقت اہل جہنم کی سب سے بڑی خواہش تو یہی ہوگی کہ انہیں موت آجائے اور وہ اس کے لیے دعا بھی کریں گے۔ سورة الفرقان میں ان کی اس خواہش اور دعا کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے : { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُـبُوْرًا کَثِیْرًا۔ ”تب ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک موت نہ مانگو…
Read the full tafseer →40 مینڈھے کی شکل میں موت کا ذبح ہونا :۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میں جب ایمانداروں اور نافرمانوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو سب کے سامنے ایک مینڈھا لا کر اسے ذبح کردیا جائے گا اور لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ جانتے ہو یہ مینڈھا کیا چیز ہے ؟ سب کہیں گے۔ ہاں ہم جانتے ہیں یہ موت ہے۔ پھر ایک فرشتہ اہل جنت کو مخاطب کرکے کہے گا۔ اب تم ہمیشہ جنت میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر وہی فرشتہ اہل دوزخ کو مخاطب کرکے کہے گا کہ اب تم ہمیشہ دوزخ میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ (مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ باب جہنم)
یہ تو کافروں اور اللہ کی نمک حرامی کرنے والوں کی ایک سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
48۔ یہ سب اہل دوزخ سے ان کی جواب میں کہا جائے گا۔ (آیت) ” اولم ...... تذکر “۔ آخرت میں اہل جہنم پر جو حجت قائم ہوگی، اس کا پہلا جزو یہی ہے۔ یعنی کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی تھی کہ تم آیات حق پر غور کرسکتے اور اپنا نفع ونقصان سوچ لیتے ؟ (آیت) ” وجآء کم النذیر “۔ یہ جواب کا دوسرا جزوہوا۔ یعنی کیا تمہیں انبیاء اور ان کے سب نائبین کے لئے۔
49۔ (جو ان کی فریاد رسی کرسکے) حق تعالیٰ خود تو مددگار وفریاد رس اس لیے نہ ہوگا کہ وہ ناراض ہی ہوگا، اور کوئی دوسرا اس لیے نہیں کہ اسے اس کی قدرت ہی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…
Read the full tafseer →والذین کفروا لھم نار جھنم لا یقضی علیھم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا کذلک
نجزی کل کفور . اور جن لوگوں نے کفر کیا (اور توبہ نہیں کی) ان کیلئے دوزخ کی آگ ہے ‘ نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
لاَ یُقْضٰی عَلَیْھِمْ یعنی ان کی موت کا فیصلہ نہ کیا جائے گا کہ مرجائیں اور سکھ سے ہوجائیں۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب جنتی ‘ جنت کو چلے جائیں گے اور دوزخی ‘ دوزخ کو تو پھر موت کو لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور منادی ندا دے گا : اے اہل…
Read the full tafseer →اور جو کافر ہیں یعنی ابو جہل وغیرہ ان کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ ہوگی نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ وہ مر ہی جائیں کہ اس عذاب سے آرام ہو اور نہ ایک لمحہ کے برابر ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا اور نہ ختم کیا جائے گا۔ آخرت میں اسی طرح ہم ہر ایک کافر کو سزا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ : جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کے بعد جہنم میں جانے والے بدنصیبوں کا ذکر فرمایا، یعنی جن لوگوں نے اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا جو ہم نے محمد ﷺ پر نازل فرمائی اور جس کے وارث ہمارے چنے ہوئے بندے ہیں، ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔
لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا : جہنمی موت کو راحت خیال کریں گے اور اس کی تمنا کریں گے، مگر ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کی کئی آیات میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ جہنمیوں پر موت نہیں آئے گی کہ وہ عذاب سے رہائی پاجائیں، نہ ہی ان کی زندگی کوئی زندگی ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (] يَحْيٰي : حیات، حیات جاوداں، موت و…
Read the full tafseer →آیت : و لذین کفروا لھم نار جھنم جب اہل جنت، ان کے احوال اور ان کے قول کا ذکر کیا تو اہل نا ر، ان کے احوال اور ان کے قول کا ذکر کیا۔ آیت : لا یقضی علیھم فیموتو یہ اسی طرح ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : آیت : لا یموت فیھا و لا یحییٰ (طہ) آیت : و لا یخلف عنھم من عذابھا یہ اسی کی مثل ہے جس طرح فرمایا : آیت : کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب (النساء : 56) آیت : کذلک نجذی کل کفور یعنی اللہ اور اسکے رسول کا انکار انکار کرنے والا۔ حسن بصری (رح) نے فیموتون نون کے ساتھ قراءت کی ہے اس وقت یہ نفی کا جواب نہیں ہوگا اور فیموتون، یقضی پر معطوف ہوگا اس کی تقدیر یہ ہوگی لا یقضی علیھم و لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
45:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے بعث میں عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ نیند ان چیزوں میں سے ہے کہ جس کے اللہ تعالیٰ دنیا میں ہم کو راحت عطا فرماتا ہے، کیا جنت میں نیند ہوگی ؟ فرمایا نہیں کیونکہ نیند موت کی ساتھی ہے اور جنت میں موت نہیں ہوگی، عرض کیا یارسول اللہ پھر ان کی راحت کیسے ہوگی ؟ تو اس سوال کو نبی کریم ﷺ نے ناگوار جانا اور فرمایا کہ اس میں کوئی تھکان نہیں ہوگی اس کے ہر کام میں راحت ہوگی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب “ (جہاں ہم کو نہ کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ خستگی)
46:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ] لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ [ان کے لئے جہنم کی آگ ہے ] لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ [کام تمام نہیں کیا جائے گا ان کا ] فَيَمُوْتُوْا [کہ وہ مر ہی جائیں ] وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ [اور تخفیف نہیں کی جائے گی ان سے ] مِّنْ عَذَابِهَا ۭ [اس (آگ) کے عذاب میں سے ] كَذٰلِكَ نَجْزِيْ [اس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ] كُلَّ كَفُوْرٍ [ہر ایک ناشکرے کو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
دوزخیوں کو نہ موت آئے گی نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ اس میں سے کبھی نکلیں گے
اہل ایمان کا انعام و اکرام بیان فرمانے کے بعد اہل کفر کی سزا بیان فرمائی اور ان کے لیے دوزخ کی آگ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا تذکرہ فرمایا، نہ تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ (کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ) اسی طرح ہم ہر کافر کو جزا دیتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ جب اہل کفر دوزخ میں مبتلائے عذاب ہوں گے تو وہاں چیخیں اور چلائیں گے اور بارگاہ خدا وندی میں درخواست پیش کریں گے کہ ہمیں اس سے نکال دیجیے ہم پہلے جو عمل کیا کرتے تھے اب ان کے علاوہ عمل کریں گے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت
وترغیب برتجارت آخرت
قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
34:۔ والذین کفروا الخ : یہ کافروں کے لیے تخوف اخروی ہے کافروں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اور جہنم میں ان پر موت نہیں آئے گی تاکہ وہ عذاب سے راحت پائیں۔ اور نہ عذاب میں کچھ تخفیف اور کمی ہی کی جائے گی۔ کفر وعناد میں انتہا کو پہنچنے والوں کو ہم ایسی سخت سزا دیتے ہیں۔ وھم یصطرخون، وہ دوزخ میں فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار اس عذاب سے نکال کر دوبارہ دنیا میں بھیج ہم اپنے سابقہ اعمال کے برعکس اچھے کام کریں گے۔ اولم نعمرکم الخ۔ یہ اللہ کی طرف سے زجر و توبیخ کے طور پر جواب دیا جائے گا۔ کیا پہلے ہم نے تمہیں اس قدر طویل زندگی نہیں دی تھی۔ جس میں ہر وہ شخص جو عبرت حاصل کرنا اور راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
ورثائے کتاب
کتابیں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ 0 ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْہِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْہُمْ مِّنْ عَذَابِہَا 0 ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36ۚ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
پھر اس فضل کبیر کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ جنات عدن اے قولہ تعالیٰ لغوب کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جہاں وہ آرائش اور تجمل کے ساتھ رہا کریں گے، عمدہ لباس پہنیں گے اور اللہ کی تعریف کریں گے کہ اس نے ہماری دنیاوی تکالیف کو دور کردیا، ہمارا رب معاف کرنے والا قدردان ہے۔ اس نے ہم کو ہمیشہ رہنے کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دی کہ جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف ہے نہ مشقت نہ وہاں بیماری اور بڑھاپے کا ڈر نہ موت کا خطر نہ معیشت کا فکر، نہ کوئی رنج والذین کفروا الخ یہاں سے منکرین کا حال بیان فرماتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جاویں گے،
جہاں نہ ان کو موت آوے گی کہ مر کر چھوٹ جاویں نہ ان کے عذاب میں کمی ہوگی،…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُجَھَنَّمَ ج لاَ یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا ط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ۔ وَھُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْھَا ج رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَالَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ ط اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّایَتَذَکَّرُفِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآئَ کُمُ النَّذِیْرُ ط فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ۔ (فاطر : 36، 37)
(اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کی قضا ہی آئے گی جو مرجائیں اور نہ ان کے لیے جہنم کے عذاب میں کمی کی جائے گی، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اس شخص کو جو کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی آہ زاریاں۔
جو لوگ کفر وشرک، بدعت و رسومات پر قائم رہے انہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ نہ ان کو موت آئے گی اور نہ ہی ان پر جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ٹھیک، ٹھیک سزا دیں گے وہ جہنم میں چیختے چلاتے ہوئے اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں کریں گے کہ اے ہمارے رب ! تیرے حضور ہم فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ جہنم سے نکال دے اور ہمیں دنیا میں جانے کا موقعہ عنایت فرما ہم واپس جا کر بدی کی بجائے نیکی اور برائی کی جگہ اچھائی کریں گے۔
جہنمیوں کی آہ زاری کے جواب میں اس موقعہ پر صرف اتناارشاد ہوگا کہ کیا…
Read the full tafseer →آخرت میں کفار کی بیکار تمنائیں :
36: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُ جَھَنَّمَ لَا یُقْضٰی (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے) نہ تو ان کی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتُوْا (قضاء آئے گی کہ وہ مرجائیں)
نحو : فیموتوا یہ نفی کا جواب ہے اور ان کے مضمرہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لا یقضٰی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق موت ثانیہ کا فیصلہ نہ کیا جائے گا کہ موت آکر ان کو کچھ استراحت میسر ہو۔
وَ لَایُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا (اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا) یعنی جہنم کی آگ کا عذاب کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس جزاء کی طرح نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ (ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں)
Read the full tafseer →تفسیر 36، والذین کفر والھم نار جھنم لا یقضی علیھم فیموتوا ، یعنی ان کو ہلاک نہیں کیا جائے گا کہ وہ راحت پائیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ، اس کو قتل کردیا۔ بعض نے کہا کہ ان پر موت کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ونادوایا مالک لیقض علینا ربک،۔۔۔۔۔۔ ، ولا یخفف عنھم من عذابھا، آگ کے عذاب سے، کذلک نجزی کل کفور، ناشکری۔ بعض حضرات نے یجزی یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ذاء کے ساتھ (کل) منصوب ہے۔
Read the full tafseer →36۔ فرما نبردار لوگوں کے انجام کے ذکر کے بعد یہ نافرمان لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ان کا انجام ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ تو وہ آگ ہے جس میں دنیا کی آگ سے اونتہر حصے تیزی زیادہ ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چیک ہے ‘ دنیا کی تکلیف سے دو طرح چھٹکارہ ہوتا ہے کہ یا تو آدمی تکلیف کی سختی سے مرجاتا ہے جس سے تکلیف کا خاتمہ ہوجاتا ہے یارفتہ رفتہ تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے دوزخ میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں گی تکلیف تو ایسی ہوگی کہ چاروں طرف سے موت نظر آئے گی چناچہ اس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے اور صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کے حوالہ 1 ؎ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذین کفروا) جنہوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ (لھم نار جھنم) ” ان کے لئے جہنم کی آگ ہے “ جہاں انہیں نہایت سخت عاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (لایقضی علیھم) ” نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا “ موت کے ساتھ (فیموتوا) ” کہ وہ مرجائیں “ اور آرام پالیں (ولا یخفف عنھم من عذابھا) ” اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔ “ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ (کذلک نجزی کل کفور،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
مومن کے غم جنت میں دور ہوں گے
قول باری ہے (الحمد للہ الذی اذھب عنا المحزن۔ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا) بعض سلف سے منقول ہے کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ دنیا میں غمزدہ زندگی گزارے کیونکہ جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو اس وقت دنیاوی زندگی میں لاحق ہونے والا غم دور ہونے پر اس کا شکرادا کریں گے۔
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (الدنیا سجن المومن۔ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے) ایک زاہد سے پوچھا گیا کہ زہاد کو دوسروں کی چیزوں کی کیوں محتاجی ہوتی ہے ؟ اس زاہد نے جواب دیا۔ ” احتیاج کی وجہ یہ ہے کہ دنیا اہل ایمان کے لئے قید خانہ ہے اور تمہیں معلوم ہے کو جو شخص قید خانہ میں ہوتا ہے وہ…
Read the full tafseer →81 اہل جنت کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال بد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ ہوگی "۔ نہ تو ان کے لیے قضا آئیگی یعنی نہ انکو وہاں موت آئیگی تاکہ اس عذاب سے رہائی پاسکیں اور نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی تاکہ وہ کچھ دم لے سکیں۔ سو اس آیت کریمہ میں اہل جنت کے مقابلے میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انکا حال بڑا ہی برا اور نہایت ہی عبرتناک ہوگا کہ ان بدبختوں کو نہ تو وہاں موت آئے گی کہ ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے اور اس طرح یہ اس ہولناک عذاب سے چھوٹ سکیں اور نہ ہی انکے عذاب میں کسی طرح کی کوئی تخفیف کی جائے گی کہ یہ راحت کا کوئی سانس لے سکیں۔ بلکہ انکو وہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…
Read the full tafseer →ف 2 ایک حدیث میں بھی ہے کہ دوزخی دوزخ میں رہیں گے سو وہاں نہ مرینگے اور نہ جئیں گے۔ الغرض دوزخ کا عذاب دائمی ہوگا۔ دیکھئے۔ ( نساء : 56، طہٰ : 74)
Read the full tafseer →(35:36) لا یقضی علیہم مضارع نفی مجہول واحد مذکر غائب قضاء سے۔ یقضی علی (اس کا کام تمام کیا جائے گا) وہ مرجائے گا۔ لا یقضی علیہم۔ ان کا کام تمام نہ کیا جائے گا۔ ان کی قضا نہیں آئے گی۔ ان کو موت نہ آئے گی۔ وہ نہ مریں گے۔ قضی علیہ مرجانا۔ جیسے قضی اجلہ وہ مرگیا۔ لا یقضی علیہم۔ ان کی قضا نہیں آئے گی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28:15) حضرت موسیٰ نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔
فیموتوا۔ میں فاء ناصبہ ہے جو کہ مضارع پر بہ تقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے۔ یموتوا مضارع منصوب جمع مذکر غائب موت مصدر (باب نصر) کہ وہ مرجائیں ۔
کل کفور۔ کل لفظا واحد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) فرمانبردار لوگوں کے انجام کے ذکر کے بعد یہ نافرمان لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ان کا انجام ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جانا ہے دنیا کی آگ کا ایک انگارہ اگر انسان کے جسم پر رکھ دیاجائے تو اس کی برداشت اس سے نہیں ہوسکتی، دوزخ کی آگ تو وہ آگ ہے جس میں دنیا کی آگ سے انہتر حصے تیزی میں زیادہ ہے پھر فرمایا کہ دنیا کی تکلیف سے دوطرح چھٹکارا ہوتا ہے، یا تو آدمی تکلیف کی سختی سے مرجاتا ہے۔ یارفتہ رفتہ تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے دوزخ میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں گی دوزخ کی تکلیف تو ایسی ہوگی کہ چاروں طرف سے موت نظر آئے گی اور وہاں ان کی موت کا بھی حکم نہ دیاجائے گا جس سے مرکرچھوٹ جائیں اور نہ گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 1: جنت اللہ کے فضل و بخشش کا مقام ہے اس لئے اس میں ہر وہ آسودگی اور تنظم و تکلف موجود ہوگا ۔ کہ جس سے اللہ کے نیک بندے دنیا میں محروم رہے تھے بلکہ یہاں ان کو وہ کچھ ملے گا جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتا ۔ اس اورمن ذھب سے مراد ہے ۔ پر عظمت زندگی ۔ جس طرح مشرق میں بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے ہیں ۔ اسی طرح یہاں مفلس ونادار مسلمان شان و شکوہ سے مسلح ہوں گے ۔ نہایت عدم النظیر موتی ان کی عبادتوں پر ٹکے ہونگے ۔ اور وہ ریشمی لباس پہنے جنت کی دوشوں پر اٹھلاتے پھریں گے اس وقت شکر کے کلمات ان کی زبان پر ہوں گے ۔ یہ اللہ کی حمد و ستائیس کریں گے ۔ کہ اس نے انہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے ۔ غم اور فکر کو دور…
Read the full tafseer →(36) اور جو لوگ منکر رہے اور کفروانکار کا شیوہ اختیار کئے رہے ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے، نہ تو ان پر موت ہی کا حکم کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان پر سے دوزخ کا عذاب ہی کسی وقت ہلکا کیا جائے گا ہم ہرناشکر اور ناسپاس اور منکر کو ایسی ہی جزا اور ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔ یعنی بار بار موت کی درخواست کریں گے لیکن اس عالم میں موت نہیں جو آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 2۔ مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عنداللہ ہیں، گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل سوء عمل کے موجب ملامت بھی ہو مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی۔
3۔ کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر و فضل کے مستحق ہوگئے۔
Read the full tafseer →منکرین ومعاندین کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ؟
36 ۔ انبیاء کرام اور رسل عظام کا انکار کرنے والے اور خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ کا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کرنے والے سارے لوگ جہنم ہی کے پاس ہوں گے اور جس طرح جنت والوں کو جنت سے نہیں نکالا جائے گا ان کے لئے پابندی نہیں ہوگی بلا شبہ ایسے بھی ہوں گے جن کو جہنم میں ہمیشہ رہنا ہوگا کیونکہ ان کی شفا اور صحت یابی کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ زیر نظر آیت میں انہی قسمت کے ماروں کا ذکر ہے کہ جب موت پر موت طاری ہوگئی تو اب ان کو مرنے کی بھی کوئی امید نہ رہی جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ ؎
اب تو گھبرا کر کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
In verse 35: الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ (who, out of His grace, has made us land at a home of eternal living where neither we are touched by weariness. Nor are we touched by boredom." ), some characteristics of Jannah have been described: (1) That it is an eternal home with no danger of any lapse of time, or expulsion from there at any time. (2) That no one will face any sorrow while there. (3) That no one there will experience the least fatigue or boredom, as it happens in the mortal world where one needs…
Read the full tafseer →62 "Who have disbelieved": Who have refused to believe in the Book which Allah has sent down on Muhammad (upon whom be His peace and blessings).
Read the full tafseer →