Explained with ayahs 62–67
کہاں ہیں تمہارے بت
مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کرکے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں ؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہیں ؟ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہوگا۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
سورة القصص 89
یعنی انہیں مدد کے لیے پکارو۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات رد کی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
خلاصہ تفسیر
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کر کے لائیں جائیں گے (مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے اور دوسرے سے مراد کافر جو مجرم ہو کر آوے گا اور چونکہ متاع دنیا ہی ان لوگوں کی بھول کا سبب ہے اس لئے اس کی تصریح فرما دی، ورنہ ان دونوں کا برابر نہ ہونا تو دراصل اس وجہ سے ہے کہ وہ گرفتار کر کے حاضر کئے جاویں گے یہ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے) اور (آگے اس تفاوت اور کیفیت احضار کی تفصیل ہے کہ…
Read the full tafseer →نعمیت علیھم الانبآء کا مفہوم ٹھیک ٹھیک وہی ہے جو ہم اپنے محاورے سے سٹی بھلو جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اس وقت سب پر ایسی بد حواسی طاری ہوگی کہ کسی سے کوئی بات بنائے نہیں بنے گی۔ کیا بنے بات جہاں بات بنانے نہ بنے !
فھولا یتسآء لون یعنی وہ ایسی حالت سراسیمگی میں گرفتار ہوں گے کہ اس سوال کے جواب کے لئے کسی سے کچھ پوچھ پاچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ ایسے اوقات میں مرجع امید لیڈر ہوا کرتے ہیں لیکن ان کا ماجرا اوپر گزر چکا کہ انہیں خود اپنی پڑی ہوگی وہ دوسرے کی کیا نبڑیں گے ! یہ مضمون ماندہ کی آیت 109 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →6-6۔-1کیونکہ انھیں یقین ہوچکا ہوگا کہ سب جہنم میں داحل ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
36: ان سے مراد بھی وہی شیاطین ہیں جن کو نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کافر لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور بات پوری ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شیاطین دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، انہیں آخر کار دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے فرمان کے مطابق ان شیاطین کے دوزخ میں جانے کا وقت آچکا ہوگا۔ اس وقت وہ یہ بات کہیں گے
37: یعنی جس طرح ہم نے اپنے اختیار سے گمراہی اختیار کی، ان لوگوں نے بھی اپنے اختیار سے گمراہی اپنائی، ورنہ ہم نے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی کہ یہ ضرور ہماری بات مانیں۔
38: یعنی در حقیقت یہ لوگ ہماری عبادت کرنے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
5 پہلے سوالات توحید کے متعلق تھے، یہ سوال رسالت کی نسبت ہوا۔ یعنی اپنی عقل سے تم نے اگر حق کو نہ سمجھا تھا تو پیغمبروں کے سمجھانے سے سمجھا ہوتا، بتلاؤ ان کے ساتھ تم نے کیا برتاؤ کیا۔ اس وقت کسی کو جواب نہ آئے گا۔ اور بات کرنے کی راہیں بند ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 66 فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ فَہُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ”
م حق اس طرح واضح ہو کر ان کے سامنے آجائے گا کہ اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں بول سکیں گے۔ ظاہر ہے زندگی بھر وہ اللہ کی نا فرمانیاں اور انبیاء و رسل کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے تھے۔ چناچہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جو رسول تمہاری طرف بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس وقت ان کو کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔
Read the full tafseer →90 انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آسکے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں۔ نہ ہی ان سے یہ بن آئے گا کہ کسی دوسرے سے پوچھ کر ہی اس سوال کا جواب دے سکیں۔ اس دن کی دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہ سکیں گے۔
Read the full tafseer →87۔ اپنے انجام کو سامنے دیکھ کرمارے ہول کے ان کی عقلیں معطل ہوجائیں گی، دماغ جواب دے دیں گے اور کچھ بنائے نہ بن پڑے گی۔ نہ خود ہی جواب سوجھے گانہ دوسروں سے صلاح ومشورہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمْ الْاَنْبَآء یعنی جواب دینے کے سلسلہ میں وہ اندھوں کی طرح ہوجائیں گے جن کو کوئی راستہ نہیں سوجھتا ‘ پس وہ بھی اسی طرح کچھ بتانے سے عاجز ہوجائیں گے۔ کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے اسلوب کو بدل دیا گیا ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : فَعَمُوْا عَنِ الْاَنْبَآء مقصود یہ ہے کہ دنیا میں جو وجودہ بیان کی جاتی ہیں ‘ وہ عارضی ہوتی ہیں ‘ بیرونی تاثرات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قیامت کے دن بیرونی اغواء تو ختم ہوچکا ہوگا اور کوئی خارجی حیلہ گری موجود نہ ہوگی اس لئے کوئی جواب دے نہ سکیں گے۔
اَلْاَنْبَآءُ اس سے مراد ہے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے کا عذر۔ مجاہد نے کہا کہ دلائل مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →(66) تو قیامت کے دن ان سے سب مضامین کم ہوجائیں گے اور آپس میں گفتگو بھی نہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْاَنْۢبَاۗءُ يَوْمَىِٕذٍ۔۔ :”عَمِيَ یَعْمٰی عَمًی“ (ع) کا معنی اندھا ہونا ہے۔ کہنا یہ تھا کہ ”فَعَمُوْا عَنِ الْأَنْبَاءِ یَوْمَءِذٍ“ کہ ”وہ اس دن خبروں سے اندھے ہوجائیں گے۔“ مبالغے کے لیے الٹ فرمایا کہ اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہوجائیں گی، یعنی یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آئے گی کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دیں، نہ ہی یہ ہو سکے گا کہ ایک دوسرے سے پوچھ کر اس سوال کا جواب دے دیں۔ اس وقت کی دہشت ہی اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہیں سکیں گے۔
3 اس سوال سے پہلے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں بھی کافر اور منافق یہی کہیں گے : (ھَاہْ ھَاہْ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
ویوم ینادیھم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو ندا کرے گا۔ فیقول این شرک آئی میرے شریک کہاں ہیں جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں مدد کریں گے اور تمہاری سفارش کریں گے ؟
قال الذین حق علیھم القول ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا وہ سروار ہیں، یہ کلبی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد شیاطین ہیں ربنا ھولاء الذین اغوینا ہم نے انہیں گمراہی کی طرف دعوت دی انہیں کہا جائے گا : کیا تم نے ان کو گمراہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اغوینھم کما غوینا وہ مراد یتے ہیں ہم نے انہیں گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ تھے۔ تبرانا الیک ہم میں سے بعض نے بعض سے برأت کا اظہار کیا۔ شیاطین ان سے برأت کا اظہار کردیتے ہیں جو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
1۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید والنسائی والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ تنہائی میں بات کریں گے جیسے تم میں سے کوئی چودھویں رات کو چاند کے ساتھ تنہائی میں سرگوشیاں کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم ! کس چیز نے میرے بارے میں تجھے دھوکے میں ڈال دیا اے ابن آدم تو نے رسولوں کو کیا جواب دیا۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت فعمیت علیہم الانباء یعنی الانباء سے مراد ہے دلائل آیت یومئذ فہم لایتساء لون یعنی اس دن نسبت کے بارے میں نہیں پوچھا…
Read the full tafseer →فَعَمِيَتْ [تو اندھی ہوجائیں گی ] عَلَيْهِمُ [ان پر ] الْاَنْۢبَاۗءُ [خبریں ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] فَهُمْ [تو وہ لوگ ] لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اگر اللہ تعالیٰ رات یا دن کو ہمیشہ باقی رکھتے تو وہ کون ہے جو اس کے مقابلہ میں رات یا دن لاسکے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور قدرت کاملہ کے مظاہر بیان فرمائے جن میں بندوں پر بھی امتنان ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا (وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ) (آپ کا رب جو چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں ولید بن المغیرہ کی بات کا جواب دیا ہے جو اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو بھیجنا چاہیے تھا (یعنی جو اس کے ذہن میں بڑا تھا) اہل دنیا دنیا داروں ہی کو بڑا سمجھتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔
پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
63:۔ یہ مومنوں کے لیے بشارت ہے جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور توحید و رسالت پر ایمان لائے اور نیک کام کیے ایسے لوگ آخرت میں کامیاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →فَعَمِيَتْ عَلَيْہِمُ الْاَنْۢبَاۗءُ يَوْمَىِٕذٍ فَہُمْ لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ 66
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18]
( ع م ی ) العمی ٰ
یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔
تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَیَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَـقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرسَلِیْنَ ۔ فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْـبَـآئُ یَوْمَئِذٍ فَھُمْ لاَ یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (القصص : 65، 66)
(اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انھیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں کو کیا جواب دیا۔ تو اس دن ان کی سٹی بھول جائے گی، وہ (مارے دہشت کے) آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ )
رسولوں کے حوالے سے لوگوں سے سوال اور ان کی بدحواسی
یہ بھی احوالِ قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے اپنی توحید کے حوالے سے سوالات کرے گا اور جن لوگوں نے شرک کو زندگی کا طرزعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں سے دوسرا سوال۔
مشرکوں سے دوسرا سوال یہ کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول آئے اور انھوں نے میری ذات کا تعارف کروایا اور میرے ارشادات تم تک پہنچائے تھے ؟ بتاؤ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا۔ رب ذوالجلال کے جلال اور اپنے گناہوں کی وجہ سے رسولوں کے منکر کوئی جواب نہیں دے پائیں گے اور نہ ہی انھیں ایک دوسرے سے پوچھنے کی ہمت ہوگی۔ مجرم حواس باختی کی وجہ سے سب کچھ بھول جائیں گے۔ اس طرح ان پر گمراہی کی شہادت پوری ثابت ہوجائے گی۔ البتہ جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کرتے رہے یقیناً وہ کامیابی پائیں گے۔
رسول کے نافرمان کا قیامت کے…
Read the full tafseer →66: فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْچبَآئُ یَوْمَپذٍ (ان پر خبریں اس دن گم ہوجائیں گی) ۔ الانباء سے دلائل۔ نمبر 2۔ اطلاعات مراد ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
ان پر جواب مخفی ہوجائے گا۔ وہ نہ جانیں گے کہ کیا جواب دیں اس لئے کہ ان کے پاس جواب ہوگا ہی نہیں۔
فَہُمْ لَا یَتَسَآئَ لُوْنَ (پس وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ نہ سکیں گے) نہ دلیل اور نہ عذر کوئی چیز بھی پوچھ نہ سکیں گے۔ اس امید سے کہ اس کے پاس شاید عذر ٗ حجت مل جائے۔ کیونکہ وہ تمام جواب کے سلسلہ میں عاجزی میں برابر ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
66۔ فعمیت ، جواب دینے میں وہ اندھوں کی طرح ہوجائیں۔ علیھم الانبیائ، ، اس سے مراد اخبار اور ان مشرکین و کفار کا ایمان نہ لانے کے اعذار، ، مجاہد نے کہا کہ ان کے پاس دلائل نہیں ہوں گے مطلب یہ کہ وہ کچھ بھی نہ کرسکیں گے اور نہ کوئی دلیل پیش کرسکیں گے کیونہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ یومئذ، اس دن ان کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا، اور نہ ہی کوئی دلیل، فھم لایتساء لون، ، ان کو جواب نہیں دیں گے ، قتادہ کا بیان ہے کہ وہ دلائل نہیں دے سکیں گے۔ بعض نے کہا کہ وہ خاموش رہیں گے اور وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →آیت 66
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا۔
1 ۔۔۔ اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔
2 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔
3 ۔۔۔ اور انہوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔
چناچہ فرمایا : (یوم ینادیھم) یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنہوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انہیں اس لئے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بےبسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہوجائے۔ (فیقول این شرکاء ی) ” پس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
93 ایمان والوں کیلئے فوز و فلاح کی بشارت : { عَسیٰ } یعنی " امید ہے " کا یہ ارشاد ربانی یقین سے بھی کہیں بڑھ کر یقینی ہے۔ کیونکہ یہ ارحم الراحمین اور اصدق القائلین ۔ جل و علا ۔ کے کلام صدق نظام میں واقع ہوا ہے۔ جہاں اتنی یقین دہانی بھی بہت بڑی چیز ہے۔ اور یوں بادشاہوں کے تکلم و تخاطب کا انداز بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔ تو پھر بادشاہوں کے بادشاہ رب العالمین حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان اقدس و اعلیٰ کے کہنے ہی کیا ؟ اسی لئے مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ ۔ " التّرجّی فی القرآن بمعنی التّحقیق لِاَنّہٰ وَعْدٌ کَرِیْمٌ مِنَ رَّبٍ رَّحِیْمٍ وَ مِنْ شَانِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتعالٰی اَنَہٗ لَا یُخْلِفُ وَعَدُہٓ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
میدان حشر میں پوچھ گچھ اور اللہ کی قدرتیں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا گیا ہے کہ حشر کے میدان میں کفار و مشرکین حیران و پریشان بےسہارا سخت بےبسی کے عالم میں ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی بچانے ولا ان کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ” جب ہم نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا اور پیغمبر نے ان کو حق کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنی عقلوں سے کیوں کام نہ لیا ؟ اور کیوں اندھوں کی طرح ہمارے پیچھے لگ گئے ؟ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں یہ جانیں اور ان کا کام۔ “ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو یہ سوچ سمجھ کر دوسرے کی بات ماننی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی دہشت کے مارے اس قدر ہکا بکا ہوں گے کہ نہ خود کوئی جواب سوجھے گا اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ کر کوئی بات کہہ سکیں گے۔ قیامت کے دن مختلف مقامات ہوں گے اس لئے کسی دوسرے مقام پر ان کا واللہ ربنا ما کنا مشرکین “ کہنا اس کے خلاف نہیں ہے۔ (دیکھئے انعام :23)
Read the full tafseer →(28:66) فعمیت علیہم الانبیائ۔ لفظی ترجمہ ہوگا۔ تو اندھی ہوجائیں گے ان پر خبریں۔
العمی۔ بصارت اور بصیرت دونوں قسم کے اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمی اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمی اور عم دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔
مثلا ان جاء ۃ الاعمی (80:2) کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ (بصارت کا اندھا پن) ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (17:72) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ (بصیرت کا اندھا پن) ۔ عمی علیہ کا معنی ہیں کہ اس پر فلاں معاملہ اس طرح غیر واضح اور مشتبہ ہوگیا کہ گویا وہ اس سے اندھا ہے (اور وہ اسے سجھائی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 67) ۔
ینا دی (وہ آواز دیتا ہے ) ۔ این (کہاں ) ۔ شرکاء ی (میرے شریک ) ۔ تزعمون (تم گھمنڈ کرتے ہو۔ تم گمان کرتے ہو ) ۔ حق علیھم (جن پا ثابت ہوگیا ) ۔ اغوینا (ہم نے بہکایا ) ۔ تبرءنا (ہم نے بیزاری کا اظہار کیا ) ۔ عمیت علیھم ( ان پر اندھی ہوگئی۔ ان کو نہ سوجھی ) ۔
تشریح : آیت نمبر (62 تا 67 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی بےچارگی اور حسرت و افسوس کی تفصیل بیان کی ہے جو قیامت کے ہولناک دن بری طرح ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور مجرم کی حیثیت سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم میر شریک بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[40] کفار مکہ نبی ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ دولت اور جتھے کے اعتبار سے دوسرے لوگ رسالت کے زیادہ اہل ہیں۔ یہ اس کا جواب ہے کہ اللہ نے انتخاب اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اس معاملے میں دخل دینا ایک طرح کا شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ف 1 : اس سے قبل کی آیتوں میں تو مشرکین سے توحید کے متعلق پوچھا گیا تھا اس آیت میں بتایا گیا ۔ کہ نبوت کے سلسلہ میں بھی سوال کیا جائے گا ۔ کہ تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آئے ۔ انہوں نے تم تک ہمارا پیغام پہنچایا اور تمہاری راہنمائی کی ۔ بتاؤ تم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس سے ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ مارے خوف اور ندامت کے ان سے کوئی جواب نہ پڑیگا ۔ خاموش رہیں گے اور اتنا بھی نہ ہوسکے گا ۔ کہ کسی ساتھی سے پوچھ لیں اور بتادیں ارشاد ہے کہ یہ احتساب کی گھڑیاں بہت شدید اور سخت ہونگی ۔ وہی لوگ ان سے عہدہ برآء ہوسکیں گے اور فوزوتطح سے اپنا دامن بھر سکیں گے ۔ جو گناہوں سے اس دنیاہی میں دست بردار ہوگئے ۔ اور…
Read the full tafseer →66۔ سو اس دن ان سے تمام خبریں اور تمام مضامین گم ہوجائیں گے لہٰذا وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ دریافت بھی نہ کرسکیں گے یعنی اس سوال کا جواب ہی نہ دے سکیں گے اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ گچھ کرسکیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جواب نہ آوے گا کسی کو 12 یہاں تک کہ شرک کی مذمت اور مشرکین کا انجام مذکور تھا آگے توحید کے دلائل اور موحدین کا انجام مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ف 7۔ اوپر توبیخ علی الشرک کی حکایت میں شرک کی مذمت مذکور ہوئی ہے، آگے توحید کا اور اس کے ضمن میں انعامات و احسانات کا اثبات ہے۔
Read the full tafseer →وہ چپ چاپ ہوں گے کہ ” کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے “
66۔ ان کی آنکھیں کھلی ہیں اور ان کا کیا دھرا سب ظاہر ہو رہا ہے کہ گویا وہ رنگے ہاتھوں پکڑ لئے گئے ہیں ان کی حیرت زائیگی اور لاجواب ہونے کی حالت اور کیفیت کوئی بیان کرے تو کیسے لیکن قرآن کریم ان کی اس حالت کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ (فعمیت علیھم الانبآئ) کہ وہ ایسے بدحواس ہوں گے کہ کسی سے کوئی بات بنائے نہیں بنے گی گویا وہ اس وقت ایسی حالت سراسیمگی میں گرفتار ہوں گے کہ نہ تو اس سوال کا جواب دے سکیں گے اور نہ جگہ سے ادھرادھر سرک کر ہی کسی سے کچھ پوچھ سکیں گے اور دلیلوں کے پہاڑ ان پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے کہ ان کی ساری چرب زبانی ہوا ہو کر رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
Commentary
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ (And your Lord creates what He wills and chooses - 28:68). According to one interpretation of this verse, the choice referred to here is Allah's choice with regard to the divine commands, and the sense is that as Allah Ta` ala is unique in the creation of universe and no one is His partner, so is He in the issuance of His commands. He can give out any command to His creatures. But Imam Baghawi, in his commentary, and ` Allamah Ibn Al-Qayyim (رح) in the preface of Zad al-Ma` ad have adopted another interpretation according to which the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
90 This, in fact, is a refutation of shirk. Allah objects to the setting up of countless gods froth among His creatures by the mushriks and assigning to them from themselves of attributes and ranks and offices, and says: "We Ourselves bless with whatever attributes, capabilities and powers whomever We like from among the men, angels, jinns and other servants whom We have created, and employ whomever We will for whatever service We will. But, how and wherefrom have the mushriks got the authority that they should make whomever they like from among My servants remover of hardships, bestower of…
Read the full tafseer →