Explained with ayahs 48–53
اونٹنی کو مار ڈالا
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة النمل 66
یعنی جاہلوں کا معاملہ تو دوسرا ہے، وہ تو کہیں گے کہ حضرت صالح اور ان کی اونٹنی کے معاملہ سے اس زلزلے کا کوئی تعلق نہیں ہے جو قوم ثمود پر آیا، یہ چیزیں تو اپنے طبیعی اسباب سے آیا کرتی ہیں، ان کے آنے یا نہ آنے میں اس چیز کا کوئی دخل نہیں ہوسکتا کہ کون اس علاقے میں نیکو کار تھا اور کون بد کار اور کس نے کس پر طلم کیا تھا اور کس نے رحم کھایا تھا، یہ محض واعظانہ ڈھکوسلے ہیں کہ فلاں شہر یا فلاں علاقہ فسق و فجور سے بھر گیا تھا اس لیے اس پر سیلاب آگیا یا زلزلے نے اس کی بستیاں الٹ دیں یا کسی اور بلائے ناگہانی نے اسے تل پٹ کر ڈالا۔ لیکن جو لوگ علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کوئی اندھا بہرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ، مطلب یہ تھا کہ ہم سب مل کر رات کے اندھیرے میں ان پر اور ان کے متعلقین پر چھاپہ ماریں، سب کو ہلاک کردیں، پھر ان کے خون کا دعویدار وارث تحقیق و تفتیش کے لئے کھڑا ہوگا تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ ہم نے تو فلاں آدمی کو نہ مارا، نہ مارتے کسی کو دیکھا۔ اور ہم اپنے اس قول میں اس لئے سچے ہوں گے کہ رات کے اندھیرے میں یہ تعیین کہ کس نے کس کو مارا ہمیں معلوم نہیں ہوگی۔
اس میں ایک بات یہ قابل نظر ہے کہ یہ کفار اور ان میں سے بھی چیدہ بدمعاش جو فساد میں مصروف تھے یہ سارے کام شرک کفر اور قتل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
قتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا ان فی ذلک لایۃ تقوم یعلمون وانجینا الذین امنوا وکالوا یتقون (53-52)
تلک کا اشارہ یہاں اس بات پر دلیل ہے کہ گویا قریش کو ان کے سامنے کی ایک چیز کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی دور کی داستان نہیں ہے بلکہ ثمو د کی شاندار تعمیرات کے کھنڈر اپنی داستان عبرت سنانے کے لئے تمہارے ملک میں موجود ہیں۔ یہ امر ملحوظ ہے کہ ثمود، عاد کے بقایا میں سے تھے اس وجہ سے تعمیرات کا ذوق ان کو ورثہ میں ملا تھا اور ان کے تباہ شدہ آتا موجود تھے جن پر سے قریش کے قافلوں کو وقتاً فوقتاً گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ بما ظلموا یعنی بما ظلموا انفسھم یہ انجام بد اس وجہ سے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51-1یعنی ہم نے مذکورہ-9سرداروں کو ہی نہیں، بلکہ ان کی قوم کو بھی مکمل طور پر ہلاک کردیا۔ کیونکہ وہ قوم ہلاکت کے اصل سبب کفر میں مکمل طور پر ان کے ساتھ شریک تھی اور گو عملی طور ان کے منصوبہ قتل میں شریک نہ ہوسکی تھی۔ کیونکہ یہ منصوبہ خفیہ تھا۔ لیکن ان کی منشاء اور دلی آرزو کے عین مطابق تھا اس لئے وہ بھی گویا اس مکر میں شریک تھی جو-9افراد نے حضرت صالح ؑ اور ان کے اہل کے خلاف تیار کیا تھا۔ اس لئے پوری قوم ہی ہلاکت کی مستحق قرار پائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
27: حضرت صالح علیہ السلا کی قوم کی بستیاں عرب ہی کے علاقے میں تھیں، اور مدینہ منورہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھیں، اور اہل عرب جب شام کا سفر کرتے تو ان کے پاس سے گذرا کرتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے جیسے وہ نظر آرہے ہوں۔ آج بھی یہ ویران بستیاں اور ان کے کھنڈر ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہیں، اور سامان عبرت بنی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون (25)
” اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔ “ کفار کی اچانک ہلاکت کے بعد اب بتا دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو نجات دے دی گئی۔ اس لئے کہ وہ دنیا کی قوتوں کی بجائے صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔ اور کسی مومن کے دل میں اللہ کے ڈر کے ساتھ دورسا کوئی ڈر جمع نہیں ہو سکتا۔
Read the full tafseer →4 مکہ والے شام کا سفر کرتے تو راستہ پر " وادی القریٰ " میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے۔ (فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا) 27 ۔ النمل :52) میں ان ہی کی طرف اشارہ ہے۔
5 یعنی جانے والوں کو چاہیے کہ ان واقعات ہائلہ سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”
یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52 اس جملہ کے کئی ملب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ وہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں جو ان کھنڈرات کو دیدہ بینا سے دیکھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ جو اقوام اعلم کے عروج وزوال کے قانون سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قوم نے رسولوں کی تکذیب کی اور انھیں دکھ پہنچایا۔ وہ تباہ و برباد ہو کے رہی۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو طبیعی اسباب کا پابند نہیں سمجھتے بلکہ یہ جانتے ہیں کہ طبیعی اسباب کا خالق وہ خود ہے اور ان میں جب چاہے رد و بدل بھی کرسکتا ہے اور سبب اور مسبب کا تعلق توڑ بھی سکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی سب اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ یوں نہیں کہہ دیتے کہ فلاں عذاب مثلاً زلزلہ تو محض طبیعی اسباب کی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
63۔ (اللہ قدرت و حکمت اور انبیاء کی صداقت کا) مدائن صالح کے کھنڈر ملک شام جاتے ہوئے تجارت پیشہ اہل مکہ کے قافلوں کی راہ میں برابر پڑتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا . سو ان کے ظلم (یعنی کفر اور برے کرتوت) کی وجہ سے یہ ان کے
مکان کھنڈر پڑے ہیں۔ یا خالی ویران پڑے ہیں یا ڈھے پڑے ہیں۔ خَوی البَطْنُ پیٹ خالی ہوگیا۔ خوی النجم ستارہ گرگیا ۔
ان فی ذلک لایہ لقوم یعلمون . بلاشبہ دانشمندوں کے لئے اس (واقعہ) میں (اللہ کی قدرت اور
پیغمبروں کی صداقت کی) بڑی نشانی ہے (یعنی جو لوگ علم والے ہوں اور اس سے عبرت حاصل کریں ان کے لئے پیغمبروں کی سچائی کی کھلی ہوئی دلیل ہے) ۔
Read the full tafseer →(52) سو یہ ان کے ویران گھر پڑے ہوئے ہیں ان کے شرک کی وجہ سے ہم نے جو ان کو سزا دی، بیشک اس میں بڑی عبرت ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو ہماری سزا دینے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ :”خَاوِيَةًۢ“ کا معنی گرنے والے بھی ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ (259) میں ہے : (وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا) اور خالی بھی ہے، جیسے : ”أَرْضٌ خَاوِیَۃٌ أَيْ خَالِیَۃٌ۔“ (قاموس) مکہ والے شام کو جاتے تو راستے میں وادی القریٰ میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے، عالی شان عمارتیں پیوند زمین تھیں، آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔۔ : یعنی جاہلوں کے لیے ان اجڑے ہوئے مکانوں اور کھنڈروں میں کوئی عبرت نہیں، ان کے خیال میں اس زلزلے کا صالح ؑ اور ان کی اونٹنی سے، یا اس قوم کے کفر و شرک یا سرکشی سے کوئی تعلق نہیں، دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھم انا درمرنھم وقومھھناجمعین چیخ کے ساتھ ان سب کو ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام کی ہلاکت حضرت جبریل امین کی چیخ سے ہوئی۔ ظاہر بات یہ ہے کہ سب کی ہلاکت ایک عذاب سے ہوئی پھر باقی چیخ یا دمدم سے ہلاک ہوئے۔ اعمشق، حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق، عاصم، حمزہ اور کسائی اما پڑھا کرتا تھے۔ ابن انباری نے کہا، اس مذہب کی بنا پر عاقبہ مکرھم پر واقف اچھا نہیں کیونکہ انادمر نھم، انکی خبر ہی یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل رفع میں رکھے یہ عاقبہ کی اتباع میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل نصب میں رکھے، یہ فراء کا قول ہے کسائی کے قوال کے مطباق یہ محل جر میں ہوگا مرادو گا بانا دھرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →فَتِلْكَ [ پس یہ ] بُيُوْتُهُمْ [ ان کے گھر ہیں ] خَاوِيَةًۢ [ اوندھے ہوئے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] ظَلَمُوْا ۭ [ انھوں نے ظلم کیا ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [ یقینا ایک نشانی ہے ] لِّقَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →یہ لوگ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے عذاب آیا تو اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل ایسے پڑے رہ گئے جیسا کہ اس میں کبھی رہے ہی نہ تھے خودہلاک ہوئے اور گھر یونہی دھرے رہ گئے جو اب تک موجود ہیں خالی پڑے ہیں۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
64:۔ یہ ان کے مکر و فریب کے انجام کا بیان ہے۔ اور خطاب ہر مخاطب سے ہے۔ دیکھ لو ان کے مکر و فریب کا انجام کیا ہوا ہم نے نہ صرف ان بد معاشوں کو بلکہ ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کردیا۔ فتلک بیوتہم خاویۃ الخ ان کے گھر ویران پڑے ہیں یہ سزا ان کو ان کے ظلم وعدوان کی وجہ سے ملی۔ اس واقعہ میں علم وفہم رکھنے والوں اور غور وفکر کرنے والوں کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →فَتِلْكَ بُيُوْتُہُمْ خَاوِيَۃًۢ بِمَا ظَلَمُوْا 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 52
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔
خوی
أصل الخَوَاء : الخلا، يقال خَوَى بطنه من الطعام يَخْوِي خَوًى «3» ، وخَوَى الجوز خَوًى تشبيها به، وخَوَتِ الدار تَخْوِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَتِلْکَ بُیُوْتُھُمْ خَاوِیَۃً م بِمَا ظَلَمُوْا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَـتَّـقُـوْنَ ۔ (النمل : 52، 53)
(پس یہ ہیں ان کے گھر جو اجڑے پڑے ہیں بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، بیشک اس کے اندر عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔ اور ہم نے بچا لیا ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور جو ڈرتے تھے۔ )
قریش کو تنبیہ
یہ سرگزشتیں چونکہ قریش اور اہل مکہ کو سنائی جارہی ہیں تاکہ وہ ان سے سبق سیکھیں اور ہدایت قبول کرلیں۔ اس لیے انھیں سنا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ قوم ثمود ان قوموں میں سے ہے جن کے کھنڈرات پر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔
1۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
2۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
صالح (علیہ السلام) کی قوم کے انجام میں لوگوں کے لیے درس عبرت ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی کی چال کارگر نہیں ہوتی جو بھی مکروفریب سے کام لے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے صالح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح نشان عبرت بنا دے گا اور ان کی بستیاں آج بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ…
Read the full tafseer →آیت 52: فَتِلْکَ بُیُوْتُہُمْ خَاوِیَۃً (پس یہ ان کے مکانات گرپڑے ہیں) ۔ منہدم گرپڑے ہیں۔ خاویۃ یہ خوی النجم سے بنا ہے۔ جب کہ وہ گرے۔ نمبر 2۔ خالی پڑے ہیں۔ جبکہ الخواء سے لیا جائے۔
نحو : یہ حال ہے۔ جس پر تلک کا مدلول عامل ہے۔
بِمَا ظَلَمُوْا (ان کے ظلم کی وجہ سے) ۔ ان کے ظلم کے باعث۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) ۔ جو کچھ ثمود کے ساتھ ہوا۔ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (جاننے والی قوم کے لئے نشانی ہے) ۔ ہماری قدرت کی پس وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →52۔ فتلک بیوتھم خاویہ، منصوب حال ہونے کی وجہ سے۔ بماظلموا، ان کے ظلم اور کفر کے ساتھ، ان فی ذالک لایہ، اس میں عبرت ہے ، لقوم یعلمون، ہماری قدرت کو جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
56 درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈرات سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہیں ان کے ویران پڑے ہوئے گھر ان کے اپنے ظلم کی بناء پر "۔ جن کو تم لوگ اے عربو ! اپنے سفروں کے دوران دن رات دیکھتے ہو۔ اور مدائنِ صالح کے نام سے ان کے یہ کھنڈرات تب تک سامان عبرت بنے ہوئے تھے اور اب تک بنے ہوئے ہیں۔ لیکن غافل لوگ کل کی طرح آج بھی اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں اور وہ اس بارے میں نہ کوئی غور کرتے ہیں اور نہ توجہ دینے کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں کہ آخر یہ کون لوگ تھے ؟ جو اس ہولناک انجام کو پہنچے ؟ اور وہ کیا عوامل و اسباب تھے جن کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
2 ۔ جو اس قسم کی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس سے گدھے اور کتے بھی شرماتے ہیں ” تجھلون “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اس بات سے باخبر ہو کر اس بری روش کی تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے ؟۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(27:51) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع تسعۃ رھط ہے۔ ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ ہم نے ہلاک و برباد کردیا۔
خاویۃ۔ افتادہ۔ گری ہوئی۔ خواء مصدر۔ خوی یخوی (ضرب) گر جانا (گھر کا) اجڑ جانا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی مفعول۔ بیوتھم کا حال ہے۔
بما ظلموا۔ باسببیہ ہے۔ ما مصدریہ ہے بسبب ان کے ظلم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
سدومیت کے خلاف جہاد کی ضرورت
1: اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات یا قانون عذاب انہی لوگوں پر ہی ہوتا ہے جو اس پیغام سے روگردان ہیں ۔ اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں ۔
حل لغات :۔ خاویۃ ۔ خوی البیت سے ہے ۔ معنے مکان کے گر جانے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(52) سو اب یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے کفر کی وجہ سے ویران اور ڈھیے ہوئے پڑے ہیں بلاشبہ اس ثمود کے واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو دانش مند ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ف 4۔ وہ یہ کہ ایک پہاڑ سے ایک پتھر پر لڑھک آیا اور وہ سب وہاں ہی کھپت رہے، یعنی ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →قوم ثمود کے گھروں کو ان کے ظلم وستم کے باعث برباد کردیا گیا ہے :
52۔ جب ان کا وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ اس وقت تھا ، قرآن کریم نے اس ہلاکت آفریں آواز کو کسی مقام پر (صاعقۃ) کڑک دار بجلی اور کسی جگہ (رجفۃ) زلزلہ ڈال دینے والی ایک چیخ اور ایک جگہ (طاغیۃ) دہشت ناک جگہ اور بعض جگہ (صیح) ایک چیخ فرمایا ہے اس لئے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ان عذاب کی ہولناکیاں کیسی گوناگوں تھیں تم ایک کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49.
The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
66 That is, "The ignorant people will say, `There is no link between We Prophet Salih and his she-camel and We earthquake which struck We people of Thamud. These Wings have Weir natural causes. Their occurrence or otherwise has nothing to do with We piety and wickedness of the people of a place, with Weir high-handedness or Weir show of mercy. It is meaningless merely to say that such and such a city or land was filled with sin and wickedness, and therefore, it was overwhelmed by flood, or its habitation turned upside down by an earthquake, or it was ruined by a sudden disaster'." But We…
Read the full tafseer →