Explained with ayahs 48–53
اونٹنی کو مار ڈالا
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة النمل 65
یعنی قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالح کے ہاں شبخون مارتے، اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہوگئی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔ سورة ہود میں ذکر آتا ہے کہ جب انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالح نے انہیں نوٹس دیا کہ بس اب تین دن مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا (فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ) اس پر شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ صالح کا عذاب موعود تو آئے چاہے نہ آئے، ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا بھی کیوں نہ کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ، مطلب یہ تھا کہ ہم سب مل کر رات کے اندھیرے میں ان پر اور ان کے متعلقین پر چھاپہ ماریں، سب کو ہلاک کردیں، پھر ان کے خون کا دعویدار وارث تحقیق و تفتیش کے لئے کھڑا ہوگا تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ ہم نے تو فلاں آدمی کو نہ مارا، نہ مارتے کسی کو دیکھا۔ اور ہم اپنے اس قول میں اس لئے سچے ہوں گے کہ رات کے اندھیرے میں یہ تعیین کہ کس نے کس کو مارا ہمیں معلوم نہیں ہوگی۔
اس میں ایک بات یہ قابل نظر ہے کہ یہ کفار اور ان میں سے بھی چیدہ بدمعاش جو فساد میں مصروف تھے یہ سارے کام شرک کفر اور قتل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ومکروا مکرواو مکرنا مکر وھم لایشعرون فانظر کیف کان عاقبہ مکرھم انا رمرنھم وقومھم اجمعین (51-50)
مفسدین کی چال کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر
ان مفسدین نے جو چال چلی اس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا۔ اس کے مقابل میں اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کا ذکر سورة شعراء اور بعض پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے فرمایا کہ دیکھ لو، ان کی چال کا انجام کیا ہوا انا دمرنھم قومھم اجمعین یہ اسی انجام کی وضاحت ہے کہ ہم نے ان مفسدین اور کی ساری قوم کو پامال کر کے رکھ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51-1یعنی ہم نے مذکورہ-9سرداروں کو ہی نہیں، بلکہ ان کی قوم کو بھی مکمل طور پر ہلاک کردیا۔ کیونکہ وہ قوم ہلاکت کے اصل سبب کفر میں مکمل طور پر ان کے ساتھ شریک تھی اور گو عملی طور ان کے منصوبہ قتل میں شریک نہ ہوسکی تھی۔ کیونکہ یہ منصوبہ خفیہ تھا۔ لیکن ان کی منشاء اور دلی آرزو کے عین مطابق تھا اس لئے وہ بھی گویا اس مکر میں شریک تھی جو-9افراد نے حضرت صالح ؑ اور ان کے اہل کے خلاف تیار کیا تھا۔ اس لئے پوری قوم ہی ہلاکت کی مستحق قرار پائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
27: حضرت صالح علیہ السلا کی قوم کی بستیاں عرب ہی کے علاقے میں تھیں، اور مدینہ منورہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھیں، اور اہل عرب جب شام کا سفر کرتے تو ان کے پاس سے گذرا کرتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے جیسے وہ نظر آرہے ہوں۔ آج بھی یہ ویران بستیاں اور ان کے کھنڈر ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہیں، اور سامان عبرت بنی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →فانظر ……ظلموا ط
ایک لمحے کے اندر ان کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اگلے لمحے میں ان کے محلات ان پر الٹ دیئے گئے۔ گھر خالی رہ گئے ۔ ایک لمحہ پہلے وہ تو اہل ایمان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی سازشوں پر عمل کرسکیں گے۔
سیاق کلام میں یہ شتابی کہ ادھر سازش ہوئی ادھر وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اس اچانک اور فیصلہ کن گرفت سے ڈرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوت آجاتی ہے۔ وہ مغرور نہ ہوں اور غرے میں نہ آجائیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اسی طرح اچانک گرفت میں لے سکتا ہے اور ان کو ان کی مکاریوں اور تدابیر کے ساتھ ہلاک کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →3 ان نو اشخاص نے اول اتفاق کر کے اونٹنی کو ہلاک کیا۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ اب تین دن سے زیادہ مہلت نہیں عذاب آکر رہے گا۔ تب آپس میں ٹھہرایا کہ ہم تو خیر تین دن کے بعد ہلاک کیے جائیں گے ان کا تین دن سے پہلے ہی کام تمام کردو۔ چناچہ شب کے وقت حضرت صالح کے گھر پر چھاپہ مارنے اور ان کو مع اہل و عیال کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ نو آدمی اس ناپاک مقصد کے لیے تیار ہو کر نکلے باقی کفار ان کے تابع یا معین تھے۔ حق تعالیٰ نے حضرت صالح کی حفاظت فرمائی۔ فرشتوں کا پہرہ لگا دیا، آخر وہ تو عذاب سماوی سے تباہ ہوئے اور اپنے ساتھ قوم کو بھی تباہ کرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”
یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
51 جب یہ لوگ اس منصوبہ پر قسمیں کھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حصرت صالح (علیہ السلام) کو وحی کردی کہ وہ اپنے خاندان اور ایمان والوں کو لے کر فوراً اس بستی سے ہجرت کر جائیں۔ چناچہ آپ 120 افراد کو اپنے ہمراہ لے کر فلسطین کی طرف چلے گوے اور رملہ کے قریب آگئے۔ آپ کے اس بستی سے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قوم ثمود کے پورے علاقہ میں شدید زلزلہ کا عذاب آیا اور اس سے دل دہلانے والی آوازیں اور چیخیں بھی پیدا ہوتی تھیں۔ زلزلہ اتنا شدید تھا جس نے ان کے پہاڑوں میں بنے ہوئے مکانوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور خود بھی یہ قوم اسی عذاب سے ہلاک ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
63۔ (اللہ قدرت و حکمت اور انبیاء کی صداقت کا) مدائن صالح کے کھنڈر ملک شام جاتے ہوئے تجارت پیشہ اہل مکہ کے قافلوں کی راہ میں برابر پڑتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھم انا دمرنھم وقومھم اجمعین . سو دیکھ لو ان کے داؤ کا کی انجام ہوا کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (آسمانی عذاب بھیج کر) تباہ کردیا۔
مَکَرُوْا مَکُرًا یعنی انہوں نے غداری کی کہ شب خون مار کر صالح ( علیہ السلام) کو قتل کر ڈالنے کا باہم مشورہ طے کرلیا۔ وَمَکَرْنَا مَکْرًا یعنی ہم نے بھی ان کو ہلاک کرنے کا سبب اسی بات کو بنا دیا۔ کَیْفَ کَانَمیں استفہام تعجبی ہے۔ تعجب کے ساتھ ان کے انجام پر نظر کرو۔ اَنَّا دَمَّرْنَاھُمْ کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان نو آدمیوں کو ہلاک کس طرح کیا گیا اس کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ نے فرشتوں کو صالح…
Read the full tafseer →(51) سو دیکھیے ان کی اس شرارت کا کیا انجام ہوا ہم نے ان کو اس طریقے سے مذکور اور بقیہ انکی ساری قوم کو پتھروں کا عذاب نازل کر کے ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا۔۔ : ان کی چال تو وہ منصوبہ تھا جس پر انھوں نے آپس میں قسمیں کھائیں اور اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ اس نے دوسرے انبیاء کی طرح صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ ان کے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قوم ثمود کے پورے علاقے میں شدید زلزلے کا عذاب آیا، جیسا کہ فرمایا : (فَاَخذَتْھُمُ الرَّجفَةُ) [ الأعراف : 78 ] ”تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا۔“ جس کے ساتھ خوف ناک چیخ کی آواز بھی تھی، فرمایا : (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحة) [ ھود : 67۔ القمر : 31 ] ”اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا۔“ جس سے ان کی بستیاں برباد ہوگئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھم انا درمرنھم وقومھھناجمعین چیخ کے ساتھ ان سب کو ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام کی ہلاکت حضرت جبریل امین کی چیخ سے ہوئی۔ ظاہر بات یہ ہے کہ سب کی ہلاکت ایک عذاب سے ہوئی پھر باقی چیخ یا دمدم سے ہلاک ہوئے۔ اعمشق، حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق، عاصم، حمزہ اور کسائی اما پڑھا کرتا تھے۔ ابن انباری نے کہا، اس مذہب کی بنا پر عاقبہ مکرھم پر واقف اچھا نہیں کیونکہ انادمر نھم، انکی خبر ہی یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل رفع میں رکھے یہ عاقبہ کی اتباع میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل نصب میں رکھے، یہ فراء کا قول ہے کسائی کے قوال کے مطباق یہ محل جر میں ہوگا مرادو گا بانا دھرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →فَانْظُرْ [ تو آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ ۙ [ ان کی خفیہ تدبیر کا انجام ] اَنَّا [ کہ ہم نے ] دَمَّرْنٰهُمْ [ ہلاک کیا ان (یعنی جتھے) کو ] وَقَوْمَهُمْ [ اور ان کی قوم کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ان لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر والوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اونٹنی کو بھی قتل کرنے کا مشورہ کیا، اور آخر اسے انہوں نے قتل کر ہی دیا جس کی وجہ سے ان پر عذاب آ ہی گیا اس کو فرمایا (وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ) (کہ انہوں نے ایک خاص طرح کا مکر کیا اور ہم نے ایک خفیہ تدبیر کی جس کی انہیں خبر بھی نہ ہوئی)
درمنثور میں ہے کہ یہ نو آدمی حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے لگے تو ان پر ایک پہاڑ سے پتھر لڑھک کر آگیا اور وہ لوگ وہیں ہلاک ہوگئے۔
یہ نو آدمیوں کا انجام ہوا اور پوری قوم چیخ اور زلزلہ سے ہلاک کردی گئی جس کا ذکر سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
64:۔ یہ ان کے مکر و فریب کے انجام کا بیان ہے۔ اور خطاب ہر مخاطب سے ہے۔ دیکھ لو ان کے مکر و فریب کا انجام کیا ہوا ہم نے نہ صرف ان بد معاشوں کو بلکہ ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کردیا۔ فتلک بیوتہم خاویۃ الخ ان کے گھر ویران پڑے ہیں یہ سزا ان کو ان کے ظلم وعدوان کی وجہ سے ملی۔ اس واقعہ میں علم وفہم رکھنے والوں اور غور وفکر کرنے والوں کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ مَكْرِہِمْ 0ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِيْنَ 51
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا .
والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ،
( ن ظ ر ) النظر
کے معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِھِمْ لا اَنَّا دَمَّرْنٰـھُمْ وَقَوْمَھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (النمل : 50، 51)
(اور انھوں نے بھی چال چلی اور ہم نے بھی تدبیر کی، جسے وہ نہ جان پائے۔ پس دیکھو کیسا ہوا ان کی چال کا انجام، ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ )
مخالفین کی چال کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کی چال
انھوں نے نہایت خفیہ طریقے سے شب خون مار کر حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کو ختم کرنے کی چال چلی اور اس میں تمام خاندانوں کو شامل کرکے انھوں نے اس چال کو اس حد تک مضبوط کیا کہ حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔
1۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
2۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
صالح (علیہ السلام) کی قوم کے انجام میں لوگوں کے لیے درس عبرت ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی کی چال کارگر نہیں ہوتی جو بھی مکروفریب سے کام لے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے صالح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح نشان عبرت بنا دے گا اور ان کی بستیاں آج بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ…
Read the full tafseer →قوم کی ہلاکت :
51 : فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْ اَنَّا دَ مَّرْنٰہُمْ (غور کرو ان کی تدبیر کا انجام کیا ہوا بیشک ہم نے تمام کو تہس نہس کردیا ) ۔ قراءت : کوفی و سہل نے اَنَّا کو فتحہ سے پڑھا اور دیگر قراء نے اِنّا پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔
نحو : جنہوں نے فتحہ دیا انہوں نے اس کو۔ نمبر 1۔ العاقبۃ کا بدل مان کر مرفوع قرار دیا۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف کی خبر مان لیا۔ تقدیر کلام یہ ہوئی وہی تدبیرہم اور جنہوں نے نصب دیا۔ انہوں نے لاَنَّالام کو محذوف مانا۔ نمبر 2۔ یا اس کو کان کی خبر قرار دیا۔ تقدیر کلام کان عاقبۃ مکرہم الدمار وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ (اور ان کی ساری قوم کو) ۔ چیخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
تفسیر۔
50۔ ومکروامکرا، یعنی انہوں نے غداری کی کہ شب خون مارکرصالح (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالنے کا مشورہ طے کیا، ومکرنامکرا، اللہ نے ان کے مکرکابدلہ لیا، اہل کوفہ نے انا کے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا، دمرناھم، ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ان کی ہلاکت کی کیفیت کے متعلق آئمہ کرام کا آپس میں اختلاف ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو صالح (علیہ السلام) کے مکان کی حفاظت کے لیے بھیج دیا۔ جب ان نوآدمیوں نے تلواریں سونت کر صالح کے گھر پرچڑھائی کی تو فرشتوں نے ان پر پتھر برسائے۔ پتھرتوان کو نظر آتے تھے البتہ پتھر مارنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
56 درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈرات سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہیں ان کے ویران پڑے ہوئے گھر ان کے اپنے ظلم کی بناء پر "۔ جن کو تم لوگ اے عربو ! اپنے سفروں کے دوران دن رات دیکھتے ہو۔ اور مدائنِ صالح کے نام سے ان کے یہ کھنڈرات تب تک سامان عبرت بنے ہوئے تھے اور اب تک بنے ہوئے ہیں۔ لیکن غافل لوگ کل کی طرح آج بھی اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں اور وہ اس بارے میں نہ کوئی غور کرتے ہیں اور نہ توجہ دینے کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں کہ آخر یہ کون لوگ تھے ؟ جو اس ہولناک انجام کو پہنچے ؟ اور وہ کیا عوامل و اسباب تھے جن کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
2 ۔ جو اس قسم کی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس سے گدھے اور کتے بھی شرماتے ہیں ” تجھلون “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اس بات سے باخبر ہو کر اس بری روش کی تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے ؟۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(27:51) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع تسعۃ رھط ہے۔ ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ ہم نے ہلاک و برباد کردیا۔
خاویۃ۔ افتادہ۔ گری ہوئی۔ خواء مصدر۔ خوی یخوی (ضرب) گر جانا (گھر کا) اجڑ جانا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی مفعول۔ بیوتھم کا حال ہے۔
بما ظلموا۔ باسببیہ ہے۔ ما مصدریہ ہے بسبب ان کے ظلم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1: ان آیات میں حضرت صالح اور قبیلہ ثمود کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ ہم نے صالح کو ان لوگوں میں پیغمبر بنا کر بھیجا ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور حق کی جانب بلایا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں دو فریق پیدا ہوگئے ۔ ایک ماننے والوں کا اور دوسرا نہ ماننے والوں کا ۔ ماننے والے کم تھے اور منکرین زیادہ منکرین نے حضرت صالح ، اور مومنین کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک بدبختی کا اظہار کیا ۔ کہ عذاب کا مطالبہ کرنے لگے اور ہم تم کو اور تمہاری جماعت کو اپنے لئے منحوس خیال کرتے ہیں پھر ان میں سے نو آدمی اس پر آمادہ ہوئے ۔ حضرت صالح کو معران کی جماعت کے شہید کردیا جائے ۔ اور…
Read the full tafseer →(51) پس اے پیغمبر دیکھئے ان کی خفیہ سازش کا انجام کیسا ہوا اور ہم نے ان نو فسادی اشخاص کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کرڈالا اور کھیڑ مارا یعنی آسمانی عذاب سے پوری قوم تباہ کردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ف 4۔ وہ یہ کہ ایک پہاڑ سے ایک پتھر پر لڑھک آیا اور وہ سب وہاں ہی کھپت رہے، یعنی ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →ہم نے صالح (علیہ السلام) کے ان نوسرداروں اور ان کی ساری قوم کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا :
51۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے یہ فیصلہ کب کیا ؟ یہ ایک سوال ہے جس کا واضح ذکر قرآن کریم نے نہیں فرمایا لیکن جس بات کی وضاحت قرآئن خود کر رہے ہوں قرآن کریم نے کبھی بھی اس چیز کی وضاحت نہیں کی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ہی نازل کیا گیا ہے جو عقل وفکر اور سمجھ سوچ سے کام لیتے ہیں باقی کے لئے جیسا وہ نازل ہوا جیسا نہ ہوا بہرحال قرینہ اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ قوم کے سرداروں نے جب وہ کام کرلیا جس سے صالح (علیہ السلام) نے ان کو منع کیا تھا یعنی اس اونٹنی کو قتل کرلیا اور اونٹنی کے قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49.
The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
65 That is, "Before they could make the night attack on the Prophet Salih at the appointed time Allah sent down His scourge which destroyed their whole nation completely. It appears that they made this plot after hamstringing the shecamel. According to Surah Hud: 65, when they had killed the she-camel, Prophet Salih gave them a notice to enjoy life in their houses for three more days, for then they would be seized by We torment. At this they might have thought that We torment with which Salih threatened them might come or might not, but they must take We vengeance on Salih himself. Therefore,…
Read the full tafseer →