Explained with ayahs 93–98
برائی کے بدلے اچھائی
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
سورة الْمُؤْمِنُوْن 87
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبی ﷺ کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کرے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہ گاروں ہی کو نہیں، نیکوکاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے با وجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ ، وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، لفظ ھمز کے معنے دھکا دینے اور دبانے کے آتے ہیں۔ اور پیچھے کی طرف سے آواز دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ دعا اپنے مفہوم عام کے اعتبار سے ایک جامع دعا شیطان کے شر اور مکر سے بچنے کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس دعا کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ایسے غصہ اور غیظ و غضب کی حالت میں جبکہ انسان کو اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا اور اس میں ھمز شیطان کا دخل ہوتا ہے اس سے محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ شیاطین اور جنات کے دوسرے آثار اور حملوں سے بچنے کے لئے بھی یہ دعا مجرب ہے۔ حضرت خالد ؓ کو شب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
آیات 98-97
حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا
یہ حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا تلقین فرمائی گی ہے۔ شیطان سے مراد شیاطین جن بھی ہیں جو دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور وہ شیاطین انس بھی جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ برامبر یہ دعا کرتے رہو کہ اے رب مجھے شیاطین جن کے وسوسوں سے بھی محفوظ رکھ اور ان شیاطین انس سے بھی محفوظ رکھ کر وہ میرے پاس بحث وجدال اور شو فساد کے لئے نہ آئیں۔
Read the full tafseer →97-1چناچہ نبی ﷺ شیطان سے اس طرح پناہ مانگتے (وَ اَعُوذ باللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ حَمْزِہِ وَ نَفُخِہِ وَنَفْثِہِ) (ابو داؤد)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
30: یعنی ان کی بےہودگیوں کا اور ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ان کا جواب حتی الامکان نرمی، خوش اخلاقی اور احسان سے دئیے جائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس…
Read the full tafseer →10 پہلے شیاطین الانس کے ساتھ برتاؤ کرنے کے طریقہ بتلایا تھا۔ لیکن شیاطین الجن اس طریقہ سے متأثر نہیں ہوسکتے۔ کوئی تدبیر یا نرمی ان کو رام نہیں کرسکتی۔ اس کا علاج صرف استعاذہ ہے یعنی اللہ کی پناہ میں آجانا، تاوہ قادر مطلق ان کی چھیڑخانی اور شر سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شیطان کی چھیڑ یہ ہے کہ دین کے سوال و جواب میں بےموقع غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے۔ اسی پر فرمایا کہ برے کا جواب دے اس سے بہتر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت 96 اِدْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ السَّیِّءَۃَ ط ”
آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کریں۔ ان لوگوں کا آپ ﷺ کے ساتھ جیسا بھی رویہ ہو مگر آپ ﷺ کو اس کا مقابلہ نیکی اور بھلائی سے ہی کرنا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کی گالیوں کے جواب میں انہیں دعا دیں اور ان کے برا بھلا کہنے کے باوجود آپ ﷺ اس کو اللہ کی طرف بلاتے رہیں۔
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ”
جو کچھ یہ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ہم اس سے خوب واقف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
93 یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہوچکی ہے۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا…
Read the full tafseer →86۔ (کہ میں ان کافروں سے خلاف مصلحت مقابلہ پر آمادہ ہوجاؤں) پیغمبر کے لیے اس کا تو احتمال ہی نہیں کہ شیطان انہیں کسی معصیت پر لاسکتا ہے۔ بس یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ترغیبات سے کسی امر خلاف مصلحت پر آمادہ کردے۔ یہاں اس سے بھی پناہ مانگنے کی دعا ارشاد ہوگئی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ وسوسوں کا امکان جب منتہیوں کے لیے ہے تو مبتدی کہاں بچ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →وقل رب اعوذبک من ہمزت الشیطین۔ اور آپ دعا کیجئے اے میرے رب ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں
Read the full tafseer →(97) اور آپ یہ بھی دعا کیجیے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے کہ جن سے انسان سے خلاف مصلحت کام سرزد ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ۔۔ : ”اَلْھَمْزُ“ کا معنی ہاتھ یا کسی بھی چیز کے ساتھ چوکا مارنا ہے۔ گلا گھونٹنے، طعنہ دینے اور غیبت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مراد شیطان کے چوکے، وسوسے اور اکساہٹیں ہیں، جن کے ساتھ وہ غصے پر ابھارتا ہے، حتیٰ کہ جنون تک پہنچا دیتا ہے۔ شیاطین انس و جن کے وساوس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ناس کی تفسیر۔ ”اَنْ يَّحْضُرُوْنِ“ اصل میں ”أَنْ یَّحْضُرُوْنِيْ“ ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ”اَنْ“ کے ساتھ ”يَّحْضُرُوْنِ“ کا نون گر جاتا، یاء کو حذف کرکے نون کا کسرہ باقی رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب ! میں صرف شیاطین کے چوکوں ہی سے تیری پناہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
آیت نمبر 97-98 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیطن۔ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ھمزات الشیٰطین۔ الھمزات جمع ہے ھمزہ کی الھمزہ کا لغوی معنی ہے دفع کرنا، دور کرنا، کہا جاتا ہے : ھمزہ ولمزہ اس نے اسے دور کیا۔ لیث نے کہا الھمز کا معنی ہے پیچھے سے کلام کرنا اور اللمز کا معنی ہے سامنے باتیں کرنا۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، ابن آدم کے سینے میں آہستہ آہستہ وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اعوذ بک من ھمزات الشیاطین یعنی (کہیے) میں شیطان کی وسوسہ اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ا۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداوئد والترمذی وحسن والنسائی والبیہقی فی الاسماء والصفات عمرو بن شعیب (رح) نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے ہم ان کو نیند کے وقت کہتے تھے۔
بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔
اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں اور میرے پاس ان کے آنے پناہ چاہتا ہوں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت ” واعوذبک رب ان یحضرون “ یعنی وہ (شیاطین) حاضر ہوں میرے…
Read the full tafseer →وَ (اور) قُلْ (آپ کہہ دیجیے ) رَبِّ (" اے " میرے رب) اَعُوْذُ (میں پناہ مانگتا ہوں) بِكَ (تجھ سے ) مِّنْ هَمَزٰتِ (وسوسوں سے ) الشَّيٰطِيْنِ (شیاطین (کے) )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
اس کے بعد ایک اور دعا تلقین فرمائی اور وہ یہ ہے (رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیٰطِینِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) (اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور اس بات سے آپ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) یہ دعا بہت اہم اور ضروری ہے ہر مسلمان کو یاد کرنی چاہئے بارہا پڑھنی چاہئے شیاطین پیچھے لگے رہتے ہیں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا بہت اہم ہے جب رسول اللہ ﷺ کو شیاطین سے محفوظ رہنے کے لیے تلقین فرمائی تو اور کون شخص ہے جسے شیاطین کے وسوسوں سے محفوظ ہونے کی دعاء سے بےنیازی ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند میں گھبرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
74:۔ ” و قل رب الخ “ توحید بیان کرتے وقت آپ شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں نیز اس سے پناہ مانگیں کہ شیاطین میرے پاس آکر میرے اعمال و افعال میں دخل دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ 97ۙ
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال :
عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67]
( ع و ذ) العوذ
) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔
همز
الْهَمْزُ کالعصر . يقال : هَمَزْتُ الشیء في كفّي، ومنه : الْهَمْزُ في الحرف، وهَمْزُ الإنسان :
اغتیابه . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
2 ؎ یعنی اگر آپ سے برائی کریں سخت کلامی یا کچھ اور کریں تو آپ بمقتضائے مکارم اخلاق اس کے جواب میں اچھی بات کہئے اور احسان کیجئے ناصح کا یہ فعل زیادہ موثر ہوتا ہے شیطان وعظ و پند کے مواقع میں وسوسہ ڈال کر بھڑکا دیا کرتا ہے اس سے پناہ مانگنا چاہیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ ۔ وَاَعُوْذِبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ۔
(المومنون : 97، 98)
(اور دعا کرتے رہئے کہ اے رب ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اے میرے رب ! اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ )
توفیق ایزدی کے لیے دعا کی تلقین
جب ایک داعی الی الحق میدانِ عمل میں اترتا ہے تو اس کی کامیابی چونکہ شیطنت کی ناکامی اور کفر و شرک کی بدنصیبی اور محرومی ہے اس لیے تمام شیطانی قوتیں ہر ممکن طریقے سے اس کی دعوت کو بےاثر کرنے میں لگ جاتی ہیں اور انسانوں میں شیطان کے کارندے پیغمبر کو پریشان کرنے اور اس کے دعوتی عمل کو مسدود کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : برائی اور غصہ شیطان کی طرف سے ہے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو دعا سکھلائی گئی کہ شیطان سے اپنے رب کی حفاظت طلب کیا کریں۔
شیطان داعی کو انگیخت دیتا ہے کہ وہ غصہ میں آکر برائی کا جواب برائی سے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ داعی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دے۔ جہاں تک ذاتی معاملات کا تعلق ہے اس میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ مظلوم ظالم کے جواب میں کوئی بری بات زبان پر لے آئے۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ( المائدہ : آیت 148)
لیکن تبلیغ کے میدان میں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ برائی کا جواب برائی سے دیا جائے بلکہ حکم ہے کہ اگر ایسے موقع پر طیش آئے…
Read the full tafseer →97: وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ (اور کہہ دیں اے میرے رب میں شیاطین کے وساوس سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں) یعنی ان کے وساوس اور طعنہ زنیوں سے۔
الھمز چبھونا، الہمزات یہ جمع ہے جو مرۃ اور ایک بار کا معنی دیتی ہے اور اس سے مھماز الرائض۔ سدھارنے والے کا کیلا۔ مطلب یہ ہے شیاطین لوگوں کو گناہ پر ابھارتے ہیں جس طرح سدھار نے والے جانوروں کو چال پر چلانے کیلئے ابھارتے ہیں۔
Read the full tafseer →97۔ وقل رب اعوذبک، ان کو مجھ سے روک دے اور ان کے شر سے بچا۔ من ھمزات الشیاطین، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد شیطان کے دھوکے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وساوس شیطان ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا پھونکنا، اہل معانی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ان کو معاصی کی طرف اغوا کرلینا۔ ھمز، اصل میں کسی چیز کی سختی کے لیے بولاجاتا ہے یا اس کو معنی ہے زور سے دھکا دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
آیت نمبر 93)
چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →112 اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوسکتی : کہ وہ ہر چیز کو اس کے ظاہر و باطن ہر اعتبار سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ سو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ سو اس کے مطابق ہم ان سے خود نمٹ لیں گے اور ٹھیک ٹھیک نمٹ لیں گے۔ لہذا آپ ﷺ کو ان کے درپے ہونے کی اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی یہ حرکتیں جو یہ حق اور داعی حق کیخلاف کر رہے ہیں ہم سے مخفی نہیں۔ ہم ان کے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتے ہیں۔ اس لیے آپ ان کا معاملہ ہم ہی پر چھوڑ دیں۔ ہم ان کو ان کی ایک ایک شرارت اور شرانگیزی کا مزہ چکھا کر رہیں گے۔ اور ایسا چکھائیں گے کہ کوئی کسر باقی نہیں رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں
تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
13 ۔ یعنی کسی حال میں میرے ساتھ ہوں کیونکہ جب وہ کسی انسان کے ساتھ ہوں گے تو وسوسہ اندازی اور برائی پر اکسانے اور نیکی سے پھیردینے کے سوا ان کا کوئی کام ہی نہ ہوگا۔ (شوکانی) اس آیت میں شیطان کے شر سے بچنے کے لئے دعا کی تعلیم دی ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمیں رات کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعا سکھایا کرتے تھے تاکہ گھبراہٹ سے محفوظ رہیں : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزت الشیطین وان یحضرون۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(23: 97) ھمزات الشیاطین۔ جمع مجرور مضاف الشیطن مضاف الیہ۔ ھمز واحد۔ شیطانی وسوسے ۔ خطرات نفسانی۔ وہ برے خیالات جو شیطان دل کے اندر چبھوتا ہے۔ ھمز بمعنی چبھونا۔ ھمز (نصر۔ ضرب) اس کے اصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑنے کے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے کہ ھمزت الشیء فی کفی۔ میں نے فلاں چیز کو اپنی ہتھیلی میں دبا کر نچوڑا۔ اور اس کے معنی غیبت کرنے کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ھماز مشاء بنمیم۔ (68:11) طعن آمیز اشارتیں کرنے والا۔ چغلیاں لئے پھرنے والا۔ ھماز مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا عیب گو۔ بہت طعن کرنے والا۔
سوار کے جوتے کی ایڑھی پر جو لوہا نکلا ہوتا ہے اور اس سے گھوڑے کے پہلو پر مارتا ہے اسے مہماز۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
[40] یہ تعلیم ہے دعا و آداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھے اس سے محفوظ رکھنا۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ہمزاد شیاطین :
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ بعض اوقات کچھ احکام واوامر بیان کرتا ہے اور مقصود ان سے یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے ہے کہ حضور ﷺ ان احکام واوامر پر عمل پیرا ہیں ، اس لئے ان کے ماننے والے بھی ان کی پیروی کریں اور جو لوگ کہ اس اسلوب خاص سے آگاہ نہیں ہوتے ، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید حضور ﷺ ان باتوں سے مطلع اور متصف نہیں ، اس لئے حکم دیا جا رہا ہے ، کہ ان سے انصاف پیدا کیجئے ، بہ غلط اور محض غلط ہے اور سراسر قرآن نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ، چناچہ کوتاہ عقل مشتنریوں اور نافہم آریہ سماجی مبلغوں نے اس نوع کی آیات سے ناجائز استثناء کیا ہے اور کہا ہے ، معاذ اللہ حضور ﷺ کا دل و دماغ وس اس سے…
Read the full tafseer →(97) اور اے میرے پروردگار میں شیاطین کے اثرات اور ان کی چھیڑ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ف 5۔ یہ دعا اس وجہ سے نہیں کہ نعوذ باللہ ایسا امر محتمل ہو، بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل بھی نہیں ہے جب وہاں امر ہے استعاذہ کا تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →دعا کا دوسرا فقرہ جو نبی کریم ﷺ کو تلقین کی گئی :
97۔ دعا کا دوسرا فقرہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ برابر دعا کرتے رہیے کہ ” اے میرے رب ! مجھے شیاطین جن وانس کے وسوسوں اور شرور سے محفوظ رکھ ۔ شیاطین کا تعلق شیاطین جن سے بھی ہے اور شیاطین انس سے بھی جیسا کہ دوسری جگہ اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ (ھمزات) جمع ہے ھمزۃ کی اور ھمز کے معنی وہی ہیں جو غمز کے ہیں یعنی ” عیب “ کے وہ اور ھماز عیب لگانے والے کو کہا جاتا ہے اور اہل زبان کا کہنا ہے کہ ھمز پیٹھ پیچھے عیب لگانے والے کو بھی کہا جاتا ہے اور لمز سامنے عیب لگانے والے کو ۔ قریش مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق اس طرح کی باتیں اکثر پیٹھ…
Read the full tafseer →وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ﴿97﴾ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ ﴿98﴾
And say, ` 0 my Lord, I seek your refuge from the strokes of the Shaitan, and I seek Your refuge from that they come to me.' (23:97, 98)
The word هَمَز (the infinitive of هَمَزَاتِ Hamazat translated above as 'strokes' ) means "to push, to press" and sometimes is also used to mean "to make a call from behind". This is a very comprehensive prayer often invoked for protection from the guile and mischief of Shaitan and the Holy Prophet ﷺ has urged upon the Muslims to recite it frequently in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
87. This prayer does not mean that, God forbid, there was any real danger of the Prophet’s (peace be upon him) also being involved in the punishment, or that if he had not invoked this prayer, he might have been involed in it. This way of address has been adopted to warn that all people should fear Allah’s punishment. They should not demand it nor persist in their wickedness, if Allah gives them respite. As a matter of fact, Allah’s punishment is a thing which should be dreaded not only by the sinful people but also by the righteous people, and they should all seek His refuge from it, for…
Read the full tafseer →