Explained with ayahs 93–98
برائی کے بدلے اچھائی
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
سورة الْمُؤْمِنُوْن 87
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبی ﷺ کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کرے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہ گاروں ہی کو نہیں، نیکوکاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے با وجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ، یعنی آپ برائی کو بھلائی کے ذریعہ ظلم کو انصاف کے ذریعہ اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ دفع فرما دیں۔ یہ مکارم اخلاق کی تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دی گئی ہے جو مسلمانوں کے باہم معاملات کے لئے ہمیشہ جاری ہے البتہ کفار و مشرکین سے ان کے مظالم کے مقابلے میں عفو و درگزر ہی کرتے رہنا، ان پر ہاتھ نہ اٹھانا، یہ حکم آیات جہاد سے منسوخ ہوگیا مگر عین حالت جہاد میں بھی اس حسن خلق کے بہت سے مظاہر باقی رکھے گئے کہ عورت کو قتل نہ کیا جائے، بچے کو قتل نہ کیا جائے جو مذہبی لوگ مسلمانوں کے مقابلے پر جنگ میں شریک نہیں ان کو قتل نہ کیا جائے اور جس کو بھی قتل کریں تو اس…
Read the full tafseer →عفو و درگزر کو ہدایت
یہ نبی ﷺ کو صبر اور عفو و درگزر کی تلقین ہے کہ ان کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے رہو۔ جو ہرزہ سرائیاں اور بدتمیزیاں یہ کر رہے ہیں ہم ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ایک ایک شرارت کا مزہ ہم ان کو چکھائیں گے، تم ان کے رویہ سے بال گرفتہ نہ ہو۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے۔
Read the full tafseer →96-1جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' برائی ایسے طریقے سے دور کرو جو اچھا ہو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن بھی، تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔ حٰم السجدہ 2435
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
30: یعنی ان کی بےہودگیوں کا اور ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ان کا جواب حتی الامکان نرمی، خوش اخلاقی اور احسان سے دئیے جائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
9 یعنی ہم کو قدرت ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دنیا ہی میں ان کو سزا دے دیں لیکن آپ ﷺ کے مقام بلند اور اعلیٰ اخلاق کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی برائی کو بھلائی سے دفع کریں جہاں تک اس طرح دفع ہوسکتی ہے۔ اور ان کی بیہودہ بکواس سے مشتعل نہ ہوں۔ اس کو ہم خوب جانتے ہیں، وقت پر کافی سزا دی جائے گی۔ آپ ﷺ کے اغماض اور نرم برتاؤ کا اثر یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ گرویدہ ہو کر آپ ﷺ کی طرف جھکیں گے اور دعوت و اصلاح کا مقصود حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت 96 اِدْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ السَّیِّءَۃَ ط ”
آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کریں۔ ان لوگوں کا آپ ﷺ کے ساتھ جیسا بھی رویہ ہو مگر آپ ﷺ کو اس کا مقابلہ نیکی اور بھلائی سے ہی کرنا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کی گالیوں کے جواب میں انہیں دعا دیں اور ان کے برا بھلا کہنے کے باوجود آپ ﷺ اس کو اللہ کی طرف بلاتے رہیں۔
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ”
جو کچھ یہ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ہم اس سے خوب واقف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
93 یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہوچکی ہے۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا…
Read the full tafseer →84۔ (اور ان کی شرارتوں، خباثتوں کا انتقام اپنی طرف سے نہ لیجئے کیا عجب کہ دعوت واصلاح کے حق میں آپ کی یہی بےنفسی مفید ہوجائے) انتقام اپنے نفس کے لیے بھی لینا بالکل جائز ہے۔ لیکن پیغمبر کا مقام رخصت کا نہیں عزیمت کا ہوتا ہے اسے تعلیم اسی بلند مقام پر رہنے کی دی گئی ہے۔ یہ حکم اس وقت تک کے لیے ہے جب تک عذاب موعود نہ آئے۔ جہاد و قتال کا حکم، حقوق دین کے تحفظ کے لیے ہے اور یہ نرمی کی تعلیم حقوق نفس کے سلسلہ میں ہے۔ دونوں کا فرق خوب ملحوظ رہے۔
85۔ (بس اس کا استحضار رہے۔ تو آپ کو انتقام لینے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے ہم خود ہی ہر سزا کے لیے کافی ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسے برتاؤ (خصلت) سے کرو یا کیجئے جو بہت ہی
اچھا اور نرم ہو۔
سب سے اچھی خصلت سے مراد ہے درگزر کرنا۔ رخ پھیرلینا ‘ صبر کرنا اور بھلائی کرنا۔ یعنی ان کی برائی کے مقابلے میں اپنی طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرو۔ اس تفسیر پر آیت میں کافروں کی ایذا رسانی پر صبر کا اور جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور آیت جہاد سے اس آیت کا حکم منسوخ قرار دیا جائے گا۔ بعض کے نزدیک حسنہ سے کلمۂ توحید اور سیۂ سے کلمۂ شرک مراد ہے بعض کے خیال میں سیۂ برا کام (گناہ کا کام) ہے اور حسنہ سے مراد ہے برے کام سے بازداشت اور ممانعت۔
نحن اعلم بما یصفون۔ وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں…
Read the full tafseer →(96) اور آپ ان کے ساتھ یہ معاملہ رکھیے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے شرک کا دفعیہ کلمہ طبیہ کے ساتھ کردیا کیجیے یا یہ کہ اپنے سے ان کی بدتمیزیوں کا دفعیہ سلامتی اور اچھی طریقہ پر کردیا کیجیے یا یہ کہ اپنے سے ان کی بدتمیزیوں کا دفعیہ سلامتی اور اچھے طریقہ پر کردیا کیجیے اور ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ آپ کی نسبت جھوٹ کہا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ۔۔ : یعنی ہم عذاب میں جو تاخیر کر رہے ہیں اس میں ہماری حکمت ہے، آپ اس دوران ان کی ہر برائی اور زیادتی کا جواب ایسے طریقے سے دیں جو اچھا ہی نہیں، سب سے اچھا ہو۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کچھ کہتے ہیں، کس طرح اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور کس طرح آپ کو کاہن، شاعر، جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہتے ہیں۔
3 برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا وسلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 96 ۔
اللہ تعالیٰ نے ادفع بالتی ھی احسن السیئتہ درگزر اور مکارم اخلاق کا حکم دیا مکارم اخلاق میں سے جو انکے درمیان ہیں وہ اس امت میں ہمیشہ محکم اور باقی ہیں اور جو کفار سے صلح اور ترک تعرض اور انکے امور سے درگزر کا حکم ہے وہ قتال کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے۔ نحن اعلم بما یصفون۔ یعنی جو وہ شرک اور تکذیب بیان کرتے ہیں ہم اسے جانتے ہیں یہ تقاضا ہے کہ یہ آیت موادعۃ (صلح) ہے۔
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو جو اذیتیں دیتے ہیں ان سے اعراض کیجئے۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ یعنی اس کو سلام کے ساتھ بدلہ دیدو۔
دعوت الی اللہ میں نرمی و حکمت ملحوظ رہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم وہ گھونٹ کتنا اچھا ہے جو تو پیتا ہے اس حال میں کہ تو مظلوم ہو اور جو یہ طاقت رکھتا ہو کہ بھلائی کے ساتھ شر پر غالب آجائے تو اس کو چاہیے کہ ایسا کرے اور…
Read the full tafseer →اِدْفَعْ (آپ ہٹائیے ) بِالَّتِيْ ( (اس) سے جو ) هِىَ (وہ ) اَحْسَنُ (بہت اچھا) السَّيِّئَةَ ( برائی (کو) ) نَحْنُ (ہم) اَعْلَمُ (خوب جاننے والے) بِمَا (اس وجہ سے جو) يَصِفُوْنَ (وہ سب بیان کرتے ہیں )
Read the full tafseer →پھر فرمایا (ادْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (آپ اس طریقے پر ان کی بد معا ملگی کو دفع کیجیے جو بہت ہی اچھا طریقہ ہے) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائی ہے کہ آپ برائی کو یعنی کافروں کی ایذا رسانی کو دفع کرتے رہیں اور ان کے شر کا دفعیہ اچھے سے اچھے طریقہ پر کرتے رہیں، برائی کے مقابلہ میں خوش اخلاقی اختیار کرنا اور درگزر سے کام لینا اور اپنی طرف سے اچھا برتاؤ کرنا اس سے دشمنوں کی ایذا ختم یا کم ہوجاتی ہے پھر اخلاق عالیہ کا بھی یہی تقاضا ہے۔ سورة حم سجدہ میں فرمایا (وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیّْءَۃُ اِدْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →ٖ 73:۔ ” ادفع بالتی الخ “ یہ طریق تبلیغ کی تعلیم فرمایا مشرکین اگرچہ سخت لہجہ اور درشت کلامی سے آپ کی دعوت کو رد کرتے ہیں اور آپ کی دعوت کو اساطیر الاولین (اگلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں) کہتے ہیں لیکن پھر بھی آپ نرم کلامی اور حسن اخلاق سے ان کی باتوں کا جواب دیں لیکن مسئلہ خوب کھول کر اور دلائل کے ساتھ بیان کریں۔ ” نحن اعلم بما یصفون “ باقی جو کچھ وہ کہتے ہیں ہمیں وہ سب کچھ معلوم ہے اس کی ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک…
Read the full tafseer →اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَۃَ 0ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96
دفع
الدَّفْعُ إذا عدّي بإلى اقتضی معنی الإنالة، نحو قوله تعالی: فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ
[ النساء/ 6] ، وإذا عدّي بعن اقتضی معنی الحماية، نحو : إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا
[ الحج/ 38] ، وقال : وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ [ الحج/ 40] ، وقوله : لَيْسَ لَهُ دافِعٌ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 2- 3] ، أي : حام، والمُدَفَّع : الذي يدفعه كلّ أحد «3» ، والدُّفْعَة من المطر، والدُّفَّاع من السّيل .
( دع ) الدفع ( دفع کرنا ، ہٹا دینا ) جب اس کا تعدیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
2 ؎ یعنی اگر آپ سے برائی کریں سخت کلامی یا کچھ اور کریں تو آپ بمقتضائے مکارم اخلاق اس کے جواب میں اچھی بات کہئے اور احسان کیجئے ناصح کا یہ فعل زیادہ موثر ہوتا ہے شیطان وعظ و پند کے مواقع میں وسوسہ ڈال کر بھڑکا دیا کرتا ہے اس سے پناہ مانگنا چاہیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ۔ (المومنون : 96)
(برائی کو اس طریقے سے دور کیجیے جو بہترین ہو، ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور حسن سلوک کی ہدایت
عذاب میں تاخیر کے باعث مخالفین کی مخالفت اور ہر زہ سرائیوں میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور ہمیں جس انجام سے ڈرایا جارہا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہتے اور آپ ﷺ کی ذات والا تبار کی شان میں بڑھ چڑھ کر گستاخیاں کرتے۔ آنحضرت ﷺ ان کی شرارتوں پر دل مسوس کر رہ جاتے۔ آپ ﷺ کو تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کرنے کی وجہ سے پہلی اقوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کو عذاب سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
منکرین حق نبی کریم ﷺ سے باربار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے وہ اب تک کیوں نہیں آیا ؟ کفار کے اس مطالبہ کے مختلف موقعوں پر مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں نئے انداز میں اس کے تین جواب دیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو میں تو اپنے رب سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ الٰہی اگر میری موجود گی میں تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے ظالموں میں شریک نہ کرنا۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ ہم کفار کے ساتھ کیے…
Read the full tafseer →درگزر و احسان سے کام لیں :
96: اِدْفعْ بِالَّتِیْ (آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسی خصلت سے کردیا کریں) ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ (جو کہ بہت ہی خوب ہو) یہ انداز بالحسنۃ السیئۃ کہنے کی بنسبت زیادہ بلیغ اور اوقع فی القلب ہے اس لئے کہ اس میں اسم تفصیل ہے۔ گویا اس طرح فرمایا ادفع بالحسنی السیئۃ مگر اس انسانی عبارت کی اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادیتوں کے مقابلہ میں درگزر اور احسان سے حتی الا مکان کام لیا جائے۔ قول ابن عباس ؓ کہ احسنؔ لا الٰہ الا اللہ ہے اور السیئہؔ شرک ہے یا سلام میں فحش انداز یا موعظہ کو غلط انداز سے کرنا۔ نمبر 2۔ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ نمبر 3۔ محکم آیت…
Read the full tafseer →96۔ ادفع بالتیھی احسن، سب سے اچھی خصلت سے مراد ہے درگزر کرنا، رخ پھیرلینا، صبر کرلینا، اور بھلائی کرنا۔
” السئیہ، ان کی برائی پر یعنی ان کی برائی کے مقابلے میں اپنی طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اذیت پر مومنون کو صبر کرنے اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکنایہ آیت سیف سے منسوخ ہے۔ نحن اعلم بمایصفون ، وہ اس کو جھٹلاتے ہیں اور وہ اس سے شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
آیت نمبر 93)
چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →111 برائی کے جواب میں اچھائی سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ برائی کے جواب میں اس طریقے سے کام لیں جو سب سے اچھا ہو۔ جو کہ آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تقاضا ہے۔ اور اس طرح آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر مومن مخلص کے لئے بھی یہی درس عظیم ہے اور اس طرح دشمن بھی دوست بن جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پھر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فاذَا الّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عداوَۃ کَانَہ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ } ۔ یعنی اس طریقے کے نتیجے میں اور اس کی بنا پر آپ کا دشمن بھی ایسا موم ہوجائے گا کہ گویا کہ وہ جگری دوست ہے۔ بہرکیف آپ برائی کا جواب اچھائی ہی سے دیتے رہیں اور ان ظالموں کی شرانگیزیوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں
تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →12 ۔ یعنی بدی کا بدلہ نیکی، ظلم کا بدلہ انصاف، خیانت کا بدلہ دیانت داری، جھوٹ کا بدلہ، سچ، قطع رحمی کا بدلہ صلہ رحمی اور گالی گلوچ کا بدلہ دعا وسلام سے……دیجئے نتیجہ کیا ہوگا ؟ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ یعنی اس طرح جو آپ ﷺ کا دشمن ہے وہ آپ ﷺ کا دلسوز دوست ہوجائے گا۔ (فصلت :34) اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی ہے اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے یہ تریاق نافع ہے۔ (ابن کثیر) چناچہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی پر زیادتی کی ہو یا اس سے ذاتی انتقام لیا ہو۔ الا یہ کہ اس نے اللہ کی مقرر کردہ کسی حد کو پامال…
Read the full tafseer →(23:96) ادفع۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دور کر۔ دفع یدفع (فتح) دفع مصدر سے۔ دفع کا تعدیہ جب الیٰ سے ہو تو دینے کے معنی ہوتے ہیں اور جب عن سے ہو تو اس کے معنی حفاظت کرنے اور حمایت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) تو ان کا مال ان کے حوالہ کر دو ۔ اور ان اللہ یدافع عن الذین امنوا (22:38) خدا تو مومنوں کی (ان کے دشمنوں سے) حفاظت کرتا رہتا ہے۔
احسن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت اچھا۔ السیئۃ برائی۔ گناہ۔ فعل بد۔ یہ حسنۃ کی ضد ہے۔ س و ء حروف مادہ یہ فیعلۃ کے وزن پر سیوأۃ تھا۔ عین کلمہ کے وائو کو ی سے بدلا۔ ی کو ی میں مدغم کیا۔ سیئۃ ہوگیا۔ السیئۃ ادفع کا مفعول ہے۔ عبارت کچھ یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
[40] یہ تعلیم ہے دعا و آداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھے اس سے محفوظ رکھنا۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
(ف 2) اس میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا صرف کر وہی ہے ، غیب سے مراد ایسا علم ہے جو بغیر کسی ذرائع طبعی ومنطق کے معلوم ہوجائے کیونکہ دو حالتیں جن کے معلوم کرنے کے لئے قدرت نے اسباب وذرائع پیدا کردیئے ہیں ان کا جان نہیں کوئی بہت بڑا کمال نہیں ۔
Read the full tafseer →(96) اے پیغمبر ! آپ ان کفار کی برائی کو ایسے برتائو اور ایسے طریقے سے دفع کیا کیجئے جو نہایت ہی اچھا ہو ہم ان باتوں سے خوب واقف ہیں اور ان باتوں کو خوب جانتے ہیں جو یہ آپ کی نسبت بیان کرتے رہتے ہیں یعنی بدی کا دفعیہ اچھے اور نرم برتائو سے کیجئے اور انتقام اور بدلہ لینے کی کوشش نہ کیجئے کیونکہ ان سب باتوں کو ہم جانتے ہیں جو یہ لوگ آپ کے متعلق کہتے رہتے ہیں اور ہم خود بدلہ لینے کو کافی ہیں اور اگر کسی وقت شیطان آپ کو ابھارے تو آپ یوں دعا کیا کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ف 5۔ یہ دعا اس وجہ سے نہیں کہ نعوذ باللہ ایسا امر محتمل ہو، بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل بھی نہیں ہے جب وہاں امر ہے استعاذہ کا تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کو عفو و درگزر کرنے کی ہدایت خاص :
96۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین کی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے جائیں کہ ہر ایک انسان کی ظرف سے وہی کچھ نکلے گا جو اس نے اپنے ظرف میں بھرا ہے اور جہالت کا جواب برابر خاموشی سے دیتے چلے جائیں کیونکہ جہالت کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کیونکہ جاہل جس زبان کو سمجھتا ہے وہ علم کی زبان نہیں ہو سکتی چناچہ محاورہ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ “ جو جو بدتمیزیاں اور ہرزہ سرائیاں یہ لوگ کر رہے ہم ان سے خوب واقف ہیں اور ان کی کوئی حرکت بھی ہم سے پوشیدہ نہیں آپ ﷺ اپنا کام کئے جائیں اور ان کو…
Read the full tafseer →ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ
Repel evil with that which is best - 23:96
Allah instructs the Holy Prophet ﷺ to counter evil with good, oppression with justice and cruelty with mercy. These virtues of conduct have been taught by Allah to the Holy Prophet ﷺ and are generally observed in settling affairs among the Muslims. Later on these instructions were repealed in so far as the infidels and the unbelievers were concerned when Allah permitted Muslims to embark on (Jihad). Nevertheless even during Jihad the Muslims were told to adopt a humane approach towards the enemy. For…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
87. This prayer does not mean that, God forbid, there was any real danger of the Prophet’s (peace be upon him) also being involved in the punishment, or that if he had not invoked this prayer, he might have been involed in it. This way of address has been adopted to warn that all people should fear Allah’s punishment. They should not demand it nor persist in their wickedness, if Allah gives them respite. As a matter of fact, Allah’s punishment is a thing which should be dreaded not only by the sinful people but also by the righteous people, and they should all seek His refuge from it, for…
Read the full tafseer →