Al-Muminoon 23:98

Al-Muminoon · from ayah 98

23:98

وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ۟وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ

اور اے پروردگار! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I seek refuge in You, my Lord, lest they be present with me."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:98

بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اے پروردگار! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میرے پروردگار ! میں ان کے اپنے قریب آنے سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اے میرے رب! میں اس بات سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اے میرے رب ! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اے میرے رب اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب، اس سے کہ وہ شیاطین میرے پاس آئیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ (یعنی شیطان) میرے پاس بھی آئیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اے میرے رب ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اے رب اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I even seek Your refuge, my Lord, lest they should approach me."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and I seek refuge in You, my Lord, even from their coming near me.

— Muhammad Taqi Usmani

and I seek refuge in You, my Lord, even from their coming near me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And I seek refuge with You, My Lord! lest they should come near me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And I seek refuge in Thee, my Lord, lest they be present with me,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I seek refuge in You, my Lord, lest they be present with me."

— Saheeh International

I seek your protection should they approach me."

— Muhammad Sarwar

And I seek refuge in Thee! O my Lord! from their presence.

— Muhammad Habib Shakir

And I seek refuge with Thee, my Lord! lest they may be present with me

— Abdul Majid Daryabadi

"And I seek refuge with Thee O my Lord! lest they should come near me."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–98

برائی کے بدلے اچھائی سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 88 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حواشی 71، 72۔ جلد دوم، الاعراف، حواشی 138۔ 150 تا 153۔ یونس، حاشیہ 39۔ الحجر، حاشیہ 48۔ النحل، حواشی 122 تا 124۔ بنی اسرائیل، حواشی 58 تا 63۔ حٰم السجدہ، حواشی 36 تا 41۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تمہارے ہر کام میں ہر حال میں تمہارے پاس آتا ہے اور ہر کام میں گناہوں اور غلط کاموں کا وسوسہ دل میں ڈالتا رہتا ہے (قرطبی) اسی سے پناہ مانگنے کے لئے یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–98

آیات 98-97 حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا یہ حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا تلقین فرمائی گی ہے۔ شیطان سے مراد شیاطین جن بھی ہیں جو دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور وہ شیاطین انس بھی جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ برامبر یہ دعا کرتے رہو کہ اے رب مجھے شیاطین جن کے وسوسوں سے بھی محفوظ رکھ اور ان شیاطین انس سے بھی محفوظ رکھ کر وہ میرے پاس بحث وجدال اور شو فساد کے لئے نہ آئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 98–99

98-1اس لئے نبی ﷺ نے تاکید فرمائی کہ ہر اہم کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرو یعنی بسم اللہ پڑھ کر، کیونکہ اللہ کی یاد، شیطان کو دور کرنے والی چیز ہے۔ اسی لئے آپ یہ دعا بھی مانگتے تھے۔ (اللَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْحَرَمِ وَ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْغَرَقِ ، و اَعُوذُبِکَ اَنْ یَّتَخَبَّطَنِیْ الشَّیْطَانُ عِنْدَالمُوْتِ) (ابو داؤد)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 96–99

30: یعنی ان کی بےہودگیوں کا اور ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ان کا جواب حتی الامکان نرمی، خوش اخلاقی اور احسان سے دئیے جائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 93–98

قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98) جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔ وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی کسی حال میں بھی شیطان کو میرے پاس نہ آنے دیجئے کہ مجھ پر وہ اپنا وار کرسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 98–99

آیت 98 وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ” ایک داعی کے لیے شیطان کی چھوت اور اکساہٹ کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اسے اپنی دعوتی کوششوں کے دوران اپنے مخاطبین پر غصہ آجائے اور وہ انہیں حق کی طرف مائل کرنے کے بجائے متنفر کر دے۔ سورة الاعراف کی آیت 200 میں بھی ایسی ہی صورت حال سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

94 سابقہ آیات میں ان دشمنوں کا ذکر تھا جو انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہخود بھی اور ان کے معاندانہ اعمال و افعال بھی سب کچھ کم از کم نظر تو آتے ہیں اور انسان ان کا مداوا بھی سوچ سکتا ہے ان دو آیات میں ان دشمنوں کا ذکر ہے جو جنوں یا شیطانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو انسانوں کے جسم میں داخل ہو کر برے خیالات اور برے ارادوں کے ذریعہ یوں حملہ آور ہوتے ہیں کہ انسان نہ انھیں دیکھ سکتا ہے اور نہ ان کی کارکردگی کو۔ اور بعض دفعہ انسان ایسے دشمن کی اکساہٹ پر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو اس کے برسوں کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ایسے دشمن کے حملہ سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی پناہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ وسوسہ ڈالنا الگ رہا شیطان تو پیغمبر کے پاس بھی نہیں پھٹکنے پاتے۔ اور یہی حاصل ہے اس دعاء استعاذہ کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واعوذ بک رب ان یحضرون۔ اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں۔ ہَمَزٰتزور سے دھکا دینا یعنی وسوسے ڈال کر گناہوں کی طرف لے جانا۔ اَنّْ یْحْضُرُوْنِکہ میرے پاس آئیں۔ یعنی میری نماز میں ‘ عبادت میں اور دوسرے امور میں میرے پاس بھی آئیں کیونکہ شیطان جب پاس آئے گا تو ضرور وسوسہ بھی پیدا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(98) اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ شیطان میرے پاس بھی آئیں خواہ نماز میں یا تلاوت قرآن کریم کے وقت یا موت کے وقت۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 97–98

وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ۔۔ : ”اَلْھَمْزُ“ کا معنی ہاتھ یا کسی بھی چیز کے ساتھ چوکا مارنا ہے۔ گلا گھونٹنے، طعنہ دینے اور غیبت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مراد شیطان کے چوکے، وسوسے اور اکساہٹیں ہیں، جن کے ساتھ وہ غصے پر ابھارتا ہے، حتیٰ کہ جنون تک پہنچا دیتا ہے۔ شیاطین انس و جن کے وساوس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ناس کی تفسیر۔ ”اَنْ يَّحْضُرُوْنِ“ اصل میں ”أَنْ یَّحْضُرُوْنِيْ“ ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ”اَنْ“ کے ساتھ ”يَّحْضُرُوْنِ“ کا نون گر جاتا، یاء کو حذف کرکے نون کا کسرہ باقی رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب ! میں صرف شیاطین کے چوکوں ہی سے تیری پناہ نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–98

آیت نمبر 97-98 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیطن۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ھمزات الشیٰطین۔ الھمزات جمع ہے ھمزہ کی الھمزہ کا لغوی معنی ہے دفع کرنا، دور کرنا، کہا جاتا ہے : ھمزہ ولمزہ اس نے اسے دور کیا۔ لیث نے کہا الھمز کا معنی ہے پیچھے سے کلام کرنا اور اللمز کا معنی ہے سامنے باتیں کرنا۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، ابن آدم کے سینے میں آہستہ آہستہ وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اعوذ بک من ھمزات الشیاطین یعنی (کہیے) میں شیطان کی وسوسہ اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–98

ا۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداوئد والترمذی وحسن والنسائی والبیہقی فی الاسماء والصفات عمرو بن شعیب (رح) نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے ہم ان کو نیند کے وقت کہتے تھے۔ بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں اور میرے پاس ان کے آنے پناہ چاہتا ہوں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت ” واعوذبک رب ان یحضرون “ یعنی وہ (شیاطین) حاضر ہوں میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ اَعُوْذُ ( اور میں پناہ مانگتا ہوں) بِكَ (تجھ سے ) رَبِّ (" اے " میرے رب) اَنْ (کہ) يَّحْضُرُوْنِ (وہ سب حاضر ہوں میرے پاس )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 97–99

اس کے بعد ایک اور دعا تلقین فرمائی اور وہ یہ ہے (رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیٰطِینِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) (اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور اس بات سے آپ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) یہ دعا بہت اہم اور ضروری ہے ہر مسلمان کو یاد کرنی چاہئے بارہا پڑھنی چاہئے شیاطین پیچھے لگے رہتے ہیں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا بہت اہم ہے جب رسول اللہ ﷺ کو شیاطین سے محفوظ رہنے کے لیے تلقین فرمائی تو اور کون شخص ہے جسے شیاطین کے وسوسوں سے محفوظ ہونے کی دعاء سے بےنیازی ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند میں گھبرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–114

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–98

74:۔ ” و قل رب الخ “ توحید بیان کرتے وقت آپ شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں نیز اس سے پناہ مانگیں کہ شیاطین میرے پاس آکر میرے اعمال و افعال میں دخل دیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 93–100

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ۝ 98 حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ، وقال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] ، وقال : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] ، وذلک من باب الکناية، أي : أن يحضرني الجن، وكني عن المجنون بالمحتضر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 98–101

شرب۔ دنیا کا انجام غفلت بیان فرماتا ہے کہ وہ مرنے تک اس میں پڑے رہتے ہیں جب موت آتی ہے اور دوسرے جہاں کا راز کھلتا ہے تو باردگر دنیا میں آنے کی دعا کرتا ہے کہ اگر نیک کام کرے بھلا یہ کب ہوسکتا ہے یہ دعا اس کے منہ کی ان ہونی بات ہے پڑا کہا کرے مرنے کے بعد اس دنیا میں آنے کے لیے قدرتی ایک بڑا پردہ پڑا ہوا ہے پھر اس پردہ کو اٹھا کے کوئی ادھر نہیں آسکتا۔ قیامت تک یہی حال رہتا ہے پھر قیامت میں جب صور پھونکا جائے گا تو نفسی نفسی ہوگی نہ رشتہ داری کا پاس ہوگا نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔ یہ عام حکم ہے حضرات انبیاء صلحاء اس سے مستثنیٰ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ ۔ وَاَعُوْذِبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ۔ (المومنون : 97، 98) (اور دعا کرتے رہئے کہ اے رب ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اے میرے رب ! اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ ) توفیق ایزدی کے لیے دعا کی تلقین جب ایک داعی الی الحق میدانِ عمل میں اترتا ہے تو اس کی کامیابی چونکہ شیطنت کی ناکامی اور کفر و شرک کی بدنصیبی اور محرومی ہے اس لیے تمام شیطانی قوتیں ہر ممکن طریقے سے اس کی دعوت کو بےاثر کرنے میں لگ جاتی ہیں اور انسانوں میں شیطان کے کارندے پیغمبر کو پریشان کرنے اور اس کے دعوتی عمل کو مسدود کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : برائی اور غصہ شیطان کی طرف سے ہے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو دعا سکھلائی گئی کہ شیطان سے اپنے رب کی حفاظت طلب کیا کریں۔ شیطان داعی کو انگیخت دیتا ہے کہ وہ غصہ میں آکر برائی کا جواب برائی سے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ داعی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دے۔ جہاں تک ذاتی معاملات کا تعلق ہے اس میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ مظلوم ظالم کے جواب میں کوئی بری بات زبان پر لے آئے۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ( المائدہ : آیت 148) لیکن تبلیغ کے میدان میں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ برائی کا جواب برائی سے دیا جائے بلکہ حکم ہے کہ اگر ایسے موقع پر طیش آئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

98: وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ (اور اے میرے رب میں شیطان کے اپنے پاس حاضر ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) نمبر 1۔ شیاطین کے چوکوں سے دعائیہ انداز میں پناہ مانگنے کا حکم دیا پہلے تو وساوس سے پناہ مانگی اور دوسری مرتبہ بالکل ان کے پاس بھٹکنے سے پناہ کا حکم دیا۔ (کیونکہ جب وہ پاس آئیں گے تو ضرور وسوسہ ڈالیں گے) ۔ نمبر 2۔ یہ فقط تلاوت قرآن کے وقت حکم دیا گیا ہے جیسا دوسری آیات : اذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ) نمبر 3۔ فزع کے وقت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

98۔ واعوذبک رب ان یحضرون، اور میں اپنے امور میں ان سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ یہاں (حضور) کا لفظ ذکر کیا مطلب یہ ہے کہ شیطان جب بھی حاضر ہوتا ہے تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے متعلق خبر دی جو بعث کے منکر ہیں وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کا سوال کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–98

94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 93–98

آیت نمبر 93) چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 98–100

113 شیاطین کی اکساہٹوں سے بچنے کا طریقہ : سو اس ارشاد سے شیطانوں کی اکساہٹوں اور شرانگیزیوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ان کی کسی بھی قسم کی ضرر رسانی اور شر انگیزی سے بچنے کے لئے اور ان کی ایذاء رسانیوں اور شر انگیزیوں سے حفاظت کے لیے آپ ہی پناہ دے سکتے ہیں اے ہمارے رب۔ خواہ وہ شیطان شیاطینِ جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے صبر و استقامت سے سرفرازی اور عفو و درگزر کے حصول اور شیاطین کے شرور و فتن سے حفاظت کے لیے یہ عظیم الشان دعا تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ۔ فالحمد للہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–98

فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

13 ۔ یعنی کسی حال میں میرے ساتھ ہوں کیونکہ جب وہ کسی انسان کے ساتھ ہوں گے تو وسوسہ اندازی اور برائی پر اکسانے اور نیکی سے پھیردینے کے سوا ان کا کوئی کام ہی نہ ہوگا۔ (شوکانی) اس آیت میں شیطان کے شر سے بچنے کے لئے دعا کی تعلیم دی ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمیں رات کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعا سکھایا کرتے تھے تاکہ گھبراہٹ سے محفوظ رہیں : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزت الشیطین وان یحضرون۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:98) یحضرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حضور مصدر (باب نصر) اصل میں یحضرونی تھا۔ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔ میرے پاس (بھی ) پھٹکیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 93–98

شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 94–99

[40] یہ تعلیم ہے دعا و آداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھے اس سے محفوظ رکھنا۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 97–98

ہمزاد شیاطین : (ف 1) قرآن حکیم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ بعض اوقات کچھ احکام واوامر بیان کرتا ہے اور مقصود ان سے یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے ہے کہ حضور ﷺ ان احکام واوامر پر عمل پیرا ہیں ، اس لئے ان کے ماننے والے بھی ان کی پیروی کریں اور جو لوگ کہ اس اسلوب خاص سے آگاہ نہیں ہوتے ، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید حضور ﷺ ان باتوں سے مطلع اور متصف نہیں ، اس لئے حکم دیا جا رہا ہے ، کہ ان سے انصاف پیدا کیجئے ، بہ غلط اور محض غلط ہے اور سراسر قرآن نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ، چناچہ کوتاہ عقل مشتنریوں اور نافہم آریہ سماجی مبلغوں نے اس نوع کی آیات سے ناجائز استثناء کیا ہے اور کہا ہے ، معاذ اللہ حضور ﷺ کا دل و دماغ وس اس سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(98) اور میرے پروردگار اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آویں۔ یعنی کسی وقت کوئی ایسی بات ہو کہ آپ کو غصہ آجائے تو یہ بھی ایک شیطانی اثر ہے تو ایسے وقت پروردگار سے پناہ مانگ لیا کیجئے اور اس سے بھی پناہ مانگئے کہ شیطان آپ کے پاس آئیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھیڑ شیطان کی ہے کہ دین کے سوال و جواب میں غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے اسی پر فرمایا کہ برے کا جواب دے اس سے بہتر۔ 12۔ خلاصہ ! یہ کہ شیطان کا نبی کریم ﷺ پر کوئی ایسا دخل نہیں جو کسی خلاف شریعت کام پر ابھارسکے اندیشہ اس کا ہے کہ خلاف مصلحت کسی کام پر نہ آمادہ کرے یا یہ کہ خطاب آپ کو ہے اور مراد عام لوگ ہیں۔ بہرحال !…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 96–99

ف 5۔ یہ دعا اس وجہ سے نہیں کہ نعوذ باللہ ایسا امر محتمل ہو، بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل بھی نہیں ہے جب وہاں امر ہے استعاذہ کا تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دعا کا تیسرا فقرہ جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین ہوا : ۔ 98۔ ” اے میرے رب ! میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ “ اے بار الہ ! وہ میرے قریب ہی نہ آنے پائیں تاکہ میں ان کے شر سے دور رہ کر تیری یاد اور تیرے دین اسلام کی خدمت میں لگا رہوں ۔ بلاشبہ انسان اپنی ساری عقل و دانش اور زہد وتقوی کے باوجود شیطان مردود کے دام تزویر میں آسکتا ہے اس لئے اس کی ایک اور صرف ایک ہی صورت ہے کہ اللہ رب العزت اپنے دامن رحمت میں چھپا لے اور اپنے خاص فضل و کرم سے ہر کسی انسان کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام چونکہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے تھے اس لئے اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَن يَحْضُرُ‌ونِ (from that they come to me - 23:98) According to a Hadith in Sahih of Muslim the Holy Prophet ﷺ is reported to have said that Shaitan meddles in all human affairs and tempts people to do evil deeds, and that this prayer is the best protection against his attempts. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

88. For explanation, see (E.Ns 71, 72 of Surah Al-Anaam); (E.Ns 138, 150 to 153 of Surah Al-Aaraf); (E.N. 39 of Surah Younus); (E.N. 48 of Surah Al-Hijr); (E.Ns 122 to 124 of Surah An-Nahl); (E.Ns 58 to 63 of Surah Bani-Israil) and (E.Ns 35 to 41 of Surah HaMim-Sajdah).

Read the full tafseer →