Explained with ayahs 93–98
برائی کے بدلے اچھائی
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
سورة الْمُؤْمِنُوْن 86
اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس خاص قسم کے شرک کی طرف جس نے پہلے شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی، اور پھر غیر اللہ کے لیے علم غیب (علم ماکان و ما یکون) کے اثبات کی شکل اختیار کرلی۔ یہ آیت اس شرک کے دونوں پہلوؤں کی تردید کردیتی ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حواشی 85۔ 86۔ الانبیاء حاشیہ 27)۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ (حق تعالیٰ سے) دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے (جیسا اوپر اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ سے بھی معلوم ہوا) اگر آپ مجھ کو دکھا دیں (مثلاً یہ کہ وہ عذاب ان پر میری زندگی میں اس طور سے آوے کہ میں بھی دیکھوں کیونکہ اس عذاب موعود کا کوئی وقت خاص نہیں بتلایا گیا ہے چناچہ آیت مذکورہ بھی مبہم ہے جس میں یہ احتمال مذکور بھی ہے غرض اگر ایسا ہوا) تو اے میرے رب مجھ کو ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے اور ہم اس بات پر کہ جو ان سے وعدہ کر رہے ہیں آپ کو بھی دکھلا دیں قادر ہیں (باقی جب تک ان پر عذاب نہ آوے) آپ (ان کے ساتھ یہ معاملہ رکھئے کہ) ان کی بدی کا دفعیہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آگے کا مضمون ………… آیات 118-93
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ﷺ کو بشارت دی گئی ہے کہ اب فتح و نصرت کا وقت قریب ہے۔ اہل ایمان کامیاب و فتحمند اور آپ کے مخالفین دنیا و آخرت دونوں کی رسوائی سے دوچار ہوں گے تو کچھ عرصہ ان کی شرارتوں س درگزر کرو۔ فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ جس مدت کو یہ بہت طویل سمجھ رہے ہیں اور جس کے دھوکے میں اپنی شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے ہیں، انجام سامنے آجانے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ پلک جھپکتے گزر گئی اور اس وقت اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 94-93
وعدہ عذاب کے باب میں کو بشارت
رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر جو عذاب آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
98-1یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو ؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسکی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انھیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے اختیار دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
29: یہ توحید کی تقریباً وہی دلیل ہے جو سورة بنی اسرائیل : 42 اور سورة انبیاء : 22 میں گذری ہے۔ تشریح کے لیے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
8 یعنی حق تعالیٰ کی جناب میں ایسی گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آکر رہے گی۔ اس لیے ہر مومن کو ہدایت ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعاء مانگے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھ کو اس کے ذیل میں شامل نہ کرنا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا " وَاِذَا اَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَا قْبِضْنِیْ غَیْرَ مَفْتُونٍ " کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہم کو ایمان و احسان کی راہ پر مستقیم رکھ۔ کوئی ایسی تقصیر نہ ہو کہ العیاذ باللہ تیرے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ) 8 ۔ الانفال :25) یہاں حضور ﷺ کو مخاطب بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ”
اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت ارفع و اعلیٰ ومنزہّ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
90 یعنی اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ہستی کے پاس رتی بھر بھی اختیارات ہوتے تو تو اس کا سب سے علم اللہ کو ہی ہوسکتا تھا کیونکہ موجود اشیاء اور موجودہ علم کے علاوہ غیر موجود اشیاء اور نامعلوم علم کا بھی جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز بھی مخفی رہنا ناممکنات سے ہے۔ اور اپنی اس وسعت علم کی بنا پر ہی یہ فرما رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ نہ کوئی الٰہ ہوسکتا ہے نہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہے لہذا مشرکوں کے ان بیہودہ عقائد سے اللہ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
82۔ یہ تعلیم ہے دیاوآداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ” اردگرد کی پھیلی ہوئی برائیوں سے جب عذاب نازل ہونے لگے تو مجھے محفوظ ومستثنی کردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں میں بھی اسی لپیٹ میں آجاؤں۔ “ اور یہ مقام ہے کمال عبدیت کا۔ پیغمبر یہاں محض واسطہ ہیں۔ مقصود امت کو تعلیم دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لیے محل عذاب ہونیکا تو احتمال بھی نہیں۔ ” دعا اس وجہ سے نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) ایسا امر محتمل ہے بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل ہی نہیں ہے۔ جب وہاں امر ہے استعاذہ کا۔ تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہیے۔ اور صحت سوال موقوف نہیں احتمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →قل رب اما ترینی ما یوعدون۔ آپ دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جائے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(93۔ 94) اے محمد ﷺ آپ دعا کیجیے کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھادیں تو بدر کے دن ان کافروں کے ساتھ مجھ کو شامل نہ کیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ : ”اِمَّا“ ”إِنْ“ کی تاکید ”مَا“ کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور ”تُرِیَنَّ“ میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے : ”أَيْ إِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِیَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ“ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“
3 یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقیناً کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔
3 آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آیت نمبر 93-94 ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعا سکھائی یعنی تم کہو : اے میرے پروردگار اگر تو ضرور مجھے وہ عذاب دکھانا چاہتا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین۔ تو ان پر عذاب نازل ہونے کے وقت مجھے ان ظالم قوم سے نہ کرنا بلکہ مجھے ان سے نکال لینا۔ بعض نے کہا : ندا معترض ہے اور اما میں ما زائدہ ہے۔ بعض نے کہا : اما کی اصل ان ما ہے۔ ان شرط ہے اور ما بھی شرط ہے دونوں شرطوں کو تاکید کے لئے جمع فرمایا۔ اور جواب۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین ہے یعنی جب تو انہیں عذاب دینے کا ارادہ فرمائے تو مجھے ان سے نکال لینا نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ظالم قوم سے آپ کو نہیں کرے گا جب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔
2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔
3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…
Read the full tafseer →قُلْ (کہہ دیں) رَبِّ (" اے " میرے رب) اِمَّا (اگر ) تُرِيَــنِّيْ (واقعی تو دکھائے مجھے ) مَا (جو) يُوْعَدُوْنَ (وہ سب وعدہ دیئے جاتے ہیں )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
برائی کو اچھے طریقہ پر دفع کرنا اور شیاطین کے آنے اور وساوس ڈالنے سے اللہ کی پناہ لینا
قرآن مجید میں بہت سی جگہ کافروں پر عذاب آنے کی وعید مذکور ہے موت کے بعد تو ہر کافر کو عذاب میں داخل ہونا ہی ہے دنیا میں بھی کبھی کبھی کہیں کہیں عذاب آجاتا ہے عذاب آنے کی جو وعیدیں ہیں چونکہ کوئی تاریخ مقرر کرکے نہیں بتائی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ عذاب آئے گا تو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آئے گا یا آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوگا اس لیے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں اے میرے رب اگر آپ مجھے وہ عذاب دکھا دیں جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
72:۔ ” قل رب اما الخ “ تخویف دنیوی ہےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس طرح اللہ سے دعا مانگیں کہ اے اللہ جس عذاب کا تو نے ان منکرین سے وعدہ کیا ہے اگر وہ عذاب میری زندگی ہی میں ان پر نازل ہوجائے تو میرے پروردگار مجھے اس سے بچائیو یہ اس عذاب کی شدت و فظاعت کے اظہار کے لیے کہا گیا ورنہحضور ﷺ تو عذاب سے محفوظ تھے ہی تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ عذاب اس قدر شدید اور دردناک ہوگا کہ ہر ایک کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے (روح) ۔ ” وانا علی ان نریک الخ “ جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے چکے ہیں وہ ہم آپ کی زندگی میں ان پر مسلط کرسکتے ہیں ہمیں اس کی قدرت و طاقت ہے لیکن ہم عذاب کو موخر کریں گے تاکہ کچھ لوگ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک…
Read the full tafseer →قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ 93ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
1 ؎ یعنی اگر دنیا میں ان کفار پر عذاب موعود آجائے تو خدایا مجھے ان میں شامل نہ کرلینا کیونکہ قہر کی آگ میں سوکھے گیلے ساتھ جلنے لگتے ہیں ہرچند وہ ایسا نہیں کرتا مگر شان کبریائی سے ڈرنا مقتضائے عبودیت ہے اس لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 12 منہ
ترکیب : :۔ مایوعدون جملہ مفعول ہے ترینی کا اما اصل میں ان ماتھا ما تاکیدمان شرطیہ کے لیے آتا ہے فلا تجعلنی اس کا جواب لفظ رب اہتمام شان کے لیے مقدم ہوا علی متعلق ہے لقادرون سے بالتی میں ب الصاق کے لیے اور السیئۃ مفعول ہے ادفع کا ارجعون اصل میں رب ارجعنی تھا اور جمع کا لفظ فائدہ نکریہ کے لیے آیا گویا یوں کہا ارجعنی بعض کہتے ہیں رب کی تعظیم کے لیے صیغہ جمع کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَـنِّیْ مَایُوْعَدُوْنَ ۔ رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(المومنون : 93، 94)
(دعا کیجیے، اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ )
اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسلام کے غلبہ عمومی کی بشارت
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو متعدد بار بیان کیا جاچکا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آتا ہے اور وہ اس قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتا ہے تو اب اس قوم کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت کی قبولیت پر آٹھہرتا ہے۔ اگر وہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کرنے کی وجہ سے پہلی اقوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کو عذاب سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
منکرین حق نبی کریم ﷺ سے باربار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے وہ اب تک کیوں نہیں آیا ؟ کفار کے اس مطالبہ کے مختلف موقعوں پر مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں نئے انداز میں اس کے تین جواب دیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو میں تو اپنے رب سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ الٰہی اگر میری موجود گی میں تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے ظالموں میں شریک نہ کرنا۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ ہم کفار کے ساتھ کیے…
Read the full tafseer →الموں کو عذاب دیتے وقت اپنے میں رکھنا :
93: قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَ (کہہ دیں اے میرے رب اگر وہ عذاب تو مجھے دکھا دے جس کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ ) ماؔ اور نونؔ دونوں تاکید کیلئے ہیں۔ یعنی اگر ضروری ہے کہ تو ان سے وعدہ کیا جانے والا عذاب دنیا میں مجھے دکھائے یا آخرت میں۔
Read the full tafseer →93۔ قل رب اماترینی مایوعدون۔ اگر وہ عذاب مجھے دکھاوے جوان لوگوں کے ساتھ عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
91۔ 92:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے ٹھیکریاں روپے دکھائی دیتی ہیں ‘ اسی طرح شیطان کے فریب دینے اور بہکانے سے مرنے کے بعد کی وہ سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والوں میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دو بادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہو کر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے ‘ اب جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے آپس کے جھگڑے کی بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
آیت نمبر 93)
چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
108 ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس کی کائنات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور اگر بالفرض اس کے کوئی شریک ہوتے تو ایسی صورت میں ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر الگ ہوجاتا۔ تاکہ لوگوں کو اس کی قدرت اور سلطنت کا علم ہو۔ اور وہ اپنی مخلوق کو لے کر اپنی علیحدہ خدائی قائم کرے۔ تاکہ اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنا الگ تشخص قائم کرے۔ مگر جب ایسے نہیں ہوا اور یقینا اور قطعاً نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ معبود برحق ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ اور جب کسی ملک کے دو بادشاہ اور کسی ادارے کے دو سربراہ نہیں ہوسکتے تو پھر اس حکمتوں بھری کائنات کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں
تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
10 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ نبی ﷺ کے بھی گناہگاروں کیساتھ پس جانے کا اندیشہ تھا اس لئے آپ ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا بلکہ اس سے مقصود امت کے لوگوں کو تعلیم دینا ہے کہ خدا کے عذاب سے ہر شخص کو چاہے وہ کتنا ہی نیک ہو پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور کبھی اپنی نیکی پر اترانا نہیں چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بروں کے ساتھ نیک بھی پس جاتے ہیں۔ دیکھئے سورة انفال :25 ۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(23:93) اما ترینی۔ ای ان ما ترینی۔ ترین اراء ۃ سے مضارع کا صیغہ زائد ہیں۔ صرف تاکید کے لئے لائے گئے ہیں۔ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ ان کان لا بد من ان ترینی۔ اگر یہ ضروری ہی تھا۔ کہ تو مجھے یہ (عذاب) دکھائے۔
ما یوعدون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب، جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
[39] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 13 صفحہ 761۔ سورة بنی اسرائیل آیت 42 صفحہ 648
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
(ف 2) اس میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا صرف کر وہی ہے ، غیب سے مراد ایسا علم ہے جو بغیر کسی ذرائع طبعی ومنطق کے معلوم ہوجائے کیونکہ دو حالتیں جن کے معلوم کرنے کے لئے قدرت نے اسباب وذرائع پیدا کردیئے ہیں ان کا جان نہیں کوئی بہت بڑا کمال نہیں ۔
Read the full tafseer →(93) ان صاف صاف دلائل کو سن کر بھی جب یہ کفار عرب دین حق کی طرف مائل نہیں ہوتے تو یہ عذاب دنیوی یا اخروی میں ضرور مبتلا ہوں گے اس لئے اس عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے پیغمبر کو دعا تعلیم فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے پیغمبر آپ یوں دعا کیجئے اے میرے پروردگار جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر تو وہ مجھ کو دکھائے یعنی میری زندگی میں اگر وہ عذاب ان پر آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
ف 3۔ کہ ان سب مقدمات کو مانتے ہو، اور نتیجہ کو کہ توحید و بعث کا اعتقاد ہے نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے پروردگار سے ہمیشہ دعا کرتے رہئے :
93۔ یہ طریقہ گزشتہ قوموں سے چلتا آرہا ہے کہ ہر نبی ورسول نے جب اپنی قوم کو شرک سے بچنے کی تلقین کی اور قوم نے اس تلقین کو قبول نہ کیا تو ہر نبی ورسول نے قوم کو عذاب الہی کا خوف دلایا اور قوم کے لوگوں نے عذاب الہی کا خوب مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ جب ہم آپ ﷺ کی تلقین کے مطابق عمل نہیں کر رہے تو وہ عذاب الہی آکیوں نہیں جاتا ؟ اور رسول سے مطالبہ کیا کہ تم نے جس عذاب کی ہم کو بار بار دھمکی دی ہے اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ قریش کے لوگوں کو جب رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تو انہوں نے بھی وہی مطالبہ کیا جو گزشتہ قومیں کرچکی تھیں کہ اگر تم سچے ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
Commentary
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
86. This contains a subtle allusion to the refutation of the doctrine of intercession. See (E.Ns 85, 86 of Surah Ta-Ha) and (E.N. 27 of Surah AI-Anbiya).
Read the full tafseer →