Al-Muminoon 23:92

Al-Muminoon · from ayah 92

23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ۟۠عٰلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اس کی شان اس سے اونچی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, so high is He above what they associate [with Him].

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:92

کھلے اور چھپے کا جاننے والا، وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اس کی شان اس سے اونچی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه غائب حاضر کا جاننے واﻻ ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے باﻻتر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اللہ جسے تمام چھپی اور کھلی باتوں کا مکمل علم ہے۔ لہذا وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جاننے والا ہر نہاں و عیاں کا تو اسے بلندی ہے ان کے شرک سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) پوشیدہ اور آشکار (سب چیزوں) کا جاننے والا ہے سو وہ ان چیزوں سے بلند و برتر ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے، پس وہ بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ سب پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا جاننے والا ہے اور جن چیزوں کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ بالاتر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ غائب و حاضر کا جاننے والا ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایک برابر جاننے والا نہاں وعیاں کا، وہ بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا غرض ان لوگوں کے شرک سے بالاتر ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جاننے والا ہے ہر غیب اور ظاہر کا چناچہ وہ بہت بلند ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور مشرک جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows both what is visible and what is not visible. Exalted is Allah above all that they associate with Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the Knower of the hidden and the manifest. So, He is far higher than their ascribing of partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the Knower of the hidden and the manifest. So, He is far higher than their ascribing of partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

All-Knower of the unseen and the seen! Exalted be He over all that they associate as partners to Him!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Knower of the Invisible and the Visible! and Exalted be He over all that they ascribe as partners (unto Him)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, so high is He above what they associate [with Him].

— Saheeh International

He has the knowledge of all seen and unseen things. He is too exalted to be considered equal to anything else.

— Muhammad Sarwar

The Knower of the unseen and the seen, so may He be exalted above what they associate (with Him).

— Muhammad Habib Shakir

Knower of the unseen and the seen, Exalted is He above that which they associate!

— Abdul Majid Daryabadi

He knows what is hidden and what is open: too high is He for the partners they attribute to Him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

وہ ہر شان میں بےمثال ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اسکی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–93

سورة الْمُؤْمِنُوْن 86 اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس خاص قسم کے شرک کی طرف جس نے پہلے شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی، اور پھر غیر اللہ کے لیے علم غیب (علم ماکان و ما یکون) کے اثبات کی شکل اختیار کرلی۔ یہ آیت اس شرک کے دونوں پہلوؤں کی تردید کردیتی ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حواشی 85۔ 86۔ الانبیاء حاشیہ 27)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–92

معارف و مسائل وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

آیت 92-90 مذکورہ بالا سوال و جواب پر استدراک اب اس سارے سوال و جواب پر استدراک ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں یہ خود انکے اپنے اعترافات کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے ہم نے اس قرآن میں جو کچھ پیش کیا ہے یہ حق ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں اس لئے کہ یہ خود اپنے منہ سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے، نہ کسی کو اپنی بیٹی اور نہ کوئی اس کا ساجھی اور شریک ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں الہ بھی شریک ہوتے تو ہر الہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور یہ سارا نظام کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ اس طرح کی خرافات جو بیہ باین کرتے ہیں یہ خدا کی اعلیٰ صفات کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 89–93

98-1یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو ؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسکی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انھیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے اختیار دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–95

29: یہ توحید کی تقریباً وہی دلیل ہے جو سورة بنی اسرائیل : 42 اور سورة انبیاء : 22 میں گذری ہے۔ تشریح کے لیے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–92

بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔ اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جس کی قدرت عامہ و تامہ کا حال پہلے بیان ہوچکا اور علم محیط ایسا کہ کوئی ظاہر و باطن اور غیب و شہادت اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی حکومت میں کیا وہ چیزیں شریک ہوں گی جن کی قدرت اور علم وغیرہ سب صفات محدود و مستعار ہیں ؟ استغفر اللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 91–93

سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت ارفع و اعلیٰ ومنزہّ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 92–93

90 یعنی اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ہستی کے پاس رتی بھر بھی اختیارات ہوتے تو تو اس کا سب سے علم اللہ کو ہی ہوسکتا تھا کیونکہ موجود اشیاء اور موجودہ علم کے علاوہ غیر موجود اشیاء اور نامعلوم علم کا بھی جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز بھی مخفی رہنا ناممکنات سے ہے۔ اور اپنی اس وسعت علم کی بنا پر ہی یہ فرما رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ نہ کوئی الٰہ ہوسکتا ہے نہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہے لہذا مشرکوں کے ان بیہودہ عقائد سے اللہ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 92–94

82۔ یہ تعلیم ہے دیاوآداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ” اردگرد کی پھیلی ہوئی برائیوں سے جب عذاب نازل ہونے لگے تو مجھے محفوظ ومستثنی کردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں میں بھی اسی لپیٹ میں آجاؤں۔ “ اور یہ مقام ہے کمال عبدیت کا۔ پیغمبر یہاں محض واسطہ ہیں۔ مقصود امت کو تعلیم دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لیے محل عذاب ہونیکا تو احتمال بھی نہیں۔ ” دعا اس وجہ سے نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) ایسا امر محتمل ہے بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل ہی نہیں ہے۔ جب وہاں امر ہے استعاذہ کا۔ تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہیے۔ اور صحت سوال موقوف نہیں احتمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–92

آیت نمبر 78 تا 92 ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علم الغیب والشہادۃ فتعلی عما یشرکون۔ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا۔ غرض ان کی شرک آفرینیوں سے ‘ اللہ بزرگ و برتر ہے۔ یعنی اولاد اور شریک سے اللہ پاک ہے جس کی دلیل اوپر ذکر کردی گئی۔ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادۃِ نفی شریک کی دوسری دلیل ہے (اگر کسی موصوف کی کوئی خاص صفت بیان کی جائے تو وہ صفت ہی کسی حکم کی علت ہوتی ہے جیسے اَحْسِنْ بِزَیْدٍ صَدیْقِکَ الْقَدِیْمِاپنے پرانے دوست زید کے ساتھ بھلائی کر۔ بھلائی کرنے کے حکم کی علت زید کی پرانی دوستی ہے۔ پس اللہ کا شریک نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہی پوشیدہ اور ظاہر کا عالم ہے یعنی عالم کل ہے اس کے سوا کوئی ہمہ گیر علم نہیں رکھتا) یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) وہ ان باتوں کو جاننے والا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں یا یہ کہ آئندہ ہونے والی ہیں اور آشکارا کا بھی یا یہ کہ جن چیزوں کا ظہوار ہوچکا ان کا بھی غرض، کہ ان لوگوں کے شرک سے کہ یہ بتوں کا شریک قرار دیتے وہ بالاتر اور منزہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 91–92

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ۔۔ : ”وَّلَدٍ“ نکرہ پر ”مَا“ کے ساتھ نفی آئی تو عموم پیدا ہوگیا کہ ”اللہ نے کوئی اولاد نہیں بنائی۔“ ”مِنْ“ کے ساتھ اس عموم کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی اولاد نہیں بنائی۔“ یعنی نہ کوئی فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی، نہ کوئی اور۔ 3 تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا کوئی شریک ہو، ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں۔ وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک الٰہ (معبود) ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہیے۔ ایسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر 90-92 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بالحق یعنی ہم نے انہیں سچا قول پہنچادیا نہ کہ وہ جو کفار کہتے ہیں یعنی شریک کا اثبات اور دوبارہ اٹھنے کی نفی۔ وانھم لکذبون۔ وہ جھوٹے ہیں کہ کہتے ہیں : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ نے فرمایا : ما اتخذاللہ من ولد۔ من صلہ ہے وما کان معہ من الہ۔ من زائدہ ہے تقدیر اس طرح ہے۔ ما اتخذاللہ ولدا۔ یعنی اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا جیسا کہ تم نے کہا اور جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں اسکے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے کلام میں حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مخلوق کے ساتھ علیحدہ ہوتا۔ ولعلا بعضھم علی بعض۔ قوی، ضعیف پر غالب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–95

1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔ 2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔ 3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔ 5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

عٰلِمِ (جاننے والا ) الْغَيْبِ (غیب ) وَ (اور) الشَّهَادَةِ (حاضر ) فَتَعٰلٰى (پس وہ بہت بلند ) عَمَّا (" اس " سے جو) يُشْرِكُوْنَ (وہ سب شریک بناتے ہیں )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 91–92

اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ہے، وہ مشرکوں کی شرکیہ باتوں سے پاک ہے مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بھی مانتے تھے آج بھی دنیا میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور خاص کر نصاری تو اس میں بہت آگے ہیں، یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سب لوگوں کی تردید فرما دی جو قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے، یہاں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور یہ بھی فرمایا کہ صرف وہی معبود حقیقی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو لوگ اس کے علاوہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–92

تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 91–92

70:۔ ” ماتخذ اللہ الخ “ مسئلہ توحید کو دلائل کے ساتھ ثات و مبرہن کرنے کے بعد دعوی کو صراحت سے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اور اس کا کوئی نائب نہیں جس کو اس نے مافوق الاسباب تصرف کی اجازت دے رکھی ہو۔ ” و ما کان معہ الخ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کا نائب کوئی نہیں اسی طرح الوہیت میں اس کا شریک وسہیم بھی کوئی نہیں کیونکہ اگر کوئی اسکا شریک ہوتا تو اپنی مخلوق میں اور اپنے ملک میں وہ خود مختار اور متصرف ہوتا۔ ” ولعلا بعضھم الخ “ اور ان کے درمیان اقتدار کی باقاعدہ جنگ ہوتی مگر تم دیکھ رہے ہو سارا عالم اللہ تعالیٰ ہی کے زیر تصرف ہے اور یہاں دوسرا کوئی متصرف نہیں تو معلوم ہوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–92

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ 92ۧ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 88–92

1 ؎ یعنی یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر عقل پر پتھر پڑے ہیں کہ اس کے سوا اور کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے۔ اس کو پکارتے ہیں 12 منہ۔ 2 ؎ ملکوت بمعنی الملک والتار للمبالغۃ کما فی رحموت و رہبوت۔ 12 منہ 3 ؎ ھویجیر الخ یقال اجرت فلانا اذا انبعاث بک مخمیۃ واجرت علیہ اذاحمیت عنہ والمعنی یحمی ولایحمی علیہ۔ 12

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–92

بَلْ اَ تَیْنٰـھُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ مَاا تَّخَذَاللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَ ھَبَ کُلُّ اِلٰہٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 90 تا 92) (بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود جو کچھ اس نے پیدا کیا ہوتا اس کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، پاک ہے اللہ تعالیٰ ایسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اپنی بادشاہت اور اختیارات کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اب اپنی ذات کے حوالے سے بتلا یا اور سمجھایا ہے کہ ذات کے اعتبار سے بھی کوئی اس کا ہم سر اور شریک نہیں ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ سورة المائدہ آیت 75 میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں سمجھایا کہ ابن مریم ( علیہ السلام) صرف اللہ کا رسول ہے اس سے پہلے رسول گزر چکے اس کی والدہ مریم کردار اور گفتار کے لحاظ سے صدیقہ تھی وہ ماں، بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ توجہ فرمائیں کہ ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

92: عٰلِمٍ (وہ جاننے والا ہے ) نحو : مجرور ہو تو یہ اللہ کی صفت ہے اور رفع کی صورت میں یہ ھو مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ قراءت : جر حفص کی قراءت ہے اور مدنی اور کوفی قراء علاوہ حفص کے رفع پڑھتے ہیں۔ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (پوشیدہ اور ظاہر کا) مخفی اور اعلانیہ کا۔ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (وہ بلندو برتر ہے ان تمام سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں) بت وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

92۔ عالم الغیب والشھادۃ۔ اہل مدینہ کوفہ نے عالم کے میم پر ضمہ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے مجرور پڑھا ہے ۔ اس صورت میں یہ صفت ہوگی، ماقبل آیت، سبحان اللہ عمایصفون۔ سے فتعالی عمایشرکون۔ ان چیزوں کی تعظیم کرتے ہیں وہ جن کو وہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس آیت کا معنی ہے کہ وہ لوگ جس صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بلند وبالا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–93

91۔ 92:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے ٹھیکریاں روپے دکھائی دیتی ہیں ‘ اسی طرح شیطان کے فریب دینے اور بہکانے سے مرنے کے بعد کی وہ سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والوں میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دو بادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہو کر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے ‘ اب جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے آپس کے جھگڑے کی بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر (90) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرو نہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے ‘ اس لیے فرمایا : (وانھم لکذبون) ” اور وہ سخت جھوٹے ہیں۔ “ (ما اتخذ اللہ من و لد و ما کان معہ من الہ ) ” اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ “ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنا بریں اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 91–93

108 ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس کی کائنات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور اگر بالفرض اس کے کوئی شریک ہوتے تو ایسی صورت میں ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر الگ ہوجاتا۔ تاکہ لوگوں کو اس کی قدرت اور سلطنت کا علم ہو۔ اور وہ اپنی مخلوق کو لے کر اپنی علیحدہ خدائی قائم کرے۔ تاکہ اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنا الگ تشخص قائم کرے۔ مگر جب ایسے نہیں ہوا اور یقینا اور قطعاً نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ معبود برحق ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ اور جب کسی ملک کے دو بادشاہ اور کسی ادارے کے دو سربراہ نہیں ہوسکتے تو پھر اس حکمتوں بھری کائنات کے دو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 91–92

اللہ وحدہ ‘ لا شریک ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کے واحد ہونے اور مکمل طور پر اقتدار کے مالک ہونے کی دلیل دی گئی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کے اس عظیم الشان کارخانے میں بیشمار اسباب آپس میں ملے ہوئے ہیں جو ایک ہی حاکم کی مرضی اور حکم سے چلتے ہیں۔ اگر دو حاکم ہوے یا زیادہ ہوتے تو یہ اسباب کی مجموعی حرکت ہرگز چل نہ سکتی کیونکہ ہر حاکم اپنی مرضی چلانے کی سوچتا اور یوں اس کارخانے کا بہترین نظام درہم برہم ہوجاتا اور ہم لوگ پانی پھول پھل اور کھانے پینے کی چیزوں سے عاجز آجاتے۔ کیونکہ مختلف حاکموں کے زیر نگرانی نہ سورج وقت پر کام کرتا نہ ہوائیں صحیح رخ سے چلتیں نہ بارش معمول کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 78–92

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ یعنی جو دوسروں کے لحاظ سے کھلی یا چھپی ہے ورنہ اس کے لئے تو ہر چیز کھلی ہے۔ 9 ۔ یعنی اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ جن کو یہ مشرک اس کا شریک سمجھتے ہیں وہ اس کے شریک ہوں۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:92) علم الغیب۔ مضاف مضاف الیہ۔ غیب کا جاننے والا۔ دونوں مل کر اللہ (سبحان اللہ میں) کی صفت ہے اور یہی جر کی وجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 78–92

لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 : ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 : اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والون میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دوبادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہوکر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے اس جس طرح دنیا کے دوبادشاہوں کے آپ سکے جھگڑے کی بات ان لوگون کی آنکھوں کے سامنے کی ہے یہ بھی ان کی آنکھوں کے روبرو ہے کہ تمام دنیا میں انتظام الٰہی ہمیشہ سے ایک طرح پر ہے جس سے ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کی بادشاہت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 91–93

[39] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 13 صفحہ 761۔ سورة بنی اسرائیل آیت 42 صفحہ 648

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–96

(ف 2) اس میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا صرف کر وہی ہے ، غیب سے مراد ایسا علم ہے جو بغیر کسی ذرائع طبعی ومنطق کے معلوم ہوجائے کیونکہ دو حالتیں جن کے معلوم کرنے کے لئے قدرت نے اسباب وذرائع پیدا کردیئے ہیں ان کا جان نہیں کوئی بہت بڑا کمال نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(92) وہ ہر چھپی اور کھلی اور ہر پوشیدہ و آشکارا کا جاننے والا ہے۔ غرض وہ ان لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور بالا تر ہے۔ یعنی جو لوگ شرک خفی کرتے ہیں جیسے ریا اس کو بھی جانتا ہے اور جو شرک جلی اور بت پرستی میں مبتلا ہیں اس کو بھی جانتا ہے بہرحال ! جس کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں خواہ وہ اصنام ہوں یا کوئی انسان ہو وہ ان سب سے بالاتر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–93

ف 3۔ کہ ان سب مقدمات کو مانتے ہو، اور نتیجہ کو کہ توحید و بعث کا اعتقاد ہے نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غیب و حاضر کا جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے : 92۔ غیب و حاضر کو جاننے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جو ہر ایک انسان کی ہر ایک بات کو جانتا ہو ، تمام اشیاء کا علم فقط اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لئے خاص ہے ۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی کسی چیز کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک ان کی طرف وحی الہی نہ ہوتی تھی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق علم غیب کے جاننے کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے اور یہ احترام انبیاء نہیں بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کے خلاف ایسا عقیدہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–93

Commentary وَهُوَ يُجِيرُ‌ وَلَا يُجَارُ‌ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

86. This contains a subtle allusion to the refutation of the doctrine of intercession. See (E.Ns 85, 86 of Surah Ta-Ha) and (E.N. 27 of Surah AI-Anbiya).

Read the full tafseer →