Explained with ayahs 91–92
وہ ہر شان میں بےمثال ہے
اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اسکی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 84
یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ارشاد محض عیسائیت کی تردید میں ہے۔ نہیں، مشرکین عرب بھی اپنے معبودوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے، اور دنیا کے اکثر مشرکین اس گمراہی میں ان کے شریک حال رہے ہیں۔ چونکہ عیسائیوں کا عقیدہ " ابن اللہ " زیادہ مشہور ہوگیا ہے اس لیے بعض اکابر مفسرین تک کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ یہ آیت اسی کی تردید میں وارد ہوئی ہے۔ حالانکہ ابتدا سے روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور آخر تک ساری تقریر کے مخاطب وہی ہیں۔ اس سیاق وسباق میں یکایک عیسائیوں کی طرف کلام کا رخ پھرجانا بےمعنی ہے۔ البتہ ضمناً اس میں ان تمام لوگوں کے عقائد کی تردید ہوگئی ہے جو خدا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
معارف و مسائل
وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت 92-90
مذکورہ بالا سوال و جواب پر استدراک
اب اس سارے سوال و جواب پر استدراک ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں یہ خود انکے اپنے اعترافات کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے ہم نے اس قرآن میں جو کچھ پیش کیا ہے یہ حق ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں اس لئے کہ یہ خود اپنے منہ سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے، نہ کسی کو اپنی بیٹی اور نہ کوئی اس کا ساجھی اور شریک ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں الہ بھی شریک ہوتے تو ہر الہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور یہ سارا نظام کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ اس طرح کی خرافات جو بیہ باین کرتے ہیں یہ خدا کی اعلیٰ صفات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
98-1یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو ؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسکی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انھیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے اختیار دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
29: یہ توحید کی تقریباً وہی دلیل ہے جو سورة بنی اسرائیل : 42 اور سورة انبیاء : 22 میں گذری ہے۔ تشریح کے لیے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ…
Read the full tafseer →5 یعنی زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کا تنہا مالک و مختار وہ ہی ہے نہ اسے بیٹے کی ضرورت نہ مددگار کی، نہ اس کی حکومت و فرمانروائی میں کوئی شریک جسے ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہو۔ ایسا ہوتا تو ہر ایک با اختیار حاکم اپنی رعایا کو لے کر علیحدہ ہوجاتا اور اپنی جمعیت فراہم کر کے دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور عالم کا یہ مضبوط و محکم نظام چند روز بھی قائم نہ رہ سکتا۔ سورة انبیاء کی آیت (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) 21 ۔ الانبیآء :22) کے فوائد میں اس کی تقریر کی جا چکی ہے ملاحظہ کرلی جائے۔
6 کیا خدا کی شان یہ ہوتی ہے کہ اس کے آگے کوئی دم مار سکے یا ایک ذرہ اس کے حکم سے باہر ہو سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ”
اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت ارفع و اعلیٰ ومنزہّ ہے۔
Read the full tafseer →88 جبکہ مشرکین اپنی دیویوں کی لات، منات اور عزیٰ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور باقی ممالک کے مشرکین نے تو ایسی دیو مالا تیار کی کہ اللہ کی نسل ہی چلا دی۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو۔ اب ظاہر ہے کہ بیٹا مملوک نہیں ہوتا بلکہ شریک ہوتا ہے۔ اب ایک طرف تو مشرکین مکہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے۔ لہذا اگر ہر چیز کو مملوک مان لیا جائے تو کوئی بھی چیز اس کی اولاد نہیں ہوسکتی۔ یا پھر ان کلیہ سے دستبردار ہونا پڑے گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
89 اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
81۔ مشرک قوموں کی خرافی روایات (میتھالوجی) ان قصوں سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں دیوتا اور فلاں دیوتا میں یوں جنگ ہوئی، اس نے اس پر یوں چڑھائی کی۔ وہ اس پر یوں غالب آیا۔ قرآن نے ایک مختصر سے بلیغ فقرہ میں ان لوگوں کی دیومالا کا گویا ست کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ (آیت) ” مااتخذ اللہ من ولد “۔ اللہ کے نہ کوئی بیٹا ہے۔ جیسا کہ بدنصیب مسیحیوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ اس کے کوئی بیٹی ہے جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے گڑھ لیا ہے۔ (آیت) ” وما کان ....... بعض “۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر معبودوں میں تعدد ہوتا تو یہ نظام عالم پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہونا بدیہی ہے اس لیے اس مفروضہ پر جمے رہنا گویا بداہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →ما اتخذ اللہ من ولد وما کان معہ من الہ اللہ نے کسی کو (اپنی) اولاد نہیں قرار دیا اور نہ اس کے
ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اس کی اولاد نہیں (کیونکہ اولاد اپنے باپ کی ہم جنس ہوتی ہے اور) اللہ کی مثل اور ہم جنس کوئی نہیں ‘ وہ ہر مماثلت اور مجانست سے پاک ہے اور نہ کوئی اور خدا ہے جو الوہیت میں اللہ کا شریک ہو۔
اذا لذہب کل الہ بما خلق ولعلا بعضہم علی بعض جب کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو وہ ضرور خالق
بھی ہوتا) اور ہر الٰہ (خدا) اپنی مخلوق کو (تقسیم کر کے) جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔
اپنی مخلوق کو لے کر جدا ہوجانا اور دوسرے کو اپنی مخلوق پر تصرف کرنے سے روک دیتا اور ہر ایک کی ملکیت دوسرے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
(90۔ 91) بلکہ ہم نے تو ان کے نبی کریم ﷺ کے پاس قرآن کریم بذریعہ جبریل ؑ پہنچایا ہے جس میں صاف طور پر یہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور یقینا یہ خود ہی اپنے اس قول میں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا، نہ انسانوں میں اور نہ بقول ان کے فرشتوں میں سے اور نہ ان کے ساتھ اور کوئی شریک ہے، اگر بقول ان کے ایسا ہوتا تو ہر ایک اللہ اپنی مخلوق کو تقسیم کر کے جدا کرلیتا ہے اور اس پر اپنی سلطنت جما لیتا اور پھر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آجاتا۔ اللہ تعالیٰ تو ان نازیبا باتوں سے ماوراء، پاک اور برتر ہے جو لوگ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ۔۔ : ”وَّلَدٍ“ نکرہ پر ”مَا“ کے ساتھ نفی آئی تو عموم پیدا ہوگیا کہ ”اللہ نے کوئی اولاد نہیں بنائی۔“ ”مِنْ“ کے ساتھ اس عموم کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی اولاد نہیں بنائی۔“ یعنی نہ کوئی فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی، نہ کوئی اور۔
3 تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا کوئی شریک ہو، ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں۔ وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک الٰہ (معبود) ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہیے۔ ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر 90-92 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بالحق یعنی ہم نے انہیں سچا قول پہنچادیا نہ کہ وہ جو کفار کہتے ہیں یعنی شریک کا اثبات اور دوبارہ اٹھنے کی نفی۔ وانھم لکذبون۔ وہ جھوٹے ہیں کہ کہتے ہیں : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ نے فرمایا : ما اتخذاللہ من ولد۔ من صلہ ہے وما کان معہ من الہ۔ من زائدہ ہے تقدیر اس طرح ہے۔ ما اتخذاللہ ولدا۔ یعنی اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا جیسا کہ تم نے کہا اور جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں اسکے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے کلام میں حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مخلوق کے ساتھ علیحدہ ہوتا۔ ولعلا بعضھم علی بعض۔ قوی، ضعیف پر غالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔
2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔
3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…
Read the full tafseer →مَا (نہیں) اتَّخَذَ (رکھتا ہے) اللّٰهُ (اللہ) مِّنْ وَّلَدٍ (کوئی اولاد ) وَمَا (اور نہ) كَانَ (ہے ) مَعَهٗ (اس کے ساتھ) مِنْ اِلٰهٍ (کوئی معبود) اِذًا ( اس وقت) لَّذَهَبَ (ضرور لے جاتا ) كُلُّ (ہر ) اِلٰهٍۢ (معبود ) بِمَا ( (اس) کو جو) خَلَقَ (اس نے پیدا کیے) وَ (اور) لَعَلَا (ضرور چڑھائی کرتا ) بَعْضُهُمْ (ان میں سے بعض) عَلٰي (پر) بَعْضٍ (بعض کے) سُبْحٰنَ (پاک ہے ) اللّٰهِ (اللہ) عَمَّا (" اس " سے جو) يَصِفُوْنَ (وہ سب بیان کرتے ہیں )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ہے، وہ مشرکوں کی شرکیہ باتوں سے پاک ہے
مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بھی مانتے تھے آج بھی دنیا میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور خاص کر نصاری تو اس میں بہت آگے ہیں، یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سب لوگوں کی تردید فرما دی جو قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے، یہاں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور یہ بھی فرمایا کہ صرف وہی معبود حقیقی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو لوگ اس کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
70:۔ ” ماتخذ اللہ الخ “ مسئلہ توحید کو دلائل کے ساتھ ثات و مبرہن کرنے کے بعد دعوی کو صراحت سے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اور اس کا کوئی نائب نہیں جس کو اس نے مافوق الاسباب تصرف کی اجازت دے رکھی ہو۔ ” و ما کان معہ الخ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کا نائب کوئی نہیں اسی طرح الوہیت میں اس کا شریک وسہیم بھی کوئی نہیں کیونکہ اگر کوئی اسکا شریک ہوتا تو اپنی مخلوق میں اور اپنے ملک میں وہ خود مختار اور متصرف ہوتا۔ ” ولعلا بعضھم الخ “ اور ان کے درمیان اقتدار کی باقاعدہ جنگ ہوتی مگر تم دیکھ رہے ہو سارا عالم اللہ تعالیٰ ہی کے زیر تصرف ہے اور یہاں دوسرا کوئی متصرف نہیں تو معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–92
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…
Read the full tafseer →مَا اتَّخَذَ اللہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ كُلُّ اِلٰہٍؚبِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰي بَعْضٍ 0ۭ سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا يَصِفُوْنَ 91ۙ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
1 ؎ یعنی یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر عقل پر پتھر پڑے ہیں کہ اس کے سوا اور کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے۔ اس کو پکارتے ہیں 12 منہ۔
2 ؎ ملکوت بمعنی الملک والتار للمبالغۃ کما فی رحموت و رہبوت۔ 12 منہ
3 ؎ ھویجیر الخ یقال اجرت فلانا اذا انبعاث بک مخمیۃ واجرت علیہ اذاحمیت عنہ والمعنی یحمی ولایحمی علیہ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
بَلْ اَ تَیْنٰـھُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ مَاا تَّخَذَاللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَ ھَبَ کُلُّ اِلٰہٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 90 تا 92)
(بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود جو کچھ اس نے پیدا کیا ہوتا اس کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، پاک ہے اللہ تعالیٰ ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اپنی بادشاہت اور اختیارات کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اب اپنی ذات کے حوالے سے بتلا یا اور سمجھایا ہے کہ ذات کے اعتبار سے بھی کوئی اس کا ہم سر اور شریک نہیں ہے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ سورة المائدہ آیت 75 میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں سمجھایا کہ ابن مریم ( علیہ السلام) صرف اللہ کا رسول ہے اس سے پہلے رسول گزر چکے اس کی والدہ مریم کردار اور گفتار کے لحاظ سے صدیقہ تھی وہ ماں، بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ توجہ فرمائیں کہ ہم…
Read the full tafseer →اللہ اولاد سے پاک ہے :
91: مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ (اللہ تعالیٰ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا) کیونکہ وہ نوع و جنسیت سے پاک ہے اور آدمی کا بیٹا اس کی جنس سے ہوا کرتا ہے۔ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ (اور اس کے ساتھ کوئی شریک بھی نہیں) جو الوہیت میں اس کا ساجھی ہو۔ اِذًا لَّذَھَبَ کُلُّ اِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ (ہر الہ اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا) ہر معبود اپنی مخلوق لے کر منفرد ہوجاتا اور اپنی مخلوق میں تصرف کرنے سے دوسرے کو روک کر خود مختار ہوجاتا ہے۔ تاکہ ہر ایک کی بادشاہی دوسرے سے ممتاز ہو۔
وَ لَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ (اور وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے)…
Read the full tafseer →91۔ ماتخذاللہ من ولد وماکان معہ من الہ، وہ شریک سے پاک ہے۔ اذالذھب کل الہ بماخلق، اس نے مخلوقات کو اکیلے میں پیدا کیا، اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے اور اللہ تعالیٰ اس بات سے بےنیاز ہیں کہ ان کا کوئی مددگار ہو مخلوقات کے پیدا کرنے میں۔ ولعلا بعضھم علی بعض ، بعض لوگ بعض پر غلبہ پاتے ہیں جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کا طریقہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے برات کی ہے۔ سبحان اللہ عمایصفون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
91۔ 92:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے ٹھیکریاں روپے دکھائی دیتی ہیں ‘ اسی طرح شیطان کے فریب دینے اور بہکانے سے مرنے کے بعد کی وہ سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والوں میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دو بادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہو کر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے ‘ اب جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے آپس کے جھگڑے کی بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر (90)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرو نہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے ‘ اس لیے فرمایا : (وانھم لکذبون) ” اور وہ سخت جھوٹے ہیں۔ “
(ما اتخذ اللہ من و لد و ما کان معہ من الہ ) ” اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ “ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنا بریں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
108 ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس کی کائنات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور اگر بالفرض اس کے کوئی شریک ہوتے تو ایسی صورت میں ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر الگ ہوجاتا۔ تاکہ لوگوں کو اس کی قدرت اور سلطنت کا علم ہو۔ اور وہ اپنی مخلوق کو لے کر اپنی علیحدہ خدائی قائم کرے۔ تاکہ اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنا الگ تشخص قائم کرے۔ مگر جب ایسے نہیں ہوا اور یقینا اور قطعاً نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ معبود برحق ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ اور جب کسی ملک کے دو بادشاہ اور کسی ادارے کے دو سربراہ نہیں ہوسکتے تو پھر اس حکمتوں بھری کائنات کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
اللہ وحدہ ‘ لا شریک ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کے واحد ہونے اور مکمل طور پر اقتدار کے مالک ہونے کی دلیل دی گئی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کے اس عظیم الشان کارخانے میں بیشمار اسباب آپس میں ملے ہوئے ہیں جو ایک ہی حاکم کی مرضی اور حکم سے چلتے ہیں۔ اگر دو حاکم ہوے یا زیادہ ہوتے تو یہ اسباب کی مجموعی حرکت ہرگز چل نہ سکتی کیونکہ ہر حاکم اپنی مرضی چلانے کی سوچتا اور یوں اس کارخانے کا بہترین نظام درہم برہم ہوجاتا اور ہم لوگ پانی پھول پھل اور کھانے پینے کی چیزوں سے عاجز آجاتے۔ کیونکہ مختلف حاکموں کے زیر نگرانی نہ سورج وقت پر کام کرتا نہ ہوائیں صحیح رخ سے چلتیں نہ بارش معمول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →6 ۔ اپنی خدائی الگ قائم کرلیتا۔ 7 ۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا۔ (قرطبی) وہ ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →(23:91) اذا۔ حرف جواب اور جزا ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ بمعنی تب۔ اس وقت۔ فراء کا قول ہے کہ جس جگہ اذا کے بعد لام آئے گا۔ تو ضرور ہے کہ اس کے بعد لو مقدر ہو اگرچہ ظاہر اس کا کوئی پتہ نہ ہو۔ مثلاً قولہ تعالی۔ اذا لذھب کل الہ بما خلق (آیہ ہذا) ای لو کان معہ الھۃ کما تزعمون لذھب کل الہ بما خلق۔۔
لعلا۔ لام تاکید کے لئے ہے علا یعلو علو (باب نصر) یا علی یعلی (فتح) علاء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ وہ چڑھ گیا۔ اس نے چڑھائی کی ۔ وہ غالب آیا۔ لعلا بعضہم علی بعض۔ تو ضرور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔
لذھب کل الہ بما خلق۔ تو وہ اپنی مخلوق کو لے کر جدا کرلیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
توحید کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والون میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دوبادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہوکر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے اس جس طرح دنیا کے دوبادشاہوں کے آپ سکے جھگڑے کی بات ان لوگون کی آنکھوں کے سامنے کی ہے یہ بھی ان کی آنکھوں کے روبرو ہے کہ تمام دنیا میں انتظام الٰہی ہمیشہ سے ایک طرح پر ہے جس سے ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کی بادشاہت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
[39] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 13 صفحہ 761۔ سورة بنی اسرائیل آیت 42 صفحہ 648
Read the full tafseer →خدا کے بیٹا نہیں :
(ف 1) عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خدا کی اولاد ہے اور معاذ اللہ ابن مریم (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے ، بالکل غیر عقلی عقیدہ ہے ، کیونکہ چند خدا ہونے کی صورت میں سخت اختلاف وتشتت کائنات میں رونما ہوجائے ، باپ کچھ چاہے ، اور بیٹا کچھ ارادہ کرے ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ روح القدس ان دونوں کی مخالفت میں قوت آرائی کی ٹھان لے ، اور اس طرح دنیا مسابقت اور مقابلہ کا میدان بن جائے آپ نے ہندو میتھالوجی ، (علم الاصنام) میں دیکھا ہوگا ، کہ دیوتا ایک دوسرے سے دست وگربیان ہیں ، ہر ایک اپنے مقابل سے قوت و طاقت میں بڑھ جانا چاہتے ہیں ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر سب خدا ہیں ، اور سب کے اختیارات…
Read the full tafseer →(91) چونکہ توحید کا مسئلہ اہم ہے اس کی مزید وضاحت فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی اولاد قرار دیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اور ہر الٰہ اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لئے چڑھائی کردیتا۔ جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ان باتوں سے پاک اور بری ہے یعنی نہ تو اس کی کوئی اولاد ہے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں یا عرب کے جاہل کہتے ہیں نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے اگر کوئی اور خدا بھی ہوتا تو اس کا قوی امکان تھا کہ وہ اپنی اپنی بنائی ہوئی اور پیدا کی ہوئی مخلوق کو لیکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
ف 3۔ کہ ان سب مقدمات کو مانتے ہو، اور نتیجہ کو کہ توحید و بعث کا اعتقاد ہے نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی کوئی اور معبود اس کے ساتھ ہے :
91۔ زیر نظر آیت کا روئے سخن کس سے ہے ؟ عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں کیونکہ وہی وہ قوم ہے جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ قرار دیا ہے ۔ بلاشبہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہا لیکن عیسائیوں سے پہلے یہودی بھی عزیر (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہہ چکے تھے اگرچہ عیسائیوں کا ایسا کہنا زیادہ مشہور اور زبان زد خاص وعام ہوگیا تاہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سی قوموں نے اپنے اپنے دور کے مذہبی پیشواؤں کو اس خطاب سے نوازا اور اسی طرح اہل عرب اور خصوصا اہل مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
Commentary
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)
Read the full tafseer →84. It should be, noted that this is a general refutation of the belief that Allah has a child or children, and incidentally refutes the Christian belief that Christ is the son of God. Yet even some eminent commentators confine this to the refutation of the Christian belief. Obviously, there is no reason why it was necessary to refute the Christian belief specifically in this context, when the whole discourse has been directed towards the disbelievers of Makkah alone, who were, like the Christians, guilty of this sort of shirk.
85. Here the argument of Tauhid is based on this principle: Had…
Read the full tafseer →