Explained with ayahs 84–90
اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 83
یعنی اپنے اس عقل میں جھوٹے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو بھی الوہیت (خدائی کی صفات، اختیارات اور حقوق، یا ان میں سے کوئی حصہ) حاصل ہے۔ اور اپنے اس قول میں جھوٹے کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے۔ ان کا جھوٹ ان کے اپنے اعترافات سے ثابت ہے۔ ایک طرف یہ ماننا کہ زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہر چیز کا مختار اللہ ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدائی تنہا اسی کی نہیں ہے بلکہ دوسروں کا بھی (جو لامحالہ اس کے مملوک ہی ہوں گے) اس میں کوئی حصہ ہے، یہ دونوں باتیں صریح طور پر ایک دوسرے سے متناقض ہیں۔ اسی طرح ایک طرف یہ کہنا کہ ہم کو اور اس عظیم الشان کائنات کو خدا نے پیدا کیا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
معارف و مسائل
وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت 92-90
مذکورہ بالا سوال و جواب پر استدراک
اب اس سارے سوال و جواب پر استدراک ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں یہ خود انکے اپنے اعترافات کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے ہم نے اس قرآن میں جو کچھ پیش کیا ہے یہ حق ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں اس لئے کہ یہ خود اپنے منہ سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے، نہ کسی کو اپنی بیٹی اور نہ کوئی اس کا ساجھی اور شریک ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں الہ بھی شریک ہوتے تو ہر الہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور یہ سارا نظام کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ اس طرح کی خرافات جو بیہ باین کرتے ہیں یہ خدا کی اعلیٰ صفات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
98-1یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو ؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسکی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انھیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے اختیار دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
28: کفار عرب مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے، اس کے باوجود مختلف خداؤں کے بھی قائل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ…
Read the full tafseer →4 یعنی دلائل و شواہد سے ظاہر کردیا گیا کہ جو کچھ ان سے کہا جا رہا ہے موبموصحیح اور حق ہے اور وہ لوگ محض جھوٹے خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89 سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ ”
یہ کون سا جادو اور فریب ہے جس کے اثر سے تم لوگ یہ سب کچھ تسلیم کر کے پھر شرک پر آمادہ ہوجاتے ہو ؟
Read the full tafseer →87 سابقہ آیات میں تین باتوں کا اعتراف کرنے سے مشرکین پر حجت قائم ہوجاتی ہے ایک طرف تو وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہر طرح کا تصرف و اختیار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے معبودوں کا بھی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ایسے ہی مملوک ہیں جیسے کائنات کی دوسری اشیاء اور مخلوقات اور مملوک کبھی مالک کے اختیارات میں شریک نہیں ہوسکتا۔ یہی وہحق بات ہے جو ہم نے انھیں بتلائی ہے اور جس کا اعتراف وہ خود کر رہے ہیں۔ رہے ان کے زبانی دعوے کہ ان کے معبود بھی کچھ اختیارات رکھتے ہیں تو وہ اپنپے اقرار و اعتراف کی بنا پر بھی وہ جھوٹے قرار پاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
81۔ مشرک قوموں کی خرافی روایات (میتھالوجی) ان قصوں سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں دیوتا اور فلاں دیوتا میں یوں جنگ ہوئی، اس نے اس پر یوں چڑھائی کی۔ وہ اس پر یوں غالب آیا۔ قرآن نے ایک مختصر سے بلیغ فقرہ میں ان لوگوں کی دیومالا کا گویا ست کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ (آیت) ” مااتخذ اللہ من ولد “۔ اللہ کے نہ کوئی بیٹا ہے۔ جیسا کہ بدنصیب مسیحیوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ اس کے کوئی بیٹی ہے جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے گڑھ لیا ہے۔ (آیت) ” وما کان ....... بعض “۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر معبودوں میں تعدد ہوتا تو یہ نظام عالم پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہونا بدیہی ہے اس لیے اس مفروضہ پر جمے رہنا گویا بداہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →بل اتینہم بالحق وانہم لکذبون۔ بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔
الْحَقُّسے مراد توحید اور قیامت کا وعدہ اور کاذب ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ توحید اور قیامت کے انکار میں جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
(90۔ 91) بلکہ ہم نے تو ان کے نبی کریم ﷺ کے پاس قرآن کریم بذریعہ جبریل ؑ پہنچایا ہے جس میں صاف طور پر یہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور یقینا یہ خود ہی اپنے اس قول میں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا، نہ انسانوں میں اور نہ بقول ان کے فرشتوں میں سے اور نہ ان کے ساتھ اور کوئی شریک ہے، اگر بقول ان کے ایسا ہوتا تو ہر ایک اللہ اپنی مخلوق کو تقسیم کر کے جدا کرلیتا ہے اور اس پر اپنی سلطنت جما لیتا اور پھر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آجاتا۔ اللہ تعالیٰ تو ان نازیبا باتوں سے ماوراء، پاک اور برتر ہے جو لوگ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بالْحَقِّ : ”اَلْحَقُّ“ سے مراد یہاں ”سچ“ ہے، کیونکہ مقابلے میں ”لَكٰذِبُوْنَ“ آ رہا ہے۔ ”کامل“ کا مفہوم الف لام سے حاصل ہو رہا ہے، یعنی ہم ان کے پاس جھوٹے قصے کہانیاں (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْن) نہیں لائے، بلکہ ایسا سچ لائے ہیں جس میں کوئی نقص نہیں۔
وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ : یعنی یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں، اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے، یا کوئی اس کا بیٹا ہے جسے خدائی اختیارات حاصل ہیں، یا وہ جو چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا سکتا ہے اور اس بات میں جھوٹے ہیں کہ موت کے بعد زندگی ممکن نہیں ہے اور ان کا جھوٹ ان کے اعترافات سے ثابت ہے جو اوپر گزرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر 90-92 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بالحق یعنی ہم نے انہیں سچا قول پہنچادیا نہ کہ وہ جو کفار کہتے ہیں یعنی شریک کا اثبات اور دوبارہ اٹھنے کی نفی۔ وانھم لکذبون۔ وہ جھوٹے ہیں کہ کہتے ہیں : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ نے فرمایا : ما اتخذاللہ من ولد۔ من صلہ ہے وما کان معہ من الہ۔ من زائدہ ہے تقدیر اس طرح ہے۔ ما اتخذاللہ ولدا۔ یعنی اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا جیسا کہ تم نے کہا اور جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں اسکے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے کلام میں حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مخلوق کے ساتھ علیحدہ ہوتا۔ ولعلا بعضھم علی بعض۔ قوی، ضعیف پر غالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔
2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔
3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…
Read the full tafseer →بَلْ (بلکہ) اَتَيْنٰهُمْ (ہم آئے ہیں ان کے پاس ) بِالْحَقِّ (حق کے ساتھ) وَاِنَّهُمْ (اور بیشک وہ ) لَكٰذِبُوْنَ (یقینا سب جھوٹے ہیں )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →69:۔ ” بل اتینھم “ یہ ” ان ھذا الا اساطیر الاولین “ سے اضراب ہے الخ دلائل عقلیہ بیان کرنے کے بعد بطور زجر ارشاد فرمایا کہ مسئلہ توحید اور حشر و نشر جھوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ حق ہیں اور ایسے مضبوط دلائل سے ثابت ہیں کہ ہر عقلمند ان کو سمجھ سکتا ہے۔ ” وانھم لکذبون “ اس لیے مشرکین اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ والمراد بالحق الوعد بالبعث وقیل ما یعمہ والتوحید ویدل علی ذالک السیاق (روح ج 18 ص 59) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–92
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…
Read the full tafseer →بَلْ اَتَيْنٰہُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ 90
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
1 ؎ یعنی یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر عقل پر پتھر پڑے ہیں کہ اس کے سوا اور کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے۔ اس کو پکارتے ہیں 12 منہ۔
2 ؎ ملکوت بمعنی الملک والتار للمبالغۃ کما فی رحموت و رہبوت۔ 12 منہ
3 ؎ ھویجیر الخ یقال اجرت فلانا اذا انبعاث بک مخمیۃ واجرت علیہ اذاحمیت عنہ والمعنی یحمی ولایحمی علیہ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
بَلْ اَ تَیْنٰـھُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ مَاا تَّخَذَاللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَ ھَبَ کُلُّ اِلٰہٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 90 تا 92)
(بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود جو کچھ اس نے پیدا کیا ہوتا اس کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، پاک ہے اللہ تعالیٰ ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں سے استفسار کا سلسلہ جاری ہے۔
سروردوعالم ﷺ کو پھر حکم ہوا کہ آپ مشرکین سے استفسار فرمائیں کہ کسے ہر چیز پر اختیار اور اقتدار حاصل ہے ؟ جو سب کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی ضرورت نہیں اگر اس حقیقت کو جانتے ہو تو اس کا جواب دو ؟ وہ ضرور جواب دیں گے کہ ہر چیز پر صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہے۔ انہیں فرمائیں کہ اس کے باوجود تم ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس عقیدہ توحید کے ٹھوس اور حقیقت پر مبنی دلائل پہنچ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹ بولتے ہیں۔ عقیدہ توحید کے اس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت دلائل ہیں…
Read the full tafseer →90: بَلْ اَتَیْنٰھُمْ بِالْحَقِّ (بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے) کیونکہ اس کی طرف بیٹے کی نسبت ناممکن ہے اور شرک باطل ہے : وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (اور بیشک وہ جھوٹے ہیں) اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا اور شریک تجویز کرلئے پھر ان کا جھوٹ اور کھول دیا فرمایا۔
Read the full tafseer →90۔ بل اتیناھم بالحق۔ حق سے مراد صدق ہے۔ وانھم لکاذبون ، جو یہ لوگ ہمارے بارے میں شرک اور ولد کے بارے میں دعوی کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر (90)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرو نہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے ‘ اس لیے فرمایا : (وانھم لکذبون) ” اور وہ سخت جھوٹے ہیں۔ “
(ما اتخذ اللہ من و لد و ما کان معہ من الہ ) ” اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ “ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنا بریں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →107 مشرکین و منکرین قطعی طور پر جھوٹے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ یقینا پرلے درجے کے جھوٹے ہیں "۔ جو اس کلام حق و صدق کو پہلوں کے افسانے قرار دیتے اور شرک کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں وہ خود انکے اپنے اعترافات کیخلاف ہے تو یہ اپنے آپ کو خود اپنے مونہوں سے جھٹلا دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی باتوں کا حق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ حق وہ ہے جو ہم نے انکو قرآن کی صورت میں دیا ہے۔ اب اگر یہ اس کو صدق دل سے مانتے ہیں تو یہ خود انکے حق میں بہتر ہوگا ورنہ یہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
کفار کا توحید ربوبیت کا اقرار
تشریح : ” شروع سے لے کر اب تک اور شاید آئندہ بھی تمام کفارو مشرکین کا خیال اور باتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں یعنی اللہ کے واحد ہونے اور آخرت سے انکار۔ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل مشرک سے یا انتہائی بےعلم جاہل مشرک سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ہیں تو جواب میں فوراً کہے گا اللہ نے۔ تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ” عہد الست “ ہر بندے کے لاشعور میں پکی طرح موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا یہ کہنا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہیں، یعنی انسان کو پیدا تو حق و صداقت کا علم دے کر ہی کیا گیا ہے۔ بعد میں کئی فرقے ‘ مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ اللہ کے سوا اور بھی بندگی کے لائق ہے۔
Read the full tafseer →(23:90) بل اتینہم بالحق۔ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ ) ہم نے حق ان تک پہنچا دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…
Read the full tafseer →[38] یعنی دلائل و شواہد سے ظاہر کردیا گیا ہے کہ جو کچھ ان سے کہا جا رہا ہے لفظ بہ لفظ صحیح اور حق ہے اور یہ لوگ محض جھوٹے خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
(ف 1) غرض یہ ہے کہ گو دل و دماغ شرک اور بت پرستی کے غبار سے اٹ جائے مگر توحید کے نقوش ان میں ضرور موجود رہتے ہیں ، کیونکہ توحید فطرت ہے توحید دل کی آواز ہے ، اور توحید انسانیت ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اگر ان بت پرستوں سے آپ پوچھیں گے کہ اس زمین اور اس پر بسنے والے لوگوں کا مالک کون ہے ؟ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا پروردگار کون ہے ؟ ہر چیز پر کس کی حکمرانی ہے ؟ اور کس کے ہاتھ میں ہر وقت تمام اختیارات ہیں کہ وہ جس کو چاہے پناہ دے اور جس کو چاہے محروم رکھے ، تو وہ بےاختیار پکار اٹھیں گے کہ اللہ ہی ان صفات سے متصف ہے ، قرآن پوچھتا ہے کہ اگر یہ جواب تمہاری نظروں میں صحیح ہے ، تو پھر تم کیوں غور وفکر…
Read the full tafseer →(90) بلکہ اصل یہ ہے کہ ہم نے ان کو حق بات پہنچا دی ہے اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔ یعنی توحید اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کی ٹھیک ٹھیک بات ان کو پہنچا دی ہے اور یہ اس حق کے خلاف جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کہنے میں جھوٹے ہیں یعنی شرک اور بعث کے انکار میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
ف 3۔ کہ ان سب مقدمات کو مانتے ہو، اور نتیجہ کو کہ توحید و بعث کا اعتقاد ہے نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →ہم نے سچائی انہیں بتلا دی اور یہ اپنے دعوی میں بالکل جھوٹے ہیں :
90۔ ضدی اور ہٹ دھرم کس کو کہتے ہیں ؟ وہی جو کوئی دلیل نہ رکھتا ہو اور بغیر دلیل کے اپنی بات پر اڑا رہے وہی جو دلائل کے مقابلہ میں باپ دادا کے رسم و رواج کو پیش کرے ، وہی جو یہ کہے کہ کیا کبھی سارے غلط اور ایک صحیح ہو سکتا ہے ، وہی جو بغیر دلیل کے اپنا دعوی پیش کرتا رہے ، وہی جو دلائل کے مقابلہ میں اپنی اکثریت کو پیش کرے ، فرمایا اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں ‘ کون ؟ وہی جو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں ‘ وہی جو کہتے ہیں کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے ۔ وہی جو ایک طرف تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
Commentary
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)
Read the full tafseer →83. They are liars because they say that others besides Allah have a share in His Godhead and that there is no life after death, because their first saying contradicts their own admission that Allah is the Owner and the Sovereign of the universe. Then their second assertion is based on the presumption that the All-Powerful Allah cannot recreate what He has created once. This is clearly a contradiction in terms.
Read the full tafseer →