Al-Muminoon 23:94

Al-Muminoon · from ayah 94

23:94

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۟رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِىۡ فِى الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیئے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, then do not place me among the wrongdoing people."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:94

تو اے میرے رب، مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیئے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو اے رب! تو مجھے ان ﻇالموں کے گروه میں نہ کرنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(تو) اے میرے رب! مجھے ظالم قوم میں شامل نہ فرمانا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اے میرے رب ! مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اے میرے پروردگار چ مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو میرے رب ایسی صورت میں مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیئو،

— مولانا اسحاق مدنی

تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اے میرے رب ! مجھے اس سے محفوظ رکھنا اور ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

then do not include me, my Lord, among these wrong-doing people."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then, my Lord, do not place me among the wrongdoing people.

— Muhammad Taqi Usmani

then, my Lord, do not place me among the wrongdoing people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My Lord! Then, put me not amongst the people who are the wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! then set me not among the wrongdoing folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, then do not place me among the wrongdoing people."

— Saheeh International

exclude me from the unjust people".

— Muhammad Sarwar

My Lord! then place me not with the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! then place me not among the wrong-doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then, O my Lord! put me not amongst the people who do wrong!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:94

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–98

برائی کے بدلے اچھائی سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 94–97

سورة الْمُؤْمِنُوْن 87 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبی ﷺ کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کرے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہ گاروں ہی کو نہیں، نیکوکاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے با وجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ علاوہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ ، رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں مشرکین و کفار پر عذاب کی وعید مذکور ہے جو عام ہے قیامت میں تو اس کا وقوع قطعی اور یقینی ہے دنیا میں ہونے کا بھی احتمال ہے پھر یہ عذاب اگر دنیا میں ان پر واقع ہو تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد آئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ ہی کے سامنے ان پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بعض اوقات اس عذاب کا اثر صرف ظالموں ہی پر نہیں رہتا بلکہ نیک لوگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 93–94

آگے کا مضمون ………… آیات 118-93 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ﷺ کو بشارت دی گئی ہے کہ اب فتح و نصرت کا وقت قریب ہے۔ اہل ایمان کامیاب و فتحمند اور آپ کے مخالفین دنیا و آخرت دونوں کی رسوائی سے دوچار ہوں گے تو کچھ عرصہ ان کی شرارتوں س درگزر کرو۔ فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ جس مدت کو یہ بہت طویل سمجھ رہے ہیں اور جس کے دھوکے میں اپنی شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے ہیں، انجام سامنے آجانے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ پلک جھپکتے گزر گئی اور اس وقت اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 94-93 وعدہ عذاب کے باب میں کو بشارت رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر جو عذاب آیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 94–95

94-1چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ دعا فرماتے تھے (وَ اِذَا اَرَدَتَ بِقَوْمِ فِتْنَۃ، ُ َوَفَّنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنِ) (ترندی تفسیر سورة ص و مسند احمد، جلد-5 ص243۔ ' اے اللہ جب تو کسی قوم پر آزمائش یا عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرے تو اس سے پہلے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–95

29: یہ توحید کی تقریباً وہی دلیل ہے جو سورة بنی اسرائیل : 42 اور سورة انبیاء : 22 میں گذری ہے۔ تشریح کے لیے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 93–98

قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98) جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔ وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 93–94

8 یعنی حق تعالیٰ کی جناب میں ایسی گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آکر رہے گی۔ اس لیے ہر مومن کو ہدایت ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعاء مانگے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھ کو اس کے ذیل میں شامل نہ کرنا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا " وَاِذَا اَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَا قْبِضْنِیْ غَیْرَ مَفْتُونٍ " کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہم کو ایمان و احسان کی راہ پر مستقیم رکھ۔ کوئی ایسی تقصیر نہ ہو کہ العیاذ باللہ تیرے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ) 8 ۔ الانفال :25) یہاں حضور ﷺ کو مخاطب بنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 94–95

آیت 94 رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ” جس عذاب کی وعیدیں ان لوگوں کو دی جا رہی ہیں اگر وہ میری نگاہوں کے سامنے ان پر آگیا تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سے اپنی پناہ میں رکھنا۔ گویا ہر شخص کو اللہ کے ایسے عذاب سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اس ضمن میں سورة الانفال کی اس آیت کا مضمون لرزا دینے والا ہے : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃًج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ”اور ڈرو اس عذاب سے کہ وہ جب آئے گا تو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا ‘ اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے“۔ پاکستان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

91 اس آیت میں بھی اگرچہ خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن یہ ہدایت عام مومنوں کے لئے ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر یہ انداز اختیار کرلیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس طرح اللہ کے حق میں یہ گستاخیاں کر رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ ان پر کوئی آفت آکر رہے۔ لہذا مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ ایسے حالات میں وہ اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ اگر ظالموں پر عذاب آئے تو اللہ انھیں اس عذاب سے بچانے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 92–94

82۔ یہ تعلیم ہے دیاوآداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ” اردگرد کی پھیلی ہوئی برائیوں سے جب عذاب نازل ہونے لگے تو مجھے محفوظ ومستثنی کردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں میں بھی اسی لپیٹ میں آجاؤں۔ “ اور یہ مقام ہے کمال عبدیت کا۔ پیغمبر یہاں محض واسطہ ہیں۔ مقصود امت کو تعلیم دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لیے محل عذاب ہونیکا تو احتمال بھی نہیں۔ ” دعا اس وجہ سے نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) ایسا امر محتمل ہے بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل ہی نہیں ہے۔ جب وہاں امر ہے استعاذہ کا۔ تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہیے۔ اور صحت سوال موقوف نہیں احتمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین۔ اگر وہ عذاب تو مجھے دکھا دے تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کردینا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 93–94

(93۔ 94) اے محمد ﷺ آپ دعا کیجیے کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھادیں تو بدر کے دن ان کافروں کے ساتھ مجھ کو شامل نہ کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ : ”اِمَّا“ ”إِنْ“ کی تاکید ”مَا“ کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور ”تُرِیَنَّ“ میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے : ”أَيْ إِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِیَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ“ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“ 3 یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقیناً کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔ 3 آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 93–94

آیت نمبر 93-94 ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعا سکھائی یعنی تم کہو : اے میرے پروردگار اگر تو ضرور مجھے وہ عذاب دکھانا چاہتا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین۔ تو ان پر عذاب نازل ہونے کے وقت مجھے ان ظالم قوم سے نہ کرنا بلکہ مجھے ان سے نکال لینا۔ بعض نے کہا : ندا معترض ہے اور اما میں ما زائدہ ہے۔ بعض نے کہا : اما کی اصل ان ما ہے۔ ان شرط ہے اور ما بھی شرط ہے دونوں شرطوں کو تاکید کے لئے جمع فرمایا۔ اور جواب۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین ہے یعنی جب تو انہیں عذاب دینے کا ارادہ فرمائے تو مجھے ان سے نکال لینا نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ظالم قوم سے آپ کو نہیں کرے گا جب ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–95

1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔ 2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔ 3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔ 5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَبِّ (رب ) فَلَا (پس نہیں) تَجْعَلْنِيْ (تو شامل کرنا مجھے ) فِي (میں) الْقَوْمِ (قوم ) الظّٰلِمِيْنَ (سب ظالموں کا)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–94

برائی کو اچھے طریقہ پر دفع کرنا اور شیاطین کے آنے اور وساوس ڈالنے سے اللہ کی پناہ لینا قرآن مجید میں بہت سی جگہ کافروں پر عذاب آنے کی وعید مذکور ہے موت کے بعد تو ہر کافر کو عذاب میں داخل ہونا ہی ہے دنیا میں بھی کبھی کبھی کہیں کہیں عذاب آجاتا ہے عذاب آنے کی جو وعیدیں ہیں چونکہ کوئی تاریخ مقرر کرکے نہیں بتائی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ عذاب آئے گا تو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آئے گا یا آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوگا اس لیے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں اے میرے رب اگر آپ مجھے وہ عذاب دکھا دیں جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو مجھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–114

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 93–95

72:۔ ” قل رب اما الخ “ تخویف دنیوی ہےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس طرح اللہ سے دعا مانگیں کہ اے اللہ جس عذاب کا تو نے ان منکرین سے وعدہ کیا ہے اگر وہ عذاب میری زندگی ہی میں ان پر نازل ہوجائے تو میرے پروردگار مجھے اس سے بچائیو یہ اس عذاب کی شدت و فظاعت کے اظہار کے لیے کہا گیا ورنہحضور ﷺ تو عذاب سے محفوظ تھے ہی تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ عذاب اس قدر شدید اور دردناک ہوگا کہ ہر ایک کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے (روح) ۔ ” وانا علی ان نریک الخ “ جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے چکے ہیں وہ ہم آپ کی زندگی میں ان پر مسلط کرسکتے ہیں ہمیں اس کی قدرت و طاقت ہے لیکن ہم عذاب کو موخر کریں گے تاکہ کچھ لوگ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 93–100

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝ 94 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 93–95

1 ؎ یعنی اگر دنیا میں ان کفار پر عذاب موعود آجائے تو خدایا مجھے ان میں شامل نہ کرلینا کیونکہ قہر کی آگ میں سوکھے گیلے ساتھ جلنے لگتے ہیں ہرچند وہ ایسا نہیں کرتا مگر شان کبریائی سے ڈرنا مقتضائے عبودیت ہے اس لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 12 منہ ترکیب : :۔ مایوعدون جملہ مفعول ہے ترینی کا اما اصل میں ان ماتھا ما تاکیدمان شرطیہ کے لیے آتا ہے فلا تجعلنی اس کا جواب لفظ رب اہتمام شان کے لیے مقدم ہوا علی متعلق ہے لقادرون سے بالتی میں ب الصاق کے لیے اور السیئۃ مفعول ہے ادفع کا ارجعون اصل میں رب ارجعنی تھا اور جمع کا لفظ فائدہ نکریہ کے لیے آیا گویا یوں کہا ارجعنی بعض کہتے ہیں رب کی تعظیم کے لیے صیغہ جمع کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَـنِّیْ مَایُوْعَدُوْنَ ۔ رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المومنون : 93، 94) (دعا کیجیے، اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ ) اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسلام کے غلبہ عمومی کی بشارت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو متعدد بار بیان کیا جاچکا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آتا ہے اور وہ اس قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتا ہے تو اب اس قوم کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت کی قبولیت پر آٹھہرتا ہے۔ اگر وہ قوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 93–96

فہم القرآن ربط کلام : شرک کرنے کی وجہ سے پہلی اقوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کو عذاب سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ منکرین حق نبی کریم ﷺ سے باربار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے وہ اب تک کیوں نہیں آیا ؟ کفار کے اس مطالبہ کے مختلف موقعوں پر مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں نئے انداز میں اس کے تین جواب دیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو میں تو اپنے رب سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ الٰہی اگر میری موجود گی میں تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے ظالموں میں شریک نہ کرنا۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ ہم کفار کے ساتھ کیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

94: رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنََ (تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کرنا) یعنی مجھے ان کا ہمرا ہی نہ بنانا اور ان کو دیئے جانے والا عذاب مجھے نہ دینا۔ قول حسن : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی ہے کہ آپ کی امت پر ناراضی کی سزا واقع ہوگی مگر یہ اطلاع نہیں دی کہ کب وہ عذاب اترے گا۔ پس اپنے پیغمبر ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم فرمایا۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ نبی معصوم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا جس کے متعلق آپ کو معلوم ہوا کہ عنقریب وہ کرنے والے ہیں اور اس سے پناہ طلب کر رہے ہوں جس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے یہ بطور اظہار عبودیت کے ہو۔ اور بطور تواضع ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

94۔ رب، اے میرے رب۔ فلاتجعلنی فی القوم الظالمین، ان کے ہلاک ہونے کے ساتھ مجھے نہ ہلاک کردینا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–98

94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 93–98

آیت نمبر 93) چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 94–95

110 پیغمبر کے کمال عبدیت اور شان بندگی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ آپ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے رب اگر آپ ان بدبختوں کو میری زندگی ہی میں عذاب دیں تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے۔ سو اس میں کمال عبدیت اور عبودیت کا اظہار ہے۔ اور اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن سنانا درحقیقت دوسروں کو ہے۔ ورنہ اللہ پاک کے رسول اکرم ﷺ کا ظالموں کے ساتھ عذاب میں شامل ہونے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ بلکہ آپ کے وجود باجود کی برکت سے تو آپ ﷺ کی زندگی میں یہ ظالم لوگ بھی عذاب سے بچے ہوئے تھے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–98

فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 93–94

10 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ نبی ﷺ کے بھی گناہگاروں کیساتھ پس جانے کا اندیشہ تھا اس لئے آپ ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا بلکہ اس سے مقصود امت کے لوگوں کو تعلیم دینا ہے کہ خدا کے عذاب سے ہر شخص کو چاہے وہ کتنا ہی نیک ہو پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور کبھی اپنی نیکی پر اترانا نہیں چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بروں کے ساتھ نیک بھی پس جاتے ہیں۔ دیکھئے سورة انفال :25 ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 93–94

(23:93) اما ترینی۔ ای ان ما ترینی۔ ترین اراء ۃ سے مضارع کا صیغہ زائد ہیں۔ صرف تاکید کے لئے لائے گئے ہیں۔ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ ان کان لا بد من ان ترینی۔ اگر یہ ضروری ہی تھا۔ کہ تو مجھے یہ (عذاب) دکھائے۔ ما یوعدون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب، جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 93–98

شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 94–99

[40] یہ تعلیم ہے دعا و آداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھے اس سے محفوظ رکھنا۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–96

(ف 2) اس میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا صرف کر وہی ہے ، غیب سے مراد ایسا علم ہے جو بغیر کسی ذرائع طبعی ومنطق کے معلوم ہوجائے کیونکہ دو حالتیں جن کے معلوم کرنے کے لئے قدرت نے اسباب وذرائع پیدا کردیئے ہیں ان کا جان نہیں کوئی بہت بڑا کمال نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(94) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان مشرکوں اور ظالموں میں شامل نہ کیجئو یعنی مجھے اس عذاب سے محفوظ رکھیو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کی آفت میں شامل نہ کریو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 94–95

ف 4۔ یعنی ان کی بدی کا دفعیہ ایسے برتاو کیجئے جو بہت ہی اچھا اور نرم ہو اور اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لیجئے بلکہ ہمارے حوالہ کردیا کیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین : 94۔ اور اے میرے رب ! اگر تو اس عذاب کو میری زندگی ہی میں ان ظالموں پر لانے والا ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا ہے تو مجھے اپنے دامن رحمت میں رکھئے اور ان ظالموں میں نہ کیجئے ، اس طرح کی دعا کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ معاذ اللہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا اس عذاب میں مبتلا ہوجانے کا کوئی خطرہ موجود تھا ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس طرح کے انداز بیان سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی بڑے سے بڑے کی بھی نہیں چلتی اور ہر بڑا اس طرح بڑا بن سکتا ہے کہ وہ خوف الہی سے کانپتا رہے اور یہ بھی کہ اس طرح کی دعا ہر ایک انسان کے لئے باعث تقویت ہوتی ہے خواہ وہ کون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary قُل رَّ‌بِّ إِمَّا تُرِ‌يَنِّي مَا يُوعَدُونَ رَ‌بِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (0 prophet) say (in prayer), "0 my Lord, if You are to show me (in my life) that (punishment) which they (the infidels) are threatened with, then, my Lord, do not place me among the wrongdoing people." (23: 93, 94) There are many verses of the Qur'an which contain warnings of punishment to the unbelievers. While the award of punishment is a certainty on the Day of Judgment, it is possible that it may be awarded in this world also - and even during the life time of the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–97

87. This prayer does not mean that, God forbid, there was any real danger of the Prophet’s (peace be upon him) also being involved in the punishment, or that if he had not invoked this prayer, he might have been involed in it. This way of address has been adopted to warn that all people should fear Allah’s punishment. They should not demand it nor persist in their wickedness, if Allah gives them respite. As a matter of fact, Allah’s punishment is a thing which should be dreaded not only by the sinful people but also by the righteous people, and they should all seek His refuge from it, for…

Read the full tafseer →