Explained with ayahs 76–83
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة الْمُؤْمِنُوْن 74
مطلب یہ ہے کہ بد نصیبو، یہ آنکھ کان اور دل و دماغ تم کو کیا اس لیے دیے گئے تھے کہ تم ان سے بس وہ کام لو جو حیوانات لیتے ہیں ؟ کیا ان کا صرف یہی مصرف ہے کہ تم جانوروں کی طرح جسم اور نفس کے مطالبات پورے کرنے کے ذرائع ہی تلاش کرتے رہو اور ہر وقت اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی تدبیریں ہی سوچتے رہا کرو ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ناشکری ہو سکتی ہے کہ تم بنائے تو گئے تھے انسان اور بن کر رہ گئے نرے حیوان ؟ جن آنکھوں سے سب کچھ دیکھا جائے مگر حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والے نشانات ہی نہ دیکھے جائیں، جن کانوں سے سب کچھ سنا جائے مگر ایک سبق آموز بات ہی نہ سنی جائے، اور جس دل و دماغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…
Read the full tafseer →توحید اور قیامت کی ایک جامع دلیل
یہ قیامت اور حشر کی طرف توجہ دلا دی کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ بس یہیں پیدا ہوئے یہیں مرکھپ جائو گے۔ جب ایک کسان اپنے کھیت میں بوتا ہے تو محض بونے کی خاطر نہیں بوتا بلکہ ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرتا ہے۔ اسی طرح جس نے تمہیں اس زمین میں پھیلایا ہے وہ ایک دن تمہیں جمع بھی کرے گا تو یہ یاد رکھو کہ تم صرف اسی کے کھتے میں جمع کئے جائو گے۔ آخر اس کی بوئی ہوئی فصل میں کوئی دوسرا کس طرح شریک بن جائے گا ! غور کیجیے ان چند لفظوں کے اندر کس خوبی سے امکان قیامت کی طرف بھی اشارہ ہوگیا ہے، معاد کی ضرورت بھی بیان ہوگئی ہے اور توحید کی دلیل بھی واضح ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →۔-1اس میں اللہ کی قدرت عظیمہ کا بیان ہے کہ جس طرح اس نے تمہیں پیدا کر کے مختلف اطراف میں پھیلا دیا ہے۔ تمہارے رنگ بھی ایک دوسرے سے مختلف، زبانیں بھی مختلف اور عادات و رسومات بھی مختلف۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ تم سب کو زندہ کر کے وہ اپنی بارگاہ میں جمع فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
27: یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مختلف مظاہر بیان فرما رہے ہیں جنہیں کفار مکہ بھی مانتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنے عظیم اور حیرت انگیز کام کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتی ؟
Read the full tafseer →وھو الذی ذراکم فی الارض (23 : 79) ” وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھلایا اور اس زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ اور مختار بنایا۔ اور پھر تمہیں اس نے دیکھنے اور سننے کی قوت دی ، سوچنے کی قوت دی اور تمام دوسری صلاحتیں دیں جو یہاں فریضہ خلافت ارضی کی ادائیگی کے لیے ضروری تھیں ۔
والیہ تحشرون (23 : 79) ” اور اسی کی طرف سمیٹے جائو گے “۔ پھر وہاں وہ تم سے سے حساب و کتاب لے گا تم نے زمین پر فریضہ خلافت اللہ کی ہدایات کے مطابق ادا کیا یا نہیں۔ اچھے کا کیے یا برے کا کیے۔ ہدایت پر رہے یا ضلالت کی راہ اختیار کی ۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر ہے مہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا…
Read the full tafseer →5 وہاں ہر ایک کو شگر گزاری اور ناشکری کا بدلہ مل جائے گا۔ اس وقت کوئی شخص یا کوئی عمل غیر حاضر نہ ہو سکے گا۔ جس نے پھیلایا اس کو سمیٹنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ”
اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔
Read the full tafseer →80 یعنی تمہیں ایک نفس سے پیدا کر کے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا اور یہ پھیلاؤ کا عمل تاقیامت جاری رہے گا۔ اب جو ذات تمہیں پھیلا سکتی ہے، وہ تمہیں سمیٹ کر اپنے ہاں اکٹھا بھی کرسکتی ہے اور جو کچھ تم اس دنیا میں کرتے رہے اس پر مواخذہ بھی کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →75۔ (قیامت میں) اس میں اشارہ ادھر آگیا کہ اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →وہو الذی ذراکم فی الارض اور اللہ وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور (توالد تناسل کے ذریعہ زمین پر پھیلایا) ۔
والیہ تحشرون۔ اور (قیامت کے دن) اسی کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔ یعنی پہلے پراگندہ اور جدا جدا ہو گے پھر جمع کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →(79) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے زمین میں تمہیں پھیلا رکھا ہے اور تم مرنے کے بعد اسی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ“ ہونے کی دوسری دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ جس اکیلے نے تمہیں وجود کی نعمت عطا کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیا، وہ تمہیں سمیٹنے پر بھی قادر ہے اور یاد رکھو کہ اس اکیلے ہی کی طرف تمہیں دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 79 ۔
اللہ کا ارشاد ہے وھو الذی ذراکم فی الارض یعنی وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور تمہیں پھیلایا اور تمہیں تخلیق کیا۔ والیہ تحشرون۔ جزاء کے لئے اس کی جناب میں جمع کیے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔
2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…
Read the full tafseer →وَهُوَ (اور وہ ) الَّذِيْ (جو) ذَرَاَكُمْ ( پھیلایا تمہیں) فِي الْاَرْضِ (زمین میں ہے) وَ (اور) اِلَيْهِ (اسی کی طرف) تُحْشَرُوْنَ (تم سب اکٹھے کئے جاؤ گے )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
66:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک اعتقادی پر عقلی دلیلیں۔ ایک تفصیلی اور تین علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ” وھو الذی انشا لکم الخ “ پہلی تفصیل عقلی دلیل برائے نفی شرک اعتقادی سننے، دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمائی ہیں لیکن انسان نہ ان نعمتوں سے کام لیتا ہے اور نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے کہ توحید کے دلائل کو دیکھ سن کر اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو تسلیم کرلے ان قوتوں کو صحیح استعمال کرنا ہی ان کا شکر ہے۔ ” وھوَ الذی یحی و یمیت الخ “ زندگی اور موت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور رات دن کا اختلاف یعنی رات دن کی آمدو رفت اور ان کی کمی بیشی بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ ’‘ افلا تعقلون “ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ربط آیات :
اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔
توحید اور معاد کا ذکر :
اب…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ وَاِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 79
ذرأ
الذَّرْءُ : إظهار اللہ تعالیٰ ما أبداه، يقال : ذَرَأَ اللہ الخلق، أي : أوجد أشخاصهم . قال تعالی:
وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] ، وقال : وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] ، وقال : وَمِنَ الْأَنْعامِ أَزْواجاً يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ [ الشوری/ 11] ، وقرئ : ( تذرؤه الرّياح) «3» ، والذُّرْأَة : بياض الشّيب والملح .
فيقال : ملح ذُرْآنيّ ، ورجل أَذْرَأُ ، وامرأة ذَرْآءُ ، وقد ذَرِئَ شعره .
( ذ ر ء ) الذرء
کے معنی ہیں اللہ نے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِ لَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المومنون : 79)
(اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور انجام کار اسی کی جناب میں اکٹھے کیے جاؤ گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے احسانات سے قیامت پر استدلال
شکر اور ادائے شکر کے ذرائع کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب اپنے کچھ احسانات کو اس طرح ذکر فرمایا جارہا ہے کہ وہ بجائے خود اپنے اندر دلیل کی قوت بھی رکھتے ہیں۔ قریش کو براہ راست اور باقی نوع انسانی کو بالواسطہ فرمایا جارہا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے۔ میاں بیوی سے اولاد پھیلتی ہے جس سے ایک گھر وجود میں آتا ہے جو پھیلتے پھیلتے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے ہیں کہ حقائق دیکھ اور سن کر ان کے مطابق عمل کریں تاکہ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیا تاکہ حقائق دیکھ اور جان کر اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اسی نے انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلا یا اور بسایا اور اسی کی طرف سب نے اکٹھا ہونا ہے وہی ذات موت وحیات پر اختیار رکھتی ہے اسی کے حکم کے مطابق دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی لوگ عقل وفکر نہیں کرتے۔ ان آیات میں انسان کی تخلیق، زمین میں انسان کا…
Read the full tafseer →79: وَھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا) اور تناسل و توالد کے ذریعہ زمین میں پھیلا دیا۔ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (اور اسی کی بارگاہ میں تمہیں جمع کیا جائے گا) تم قیامت کے دن پراگندہ ہونے کے بعد تم اکھٹے کئے جائو گے۔
Read the full tafseer →79۔ وھوالذی ذراکم ، تمہارے لیے پیدا کیا، فی الارض والیہ تحشرون، تمہیں اٹھائے گا مرنے کے بعد ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
78۔ 81:۔ اوپر منکر حشر لوگوں کا یہ ذکر تھا کہ یہ لوگ حشر کے منکر ہیں اس سبب سے یہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیٹرھا راستہ چلتے ہیں ‘ ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیاں بیان فرما کر ایسے لوگوں کو قائل کیا گیا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکر حشر لوگوں کے سننے کے لیے کان ‘ دیکھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے دل ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ پیدا کیا اب یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر جو گنتے ہیں ‘ تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا ‘ پھر فرمایا ‘ جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انہیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وھو الذی انشالکم السمع) ” اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمہارے لیے کان۔ “ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو (والابصار) ” اور آنکھیں “ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ (والافئدۃ ) ” اور دل۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نوازاتا کہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کرسکو اور جانوروں سے ممتاز ہوسکو۔ اگر تم سماعت ‘ بصارت اور عقل سے محروم ہوجاؤ بایں طور کہ تم بہرے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →98 توحید وقدرت خداوندی کی ایک عظیم الشان دلیل کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی ہے جس نے پھیلا دیا تم سب کو اس ۔ عبرتوں بھری ۔ زمین میں نہایت پر حکمت طریقے سے "۔ توالد و تناسل کے ذریعے اور پھر تمہاری ضرورت کی چیزوں کو اس نے اس زمین پر اس حکیمانہ طریقے سے اور حیرت انگیز طور پر پھیلا اور بکھیر دیا کہ ان کے حصول کے لئے تم ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ہر طرف دوڑے بھاگے جا رہے ہو۔ جس سے زندگی کی یہ حرکت اور یہ عظیم الشان چہل پہل قائم و دائم اور جہد و مشقت کا یہ سلسلہ رواں دواں ہے۔ بلاشبہ اس سب میں اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، عظمت بےنہایت، رحمت لا محدود، عطائے غیر متناہی اور حکمت بالغہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
اللہ کی بہترین تخلیق انسان
تشریح : عقیدہ توحید کی بڑی کھلی دلیل ان آیات میں ملتی ہے۔ اسی موضوع کے بارے میں انگلستان کا ایک فاضل ڈاکٹر اپر سولڈ اس طرح لکھتا ہے :” اس کائنات میں نظم و ترتیب کے یہ حیرت انگیز مظاہرے کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ایک بےمثل خالق اور عظیم مدبر کی تخلیق ہیں جب میں نے سائنس کا مطالعہ شروع کیا تو آغاز میں یہ خیال تھا کہ سائنس بہت جلد عقل و شعور کے سرچشموں کے متعلق مکمل علم حاصل کرلے گی ‘ لیکن جوں جوں میرے علم میں اضافہ ہوتا گیا یہ حقیقت بھی مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ انسانی علم ان ماورائی (چھپے ہوئے) حقائق کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ “ ( از خدا موجود ہے صفحہ 2…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
8 ۔ کبھی رات آتی ہے اور کبھی دن، اور پھر ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور دنیا کی ساری رونق اس رات دن کے الٹ پھیر ہی سے قائم ہے۔ 9 ۔ کہ آخر زندگی کا یہ سارا نظام کسی خالق اور عزیزو علیم کے بغیر وجود میں آسکتا تھا اور کیا اس کائنات کے ایک سے زیادہ خالق و مدبر ہوسکتے تھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(23:78) انشا۔ اس نے پیدا کیا۔ انشاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
توحید کے دلائل۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے لیے حالانکہ سننے کے لیے کان ، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور ہر ایک بات سمجھنے کے لیے دل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، لیکن یہ لوگ اب دوبارہ ان چیزوں کے پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا۔ پھر فرمایا جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا کرکے تمام روئے زمین پر بکھیر رکھا ہے اسی طرح حشر کے دن اس کی طرف جمع کرکے لائے جاؤ گے، وہی وہاں جزاوسزا دے گا، وہی زندہ کرنے والا ہے اور مارنے والا ہے، اور رات دن کی گردش یعنی گھٹنا بڑھنا سب اسی کے حکم سے ہے پھر فرمایا ان لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
دیدہ عبرت سے دیکھو : !
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نبے جو تمہیں اعضاوجوارح عنایت فرمائے ہیں تو اس لئے کہ دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور یہاں کی ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، کان دیئے ہیں ، تاکہ اچھی باتوں کو سنو ، آیات وحکم کو گوش گزار کرو ، اور ان چیزوں کی سماعت کرو جو تمہاری اخروی زندگی کے لئے ضروری ہیں ، تمہیں آنکھیں دی ہیں ، تاکہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھو ، اور حقائق کا ملاحظہ کرو ، اور دل دیا ہے تاکہ سوچو ، اور غور وفکر کرو ، پھر اگر تم لوگ اللہ کی ان نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے ، تو یہ کھلی ناشکری ہے ۔
واضح رہے کہ افئدۃ ‘ کا لفظ بطور عرف لسانی استعمال ہوا ہے ، مقصد یہ ہے کہ تمہیں شعور واحساس…
Read the full tafseer →(79) اور اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب اسی کی طرف جمع کئے جائوگے اور اسی کے پاس لائے جائوگے یعنی تم کو پیدا کیا اور تم کو رہنے اور بسنے کو زمین دی اور پھر اسی کے پاس جانا بھی ہے پھر تمہیں کیا ہوگیا کہ تم قیامت پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →ف 8۔ اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کی طرف ہم کو لوٹ کر جانا ہے :
79۔ خود بخود ہی پیدا ہونے اور خود بخود ہی مرجانے والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کو یہ کیسی بھول لگی ہے اور تمہارا یہ مغالطہ کب نکلے گا اور کیونکر نکلے گا ؟ غور کرو ایک کسان اٹھتا ہے اور کھیت میں بیج پھیلا دیتا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح بونے کے بعد ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرے گا ، بلاشبہ تم کو پھیلانے والا بھی ہے اور جو پھیلانے والا ہے وہی تم کو اکٹھا بھی کرے گا ، آج مان لو گے تو آج کا مانا ہوا تمہارے کام آئے گا ورنہ تمہارے ماننے نہ ماننے سے پھیلانے والے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ‘ آج تم قیامت سے انکاری ہو اور کل تم اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–87
وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ
And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76)
In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
74. The disbelievers have been told to consider the great blessings of eyes, ears, mind and heart and use them as human beings should, and show gratitude to the Creator by accepting His Message.
Read the full tafseer →