Al-Muminoon 23:80

Al-Muminoon · from ayah 80

23:80

وَهُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَلَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ ؕ— اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۟وَهُوَ الَّذِىۡ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ وَلَـهُ اخۡتِلَافُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے، کیا تم سمجھتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who gives life and causes death, and His is the alternation of the night and the day. Then will you not reason?

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:80

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے، کیا تم سمجھتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے اور اسی کے قبضے میں رات اور دن کی تبدیلیاں ہیں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی جٕلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور شب و روز کا گردش کرنا (بھی) اسی کے اختیار میں ہے۔ سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے قبضہ میں رات اور دن کا بدلنا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور رات اور دن کا باری باری آتے رہنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیا تم کچھ بھی نہیں سمجھتے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کی آمد و شد تو کیا تم سمجھتے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے رات اور دن کا ادلنا بدلنا تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے بس میں ہے رات اور دن کا الٹ پھیر سو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کا کام ہے دن رات کو بدلنا تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا کام ہے کیا تم سمجھتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who gives life and causes death, and He holds mastery over the alternation of night and day. Do you not understand this?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He is the One who gives life and brings death, and it is He who controls the alternation of night and day. So, do you not understand?

— Muhammad Taqi Usmani

And He is the One who gives life and brings death, and it is He who controls the alternation of night and day. So, do you not understand?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it is He Who gives life and causes death, and His is the alternation of night and day. Will you not then understand

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who giveth life and causeth death, and His is the difference of night and day. Have ye then no sense?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who gives life and causes death, and His is the alternation of the night and the day. Then will you not reason?

— Saheeh International

It is He who gives life and causes death and it is He who alternates night and day. Will you not then understand?

— Muhammad Sarwar

And He it is Who gives life and causes death, and (in) His (control) is the alternation of the night and the day; do you not then understand?

— Muhammad Habib Shakir

And He it is Who quickeneth and causeth to die, and His is the alternation of night and day; will ye not then reflect?

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who gives life and death, and to Him (is due) the alternation of Night and Day: will ye not then understand?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–83

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–82

سورة الْمُؤْمِنُوْن 75 علم کے ذرائع (حواس اور قوت فکر) اور ان کے مصرف صحیح سے انسان کی غفلت پر متنبہ کرنے کے بعد اب ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کا مشاہدہ اگر کھلی آنکھوں سے کیا جائے اور جن کی نشان دہی سے اگر صحیح طور پر استدلال کیا جائے، یا کھلے کانوں سے کسی معقول استدلال کو سنا جائے، تو آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ یہ کار خانہ ہستی بے خدا، یا بہت سے خداؤں کا ساختہ و پرداختہ نہیں ہے، بلکہ توحید کی اساس پر قائم ہے۔ اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ یہ بےمقصد نہیں ہے، نرا کھیل اور محض ایک بےمعنی طلسم نہیں ہے، بلکہ ایک مبنی بر حکمت نظام ہے جس میں انسان جیسی ذی اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–87

خلاصہ تفسیر اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اختلاف لیل و نہار کے بعض اشارات اختلاف الیل و النھار سے مراد دن اور رات کی ایک دوسرے کے بعد، پوری پابندی اوقات کے ساتھ، آمد و شد ہے۔ اس نشانی کی طرف قرآن نے جگہ جگہ توجہ دلائی ہے۔ دن اور رات کا پوری پابندی اوقات کے ساتھ آنا اور جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اس کائنات کے خالق کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ یہ بجائے خود نہ آنے کے مجاز ہیں نہ جانے کے۔ ان کے نظام میں کسی کا دخل انداز نہ ہو سکنا اس بات کی شہادت ہے کہ مصرف حقیقی صرف اللہ وحدہ، لاشریک ہے۔ اختلاف مزاج و صورت کے باوجود ان دونوں میں اس کائنات کی پرورش کے لئے جو سازگاری ہے وہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کائنات میں ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ کار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 80–82

80-1یعنی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا آنا، پھر رات اور دن کا چھوٹا بڑا ہونا۔ 80-2جس سے تم یہ سمجھ سکو کہ یہ سب کچھ اس ایک اللہ کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے سامنے ہر چیز جھکی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–84

27: یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مختلف مظاہر بیان فرما رہے ہیں جنہیں کفار مکہ بھی مانتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنے عظیم اور حیرت انگیز کام کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتی ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمو دار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت حیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی سکتا۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر بےمہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔ وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ، یا اندھیرے سے اجالا اور اجالے سے اندھیرا کردیا جس کے قبضہ میں ہے اس کی قدرت عظیمہ کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے اور آنکھوں کے آگے سے ظلمت جہل کے پردے اٹھا دے۔ جس کے بعد حقائق اشیاء ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائیں، جیسا کہ قیامت میں ہوگا۔ فَبْصُرَکَ الْیَوْمَ حَدِیْد۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 76–83

آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ” اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 80–81

81 یعنی وہ اس دنیا میں ہر آن مردہ سے زندہ ہے اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر تم سوچو تو اپنی ذات اور اپنے گردوپیش میں بیسیوں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔ نیز وہ اندھیرے میں سے اجالا نکالتا ہے اور اجالے کو پھر اندھیرے میں گم کردیتا ہے۔ دن رات کا باری باری آنا، دنوں کی مقدار میں کمی شروع ہونا اور راتوں کا بڑھنے لگنا اور اس کے برعکس راتوں کا گھٹنے لگنا اور دنوں کا بڑھنے لگنا پھر موسموں کا تغیر و تبدل یہ سب چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پھر تمہیں یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ جو ہستی اس قدر قدرتوں کی مالک ہے تمہیں اپنے پاس اکٹھا کرکے حاضر کرلینے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ موجودہ نطریہ کے مطابق ہماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ (اور اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ ) مطلب یہ ہے کہ ان ساری قوتوں کا مرجع ومنبع تو وہی ایک ذات ہے یہ سب دلائل و شواہد اس کی توحید کے ہیں، پھر تم پر کیا حماقت سوار ہے کہ تم متفرق ومتعدد دیویوں، دیوتاؤں کے قائل ہو ! (آیت) ” یحی۔ یمیت ...... لہ ...... والنھار “۔ زندہ کرنے اور رکھنے، ہلاک کرنے اور سارے تصرفات تکوینی سب اسی مالک واحد وخود مختار کے ہاتھ میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–92

آیت نمبر 78 تا 92 ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی یحی ویمیت اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مردہ کرتا ہے (یعنی زندگی اور موت اسی کے قبضہ میں ہے جس کو چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے زندگی چھین لیتا ہے) ۔ ولہ اختلاف اللیل والنہار افلا تعقلون۔ اور اسی کے اختیار میں رات و دن کا گھٹنا بڑھنا ہے سو کیا تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔ لَہٗیعنی اسی کے حکم اور فیصلہ کے ماتحت ہے۔ اخْتِلاَفُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِیعنی تاریکی اور روشنی میں رات دن کا اختلاف ‘ ہر ایک کے منافع میں اختلاف یا چھوٹے بڑے ہونے میں اختلاف۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَیعنی غور اور فکر سے کام لے کر اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ سب کچھ ہماری قدرت سے ہو رہا ہے اور ساری کائنات ہماری قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اور وہ ایسا ہے جو حشر کے لیے سب کو زندہ کرے گا اور وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور دن رات کی تبدیلی اور ان کا آنا جانا اور گھٹنا اور بڑھنا اور رات کا تاریک کرنا اور دن کو روشن کرنا یہ سب چیزیں اسی کے دائرہ اختیار میں ہیں اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد مردوں کو زندہ کرے گا تو ان دلائل کے بعد بھی تم بعث بعد الموت یعنی مرنے کے بعد زندگی کی تصدیق نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۔۔ : اکٹھا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے ساری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا ذکر فرمایا۔ خصوصاً ان کاموں کا ذکر فرمایا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تاکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی دلیل بن سکیں۔ چناچہ فرمایا، اور وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ یہ توحید کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ موت و حیات اور اندھیرے و اجالے کو یکے بعد دیگرے لانے والے کے لیے تمہیں موت کے بعد زندگی عطا کرنا اور تمہیں قیامت کو زندہ کرکے حساب کے لیے سامنے لا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ؟ فرمایا : (كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ) […

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–89

آیت نمبر 80-89 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–83

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ (اور وہ ) الَّذِيْ (جو) يُـحْيٖ (وہ زندگی دیتا ہے ) وَيُمِيْتُ (اور وہ موت دیتا ہے ) وَ (اور ) لَهُ (اس سے ) اخْتِلَافُ ( بدلتے رہنا) الَّيْلِ (رات ) وَ (اور) النَّهَارِ (دن ) اَفَلَا (کیا پس نہیں) تَعْقِلُوْنَ (تم سب سمجھتے)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 78–90

اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔ اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–92

تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–80

66:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک اعتقادی پر عقلی دلیلیں۔ ایک تفصیلی اور تین علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ” وھو الذی انشا لکم الخ “ پہلی تفصیل عقلی دلیل برائے نفی شرک اعتقادی سننے، دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمائی ہیں لیکن انسان نہ ان نعمتوں سے کام لیتا ہے اور نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے کہ توحید کے دلائل کو دیکھ سن کر اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو تسلیم کرلے ان قوتوں کو صحیح استعمال کرنا ہی ان کا شکر ہے۔ ” وھوَ الذی یحی و یمیت الخ “ زندگی اور موت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور رات دن کا اختلاف یعنی رات دن کی آمدو رفت اور ان کی کمی بیشی بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ ’‘ افلا تعقلون “ کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–83

ربط آیات : اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ توحید اور معاد کا ذکر : اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَلَہُ اخْتِلَافُ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ۝ 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝ 80 حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–83

ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھُوَالَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَلَہُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ (المومنون : 80) (اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور اسی کے اختیار میں گردش لیل و نہار، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت سے استدلال اپنے چند مزید احسانات و انعامات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی قدرت و حکمت کی طرف بھی متوجہ کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر عظیم اور کس قدر قوت والی ہے کہ زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے۔ حیات و ممات ایک ایسا راز ہے جس کا عقدہ آج تک انسان پر نہیں کھل سکا۔ انسان نے ہرچند کوشش کی کہ وہ ان دونوں کی حقیقت کو جان سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–80

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے ہیں کہ حقائق دیکھ اور سن کر ان کے مطابق عمل کریں تاکہ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیا تاکہ حقائق دیکھ اور جان کر اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اسی نے انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلا یا اور بسایا اور اسی کی طرف سب نے اکٹھا ہونا ہے وہی ذات موت وحیات پر اختیار رکھتی ہے اسی کے حکم کے مطابق دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی لوگ عقل وفکر نہیں کرتے۔ ان آیات میں انسان کی تخلیق، زمین میں انسان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: وَھُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (اور وہی ذات ہے جو زندگی اور موت دیتی ہے) وہ اجسام کو پیدا کر کے زندہ کرتا اور فناء کر کے موت دیتا ہے۔ وَلَہُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ (اور اسی کیلئے رات اور دن کا مختلف ہونا ہے) کہ ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا ہے۔ اور روشنی اور اندھیرے کے لحاظ سے ان کا مختلف ہونا۔ یا بڑھنے اور کم ہونے کے لحاظ سے ان کا مختلف ہونا اور یہ خاص اسی کے قبضہ واختیار میں ہے ان میں تصرف کا کسی اور کو اختیار نہیں اور نہ قدرت ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو) کہ تم اٹھائے جانے پر ہماری قدرت کو پہچانو۔ یا صنعت سے صانع پر استدلال کرسکو اور پھر ایمان لے آئو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ وھوالذی یحی ویمیت ولہ اختلاف اللیل والنھار۔ رات اور دن کی تدبیر زیادتی اور نقصان کے ساتھ۔ فراء کا قول ہے کہ اللہ نے دومختلف اشیاء پیدا کی ہیں اور دونوں سفید اور کالے میں بھی تفاوت ہے ۔ افلاتعقلون کیا تم نہیں دیکھتے اللہ کی اس کارگردگی کو اور پھر اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 78–81

78۔ 81:۔ اوپر منکر حشر لوگوں کا یہ ذکر تھا کہ یہ لوگ حشر کے منکر ہیں اس سبب سے یہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیٹرھا راستہ چلتے ہیں ‘ ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیاں بیان فرما کر ایسے لوگوں کو قائل کیا گیا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکر حشر لوگوں کے سننے کے لیے کان ‘ دیکھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے دل ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ پیدا کیا اب یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر جو گنتے ہیں ‘ تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا ‘ پھر فرمایا ‘ جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 78–80

آیت نمبر (78 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انہیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وھو الذی انشالکم السمع) ” اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمہارے لیے کان۔ “ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو (والابصار) ” اور آنکھیں “ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ (والافئدۃ ) ” اور دل۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نوازاتا کہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کرسکو اور جانوروں سے ممتاز ہوسکو۔ اگر تم سماعت ‘ بصارت اور عقل سے محروم ہوجاؤ بایں طور کہ تم بہرے ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 80–82

100 زندگی بخشنا اللہ ہی کا کام اور اسی کی شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا ہے۔ جو اس دنیا کی ایک عظیم الشان نعمت بلکہ سب نعمتوں کی اساس و بنیاد ہے۔ سو احیاء واماتت ۔ زندگی بخشنے اور موت دینے کی ۔ یہ صفت اسی وحدہ لاشریک کی صفت ہے۔ اس میں کسی بھی اور ہستی کو حصہ دار ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ جیسا کہ بعض جاہل لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر صاحب نے فلاں شخص کو یا اس کی کسی گائے بھینس وغیرہ کو مار دیا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مارنا اور جلانا اللہ پاک ہی کی صفت و شان ہے۔ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جب تک چاہے زندہ رکھے۔ اور جب چاہے موت طاری کر دے کہ یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 78–80

اللہ کی بہترین تخلیق انسان تشریح : عقیدہ توحید کی بڑی کھلی دلیل ان آیات میں ملتی ہے۔ اسی موضوع کے بارے میں انگلستان کا ایک فاضل ڈاکٹر اپر سولڈ اس طرح لکھتا ہے :” اس کائنات میں نظم و ترتیب کے یہ حیرت انگیز مظاہرے کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ایک بےمثل خالق اور عظیم مدبر کی تخلیق ہیں جب میں نے سائنس کا مطالعہ شروع کیا تو آغاز میں یہ خیال تھا کہ سائنس بہت جلد عقل و شعور کے سرچشموں کے متعلق مکمل علم حاصل کرلے گی ‘ لیکن جوں جوں میرے علم میں اضافہ ہوتا گیا یہ حقیقت بھی مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ انسانی علم ان ماورائی (چھپے ہوئے) حقائق کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ “ ( از خدا موجود ہے صفحہ 2…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 78–92

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

8 ۔ کبھی رات آتی ہے اور کبھی دن، اور پھر ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور دنیا کی ساری رونق اس رات دن کے الٹ پھیر ہی سے قائم ہے۔ 9 ۔ کہ آخر زندگی کا یہ سارا نظام کسی خالق اور عزیزو علیم کے بغیر وجود میں آسکتا تھا اور کیا اس کائنات کے ایک سے زیادہ خالق و مدبر ہوسکتے تھے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 78–81

(23:78) انشا۔ اس نے پیدا کیا۔ انشاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 78–92

لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 : ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 : اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 78–81

توحید کے دلائل۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے لیے حالانکہ سننے کے لیے کان ، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور ہر ایک بات سمجھنے کے لیے دل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، لیکن یہ لوگ اب دوبارہ ان چیزوں کے پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا۔ پھر فرمایا جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا کرکے تمام روئے زمین پر بکھیر رکھا ہے اسی طرح حشر کے دن اس کی طرف جمع کرکے لائے جاؤ گے، وہی وہاں جزاوسزا دے گا، وہی زندہ کرنے والا ہے اور مارنے والا ہے، اور رات دن کی گردش یعنی گھٹنا بڑھنا سب اسی کے حکم سے ہے پھر فرمایا ان لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–84

[35] مطلب یہ ہے کہ جب ساری قوتوں کا مرجع و منبع وہی ایک ذات ہے تو اس کے قبضہ قدرت کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے۔ واضح رہے کہ یہاں اور اگلی آیات میں توحید اور بعث بعد الموت دونوں پر ایک ساتھ استدلال کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–87

(ف 2) خدا کی ذات اس درجہ ظاہر و باہر ہے کہ اس کا انکار عقلا محال ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں خلعت وجود دے کر بھیجا ، تمہیں کتم عدم سے نکالا ، اور منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ، تم خارج میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے ، اس نے اپنی نیابت کا پیراہن تمہیں بخشا ، کیا اس کے بعد بھی انکار والحاد کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ اس کے بعد تمہیں اس کے حضور ﷺ پیش ہونا ہے ، تاکہ وہ دریافت کرے ، کہ تم نے کیونکر اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا حیات اور موت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے زندہ رکھے ، اور جس کو چاہے چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح کائنات میں جس قدر تبدیلیاں اور انقلابات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(80) اور وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات دن کا بدلتے رہنا اسی کے اختیار میں ہے پھر کیا تم لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے یعنی بےجان کو جان دیتا ہے اور جان دار کو بےجان کردیتا ہے اور رات دن کا باہم یکے بعد دیگرے آنا رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات اور کبھی کے دن بڑے کبھی کی رات یہ سب اس کی بےغایت قدرت کے کرشمے ہیں تو کیا اس کے بعد بھی تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی قدرت اور اس کے قابو سے اپنے کو باہر سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–84

ف 9۔ یہ دلائل قدرت توحید اور صحت بعثت دونوں پر دال ہیں، مگر پھر بھی نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زندگی اور موت اس کے قبضہ میں ہے جو رات اور دن کو لانے والا ہے اگر تم سمجھو : 80۔ غور کرو کہ چند لفظوں میں کتنا بڑا مضمون پوشیدہ ہے ۔ ذرا قرآن کریم نے اس استدلال پر غور کرو ‘ رک جاؤ جلدی نہ کرو فرمایا جارہا ہے کہ وہی ہے جو جلاتا ہے اور موت طاری کرتا ہے اور یہ اسی کی کارفرمائی ہے کہ رات دن کے پیچھے آتی رہتی ہے اور دن رات کے پیچھے (اختلاف الیل والنھار) کہہ کر اس قانون ہستی کی طرف اشارہ کیا ہے جسے قرآن کریم قانون ازواج سے تعبیر کرتا ہے اور ہم اس کو اپنی مقررہ مصطلحات میں قانون تثنیہ کہہ سکتے ہیں یعنی کارخانہ ہستی کے ہر گوشہ میں ہم دیکھتے ہیں یہاں کوئی حقیقت اکہری اور طاق نہیں ہے کسی نہ کسی شکل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–87

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّ‌عُونَ And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76) In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–82

75. If one makes the right use of his faculties and observes these things properly, he can find the truth, for it is obvious that the great mechanism of the universe could not have come into existence by a mere accident. There must be its Creator who need not have any associates or partners and that the universe could not have been created without a purpose as a mere sport. The very existence of a wonderful, rational thinking and feeling creature, man, who has been delegated with powers, is a clear proof that his real life will not come to an end at death. 76. Here attention is being drawn to…

Read the full tafseer →