Explained with ayahs 76–83
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة الْمُؤْمِنُوْن 74
مطلب یہ ہے کہ بد نصیبو، یہ آنکھ کان اور دل و دماغ تم کو کیا اس لیے دیے گئے تھے کہ تم ان سے بس وہ کام لو جو حیوانات لیتے ہیں ؟ کیا ان کا صرف یہی مصرف ہے کہ تم جانوروں کی طرح جسم اور نفس کے مطالبات پورے کرنے کے ذرائع ہی تلاش کرتے رہو اور ہر وقت اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی تدبیریں ہی سوچتے رہا کرو ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ناشکری ہو سکتی ہے کہ تم بنائے تو گئے تھے انسان اور بن کر رہ گئے نرے حیوان ؟ جن آنکھوں سے سب کچھ دیکھا جائے مگر حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والے نشانات ہی نہ دیکھے جائیں، جن کانوں سے سب کچھ سنا جائے مگر ایک سبق آموز بات ہی نہ سنی جائے، اور جس دل و دماغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…
Read the full tafseer →کان، آنکھ اور دل کا اصلی مصرف
اوپر کے کلام میں خطاب آنحضرت ﷺ سے تھا اور اس میں قریش کو جو تہدید و وعید ہے وہ غائب کے صیغہ سے ہے۔ اب یہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ خدا نے جو تم کو کان، آنکھ اور دل عطا فرمائے ہیں تو کا ہے کے لئے عطا فرمائے ہیں ! اسی لئے تو کہ ان سے نصیحت و حکمت کی وہ باتیں، جو تمہیں سنائی جا رہی ہیں سنو، اللہ کی وہ نشانیاں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی طرف تمہیں توجہ دلائی جا رہی ہے، ان کو دیکھو، اور ان سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں اور جو تمہارے سامنے نہایت واضح طور پر پیش کئے جا رہے ہیں ان پر غور کرو، کان، آنکھ اور دل دماغ کا اصلی مصرف یہی ہے لیکن تم…
Read the full tafseer →78-1یعنی عقل و فہم اور سننے کی صلاحتیں عطا کیں تاکہ ان کے ذریعے سے وہ حق کو پہچانیں، سنیں اور اسے قبول کریں۔ یہی ان نعمتوں کا شکر ہے۔ مگر یہ شکر کرنے والے یعنی حق کو اپنانے والے کم ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
27: یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مختلف مظاہر بیان فرما رہے ہیں جنہیں کفار مکہ بھی مانتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنے عظیم اور حیرت انگیز کام کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتی ؟
Read the full tafseer →و ھو الذی تعقلون (78 تا 80) ”
انسان اگر اپنی تخلیق اور اپنی شکل و صورت ہی غور کرے ، اور اپنے مفاد اعضاء وجوارح پر غور کرے ، اپنے حواس اور اپنی پہچننا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ان عجیب امور پر غور کرکے وہ خالق کائنات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کون ہے جس نے یہ معجزے دکھائے ہیں ۔ اس کائنات میں بیشمار عجوبے ہیں ، چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔
ذرا انسان صرف اپنی قوت سماعت ہی پر غور کرے۔ یہ قوت کس طرح کام کرتی ہے۔ کس طرح یہ آوازوں کو وصول کرتی ہے اور آوازوں سے معانی اخذ کرتی ہے۔ ذرا قوت باصرہ پر غور کرے۔ انسان کس طرح دیکھتا ہے۔ کس طرح آنکھ روشنی کو لیتی ہے اور تصاویر دیکھتی ہے ۔ پھر…
Read the full tafseer →4 کانوں سے اس کی آیات تنزیلیہ کو سنو اور آنکھوں سے آیات تکوینیہ کو دیکھو اور دلوں سے دونوں کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ان نعمتوں کا شکریہ تھا کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو ان کے کام میں لاتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اکثر آدمیوں نے اکثر اوقات میں ان قوتوں کو بےجا خرچ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ”
اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔
Read the full tafseer →79 یعنی اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو جتنا جانور لیتے ہیں۔ دیکھو تو صرف وہ چیز دیکھو جس سے تمہیں دنیوی فائدہ نظر آتا ہو۔ اور سنو تو بھی ایسی ہی بات سنو اور سوچو تو صرف اپنے کاروبار اور روزگار کی بات سوچو یا یہ فکر کرو کہ کون کون سے وسائل سے تمہاری آمدنی ذرائع آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آخر اللہ نے تمہیں جانوروں سے کچھ زائد قوتیں بھی عطا فرمائی ہیں ان سے تم نے کیا کام لیا ؟ اللہ نے تمہیں آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ اپنی دنیوی ضرورتیں ہی پوری کرو مگر کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو بھی دیکھو۔ منزل من اللہ آیات کو اپنے کانوں سے غوف…
Read the full tafseer →74۔ یعنی اتنا بھی تو نہیں کہ کم از کم ایسے قادر ومنعم پر ایمان ہی لے آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →وہو الذی الشالکم السمع والابصار والافدۃ قلیلا ما تشکرون۔ اور اللہ ایسا ہے
جس نے تمہارے لئے کان آنکھیں اور دل پیدا کئے تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ کان اور آنکھیں بنائیں تاکہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں تم ان کے ذریعے سے معلوم کرو اور دل بنائے اس لئے کہ تم ان نشانیوں پر غور کرو اور سوچ و بچار سے کام لو (اور تمام دینی (دنیوی منافع کو حاصل کرو) ۔
قَلِیْلاً مَّا میں ما زائد ہے اور قلیلاً سے مراد ہے تھوڑا شکر یا کم وقت میں شکر۔ کیونکہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ کان ‘ ناک ‘ دل کا استعمال اس غرض کیلئے کیا جائے جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو پیدا کرنے والے کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔…
Read the full tafseer →(78) بالخصوص مکہ والو اللہ تعالیٰ ایسا قادر ومنعم ہے کہ اس نے تمہارے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے اور سمجھنے کے لیے دل بنائے، مکہ والو تم پر یہ جتنے انعامات و احسانات فرمائے تم اس کی نسبت بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ۔۔ : اس سے پہلے کفار کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اب انھیں مخاطب کرکے احسانات یاد دلائے۔ یہ غائب سے مخاطب کی طرف التفات ہے، کیونکہ بعض اوقات وعید کا اثر نہیں ہوتا، ہاں ! کسی احسان کی خوشگوار یاد دل کو مائل کردیتی ہے۔
وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ۔۔ : یعنی وہ لوگ نہ اپنے رب کے لیے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی، حالانکہ رب صرف وہ ہے، کوئی اور نہیں۔ جس نے کسی پہلے نمونے کے بغیر تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا فرمائے، جو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے مرکز ہیں۔ ان تینوں چیزوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جسم کی تمام نعمتیں ان کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 78 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : و ھوا لذی انشالکم السمع والابصار اللہ نے اپنی نعمتوں کی کثرت اور کمال قدرت کی انہیں پہچان کرائی۔ قلیلا ما تشکرون۔ یعنی وہ بہت تھوڑا شکر کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ بالکل شکر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔
2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…
Read the full tafseer →وَهُوَ (اور وہ ) الَّذِيْٓ (" وہ ہے " جو ) اَنْشَاَ (پیدا کیے ) لَكُمُ (تمہارے لیے) السَّمْعَ (کان ) وَ (اور) الْاَبْصَارَ (آنکھیں ) وَ (اور) الْاَفْـــِٕدَةَ (دل ) قَلِيْلًا مَا (بہت کم) تَشْكُرُوْنَ (تم سب شکر ادا کرو )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
66:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک اعتقادی پر عقلی دلیلیں۔ ایک تفصیلی اور تین علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ” وھو الذی انشا لکم الخ “ پہلی تفصیل عقلی دلیل برائے نفی شرک اعتقادی سننے، دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمائی ہیں لیکن انسان نہ ان نعمتوں سے کام لیتا ہے اور نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے کہ توحید کے دلائل کو دیکھ سن کر اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو تسلیم کرلے ان قوتوں کو صحیح استعمال کرنا ہی ان کا شکر ہے۔ ” وھوَ الذی یحی و یمیت الخ “ زندگی اور موت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور رات دن کا اختلاف یعنی رات دن کی آمدو رفت اور ان کی کمی بیشی بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ ’‘ افلا تعقلون “ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ربط آیات :
اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔
توحید اور معاد کا ذکر :
اب…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَۃَ 0ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 78
نشأ
النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی
[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْٓ اَنْشَاَلَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَوَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔
(المومنون : 78)
(اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ )
انسان اور حیوان میں فرق، اور حقیقت شکر
اس سے پہلے خطاب آنحضرت ﷺ سے تھا اس میں قریش کو جو تہدید و وعید کی گئی ہے وہ غائب کے صیغے سے اور نبی کریم ﷺ کے واسطے سے ہے، لیکن اب قریش سے براہ راست خطاب فرمایا جارہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے سمجھنے کے لیے دل عطا نہ فرمایا ہو۔ اَفْئِدَۃَ فؤاد کی جمع ہے اس کا معنی دل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے ہیں کہ حقائق دیکھ اور سن کر ان کے مطابق عمل کریں تاکہ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیا تاکہ حقائق دیکھ اور جان کر اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اسی نے انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلا یا اور بسایا اور اسی کی طرف سب نے اکٹھا ہونا ہے وہی ذات موت وحیات پر اختیار رکھتی ہے اسی کے حکم کے مطابق دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی لوگ عقل وفکر نہیں کرتے۔ ان آیات میں انسان کی تخلیق، زمین میں انسان کا…
Read the full tafseer →انعامات سے یاددہانی :
78: وَھُوَالَّذِیْ اَنْشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ (اور اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل پیدا کئے) تین حواس کا خصوصاً اس لئے ذکر کیا کہ عموماً انہی سے دینی اور دنیوی فوائد زیادہ تر متعلق ہیں دیگر حواس سے اتنے نہیں۔ قَلِیْلًا مَّاتَشْکُرُوْنَ (تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو) تم تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ ما تاکید کیلئے زائد کیا گیا ہے اور حقاً کے معنی میں ہے مطلب اس طرح ہوا تم نے ان انعامات کی عظمت نہیں پہچانی اور تم نے ان کو بےمحل استعمال کیا۔ تم نے آنکھوں اور کانوں سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور افعال کے سلسلہ میں کام نہیں لیا۔ اور نہ اپنے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
78۔ وھوالذی انشالکم السمع۔ تمہارے لیے کان سننے کے لیے پیدا کیے۔ والابصار والافئدۃ۔ تاکہ تم اس کو سنو اور دیکھو اور پھر اس پر غور و فکر کرو۔ قلیلا ماتشکرون، ان نعمتوں پر وہ شکرادا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
78۔ 81:۔ اوپر منکر حشر لوگوں کا یہ ذکر تھا کہ یہ لوگ حشر کے منکر ہیں اس سبب سے یہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیٹرھا راستہ چلتے ہیں ‘ ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیاں بیان فرما کر ایسے لوگوں کو قائل کیا گیا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکر حشر لوگوں کے سننے کے لیے کان ‘ دیکھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے دل ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ پیدا کیا اب یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر جو گنتے ہیں ‘ تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا ‘ پھر فرمایا ‘ جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انہیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وھو الذی انشالکم السمع) ” اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمہارے لیے کان۔ “ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو (والابصار) ” اور آنکھیں “ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ (والافئدۃ ) ” اور دل۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نوازاتا کہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کرسکو اور جانوروں سے ممتاز ہوسکو۔ اگر تم سماعت ‘ بصارت اور عقل سے محروم ہوجاؤ بایں طور کہ تم بہرے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →97 شکر خداوندی کے لیے تحریض و ترغیب : سو لوگوں کی نا شکری کی شکایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو "۔ ورنہ تم سب کے سب دل و جان سے اس واہب مطلق کے حضور جھک جاتے جس نے تمہیں ان عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور محض اپنے کرم و احسان سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ اور بغیر تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست کے تم کو نوازا ہے ۔ جَلَّ جَلالُہ وعَمَّ نَوَالُہ ۔ اور اس کی ان نوازشات اور کرم فرمائیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تم لوگ اس کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کو ان کے صحیح مصرف میں لگاؤ اور اس کے نتیجے میں تم اپنے اس خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کے شرف سے مشرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
اللہ کی بہترین تخلیق انسان
تشریح : عقیدہ توحید کی بڑی کھلی دلیل ان آیات میں ملتی ہے۔ اسی موضوع کے بارے میں انگلستان کا ایک فاضل ڈاکٹر اپر سولڈ اس طرح لکھتا ہے :” اس کائنات میں نظم و ترتیب کے یہ حیرت انگیز مظاہرے کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ایک بےمثل خالق اور عظیم مدبر کی تخلیق ہیں جب میں نے سائنس کا مطالعہ شروع کیا تو آغاز میں یہ خیال تھا کہ سائنس بہت جلد عقل و شعور کے سرچشموں کے متعلق مکمل علم حاصل کرلے گی ‘ لیکن جوں جوں میرے علم میں اضافہ ہوتا گیا یہ حقیقت بھی مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ انسانی علم ان ماورائی (چھپے ہوئے) حقائق کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ “ ( از خدا موجود ہے صفحہ 2…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →7 ۔ ان حواس کی شکر گزاری تو یہ ہے کہ ان کے ذریعہ صحیح راستہ کی طرف رہنمائی حاصل کرو، ورنہ ان کے ذریعے جسمانی اور مادی خواہش تو دوسرے حیوانات بھی پوری کر رہے ہیں۔ عالم کون میں جو دلائل توحید پائے جاتے ہیں ان کے ذریعہ ان دلائل کو دیکھا اور سمجھا جائے اور کانوں سے سبق آموز باتیں سنی جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(23:78) انشا۔ اس نے پیدا کیا۔ انشاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
توحید کے دلائل۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے لیے حالانکہ سننے کے لیے کان ، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور ہر ایک بات سمجھنے کے لیے دل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، لیکن یہ لوگ اب دوبارہ ان چیزوں کے پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا۔ پھر فرمایا جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا کرکے تمام روئے زمین پر بکھیر رکھا ہے اسی طرح حشر کے دن اس کی طرف جمع کرکے لائے جاؤ گے، وہی وہاں جزاوسزا دے گا، وہی زندہ کرنے والا ہے اور مارنے والا ہے، اور رات دن کی گردش یعنی گھٹنا بڑھنا سب اسی کے حکم سے ہے پھر فرمایا ان لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
دیدہ عبرت سے دیکھو : !
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نبے جو تمہیں اعضاوجوارح عنایت فرمائے ہیں تو اس لئے کہ دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور یہاں کی ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، کان دیئے ہیں ، تاکہ اچھی باتوں کو سنو ، آیات وحکم کو گوش گزار کرو ، اور ان چیزوں کی سماعت کرو جو تمہاری اخروی زندگی کے لئے ضروری ہیں ، تمہیں آنکھیں دی ہیں ، تاکہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھو ، اور حقائق کا ملاحظہ کرو ، اور دل دیا ہے تاکہ سوچو ، اور غور وفکر کرو ، پھر اگر تم لوگ اللہ کی ان نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے ، تو یہ کھلی ناشکری ہے ۔
واضح رہے کہ افئدۃ ‘ کا لفظ بطور عرف لسانی استعمال ہوا ہے ، مقصد یہ ہے کہ تمہیں شعور واحساس…
Read the full tafseer →(78) اب آگے پھر اللہ تعالیٰ کے تصرفاتِ قدرت اور اس سے حشر اور دوبارہ زندہ ہونے کا اثبات اور اسی ضمن میں توحید کا اثبات بیان ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تمہارے نفع کے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ساتھ دوسری چیزیں بھی عطا فرمائیں اگر کان سننے کو اور آنکھیں دیکھنے کو اور دل سمجھنے کو نہ دیتے تو زندگی بیکار ہوتی ان احسانات کا شکر بجا لاتے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے موافق دین حق کو قبول کرتے لیکن تم بہت کم شکر بجالاتے ہو۔ یعنی شکر کا حق ادا نہیں کرتے یا بہت کم لوگ شکر گزار ہیں۔ وقلیلا من عبادی…
Read the full tafseer →ف 6۔ کہ آرام بھی بر تو اور دین کا بھی ادراک کرو۔
7۔ کیونکہ اصلی شکریہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور اس کی قدرت علی البعث کا انکار نہ کرتے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تو ان کی سماعت ‘ بصارت اور دل دیئے لیکن وہ شکر گزار نہ تھے :
78۔ کوئی پوچھے کہ بھلا یہ سماعت ‘ بصارت اور دل جانورو کو نہیں دیئے گئے ؟ پھر انسان اور حیوان میں فرق کیا ہے ؟ یہی کہ انسان کا کام سوچنا ‘ سمجھنا اور عقل سے کام لینا ہے صرف جانوروں کی طرح جسم وجان کے مطالبات پورے کرنا نہیں ۔ غور کرو کہ یہ لوگ کر کیا رہے ہیں ؟ یہی کہ ہمارا معیار زندگی بلند ہو تو کیسے ؟ اچھی رہائش ملے ‘ اچھا لباس ہو ‘ اچھی خوراک ہو ‘ مال بڑھے تو کیسے اور اقتدار ملے تو کیونکر ؟ کیا ان کے ہاں ! آخرت کی بھی کوئی فکر ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو سوائے اس کے کہ ان کے ڈھانچے انسانوں کے سے ہیں اس کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–87
وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ
And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76)
In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
74. The disbelievers have been told to consider the great blessings of eyes, ears, mind and heart and use them as human beings should, and show gratitude to the Creator by accepting His Message.
Read the full tafseer →