Al-Muminoon 23:77

Al-Muminoon · from ayah 77

23:77

حَتّٰۤی اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ ۟۠حَتّٰٓى اِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيۡدٍ اِذَا هُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ

یہاں تک کہ جب ہم نے پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Until when We have opened before them a door of severe punishment, immediately they will be therein in despair.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:77

البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازه کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب والا دروازہ کھول دیں گے، تو یہ ایک دم اس میں مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہاں تک کہ جب ہم ان پر نہایت سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے (تو) اس وقت وہ اس میں انتہائی حیرت سے ساکت و مایوس (پڑے) رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب والا کوئی دروازہ کھولا، اچانک وہ اس میں ناامید تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہاں تک کہ ہم نے ان پر سخت عذاب کا در کھول دیا تو اس حال میں وہ (ہر بھلائی سے) مایوس ہونے لگے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ اس میں بالکل مایوس ہو کے رہ جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھول دیا کوئی دروازہ کسی سخت عذاب کا تو اس وقت یکایک کٹ کر رہ گئیں ان کی سب آرزوئیں اور امیدیں

— مولانا اسحاق مدنی

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت یہ بالکل حسرت زدہ رہ جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہاں تک کہ جب ہم ان پر کھول دیں گے بہت سخت عذاب کا دروازہ تو جبھی وہ اس میں بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تب وہ ناامید ہوجائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

until We opened upon them the door of a severe chastisement. Then lo, in this state they become utterly despaired of any good.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

until when We will open against them the door of a severe punishment, they will be taken aback in despair.

— Muhammad Taqi Usmani

until when We will open against them the door of a severe punishment, they will be taken aback in despair.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Until, when We open for them the gate of severe punishment, then lo! they will be plunged in despair.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Until, when We open for them the gate of extreme punishment, behold! they are aghast thereat.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Until when We have opened before them a door of severe punishment, immediately they will be therein in despair.

— Saheeh International

until We opened the gate of greater torment (death) and they suddenly found themselves in despair.

— Muhammad Sarwar

Until when We open upon them a door of severe chastisement, lo! they are in despair at it.

— Muhammad Habib Shakir

Until when we shall open upon them a portal of severe torment, and lo! thereat they are desparing

— Abdul Majid Daryabadi

Until We open on them a gate leading to a severe Punishment: then Lo! they will be plunged in despair therein!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–83

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 73 اصل میں لفظ مُبْلِسُوْن استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم مایوسی سے ادا نہیں ہوتا۔ بَلَس اور اِبْلَاس کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ خوف اور دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا رنج و غم کے مارے دل شکستہ ہوجانا۔ ہر طرح سے ناامید ہو کر ہمت توڑ بیٹھنا۔ اور اسی کا ایک پہلو مایوسی و نامرادی کی وجہ سے برافروختہ Desperate) (ہوجانا بھی ہے جس کی بنا پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا ہے۔ اس نام میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یاس اور نامرادی (Frustration) کی بنا پر اس کا زخمی تکبر اس قدر بر انگیختہ ہوگیا ہے کہ اب وہ جان سے ہاتھ دھو کر ہر بازی کھیل جانے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–77

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَـضَرَّعُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ لوگ جو عذاب میں مبتلا ہونے کے وقت اللہ سے یا رسول سے فریاد کرتے ہیں اگر ہم ان کی فریاد پر رحم کھا کر عذاب ہٹا دیں تو ان کی جبلی شرارت و سرکشی کا عالم یہ ہے کہ عذاب سے نجات پانے کے بعد پھر اپنی سرکشی اور نافرمانی میں مشغول ہوجائیں گے اس آیت میں ان کے ایک اسی طرح کے واقعہ کا بیان ہے کہ ان کو ایک عذاب میں پکڑا گیا مگر عذاب سے بدعا نبی کریم ﷺ نجات پانے کے بعد بھی یہ اللہ کے سامنے نہیں جھکے اور برابر اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔ اہل مکہ پر قحط کا عذاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حتی اذا فتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید اذا ھم فیہ مبلسون 77 عذاب شدید سے مردا یعنی تبیہی جھڑکیوں سے تو ان مغروروں کا دماغ درست ہونے والا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب ان کی اس تکذیب کے نتیجہ میں ہم ان پر اپنے عذاب شدید کے دروازے کھول دیں گے۔ عذاب شدید سے مراد یہاں وہ فیصلہ کن عذاب ہے جو سنت الٰہی کے تحت ہر اس قوم پر آیاجس نے اپنے رسول کی تکذیب کردی اور اپنی ضد پر اڑی رہ گئی۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد پھر قوم کو مہلت نہیں ملتی۔ اس کے تمام سہایر اور تمام امیدیں یک قلم ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف آیت کے آخری الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

۔-1اس سے دنیا کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور آخرت کا بھی، جہاں وہ تمام راحت اور خیر سے مایوس اور محروم ہوں گے اور تمام امیدیں منقطع ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–77

26: اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو جھنجھوڑنے کے لیے وہ ایک مرتبہ انہیں قحط اور معاشی بدحالی میں مبتلا کیا۔ یہ آیت کسی ایسے ہی موقع پر نازل ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔ یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔ اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 اس سے یا تو آخرت کا عذاب مراد ہے یا شاید وہ دروازہ لڑائیوں کا کھلا جس میں تھک کر عاجز ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 76–83

آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ” اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 سخت عذاب سے مراد وہ امر ہے جو کافروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں پڑتی رہی اور جس کا آغاز غزوہ بدر سے ہوا تھا۔ 78 لفظ مُبْلِسُوْنَ آیا ہے اور یلس کے معنی غم کی وجہ سے سخت مایوس ہوجانا یا سخت مایوسی کی وجہ سے غمگین ہونا پھر اسی مایوسی کی بنا پر برافروختہ ہوجانا یا بھڑک اٹھنا۔ سعدی کا ایک شعر ہے۔ نہ بینی کہ چوں گر بہ عاجز شود۔۔ برآزر بچنگال چشم پلنگ ترجمہ : تم دیکھتے نہیں کہ چیتے کے مقابلہ میں جب بلی عاجز ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت کا یقین ہوجاتا ہے تو چیتے پر حملہ کرکے اپنے پنجہ سے اس کی آنکھ نکال دیتی ہے) یعنی ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ جوں جوں انھیں مار پڑتی ہے اور انھیں اپنی کامیابی کے امکان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ (کہ یہ کیا ہوگیا اور اس وقت سارے حواس درست ہوجائیں گے) (آیت) ” عذاب شدید “۔ یہ عذاب شدید آخرت میں تو یقیناً ہوگا اور احتمال اس دنیا میں بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حتی اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید اذا ہم فیہ مبلسون۔ یہاں تک کہ جب سخت عذاب کا دروازہ ان پر کھول دیا تو یکدں حیران و نراس ہوگئے۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ سرکش و متمرد شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعائے رحمت کا طلبگار ہوا اس آیت میں عذاب شدید سے قحط کا عذاب مراد ہے۔ بشرطیکہ آیت حَتّٰی اِذَا اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ بالْعَذَابِمیں العذاب سے مراد ہو جنگ بدر میں مارا جانا جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ‘ بھوک کا عذاب ‘ قید اور قتل کے عذاب سے سخت ہوتا ہے اس لئے اس کو عذاب شدید فرمایا اور اگر العذاب سے قحط اور بھوک کا عذاب مراد ہو جیسا کہ ضحاک کا خیال ہے تو پھر عذاب شدید سے مراد ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(77) اے محمد ﷺ ان کی یہ حالت اس وقت تک ہے کہ جب ہم ان پر قحط سالی کے عذاب کا سخت دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت یہ ہر ایک بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 76–77

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ۔۔ : ”اَخَذْنٰهُمْ“ (ہم نے انھیں پکڑا) میں ”ھُمْ“ (اُن) سے مراد موجودہ کفار و منکرین نہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسے وہ منکرین ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو اپنے اپنے دور میں اسی طرح کے کفر و انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ موجودہ دور کے منکرین کو تاریخ کے اس سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے لیے آنے والے عذابوں سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ پہلے کمتر درجے کا عذاب بھیجتا ہے، تاکہ لوگ سنبھل جائیں، فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 77 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ اذا فتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید عکرمہ نے کہا : یہ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اس پر چار لاکھ فرشتے مقرر ہیں ان کے چہرے کالے ہیں، ان کے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں، انکے دلوں سے رحمت نکالی گئی ہے جب یہ کافر اس دروازے پر پہنچیں گے تو اللہ اسے ان پر کھول دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ ان کا بدر کے دن تلوار سے قتل کرنا ہے۔ (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 353) ۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد قحط ہے جو انہیں پہنچتا تھا حتیٰ کہ انہوں نے بھوک کی وجہ سے اون کھائی تھی جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ بعض نے کہا : عذاب شدید سے مراد فتحہ مکہ ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–83

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

حَتّٰى (یہاں تک کہ ) اِذَا (جب) فَتَحْنَا (کھول دیے ہم نے ) عَلَيْهِمْ (ان پر) بَابًا (دروازہ ) ذَا عَذَابٍ (عذاب والا ) شَدِيْدٍ (بہت سخت) اِذَا (جب) هُمْ (وہ) فِيْهِ (اس میں ) مُبْلِسُوْنَ (سب ناامید ہونے والے )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–77

منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–77

بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔ (1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65:۔ ” حتی اذا فتحنا الخ “ عذاب سے عذاب آخرت، یا جنگ بدر یا یوم فتح مکہ کا عذاب مراد ہے اب تو نہیں مانتے اور آرزو رکھتے ہیں اسلام کے خلاف ان کے منصوبے کامیاب ہوجائیں گے لیکن جب ہم نے ان پر دنیا یا آخرت کے عذاب کا دروازہ کھول دیا تو پھر دین اسلام کی سچائی کو مان لیں گے اور اس وقت وہ اپنے پروگراموں کی کامیابی اور ہر خیر و برکت سے مایوس ہوجائیں گے (روح) یہاں تک سورة کا پہلا حصہ ختم ہوا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔ تدبرفی القرآن : اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حَتّٰٓي اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْہِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيْدٍ اِذَا ہُمْ فِيْہِ مُبْلِسُوْنَ۝ 77ۧ فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] (ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ باب البَاب يقال لمدخل الشیء، وأصل ذلک : مداخل الأمكنة، کباب المدینة والدار والبیت، وجمعه : أَبْوَاب . قال تعالی: وَاسْتَبَقَا الْبابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ دُبُرٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–83

ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

حَتّٰیٓ اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا ذَاعَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا ھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ ۔ (المومنون : 77) (یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ وہ اس میں بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔ ) مشرکین کی بےبسی گزشتہ دو آیتوں سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان میں شکر کے جذبات پیدا کرتی ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبتیں ان کے دلوں میں گداز پیدا کرتی ہیں۔ وہ بظاہر انسان ہیں لیکن حقیقت میں لکڑی کے کندے ہیں جو ہر طرح کے جذباتِ خیر سے تہی دامن ہوچکے ہیں اور ایسا معلوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–80

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے ہیں کہ حقائق دیکھ اور سن کر ان کے مطابق عمل کریں تاکہ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیا تاکہ حقائق دیکھ اور جان کر اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اسی نے انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلا یا اور بسایا اور اسی کی طرف سب نے اکٹھا ہونا ہے وہی ذات موت وحیات پر اختیار رکھتی ہے اسی کے حکم کے مطابق دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی لوگ عقل وفکر نہیں کرتے۔ ان آیات میں انسان کی تخلیق، زمین میں انسان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: حَتّٰی اِذَا فتَحْنَا (یہاں تک کہ جب ہم نے سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا) ۔ قراءت : یزید نے فَتَّحْنَا پڑھا ہے۔ قحط سے پکڑ : عَلَیْھِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ : عذاب شدید سے بھوک مراد ہے جو کہ قید و قتل سے سخت تر ہے۔ اِذَاھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ (تو اسی وقت وہ حیران مایوس ہوگئے) متحیر اور ہر خیر سے مایوس ہونے لگے اور ان میں سے سب سے سرکش اور متمرد شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر طالب دعا ہوا اور رحم کی اپیل کی یا ہم نے ان کا امتحان ہر قسم کے امتحان قتل و بھوک سے لیا مگر ان میں نرمی اور زاری پیدا نہیں ہوئی اور وہ اس طرح رہیں گے یہاں تک کہ جب جہنم کی آگ سے ان کو عذاب دیا جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77۔ حتی اذافتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر میں قتال ہے۔ یہی قول مجاہد کا ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد موت ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت ہے ، اذاھم فیہ مبلسون، ہر بھلائی سے مایوس ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–77

76۔ 77:۔ معتبر سند سے نسائی ‘ مستدرک حاکم اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش مکہ نے جب آنحضرت ﷺ سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا ‘ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان ؓ نے آنحضرت ﷺ سے آن کر کہا کہ آپ ﷺ تو رحمتہ للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ قریش تو آپ ﷺ کے قرابت دار ہیں ‘ اب قریش کا یہ حال ہے کہ جو نہ کھانے کی چیز تھیں وہ سب کھاچکے ‘ ذرا ہماری غم خواری فرمائیے اور اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ بلا دفع ہو آپ ﷺ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتا رہا ‘ قحط کے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–77

“ آیت نمبر (75 یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کردیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 تمردو سرکشی کا نتیجہ ہولناک و فیصلہ کن عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے بدبخت اور متکبر لوگ اپنے تمردو سرکشی اور کفر و انکار ہی پر اڑے رہے۔ یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کسی سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔ اس سے مراد وہ فیصلہ کن عذاب ہے جو دستور خداوندی کے مطابق ایسی سرکش قوموں کا مقدر بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی جب یہ لوگ دنیا کے ان مختلف عذابوں میں سے کسی سے بھی باز نہ آئے اور انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان کے لیے اس آخری اور فیصلہ کن سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا گیا جس سے یہ بدبخت اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے اور ہر خیر سے قطعی طور پر محروم اور مایوس ہوگئے ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

5 ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جس زمانہ میں قریش قحط میں مبتلا تھے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے کہا : ” کیا آپ کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں وہ بولے “ (مگر) آپ ﷺ نے تو آباء کو تلوار سے اور ابناء (بیٹوں) کو بھوک سے مار ڈالا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن جریر) 6 ۔ مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور بدر کے دن کا بھی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:77) مبلسون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مبلس واحد۔ مایوس۔ غمگین۔ پشیمان متحیر۔ خاموش۔ جن کو کوئی بات بن پڑنی ممکن نہیں۔ ابلاس (افعال) مادہ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون (30:12) اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار مایوس ومغموم ہوجائیں گے۔ بعض کا خیال ہے کہ ابلیس اسی سے مشتق ہے۔ یلس وابلاس، حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ خوف و دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا۔ رنج وغم کے مارے دل شکستہ ہوجانا۔ ہر طرف سے ناامید ہو کر ہمت توڑ کر بیٹھنا۔ نامرادی کی وجہ سے برا فروختہ ہوجانا۔ جس کی بنا پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–77

(ف 1) سات سالہ قحط اور حضور کی دعا سے باران رحمت کا ذکر۔ شان نزول : جس کا یہ حاصل ہے کہ قریش مکہ نے جب نبی سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان نے نبی ﷺ سے آکر کہا کہ آپ تو رحمت للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں قریش تو آپ کے قرابت دار ہیں اب قریش کا یہ حال ہے کہ نہ کھانے کی چیزیں یعنی ہڈیاں اور مردار بھی کھاگئے ذراہماری غم خواری فرمائیں اور اللہ سے دعا کیجئے یہ بلا دفع ہو، آپ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتارہا ، قحط کے جاتے ہی قریش نے پھر وہی سرکشی شروع کردی، اس قحط کے ذکر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–77

(ف 4) اس عذاب کے تین میں مفسرین کا اختلاف ہے اور مندرجہ ذیل واقعات اس سلسلے میں بیان کئے جاتے ہیں ۔ ، 1۔ ثمامہ بن اثال نے جب اسلام قبول کیا ، تو اس نے یمامہ جا کر مکہ والوں کا غلہ روک لیا ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ سخت قحط پڑا ، اور بڑے بڑے صنادید قریش بھی مارے جھوک کے بلبلا اٹھے ، ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا ، کیا آپ رحمۃ اللعالمین نہیں ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا تو اللہ سے دعا کیجئے ، قحط دور ہو ، حضور ﷺ کا دریائے رحمت جوش میں آگیا آپ نے دعا کی اور قحط دفع ہوگیا ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ 2۔ بدر کے دن جو ذلت ورسوائی قریش کے حصہ میں آئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ باوجود شکست فاش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) یہاں تک کہ جب ہم ان پر کسی سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یہ اس عذاب میں مبتلا ہوکر دفعۃً ناامید و حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید وہ دروازہ لڑائیوں کا کھلا جس میں تھک کر عاجز ہوئے۔ 12 شاید عذاب دنیوی اور عذاب اخروی دونوں مراد ہوں۔ ویوم تقوم الساعۃ یومئذیلبس المجرمون۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–77

ف 5۔ اور وہ قول وقرار جو مصیبت میں کئے تھے، سب گاو خورد ہوجاویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی یہ لوگ ماننے والے نہیں : 77۔ مثل ہے کہ ” رسی جل گئی پر بل نہ گیا “ یہ لوگ تنبہیات اور جھڑکیوں سے درست ہونے والے نہیں یہاں تک کہ ان پر وہ وقت آجائے گا جب ان کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر عذاب کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ، ظاہر ہے کہ عذاب شدید سے یہاں مراد وہی فیصلہ کن عذاب ہے جو سنت الہی کے تحت ہر اس قوم پر نازل ہوا جس کو سمجھانے کے لئے اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیجا لیکن قوم نے اس کی ایک نہ مانی اور ضد پر اڑی رہ گئی اور اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ اس کو عذاب الہی نے اپنے وقت پر آگھیرا جس سے اس کو اس صفحہ ہستی سے نابود کرکے رکھ دیا ۔ یہی ہوتا آیا اور اب بھی یہی ہوگا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–87

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّ‌عُونَ And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76) In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

73. The Arabic word mublis is used for one whom frustration makes so desperate and obdurate that he does not hesitate to resort to any crime. The Devil has been called Iblis for the same reason.

Read the full tafseer →