Al-Muminoon 23:76

Al-Muminoon · from ayah 76

23:76

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ۟وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُوۡنَ

اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had gripped them with suffering [as a warning], but they did not yield to their Lord, nor did they humbly supplicate, [and will continue thus]

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:76

اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو (ایک مرتبہ) عذاب میں پکڑا تھا، تو اس وقت بھی یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے نہیں جھکے۔ اور یہ تو عاجزی کی روش اختیار کرتے ہی نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا پھر (بھی) انہوں نے اپنے رب کے لئے عاجزی اختیار نہ کی اور نہ وہ (اس کے حضور) گڑگڑائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے انھیں عذاب میں مبتلا کیا تو بھی یہ نہ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ آہ وزاری کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان جیسوں کو عذاب میں پکڑا لیکن نہ وہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ وہ تضرح ہی کرتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ اس حقیقت کا ایک شاہد یہ ہے کہ ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا پھر بھی یہ نہ تو اپنے رب کے سامنے جھکے اور نہ ہی انہوں نے اس کے حضور عاجزی کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے انہیں عذاب میں ہی پکڑا لیکن ان لوگوں نے نہ اپنے پروردگار کے سامنے فروتنی کی اور نہ عاجزی کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تھا تو (اس کے باوجود) نہ انہوں نے اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کی اور نہ ہی وہ گڑ گڑائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا تھا پھر نہ انہوں نے اپنے رب کے آگے عاجزی کی اور نہ گڑ گڑائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(They are such) that We seized them with chastisement (and yet) they did not humble themselves before their Lord, nor do they entreat

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility,

— Muhammad Taqi Usmani

We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We seized them with punishment, but they humbled not themselves to their Lord, nor did they invoke with submission to Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Already have We grasped them with punishment, but they humble not themselves unto their Lord, nor do they pray,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had gripped them with suffering [as a warning], but they did not yield to their Lord, nor did they humbly supplicate, [and will continue thus]

— Saheeh International

We struck them with torment, but they did not submit themselves to their Lord, nor did they make themselves humble

— Muhammad Sarwar

And already We overtook them with chastisement, but they were not submissive to their Lord, nor do they humble themselves.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We took hold of them with the torment, yet they humbled not themselves to their Lord, nor did they entreat.

— Abdul Majid Daryabadi

We inflicted Punishment on them, but they humbled not themselves to their Lord, nor do they submissively entreat (Him)!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–83

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–76

سورة الْمُؤْمِنُوْن 72 اشارہ ہے اس تکلیف و مصیبت کی طرف جس میں وہ قحط کی بدولت پڑے ہوئے تھے۔ اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد۔ دوسرا، ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال نے یمامہ سے مکہ کے طرف غلے کی بر آمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔ اس کے متعلق صحیحین میں ابن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب قریش نے نبی ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–77

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَـضَرَّعُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ لوگ جو عذاب میں مبتلا ہونے کے وقت اللہ سے یا رسول سے فریاد کرتے ہیں اگر ہم ان کی فریاد پر رحم کھا کر عذاب ہٹا دیں تو ان کی جبلی شرارت و سرکشی کا عالم یہ ہے کہ عذاب سے نجات پانے کے بعد پھر اپنی سرکشی اور نافرمانی میں مشغول ہوجائیں گے اس آیت میں ان کے ایک اسی طرح کے واقعہ کا بیان ہے کہ ان کو ایک عذاب میں پکڑا گیا مگر عذاب سے بدعا نبی کریم ﷺ نجات پانے کے بعد بھی یہ اللہ کے سامنے نہیں جھکے اور برابر اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔ اہل مکہ پر قحط کا عذاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تنبیہی عذاب ولقد اخذ نھم یعنی ولقد اخذنا اشیامھم ہم نے ان کے ہم مشربوں کو اس سے پہلے اپنے تنبیہی عذابوں میں پکڑا لیکن نہ تو ان کے دلوں میں خستگی اور فروتنی پیدا ہوئی اور نہ وہ اپنے رب کے آگے گریہ وزاری کرتے تھے۔ یہ پچھلی تاریخ کی روشنی میں اسی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق نہیں لیتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو بھی کوئی تنبیہ کی گئی تو پیغمبر کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ یہ اس سے کوئی سبق لیں گے۔ ھم سے مراد یہاں قریش نہیں بلکہ ان کے وہ ہم مشرب ہیں جو پچھلی امتوں میں گزر چکے تھے۔ عربی میں غایت مجانست و مشابہت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76-1عذاب سے مراد یہاں وہ شکست ہے جو جنگ بدر میں کفار مکہ کو ہوئی، جس میں ان کے ستر آدمی مارے گئے تھے یا وہ قحط سالی کا عذاب ہے جو نبی ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں ان پر آیا تھا۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی تھی ' اے اللہ، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں سات سال قحط رہا، اسی طرح قحط سالی میں انھیں مبتلا کر کے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما ' چناچہ کفار مکہ اس قحط سالی میں مبتلا ہوگئے جس پر حضرت سفیان نبی ﷺ کے پاس آئے اور انھیں اللہ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ اب تو ہم جانوروں کی کھالیں اور خون تک کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جس پر آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–77

26: اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو جھنجھوڑنے کے لیے وہ ایک مرتبہ انہیں قحط اور معاشی بدحالی میں مبتلا کیا۔ یہ آیت کسی ایسے ہی موقع پر نازل ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔ یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔ اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 76–83

آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ” اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 جب ابتدائے اسلام میں ہی کفار مکہ نے مسلمانوں اور پیغمبر اسلام پر مصائب ڈھانا شروع کئے اور یہاں تک مخالفت کی کہ ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حضور ان کے حق میں بددعا کی اور فرمایا : یا اللہ ! ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) والے قحط کے سات سال مسلط کر چناچہ آپ کی دعا قبول ہوگئی تو ان پر قحط کا عذاب آگیا۔ بارشیں رک گئیں۔ باہر سے غلہ آنا بھی رک گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ یہ لوگ مردار، ہڈیاں اور خون تک کھانے پر مجبور ہوگئے مگر بھوک پھر بھی نہ مٹتی تھی۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے اور بھوک کی وجہ سے اتنے کمزور ہوگئے تو آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو انھیں دھواں نظر آتا تھا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ اشارہ خصوصی معاصر معاندین رسول ﷺ کے سلسلہ میں قحط مکہ کی جانب ہے جو 8، نبوی میں ہوا تھا۔ (آیت) ” فما استکانوا، وما یتضرعون “۔ استکانت اور تضرع مرادف نہیں اول کا تعلق ظاہر سے اور ثانی کا قلب سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اخذنہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون۔ اور ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا تب بھی انہوں نے اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی اختیار کی نہ گڑگڑائے۔ (نہ زاری کی) ۔ الْعَذَاب یعنی بدر کی لڑائی میں مارا جانا یا قحط پڑنا۔ فَمَا سْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْیعنی انہوں نے توبہ نہیں کی۔ اپنے رب کی طرف رجوع نہیں ہوئے بلکہ اپنی سرکشی پر قائم رہے۔ اسْتکانُوْا یا باب استفعال سے ہے اس کا مادہ کون ہے محتاج بھی ایک کون سے دوسرے کون کی طرف اور ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ (ہر دم ایک نئے تغیر کا طلبگار ہوتا ہے) یا استکانوا باب افتعال سے ہے اس کا مادہ مسکن ہے کہ کے بعد الف اشباعی ہے۔ وَمَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(76) اور ہم نے ان کو بھوک اور قحط سالی کے عذاب میں گرفتار بھی کیا ہے سو یہ لوگ نہ اپنے پروردگار کے سامنے توحید کے قائل ہو کر جھکے اور نہ عاجزی اختیار کر کے ایمان لائے شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد اخذنھم بالعذاب“۔ (الخ) امام نسائی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ محمد ﷺ میں آپ کو اللہ کی اور رشتہ داری کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہم نے خون اور مردار تک کھالیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا ہے سو ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے فروتنی کی اور عاجزی اختیار کی اور امام بیہقی ؒ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 76–77

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ۔۔ : ”اَخَذْنٰهُمْ“ (ہم نے انھیں پکڑا) میں ”ھُمْ“ (اُن) سے مراد موجودہ کفار و منکرین نہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسے وہ منکرین ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو اپنے اپنے دور میں اسی طرح کے کفر و انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ موجودہ دور کے منکرین کو تاریخ کے اس سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے لیے آنے والے عذابوں سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ پہلے کمتر درجے کا عذاب بھیجتا ہے، تاکہ لوگ سنبھل جائیں، فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 76 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اخذنھم بالعذاب، ضحاک نے کہا : عذاب سے مراد بھوک ہے۔ بعض نے کہا اس سے مرادا مراض، حاجت اور بھوک ہے۔ بعض نے کہا : قتل اور بھوک ہے۔ فما استکانو لربھم وہ نہ جھکے۔ وما یتضرعون جو انہیں تکلیف پہنچتی ہیں ان میں بھی اللہ کے لیے نہیں جھکتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ ثمامہ بن آثال کے واقعہ میں نازل ہوئی جب اسے ایک لشکر نے پکڑ لیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اور نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کردیا تو وہ مکہ والوں اور سامان رسد کے درمیان حائل ہوگیا اس نے کہا : اللہ کی قسم نبی پاک ﷺ کی اجازت کے بغیر گندم کا ایک دانہ بھی یمامہ سے مکہ والو تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–83

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ (اور) لَقَدْ (البتہ تحقیق) اَخَذْنٰهُمْ (ہم نے پکڑا انہیں ) بِالْعَذَابِ (عذاب کے ساتھ ) فَمَا (تو نہ) اسْتَكَانُوْا (وہ سب " کافروں سے " دبے ) لِرَبِّهِمْ (اپنے رب سے ) وَمَا (اور نہ) يَتَضَرَّعُوْنَ (سب عاجزی کریں )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–77

منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–77

بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔ (1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ ” ولقد اخذنھم الخ “ ضمیر مفعول سے مشرکین مراد ہیں اور عذاب سے وہ قحط مراد ہے جو سات سال تک مکہ میں ان پر مسلط رہا ھو القحط والجوع الذی اصابھم بدعاء رسول اللہ ﷺ وھذا مروی عن ابن عباس وابن جریج (بحر ج 6 ص 415) ۔ ان کی سرکشی اور ضد وعناد کی انتہا ہے کہ سات سال تک قحط کے شدید عذاب میں مبتلا رہے مگر ایک بار بھی اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اور زاری نہ کی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔ تدبرفی القرآن : اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّہِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُوْنَ۝ 76 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–83

ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اَخَذْنٰـھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ۔ (المومنون : 76) (ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انھیں تکلیف میں مبتلا کیا تو پھر بھی اپنے رب کی بارگاہ میں نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ ) مشرکین کی حالت سے تائید سابقہ آیت کریمہ میں جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے حالات سے اس کی تائید کی گئی ہے کہ موجودہ حالات میں کس بری طرح سے یہ لوگ قحط کی سختیوں میں مبتلا کیے گئے۔ پانی کے جوہڑ تک ختم ہوگئے، کہیں ہریاول کا نام تک نہ رہا، اشیائے خوردنی اس حد تک کمیاب ہوگئیں کہ لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ بایں ہمہ ان لوگوں کی سرکشی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–76

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کا کردار اور انجام۔ قیامت کا انکار کرنے والا شخص نہ صرف صراط مستقیم سے منحرف ہوجاتا ہے بلکہ اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس پر کرم فرما کر اسے کسی مصیبت سے نجات دے تو وہ اپنے رب کا مطیع اور شکرگزار ہونے کے بجائے سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنے گناہوں اور سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بڑی مصیبت میں گرفتار کرتا ہے لیکن اپنے گناہوں میں اندھا ہونے کی وجہ سے ایسا شخص اپنے رب کے حضور توبہ کرنے اور گڑگڑانے کے لیے تیار نہیں ہوتا بالآخر اللہ تعالیٰ اس پر شدید عذاب نازل کرتا ہے اس قسم کے لوگ اپنے رب سے بخشش اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

76: وَلَقَدْ اَخَذْ نٰھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ (اور ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا تب بھی انہوں نے اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی اختیار کی نہ گڑگڑائے) اس سے اس بات پہ استشہاد پیش کیا کہ ہم نے اولاً ان کو تلواروں سے پکڑا۔ اور بدر کے دن جو ان کے صنادید کے ساتھ قتل و قید کی صورت میں پیش آیا۔ مگر اس سب کے باوجود ان کی طرف سے رجوع اور توبہ نہیں پائی گئی۔ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ( اور نہ وہ گڑ گڑائے) یہ ان کی دو امی حالت کی تعبیر ہے کہ وہ تو ابھی تک سابقہ روش پر ہیں۔ اسی لیے ماتضرعوا نہیں کہا بلکہ مضارع استعمال فرمایا گیا۔ استکان یہ استفعل کے وزن پر کون مصدر سے بنایا گیا ہے۔ ای…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

76۔ ولقد اخذناھم بالعذاب ، نبی کریم نے قریش کے لیے یہ دعا کی کہ اللہ ان پر یوسف کے زمانے کی طرح ان پر قحط نازل فرما۔ اللہ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ ابوسفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کیا، محمد میں تم کو اللہ کا اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں۔ اب توہم اون اور خون بھی کھانے لگے بھوک سے انتہائی مجبور ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فمااستکانوا لربھم۔ انہوں نے توبہ کی اور نہ ہی انہوں نے اللہ کے سامنے عاجزی کی۔ ومایتضرعون، یعنی انہوں نے اپنے رب سے عاجزی اور خشوع نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–77

76۔ 77:۔ معتبر سند سے نسائی ‘ مستدرک حاکم اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش مکہ نے جب آنحضرت ﷺ سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا ‘ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان ؓ نے آنحضرت ﷺ سے آن کر کہا کہ آپ ﷺ تو رحمتہ للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ قریش تو آپ ﷺ کے قرابت دار ہیں ‘ اب قریش کا یہ حال ہے کہ جو نہ کھانے کی چیز تھیں وہ سب کھاچکے ‘ ذرا ہماری غم خواری فرمائیے اور اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ بلا دفع ہو آپ ﷺ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتا رہا ‘ قحط کے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–77

“ آیت نمبر (75 یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کردیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

95 تنبیہی عذاب کا تقاضا اپنے رب کے حضور جھکنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ایسوں کو طرح طرح کے تنبیہی عذابوں میں پکڑا " مگر ان کا حال یہ تھا کہ مصیبت آنے پر ایسے لوگ نہ اپنے رب کے حضور جھکے نہ عاجزی کی۔ بلکہ یہ کفر و سرکشی کی اپنی سابقہ روش پر برابر اڑے رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں تک کہ یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ تکلیفوں پر انسان کے اندر فروتنی اور عاجزی کا نہ پیدا ہونا اور اپنے رب کے حضور نہ جھکنا بڑے ہی خسارے کا سودا ہے۔ کہ اس سے انسان بالآخر اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے جس سے پھر بچنے اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اوپر والی آیت کریمہ میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

5 ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جس زمانہ میں قریش قحط میں مبتلا تھے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے کہا : ” کیا آپ کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں وہ بولے “ (مگر) آپ ﷺ نے تو آباء کو تلوار سے اور ابناء (بیٹوں) کو بھوک سے مار ڈالا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن جریر) 6 ۔ مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور بدر کے دن کا بھی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 75–76

(23:75) ولو رحمناہم۔ اور اگر ہم ان پر رحم (بھی) کریں۔ وکشفنا مابہم من ضر۔ اور (اگر ہم) ان کو جو تکلیف ہے وہ بھی دور کردیں۔ للجوا۔ لجاج ولجاجۃ سے (سمع۔ ضرب) سے ماضی بمعنی مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو کہتے ہیں۔ للجوا۔ وہ ضرور اڑے رہیں گے۔ جمے رہیں گے۔ مصر رہیں گے۔ للجوا فی طغیانہم۔ اپنی گمراہی پر جمے رہیں گے۔ یعمھون عمہ یعمہ (فتح) عمہ یعمہ (سمع) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عمہ عموہ۔ مصدر۔ گمراہی میں بھٹکنا۔ للجوا فی طغیانہم یعمھو۔ پھر بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکنے میں اصرار کرتے رہیں گے۔ ما استکانوا۔ ما نفی کے لئے ہے۔ (استکانوا) ماضی جمیع مذکر غائب۔ باب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–77

(ف 1) سات سالہ قحط اور حضور کی دعا سے باران رحمت کا ذکر۔ شان نزول : جس کا یہ حاصل ہے کہ قریش مکہ نے جب نبی سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان نے نبی ﷺ سے آکر کہا کہ آپ تو رحمت للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں قریش تو آپ کے قرابت دار ہیں اب قریش کا یہ حال ہے کہ نہ کھانے کی چیزیں یعنی ہڈیاں اور مردار بھی کھاگئے ذراہماری غم خواری فرمائیں اور اللہ سے دعا کیجئے یہ بلا دفع ہو، آپ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتارہا ، قحط کے جاتے ہی قریش نے پھر وہی سرکشی شروع کردی، اس قحط کے ذکر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–77

(ف 4) اس عذاب کے تین میں مفسرین کا اختلاف ہے اور مندرجہ ذیل واقعات اس سلسلے میں بیان کئے جاتے ہیں ۔ ، 1۔ ثمامہ بن اثال نے جب اسلام قبول کیا ، تو اس نے یمامہ جا کر مکہ والوں کا غلہ روک لیا ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ سخت قحط پڑا ، اور بڑے بڑے صنادید قریش بھی مارے جھوک کے بلبلا اٹھے ، ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا ، کیا آپ رحمۃ اللعالمین نہیں ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا تو اللہ سے دعا کیجئے ، قحط دور ہو ، حضور ﷺ کا دریائے رحمت جوش میں آگیا آپ نے دعا کی اور قحط دفع ہوگیا ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ 2۔ بدر کے دن جو ذلت ورسوائی قریش کے حصہ میں آئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ باوجود شکست فاش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) اور یقیناً ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا اور عذاب میں گرفتار کیا مگر اس پر بھی نہ تو انہوں نے اپنے پروردگار کے روبرو فروتنی اختیار کی اور نہ اس کے سامنے گڑ گڑائے اور عاجزی کا اظہار کیا یعنی ان کی حالت اور ان کے واقعات شاہد ہیں کہ ہم نے ان اہل مکہ پر مختلف مصائب نازل فرمائے مگر انہوں نے اپنی حالت نہیں بدلی شاید جنگ بدر کی طرف اشارہ ہو یا عام تکالیف قحط اور بیماری وغیرہ کو فرمایا۔ بہرحال ! یہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے نہ خدا کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کی نہ اس کے سامنے گڑگڑائے جب مصائب کے وقت ان کا یہ حال ہے تو مہربانی کی حالت میں ان کا خود اندازہ کرلو۔ ببیں زبہار من…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–77

ف 5۔ اور وہ قول وقرار جو مصیبت میں کئے تھے، سب گاو خورد ہوجاویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان پر عذاب مسلط ہوگیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے عاجزی اختیار نہ کی : 76۔ فرمایا یہ صرف قریش مکہ ہی کی حالت نہیں ان سے پہلے بھی بہت سی قومیں اور جماعتیں گزرچکی ہیں جن کو ہم نے سخت سے سخت عذاب میں پکڑا لیکن اس کے باوجود انکی گردنیں نہ جھکیں اور وہ یہی کہتے رہے کہ ایسا ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس لئے تاریخ شاہد ہے کہ اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اس لئے قریش مکہ کو بھی اس طرح کی تنبیہات سے کچھ سبق حاصل نہیں ہوگا اس لئے آپ ان کے ساتھ کوئی ایسی توقع وابستہ نہ رکھیں ، گزشتہ قوموں اور ان کے رسولوں کا تذکرہ پڑھ کر سنایا گیا ہے اس لئے آپ کو خیال رکھنا چاہئے کہ لاتوں کے بھوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–87

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّ‌عُونَ And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76) In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

72. The affliction alluded to in this verse was the famine which occurred in Makkah some time after the advent of Prophethood. According to Abdullah bin Masud, when the Quraish persistently refused to accept the invitation of the Prophet (peace be upon him) and started putting up stiff resistance, he prayed: O Allah, help me against them with a seven year famine like the seven year famine of the time of Prophet Joseph. So a severe famine started in Makkah with the result that people were obliged to eat carrion. This famine has been alluded to in a number of Makki Surahs. For instance see…

Read the full tafseer →