Explained with ayahs 68–75
قرآن کریم سے فرار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة الْمُؤْمِنُوْن 72
اشارہ ہے اس تکلیف و مصیبت کی طرف جس میں وہ قحط کی بدولت پڑے ہوئے تھے۔ اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد۔ دوسرا، ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال نے یمامہ سے مکہ کے طرف غلے کی بر آمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔ اس کے متعلق صحیحین میں ابن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب قریش نے نبی ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…
Read the full tafseer →آنحضرت کو تسلی تاریخ کی روشنی میں
اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، شرط میں سے کچھ حصہ، بربنائے وضاحت قرینہ حذف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ اگر ہم ان کو بطور تنبیہ کسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ ان کے اندر کچھ خوف خدا اور تضرح پیدا ہو، پھر ان پر رحم کرتے اور ان کی مصیبت دور کردیتے تو یہ پھر اپنی اسی سرکشی میں پڑے ہوئے اسی طرح بھٹکتے رہتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ذہنیت کے لوگوں کو عذاب کی نشانیاں بھی، جن کا یہ مطالبہ کرتے ہیں، کوئی نفع نہیں پہنچاتیں۔ اگر ان سے ان کی گردنوں میں ذرا خم پیدا ہوتا بھی ہے تو محض وقتی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ مصیبت کے دن گزرتے ہیں ان کے لیڈر یہ سبق…
Read the full tafseer →75-1اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں جو بغض وعناد تھا اور کفر و شرک کی دلدل میں جس طرح وہ پھنسے ہوئے تھے، اس میں ان کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
26: اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو جھنجھوڑنے کے لیے وہ ایک مرتبہ انہیں قحط اور معاشی بدحالی میں مبتلا کیا۔ یہ آیت کسی ایسے ہی موقع پر نازل ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور…
Read the full tafseer →1 یعنی تکلیف سے نکال کر آرام دیں۔ تب بھی احسان نہ مانیں اور شرارت و سرکشی سے باز نہ آئیں۔ حضرت کی دعا سے ایک مرتبہ مکہ والوں پر قحط پڑا تھا، پھر حضرت ہی کی دعا سے کھلا۔ شاید یہ اسی کو فرمایا، یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم اپنی رحمت سے ان کے نقصان کو دور کردیں۔ یعنی قرآن کی سمجھ دے دیں۔ تب بھی یہ لوگ اپنے ازلی خسران اور سوء استعداد کی وجہ سے اطاعت وانقیاد اختیار کرنے والے نہیں کمال قال تعالیٰ (وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) 8 ۔ الانفال :23)
Read the full tafseer →آیت 75 وَلَوْ رَحِمْنٰہُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ”
ان الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ اس سورت کے نزول کے زمانہ میں اہل مکہّ کسی مصیبت میں گرفتار تھے۔ سورة الانعام اور سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا ذکر گزر چکا ہے جس کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے تھے اور انہیں مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا کیا جاتا تھا تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور ان کے ذہن حق کی دعوت پر غور و فکر کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
75 یعنی وہ ایسی موٹی موٹی باتیں ہیں جو ہر پیغمبر پر وحی کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں کوئی ایچ پیچ نہیں۔ کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں۔ ان کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ جو ایک دیہاتی اور بدو کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ مثلاً ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے ؟ کہنے لگا : ہاں ہے ! پوچھنے والے نے دوبارہ وال کیا بھلا کیسے ؟ بدو کہنے لگا : اگر ہم راہ میں کوئی اونٹ کی مینگنی پڑی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہاں سے یقیناً کوئی اونٹ گزرا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کائنات کا اتنا وسیع کارخانہ دیکھتے ہیں لازماً اس نتیجہ…
Read the full tafseer →71۔ اس حد تک ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے اور کفر انکار پر اتنا جمود انہیں ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →ولو رحمنہم وکشفنا مابہم من ضر للجوا فی طغیانہم یعمہون۔ اور اگر ہم ان پر
مہربانی کردیتے اور ان کو جو تکلیف ہے اس کو دور کردیتے تب بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکتے سرگرداں پھرتے رہتے۔
ضُرٍّ (دکھ) یعنی وہ عذاب جس میں خوشحال لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا خواہ اس سے مراد جنگ بدر میں مارا جانا ہو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس کا قول ہے یا قحط مراد ہو ‘ جیسا کہ ضحاک کا قول ہے ‘ یہ دونوں قول اوپر ذکر کردیئے گئے ہیں۔
لَّلَجُّوْاتب بھی یہ اڑے رہیں۔ دشمنی پر جمے رہیں۔
فِیْ طُغْیَانِہِمْ یعنی اپنے غرور اور حد سے بڑھے ہوئے کفر اور رسول اللہ ﷺ : کی دشمنی میں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر رحم نہیں کیا اور اگر مہربانی کر…
Read the full tafseer →(75) اور اگر ہم ان مکہ والوں پر مہربانی فرما دیں اور ان کو بھوک کی جو تکلیف ہے اس کو ہم دور بھی کردیں تو یہ لوگ پھر بھی کفر اور گمراہی میں بھٹکتے رہیں گے کہ حق اور ہدایت ان کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ۔۔ : اس آیت کی ایک تفسیر وہ ہے جو ابن عاشور نے ”التحریر والتنویر“ میں اور بقاعی نے ”نظم الدرر“ میں فرمائی ہے۔ روح المعانی میں بھی اسے ایک امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کا عطف آیت (64) : (حَتّيٰٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بالْعَذَابِ اِذَا هُمْ يَجْــــَٔــرُوْنَ) (یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے، اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے) پر ہے اور اس آیت اور اس آیت کے درمیان کی آیات جملہ ہائے معترضہ ہیں، جن سے مقصود ان کے خلاف دلائل کا ذکر اور ان کے عذر بہانے ختم کرنا ہے۔ یعنی اگر ہم ان کے چیخنے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 75 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و لو رحمنھم وکشفنا ما بھم من ضر یعنی اگر ہم انہیں د نیا کی طرف لوٹادیں اورا نہیں دوزخ میں داخل نہ کریں اور ہم پھر انہیں آزمائیں۔ للجو فی طغیانھم سدی نے کہا : وہ اپنی معصیتوں میں بڑھتے جائیں گے۔ یعمھون یعنی وہ سرگرداں رہیں گے۔ ابن جریح نے کہا : ولو رحمنھم یعنی دنیا میں اگر ان پر مہربانی کریں وکشفامابھم من ضر اور قحط اور بھوک ان سے دور کردیں۔ للجو فی طغیانھم تو یہ اپنی گمراہی اور حد سے تجاوز کرنے میں سرکش ہوتے جائیں گے۔ یعمھون بدحواس اور متذبذب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔
4۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →وَلَوْ (اور اگر) رَحِمْنٰهُمْ ( ہم رحم کریں ان پر) وَ (اور) كَشَفْنَا (ہم دور کردیں ) مَا (جو) بِهِمْ (ان کو) مِّنْ ضُرٍّ ( کوئی تکلیف) لَّـــلَجُّوْا ( ضرور اصرار کریں) فِي طُغْيَانِهِمْ (اپنی سرکشی میں ) يَعْمَهُوْنَ (وہ سب بھٹکتے رہیں )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں
یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔
(1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
63:۔ ” و ان الذین الخ “ ان لوگوں کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہے نہ حساب آخرت کا ڈر اس لیے وہ علانیہ دین حق سے اعراض کرتے ہیں۔ ” ولو رحمنھم الخ “ ان کی سرکشی اور ضد اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ اگر ہم ان پر مہربانی فرما دیں اور انہیں مصائب سے نجات دے دیں تو وہ حق کو ماننے کے بجائے سرکشی، ضد وعداوت اور بغض و حسد میں اور آگے بڑھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…
Read the full tafseer →وَلَوْ رَحِمْنٰہُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُوْنَ 75
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه»
( ر ح م ) الرحم ۔
الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →وَلَوْ رَحِمْنٰـھُمْ وَکَشَفْنَا مَابِھِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔
(المومنون : 75)
(اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف دور کردیں جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں تو یہ اپنی سرکشی میں اندھے بنے ہوئے بڑھتے جائیں گے۔ )
مشکل الفاظ :۔ لَجُّوْا، اللجاج التمادی فی العناد وتعاطی الفعل المزجور عنہ۔
یعنی عناد و مخالفت میں بڑھے چلے جانا اور جس فعل سے روکا جائے اس کا ارتکاب کرنا۔
یَعْمَھُوْنَ : العمہ، التردد فی الامر من حیرۃٍ ۔ حیرت سے کسی کام میں متردد ہونا۔
حق کے مسلسل انکار کے نتائج
آخرت سے مسلسل انکار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی سے بےنیازی نے ان کی سیرت و کردار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کا کردار اور انجام۔
قیامت کا انکار کرنے والا شخص نہ صرف صراط مستقیم سے منحرف ہوجاتا ہے بلکہ اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس پر کرم فرما کر اسے کسی مصیبت سے نجات دے تو وہ اپنے رب کا مطیع اور شکرگزار ہونے کے بجائے سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنے گناہوں اور سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بڑی مصیبت میں گرفتار کرتا ہے لیکن اپنے گناہوں میں اندھا ہونے کی وجہ سے ایسا شخص اپنے رب کے حضور توبہ کرنے اور گڑگڑانے کے لیے تیار نہیں ہوتا بالآخر اللہ تعالیٰ اس پر شدید عذاب نازل کرتا ہے اس قسم کے لوگ اپنے رب سے بخشش اور…
Read the full tafseer →کفار کی ضد کا حال :
75: وَلَوْ رَحِمْنٰھُمْ وَکَشَفْنَامَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ (اگر ہم ان پر مہربانی کردیتے اور ان کی تکلیف کو دور کردیتے) جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو قحط کے ساتھ پکڑا تو خون اور اون سے تیار شدہ کھانا ان کو کھانا پڑا ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور رحم کا واسطہ دیتا ہوں۔ کیا تمہارا خیال نہیں کہ تم جہان والوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہو آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا۔ تم نے آباء کو تلوار سے قتل کیا اور اولاد کو بھوک سے ؟ پس یہ آیت اتری : ( ذکرہ الواحدی فی اسباب النزول) مطلب یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ تکلیف ان سے دور کر دے…
Read the full tafseer →75۔ ولورحمناھم وکشفنا مابھم من ضر، اس سے مراد قحبط ہے ۔ للجواتب بھی یہ اڑے رہے۔ فی طغیانھم یعمھون، اور وہ اس سے چھٹکارا نہیں پاسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
“ آیت نمبر (75
یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کردیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →94 سرکشوں کے لیے کوئی نشانی کارگر نہیں ہوتی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " سرکش لوگوں کا اپنی سرکشی ہی پر اصرار رہا جس کے نتیجے میں آخرکار وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور مصیبت کے وقت توبہ اور اصلاح کے جو وعدے ان لوگوں نے کئے ہوتے ہیں ان سب کو یہ بھول جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کی مصیبتوں سے جو کہ اصل میں انسان کو جھنجھوڑنے کیلئے ہوتی ہیں ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں کوئی خم نہیں آتا۔ اور یہ اپنے خالق ومالک کی طرف جھکنے اور راہ حق وصواب کو اپنانے کی بجائے اپنی سرکشی اور بےراہ روی ہی پر اڑے رہتے ہیں اور طرح طرح کی منطق اور فلسفے بگھارنے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →3 ۔ اور قرآن بھی ان کے فہم میں اتار دیں۔ یہاں ” ضر “ سے مراد ہے اس قحط کی تکلیف جس میں قریش آنحضرت ﷺ کی بددعا سے مبتلا ہوئے تھے۔ اس قحط کا متعدد روایات میں ذکر آیا ہے صحیحین میں ہے کہ جب قریش کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں بددعا فرمائی : اللھم اعنی علیھم بسبع کسبع یوسف۔ اے اللہ ! میری ان کے مقابلہ میں ایسے ہفت سالہ قحط سے مدد فرما۔ جیسا قحط یوسف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ (شوکانی) 4 ۔ کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے جو مصیبت ٹلتی ہے اپنے ہی حسن انتظام سے ٹلتی ہے۔ خدا کا اس کے ٹالنے میں کوئی احسان نہیں ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(23:75) ولو رحمناہم۔ اور اگر ہم ان پر رحم (بھی) کریں۔ وکشفنا مابہم من ضر۔ اور (اگر ہم) ان کو جو تکلیف ہے وہ بھی دور کردیں۔ للجوا۔ لجاج ولجاجۃ سے (سمع۔ ضرب) سے ماضی بمعنی مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو کہتے ہیں۔ للجوا۔ وہ ضرور اڑے رہیں گے۔ جمے رہیں گے۔ مصر رہیں گے۔ للجوا فی طغیانہم۔ اپنی گمراہی پر جمے رہیں گے۔ یعمھون عمہ یعمہ (فتح) عمہ یعمہ (سمع) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عمہ عموہ۔ مصدر۔ گمراہی میں بھٹکنا۔
للجوا فی طغیانہم یعمھو۔ پھر بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکنے میں اصرار کرتے رہیں گے۔ ما استکانوا۔ ما نفی کے لئے ہے۔ (استکانوا) ماضی جمیع مذکر غائب۔ باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →(ف 3) کفار کی نفسیات کفر کی تشریح فرمائی ہے ، کہ یہ لوگ لا بد تمرد ، وسرکشی میں سرگردان رہیں گے ، ہم اگر ان کو اپنی آغوش رحمت میں بھی لے لیں ، ان کے جرائم سے درگزر کریں ، اور عذاب کو ٹال دیں ، جب بھی ان کی کیفیت یہی رہے گی ، کہ ادھر عذاب دور ہوا ، ادھر یہ اسی کفر والحاد میں پھر مبتلا ہوگئے ۔
Read the full tafseer →(75) آگے ان کی جہالت اور احسان فراموشی کی حالت اور متکبرانہ عادت کو اور واضح فرماتا ہے اور اگر ہم ان پر رحم اور مہربانی فرمائیں اور ان پر جو تکلیف ہے اس کو دور بھی کردیں تو یہ لوگ بحالت تحیر و تردد اپنی سرکشی میں اور اصرار کرنے لگیں کفار کی یہ عام عادت ہے کہ مصیبت ک وقت مخلص بن کر خدا کو پکارتے ہیں اور جب وہ تکلیف اور مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ آیت میں شاید اس قحط کی طرف اشارہ ہو جو حضور ﷺ کی دعا سے مکہ والوں پر مسلط ہوا تھا یا عام اشارہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ کی دعا سے ایک بار مکہ کے لوگوں پر قحط پڑا تھا پھر حضرت ﷺ ہی کی دعا سے کھلا شاید اسی کو فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ف 5۔ اور وہ قول وقرار جو مصیبت میں کئے تھے، سب گاو خورد ہوجاویں۔
Read the full tafseer →یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان پر رحم کیا جائے تو یہ سرکشی میں مزید بڑھیں گے :
75۔ بلاشبہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو وہ ذرا رک کر سوچتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا کہ ہم مصیبت میں مبتلا ہوگئے لیکن یہ لوگ ایسے نہیں ہیں جن کو اس طرح کی کوئی سوچ آئے گی تاکہ ان کو کسی مصیبت میں مبتلا کرکے ان کی سوچ بدل دی جائے ہرگز نہیں اگر ان کے ساتھ کوئی ایسی صورت اختیار کی بھی گئی تو یہ سرکشی میں مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے ، پھر جب وہ وقت آیا تو بلاشبہ ایسا ہی ہوا غور کیجئے کہ قریش مکہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کیا حالانکہ آپ ﷺ سراسر ان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ
Or did they not recognize their messenger? - 23:69.
One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
72. The affliction alluded to in this verse was the famine which occurred in Makkah some time after the advent of Prophethood. According to Abdullah bin Masud, when the Quraish persistently refused to accept the invitation of the Prophet (peace be upon him) and started putting up stiff resistance, he prayed: O Allah, help me against them with a seven year famine like the seven year famine of the time of Prophet Joseph. So a severe famine started in Makkah with the result that people were obliged to eat carrion. This famine has been alluded to in a number of Makki Surahs. For instance see…
Read the full tafseer →