Explained with ayahs 68–75
قرآن کریم سے فرار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 71
یعنی آخرت کے انکار نے ان کو غیر ذمہ دار، اور احساس ذمہ داری کے فقدان نے ان کو بےفکر بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب وہ سرے سے یہی نہیں سمجھتے کہ ان کی اس زندگی کا کوئی مآل اور نتیجہ بھی ہے اور کسی کے سامنے اپنے اس پورے کارنامہ حیات کا حساب بھی دنیا ہے، تو پھر انہیں اس کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ جانوروں کی طرح ان کی بھی غایت مقصود بس یہ ہے کہ ضروریات نفس و جسم خوب اچھی طرح پوری ہوتی رہیں۔ یہ مقصود حاصل ہو تو پھر حق و باطل کی بحث ان کے لیے محض لایعنی ہے۔ اور اس مقصد کے حصول میں کوئی خرابی رونما ہوجائے تو زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ سوچیں گے وہ صرف یہ کہ اس خرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 74-73
صراط مستقیم سے انحراف کی اصل علت
یعنی جہاں تک تمہاری دعوت کا تعلق ہے وہ تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے۔ اسی شاہراہ پر چل کر انسان منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے لیکن اس کو اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ اگر آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو آخر اس کو کیا پڑی ہوئی ہے کہ وہ اپنے نفس کی آزادیوں اور بےقیدگیوں پر پہرہ بٹھائے۔ اپنی نقد لذتوں کی قربانی تو وہی دے سکے گا جس کو ایک روز جزا کا انتظار ہو۔ جس کو اس قسم کے کسی دن کا انتظار نہیں ہے وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے چلے گا خواہ ان کی پیروی میں وہ صراط مستقمس سے کتنا ہی دور نکل جائے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ پر…
Read the full tafseer →74-1یعنی صراط مستقیم سے انحراف کی وجہ آخرت پر عدم ایمان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وان الذین لا یومنون بالا خرۃ عن الصراط لنکبون (23 : 73) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں “۔ اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو وہ اپنے دل دماغ اس زندگی پر غور کرتے ، جس کے نتیجے میں انسانی حتمی طور پر آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ایک ایسے جہان کا وہ ضرور قائل ہوجاتا ہے جس میں یہ زندگی اپنی نہایت ہی مکمل حالت میں ہوگی اور جس کے اندر لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا کیونکہ آخرت ناموس کائنات کا ایک آخری حلقہ ہے جس میں اللہ کی تدبیر کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔
یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جو رراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اگر ان کو بہت دولت دی جائے اور آزمایا جائے تو بھی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
12 یعنی آپ کے صدق و امانت کا حال سب کو معلوم ہے۔ جو کلام آپ لائے اس کی خوبیاں اظہر من الشمس ہیں۔ معاذ اللہ آپ ﷺ کو خلل دماغ نہیں، ان سے کسی معاوضہ کے طالب نہیں، جس راستہ کی طرف آپ ﷺ بلاتے ہیں بالکل سیدھا اور صاف راستہ ہے جس کو ہر سیدھی عقل والا بسہولت سمجھ سکتا ہے کوئی ایچ پیچ نہیں ٹیڑھا ترچھا نہیں۔ ہاں اس پر چلنا ان ہی کا حصہ ہے جو موت کے بعد دوسری زندگی مانتے ہوں اور اپنی بدانجامی سے ڈرتے ہوں، جسے انجام کا ڈر اور عاقبت کی فکر ہی نہیں وہ کب سیدھے راستہ پر چلے گا، یقینا ٹیڑھا رہے گا۔ اور سیدھی سی بات کو بھی اپنی کجروی سے کج بنا لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
آیت 72 اَمْ تَسْءََلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌق وَّہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ”
دراصل یہاں ان الفاظ میں خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ مشرکین مکہّ سے ہے کہ عقل کے اندھو ‘ ذرا سوچو تو ! تمہارے شاعر اور قصہ گو تو تم لوگوں سے اجر و انعام چاہتے ہیں۔ مگر تم نے محمد ﷺ کی زبان سے کبھی ایسی کوئی بات سنی ہے ؟ کبھی آپ ﷺ نے اپنی اس خدمت کے عوض تم سے کوئی اجرت طلب کی ہے ؟ ان کو تو ان کے رب کی طرف سے جو اجر و انعام ملنے والا ہے وہ پوری دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
75 یعنی وہ ایسی موٹی موٹی باتیں ہیں جو ہر پیغمبر پر وحی کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں کوئی ایچ پیچ نہیں۔ کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں۔ ان کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ جو ایک دیہاتی اور بدو کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ مثلاً ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے ؟ کہنے لگا : ہاں ہے ! پوچھنے والے نے دوبارہ وال کیا بھلا کیسے ؟ بدو کہنے لگا : اگر ہم راہ میں کوئی اونٹ کی مینگنی پڑی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہاں سے یقیناً کوئی اونٹ گزرا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کائنات کا اتنا وسیع کارخانہ دیکھتے ہیں لازماً اس نتیجہ…
Read the full tafseer →70۔ (وہ تو ہر سیدھی بات کو ٹیڑھی بنا لیں گے) ہدایت کی طلب دل میں جبھی پیدا ہوتی ہے۔ جب پہلے آخرت کا یعنی اس ” آج “ کے بعد ایک ” کل “ کے ظہور کا یقین ہولے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →وان الذین لا یومنون بالاخرۃ عن الصراط لنکبون۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ
بلاشبہ سیدھے راستے سے ہٹتے جا رہے ہیں۔
الصِّرَّاط میں الف لام عہدی ہے یعنی سیدھا راستہ۔ لَنٰکِبُوْنَ مڑ رہے ہیں ‘ ان میں استعداد اور صلاحیت ہی نہیں ہے ان کی تخلیق ہی اللہ کے اسم مضل کے پَر تو سے ہوئی ہے۔ ان کے لئے سیدھے راستے پر چلنا ممکن ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(74) اور ان لوگوں کی جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے یہ حالت ہے کہ وہ دین خداوندی سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ : یعنی سیدھے راستے سے ہٹنے کا اصل باعث آخرت پر ایمان کا نہ ہونا ہے۔ اگر پختہ یقین ہو کہ آخرت کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو ممکن نہیں کہ آدمی صحیح راستہ جاننے کے بعد غلط راستوں پر چلتا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر 73-74
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و انک لتدعوھم الیٰ صراط مستقیم۔ یعنی آپ انہیں دین قیم کی طرف بلاتے ہیں۔ الصراط کا لغوی معنی راستہ ہے۔ دین کو راستہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جنت تک پہنچاتا ہے پس یہ اس کا راستہ ہے۔ وان الذین لا یومنون بالاخرۃ یعنی وہ دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے۔ عن الصراط لناکبون۔ بعض نے کہا یہ پہلے کی مثل ہے۔ بعض نے کہا : وہ جنت کے راستہ سے ہٹ جانا دوسری طرف مائل ہوجانا اس سے ہے : نکبت الریح جب وہ گزرگاہ پر سیدھی نہ چلے۔ شرالریح النکباء سب سے بری ہوا وہ ہے جو الٹی چلنے والی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔
4۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →وَ اِنَّ (اور بیشک ) الَّذِيْنَ (جو) لَا يُؤْمِنُوْنَ (نہیں وہ سب ایمان رکھتے) بِالْاٰخِرَةِ (آخرت پر) عَنِ الصِّرَاطِ ( راستے سے) لَنٰكِبُوْنَ (یقینا سب انحراف کرنے والے )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں
یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔
(1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
63:۔ ” و ان الذین الخ “ ان لوگوں کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہے نہ حساب آخرت کا ڈر اس لیے وہ علانیہ دین حق سے اعراض کرتے ہیں۔ ” ولو رحمنھم الخ “ ان کی سرکشی اور ضد اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ اگر ہم ان پر مہربانی فرما دیں اور انہیں مصائب سے نجات دے دیں تو وہ حق کو ماننے کے بجائے سرکشی، ضد وعداوت اور بغض و حسد میں اور آگے بڑھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…
Read the full tafseer →وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ 74
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
وَاِنَّکَ لَتَدْعُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوْنَ ۔ (المومنون : 73، 74)
(بےشک آپ انھیں ایک سیدھی راہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ )
مشرکین کا اصل مرض
اس آیت کریمہ میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ نہ آپ کی دعوت میں کوئی کجی ہے اور نہ دعوتی جدوجہد میں کوئی کوتاہی ہے بلکہ آپ کی دعوت تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے اور اسی شاہراہ پر چل کر ہی انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ قریش کی مخالفت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ اس شاہراہ کے مسافر نہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
فہم القرآن
ربط کلام : ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے۔
اس سے پہلے کفار سے مخصوص انداز میں استفسار فرما کر ان پر حق واضح کیا گیا اب سرور دو عالم ﷺ سے ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر کیا آپ دعوت کے کام پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں ؟ کہ جس بنا پر انہیں آپ کی ذات اور بات بوجھ محسوس ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ آپ ان سے ایک پائی کے طلبگار نہیں ہیں آپ تو محض اپنے رب کے حکم اور اس کی رضا کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے دکھ پر دکھ اٹھا رہے ہیں۔ اے محبوب ﷺ اطمینان خاطر رکھیے آپ کے لیے آپ کے رب کی طرف سے دیا ہوا رزق دنیا کے رزق اور…
Read the full tafseer →74: وَاِنَّ الَّذِیْن لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُوْنَ (اور بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راستہ سے ہٹنے والے ہیں) وہ اس مذکورہ راستہ سے عدول کرنے والے ہیں۔ اور حالانکہ وہ صراط مستقیم ہے۔
Read the full tafseer →74۔ وان الذین لایومنون بالاخرۃ عن الصراط، اس سے مراد دین حق ہے۔ لنکبون، وہ عادل اور ان کی طرف مائل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر (73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فردً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ انہوں نے قرآن میں غورو فکر نہیں کیا ‘ وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول ﷺ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اہنیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔۔
اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا ‘ جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →93 عقیدئہ آخرت اصلاح احوال کی اصل اساس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عقیدئہ آخرت اصلاح احوال اور سعادت دارین سے سرفرازی کے لیے اصل اساس اور شاہ کلید ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ قطعی طور پر سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور جو سیدھی راہ ہی سے محروم ہوں۔ ان کی اصلاح کی صورت اور اس کی توقع ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ عقیدئہ آخرت انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی شہ کلید ہے۔ جبکہ عقیدئہ آخرت کے بغیر انسان کو نہ صحیح راہ مل سکتی ہے اور نہ ہی اس کی زندگی سدھر سکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی چونکہ انہیں اس چیز کی فکر ہی نہیں کہ کل ہمیں کس انجام اور کس حساب و کتاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس لئے وہ تحیر اور ضلالت کا شکار ہو رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(23:74) لنکبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ پھرجانے والے۔ مڑ جانے والے۔ ہٹ جانے والے۔ راہ راست سے منحرف ہونے والے۔ نکب ینکب۔ (نصر) نکب ینکب (سمع ) نکوب مصدر۔ پھرجانا۔ مڑ جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ حضور ﷺ لوگوں سے روپیہ بٹورنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے بلکہ سراسر بےنیاز تھے اور مخلصانہ طور پر لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب دعوت دیتے تھے مگر یہ لوگ بےدین اور ملحد ہونے کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن نہ ہو سکے اور گمراہ رہے ۔
Read the full tafseer →(74) اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے عدول کررہے ہیں اور ہٹے جارہے ہیں یعنی جس راہ کی طرف آپ بلا رہے ہیں یہ اس راہ سے ہٹ رہے ہیں اور ٹیڑھے ہورہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
ف 4۔ پس یہ تمام تر وجہ ہے، تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی۔
Read the full tafseer →الٹی چال چلنے والے سیدھے راستہ سے دور ہی ہوتے جائیں گے :
74۔ سیدھی راہ کون چلے گا ؟ جس کو منزل مقصود پر پہنچنا ہے ، اسلام کے نزدیک منزل مقصود کیا ہے ؟ آخرت کی زندگی ۔ پھر جو شخص آخرت کی زندگی کو مانتا اور تسلیم ہی نہیں کرتا اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے نفس کی آزادیوں کو چھوڑے اور اسلام کی قیود کے مطابق زندگی گزارے ‘ اپنی نقد لذتوں کی قربانی تو وہی دے سکتا ہے جس کو اس سے حاصل ہونے کی کچھ امید ہو جس کو کسی آنے والی گھڑی کی امید ہی نہیں وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلے گا تو کیا کرے گا ؟ وہ بجائے سیدھی راہ چلنے کے الٹی راہ چل رہے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ وہ مزید سیدھی راہ سے دور ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ
Or did they not recognize their messenger? - 23:69.
One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…
Read the full tafseer →71. This was the real reason why they were deviating from the right path. As they did not believe in the Hereafter, they thought that no account would be taken from them of what they did in this world. Therefore it did not matter whether they followed the truth or falsehood. Their only aim in life was to gratify the lusts of the flesh and gratify them in the best way possible.
Read the full tafseer →