Al-Muminoon 23:73

Al-Muminoon · from ayah 73

23:73

وَاِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۟وَاِنَّكَ لَـتَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, you invite them to a straight path.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:73

تُو تو ان کوسیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً آپ تو انہیں راه راست کی طرف بلا رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ تم تو انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ تو (انہی کے بھلے کے لئے) انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک تو یقینا انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بلاشبہ آپ انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک تم ان کو ایک سیدھی راہ کی دعوت دے رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ یقینا بلا رہے ہیں ان لوگوں کو حق و ہدایت کے سیدھے راستے کی طرف،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یقیناً آپ تو ان کو سیدھے راستہ کی طرف بلا رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً آپ ﷺ انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم تو ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You are calling them to a Straight Way,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely you are inviting them to a straight path,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely you are inviting them to a straight path,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And certainly, you call them to the straight path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! thou summonest them indeed unto a straight path.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, you invite them to a straight path.

— Saheeh International

(Muhammad), you certainly have called them to the right path,

— Muhammad Sarwar

And most surely you invite them to a right way.

— Muhammad Habib Shakir

And verily thou! thou callest them unto a Path straight.

— Abdul Majid Daryabadi

But verily thou callest them to the Straight Way;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–75

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–73

سورة الْمُؤْمِنُوْن 70 یہ نبی ﷺ کی نبوت کے حق میں ایک اور دلیل ہے۔ یعنی یہ کہ آپ اپنے اس کام میں بالکل بےلوث ہیں۔ کوئی شخص ایمانداری کے ساتھ یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہے ہیں کہ کوئی نفسانی غرض آپ کے پیش نظر ہے۔ اچھی خاصی تجارت چمک رہی تھی، اب افلاس میں مبتلا ہوگئے۔ قوم میں عزت کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ ہر شخص ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔ اب گالیاں اور پتھر کھا رہے ہیں، بلکہ جان تک کے لالے پڑے ہیں۔ چین سے اپنے بیوی بچوں میں ہنسی خوشی دن گزار رہے تھے۔ اب ایک ایسی سخت کشمکش میں پڑگئے ہیں جو کسی دم قرار نہیں لینے دیتی۔ اس پر مزید یہ کہ بات وہ لے کر اٹھے ہیں جس کی بدولت سارا ملک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–75

اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 73–74

آیت 74-73 صراط مستقیم سے انحراف کی اصل علت یعنی جہاں تک تمہاری دعوت کا تعلق ہے وہ تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے۔ اسی شاہراہ پر چل کر انسان منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے لیکن اس کو اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ اگر آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو آخر اس کو کیا پڑی ہوئی ہے کہ وہ اپنے نفس کی آزادیوں اور بےقیدگیوں پر پہرہ بٹھائے۔ اپنی نقد لذتوں کی قربانی تو وہی دے سکے گا جس کو ایک روز جزا کا انتظار ہو۔ جس کو اس قسم کے کسی دن کا انتظار نہیں ہے وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے چلے گا خواہ ان کی پیروی میں وہ صراط مستقمس سے کتنا ہی دور نکل جائے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–73

71-1حق سے مراد دین اور شریعت ہے۔ یعنی اگر دین ان کی خواہشات کے مطابق اترے تو ظاہر بات ہے کہ زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ ایک معبود کے بجائے متعدد معبود ہوں، اگر فی الواقع ایسا ہو، تو کیا نظام کائنات ٹھیک رہ سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–74

25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانک لتد عو ھم الی صراط مستقیم (23 : 73) ” اور تو ‘ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے “۔ آپ ان کو اس ناموس فطرت بلا رہے ہیں اور ان کو اس قافلہ کے ساتھ ہم آہنگ کررہے ہیں اور سیدھا خالق کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کی حالت بی ایسی ہے جس طرح ان تمام لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان نہیں لاتے اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 73–74

12 یعنی آپ کے صدق و امانت کا حال سب کو معلوم ہے۔ جو کلام آپ لائے اس کی خوبیاں اظہر من الشمس ہیں۔ معاذ اللہ آپ ﷺ کو خلل دماغ نہیں، ان سے کسی معاوضہ کے طالب نہیں، جس راستہ کی طرف آپ ﷺ بلاتے ہیں بالکل سیدھا اور صاف راستہ ہے جس کو ہر سیدھی عقل والا بسہولت سمجھ سکتا ہے کوئی ایچ پیچ نہیں ٹیڑھا ترچھا نہیں۔ ہاں اس پر چلنا ان ہی کا حصہ ہے جو موت کے بعد دوسری زندگی مانتے ہوں اور اپنی بدانجامی سے ڈرتے ہوں، جسے انجام کا ڈر اور عاقبت کی فکر ہی نہیں وہ کب سیدھے راستہ پر چلے گا، یقینا ٹیڑھا رہے گا۔ اور سیدھی سی بات کو بھی اپنی کجروی سے کج بنا لے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 72–74

آیت 72 اَمْ تَسْءََلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌق وَّہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ” دراصل یہاں ان الفاظ میں خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ مشرکین مکہّ سے ہے کہ عقل کے اندھو ‘ ذرا سوچو تو ! تمہارے شاعر اور قصہ گو تو تم لوگوں سے اجر و انعام چاہتے ہیں۔ مگر تم نے محمد ﷺ کی زبان سے کبھی ایسی کوئی بات سنی ہے ؟ کبھی آپ ﷺ نے اپنی اس خدمت کے عوض تم سے کوئی اجرت طلب کی ہے ؟ ان کو تو ان کے رب کی طرف سے جو اجر و انعام ملنے والا ہے وہ پوری دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–75

75 یعنی وہ ایسی موٹی موٹی باتیں ہیں جو ہر پیغمبر پر وحی کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں کوئی ایچ پیچ نہیں۔ کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں۔ ان کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ جو ایک دیہاتی اور بدو کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ مثلاً ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے ؟ کہنے لگا : ہاں ہے ! پوچھنے والے نے دوبارہ وال کیا بھلا کیسے ؟ بدو کہنے لگا : اگر ہم راہ میں کوئی اونٹ کی مینگنی پڑی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہاں سے یقیناً کوئی اونٹ گزرا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کائنات کا اتنا وسیع کارخانہ دیکھتے ہیں لازماً اس نتیجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانک لتدعوہم الی صراط مستقیم۔ اور آپ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں یعنی ایسی راہ (زندگی) پر چلنے کی دعوت دے رہے ہیں جس میں کوئی کجی نہیں جس کی استقامت کی شاہد تمام سلیم عقلیں ہیں۔ اللہ نے مذکورۂ بالا آیات میں ان تمام اسباب کی نفی کردی جو دعوت رسول سے انکار کرنے کے موجب بن سکتے تھے۔ راستہ میں کجی نہیں ‘ اس راہ کے مستقیم ہونے کی شاہد ہر عقل سلیم ہے۔ دعوت دینے والے کو کوئی لالچ نہیں ‘ وہ کچھ مال مانگتا نہیں۔ اس دعوت نامے میں ان لوگوں کیلئے شرف بھی ہے جن کو دعوت دی جا رہی ہے ‘ اس لئے انکار دعوت کا سبب سوائے حق سے عداوت رکھنے کے یا دانش کے فقدان کے اور کوئی نہیں اور ازل ہی میں یہ بدبختی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : یعنی ان پانچوں باتوں میں سے ایک کا وجود بھی نہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا سکیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ انھیں بالکل سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، جسے کوئی الٹی سمجھ والا ہی ٹھکرا سکتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 73–74

آیت نمبر 73-74 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و انک لتدعوھم الیٰ صراط مستقیم۔ یعنی آپ انہیں دین قیم کی طرف بلاتے ہیں۔ الصراط کا لغوی معنی راستہ ہے۔ دین کو راستہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جنت تک پہنچاتا ہے پس یہ اس کا راستہ ہے۔ وان الذین لا یومنون بالاخرۃ یعنی وہ دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے۔ عن الصراط لناکبون۔ بعض نے کہا یہ پہلے کی مثل ہے۔ بعض نے کہا : وہ جنت کے راستہ سے ہٹ جانا دوسری طرف مائل ہوجانا اس سے ہے : نکبت الریح جب وہ گزرگاہ پر سیدھی نہ چلے۔ شرالریح النکباء سب سے بری ہوا وہ ہے جو الٹی چلنے والی ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–75

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ (اور) اِنَّكَ (بلا شبہ آپ ) لَتَدْعُوْهُمْ (یقینا آپ بلاتے ہیں انہیں ) اِلٰى (کی طرف ) صِرَاطٍ (راستے) مُّسْتَقِيْمٍ (سیدھے )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–77

منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–77

بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔ (1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–73

62:۔ ” ام تسئلھم الخ “ اور پھر آپ ان سے اس وعظ و تبلیغ اور تعلیم و تدریس پر کوئی اجرت یا تنخواہ بھی نہیں مانگتے۔ اور ان کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) کی طرف دعوت دیتے ہیں جو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کسی ناجائز یا برے کام کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔ مگر اس کے باوجود وہ حق کا انکار کیے جا رہے ہیں۔ ” فخراج ربک خیر “ آپ کو ان مشرکین کی دولت کی کیا ضرورت ہے اس تبلیغ توحید پر اللہ تعالیٰ جو آپ کو اجر دے گا وہ اس سے کہیں بڑھ کر بہتر اور مبارک ہے اور روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے جو پاکیزہ اور حلال روزی اس نے آپ کی قسمت میں لکھ دی ہے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ ای مایعطیک اللہ من رزقہ وثوابہ خیر (خازن و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔ تدبرفی القرآن : اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّكَ لَتَدْعُوْہُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝ 73 دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–75

اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 73–74

وَاِنَّکَ لَتَدْعُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوْنَ ۔ (المومنون : 73، 74) (بےشک آپ انھیں ایک سیدھی راہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ) مشرکین کا اصل مرض اس آیت کریمہ میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ نہ آپ کی دعوت میں کوئی کجی ہے اور نہ دعوتی جدوجہد میں کوئی کوتاہی ہے بلکہ آپ کی دعوت تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے اور اسی شاہراہ پر چل کر ہی انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ قریش کی مخالفت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ اس شاہراہ کے مسافر نہیں جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–74

فہم القرآن ربط کلام : ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ اس سے پہلے کفار سے مخصوص انداز میں استفسار فرما کر ان پر حق واضح کیا گیا اب سرور دو عالم ﷺ سے ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر کیا آپ دعوت کے کام پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں ؟ کہ جس بنا پر انہیں آپ کی ذات اور بات بوجھ محسوس ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ آپ ان سے ایک پائی کے طلبگار نہیں ہیں آپ تو محض اپنے رب کے حکم اور اس کی رضا کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے دکھ پر دکھ اٹھا رہے ہیں۔ اے محبوب ﷺ اطمینان خاطر رکھیے آپ کے لیے آپ کے رب کی طرف سے دیا ہوا رزق دنیا کے رزق اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: وَ اِنَّکَ لَتَدْعُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اور بیشک آپ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف دعوت دینے والے ہیں) اور وہ دین اسلام ہے پس زیادہ مناسب ہے کہ وہ آپ کی بات کو مان لیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–75

68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–74

آیت نمبر (73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فردً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ انہوں نے قرآن میں غورو فکر نہیں کیا ‘ وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول ﷺ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اہنیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا ‘ جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 پیغمبر کی دعوت صراط مستقیم کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ یقینا انکو بلا رہے ہیں سیدھی راہ کی طرف "۔ جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و ہمکنار کرنے والا راستہ ہے۔ اور جو عظیم الشان و بےمثال راہ ہے۔ مگر آپ کا کام صرف بلانا اور اس راستے کی دعوت دینا ہے اور بس۔ آگے راہ ہدایت پر ڈال دینا نہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے۔ اب یہ بات ان لوگوں کے اپنے اختیار اور ان کی اپنی صوابدید پر ہے کہ یہ اس راہ حق کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرتے ہیں یا اس سے منہ موڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 72–73

(23:72) خرجا۔ محصول۔ باج۔ مال۔ اجروجزا۔ اخراج جمع۔ یعنی کیا تم تبلیغ دین کی اجرت طلب کرتے ہو۔ خراج۔ مال۔ حاصل۔ مزدوری۔ خراج۔ مراد یہاں اجروثواب۔ اور اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ قرآن حکیم میں ہے ما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین (26:109 ۔ 127 ۔ 145 ۔ 164 ۔ 180) میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–75

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–74

[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–74

(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ حضور ﷺ لوگوں سے روپیہ بٹورنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے بلکہ سراسر بےنیاز تھے اور مخلصانہ طور پر لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب دعوت دیتے تھے مگر یہ لوگ بےدین اور ملحد ہونے کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن نہ ہو سکے اور گمراہ رہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(73) اور بلاشبہ اے پیغمبر ! آپ تو ان لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف بلاتے اور سیدھے راستہ کی دعوت دیتے ہیں یعنی آپ کی دعوت تو دین حق کے لئے ہے اور وہی سیدھی راہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کا کام صرف اور صرف دعوت پیش کرنا ہے : 73۔ اس آیت نے ہر اس بات کی نفی کردی جو دعوت رسول سے انکار کرنے کا موجب بن سکتی تھی جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ تعقل و تفکر کی دعوت ہے جس راستہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ بالکل صاف اور سیدھا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی ایچ پیچ نہیں ہے ‘ دعوت پیش کرنے پر آپ کچھ اجر و مزدوری کا مطالبہ نہیں کر رہے ‘ کسی طرح کا کوئی لالچ نہیں ہے جو پورا نہ ہونے کے باعث آپ کو کوئی خسارہ ہوگا ‘ جو دعوت پیش کی جاری ہے اس میں اس کا شرف بھی ہے جن کو دعوت دی جا رہی ہے ‘ اس لئے اب انکار کا کوئی سبب موجود نہیں سوائے اس کے کہ ان کو حق سے عداوت ہے جس کے صلہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–75

أَمْ لَمْ يَعْرِ‌فُوا رَ‌سُولَهُمْ Or did they not recognize their messenger? - 23:69. One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

70. This was yet another proof of the Prophet’s (peace be upon him) Prophethood. He was conveying the message without demanding any recompense for it, and he had no self interest in it. Nay, he had staked his business, reputation, peaceful home life, relationships with the unbelieving kindred for the success of his mission and was being ruthlessly persecuted for its sake. A selfish person could not have risked his all for the sake of only worldly motives. He would rather have exploited the racial and tribal prejudices of his people to become their ruler and leader. On the contrary, his…

Read the full tafseer →