Explained with ayahs 68–75
قرآن کریم سے فرار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
سورة الْمُؤْمِنُوْن 70
یہ نبی ﷺ کی نبوت کے حق میں ایک اور دلیل ہے۔ یعنی یہ کہ آپ اپنے اس کام میں بالکل بےلوث ہیں۔ کوئی شخص ایمانداری کے ساتھ یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہے ہیں کہ کوئی نفسانی غرض آپ کے پیش نظر ہے۔ اچھی خاصی تجارت چمک رہی تھی، اب افلاس میں مبتلا ہوگئے۔ قوم میں عزت کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ ہر شخص ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔ اب گالیاں اور پتھر کھا رہے ہیں، بلکہ جان تک کے لالے پڑے ہیں۔ چین سے اپنے بیوی بچوں میں ہنسی خوشی دن گزار رہے تھے۔ اب ایک ایسی سخت کشمکش میں پڑگئے ہیں جو کسی دم قرار نہیں لینے دیتی۔ اس پر مزید یہ کہ بات وہ لے کر اٹھے ہیں جس کی بدولت سارا ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…
Read the full tafseer →ام تسئلھم خرجاً فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین 72
اس آیت میں نبی ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے ملامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کے آگے جو کچھ پیش کر رہے ہو اس کا کوئی معاوضہ تو طلب کر نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں تم نے تو مفت پایا ہے۔ مفت بانٹ رہے ہو۔ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اس میں ان کی اپنی ہی محرومی ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے تمہاری دعوت قبول نہ کی تو اس سے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں گے تو بالکل غلط سمجھتے ہیں۔ تمہارے لئے تمہارے رب کا بخشا ہوا اجر ہی بہتر ہے اور وہ بہترین فضل فرمانے والا ہے۔ خدا کا رسول کوئی تاجر یاد ندار نہیں ہوتا بلکہ ایک داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
71-1حق سے مراد دین اور شریعت ہے۔ یعنی اگر دین ان کی خواہشات کے مطابق اترے تو ظاہر بات ہے کہ زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ ایک معبود کے بجائے متعدد معبود ہوں، اگر فی الواقع ایسا ہو، تو کیا نظام کائنات ٹھیک رہ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →ام تسئلھم خرجا (23 : 72) ” کیا تو ان سے کچھ مانگ رہا ہے “ کیا اس ہدایت وتعلیم کی کوئی بھاری فیس تم مانگ رہے ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس سے بھاگ رہے ہیں۔ تم تو ان سے کچھ بھی طلب نہیں کرتے ہو کیونکہ تمہارا اجر تو اللہ ہے۔
فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین (23 : 72) ” تیرے لیے تو رب یکا دیا بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے “۔ کوئی نبی لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا جبکہ انسان بہت ہی ضیعف ، فقیر اور محتاج ہوتے ہیں ۔ نبی تو اللہ سے متصل اور مربوط ہوتا ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نبی کے معبین بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کے طلبگار نہیں ہوتے کیونکہ…
Read the full tafseer →11 یعنی آپ دعوت و تبلیغ اور نصیحت و خیر خواہی کر کے ان سے کسی معاوضہ کے بھی طلبگار نہیں۔ خدا تعالیٰ نے دارین کی جو دولت آپ کو مرحمت فرمائی ہے وہ اس معاوضہ سے کہیں بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
آیت 72 اَمْ تَسْءََلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌق وَّہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ”
دراصل یہاں ان الفاظ میں خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ مشرکین مکہّ سے ہے کہ عقل کے اندھو ‘ ذرا سوچو تو ! تمہارے شاعر اور قصہ گو تو تم لوگوں سے اجر و انعام چاہتے ہیں۔ مگر تم نے محمد ﷺ کی زبان سے کبھی ایسی کوئی بات سنی ہے ؟ کبھی آپ ﷺ نے اپنی اس خدمت کے عوض تم سے کوئی اجرت طلب کی ہے ؟ ان کو تو ان کے رب کی طرف سے جو اجر و انعام ملنے والا ہے وہ پوری دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →74 آپ کی دعوت سے ان لوگوں کے انکار کی ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اپنی اس محنت تبلیغ کا معاوضہ مانگتے ہوں اور وہ اسے تاوان سمجھ کر اس سے انکار کردیں۔ یہ بات بھی نہ تھی۔ نہ صرف یہ کہ آپ بےلوث ہو کر دعوت دین کا کام سرانجام دے رہے تھے بلکہ اس سے کئی مسائل پیدا ہوگئے۔ نبوت سے پہلے آپ تجارت کرتے تھے۔ نبوت کے بعد یہ شغل چھوٹ گیا۔ پہلے آپ مالدار تھے، بعد میں افلاس میں مبتلا ہوگئے۔ پہلے آپ اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھے۔ بعد میں وہی قوم آپ کی دشمن بن گئی۔ قوم نے آپ سے سمجھوتہ کی خاطر بیشمار مال و دولت قدموں میں ڈھیر کرنے کا لالچ دیا مگر آپ نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس سے ان لوگوں کو اتنا بھی…
Read the full tafseer →67۔ (جیسا کہ اکثر جاہلی مذہبوں کے پروہت اور پجاری اپنے ماننے والوں سے طلب کیا کرتے ہیں) سوال کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بےبنیاد وہم سے بھی تو یہ اپنی تکذیب کے لیے سہارا نہیں پاسکتے۔
68۔ (تو آپ اس حقیقت سے آشنا ہو کر تو کبھی اس خیال کی طرف رخ بھی نہیں کرسکتے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ علماء اور واعظین کو اجرت طلب کرنا ناجائز ہے۔ محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ جس کی اصلاح کی جائے اس سے مال طلب کرنا مذموم ہے اور مقصود میں مخل ہوتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →ام تسئلہم خرجا فخرج ربک خیر وہو خیر الرزقین۔ یا آپ ان سے کسی آمدنی کے
خواستگار ہیں سو آمدنی تو آپ کے رب کی (عطاکردہ) سب سے بہتر ہے اور وہی سب سے اعلیٰ دینے والا ہے۔ یہ بھی استفہام انکاری ہے یعنی آپ ان سے کسی معاوضہ کے طلبگار نہیں ہیں کہ تاوان ادا کرنے کے ڈر سے یہ ایمان لانے میں تامل کریں۔ فَخَرَاجُ رَبِّکَ ۔ یعنی وہ معاوضہ اور ثواب جو آخرت میں اللہ آپ کو عطا کرے گا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے خرج خراج کی طرح ہے بمعنی تاوان ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے خرج (خرچ) دخل (آمدنی) کے مقابل کو کہتے ہیں۔ خرج کا معنی ہے دوسرے کو دینا خراج کا زیادہ استعمال اس ٹیکس کیلئے ہوتا ہے جو حکومت کی طرف سے زمین پر مقرر ہوتا…
Read the full tafseer →(72) کیا اے محمد ﷺ آپ ان مکہ والوں سے کچھ آمدنی چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کی بات کو قبول نہیں کرتے، سو یہ بھی غلط ہے کیوں کہ آمدنی تو آپ کی جو جنت میں ہے اس تمام دولت سے بہتر ہے جو ان کے پاس دنیا میں ہے اور وہ دنیا و آخرت میں سب دینے والوں سے اچھا ہے۔
Read the full tafseer →ۭاَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ خَرْجًا۔۔ : ”خَرْجٌ“ اور ”خَرَاجٌ“ کسی شخص کو ادا کیا جانے والا روزانہ، ماہانہ یا سالانہ عطیہ۔ یہ ان کے انکار کی پانچویں وجہ ہے، جو ممکن ہوسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یا پھر یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ آپ ان سے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ کسی تنخواہ کا سوال کرتے ہوں، جسے وہ بوجھ محسوس کرتے ہوں، تو ان سے کہہ دیجیے کہ مجھے تم سے کسی اجرت کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کا دیا ہوا تو ختم ہوجائے گا مگر دنیا اور آخرت میں آپ کے رب کی طرف سے عطا کیا جانے والا رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں اور اس سے بہتر روزی دینے والا کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ دعوت حق کا یہ کام بالکل بےلوث ہو کر کر رہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 72 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تسئلھم خرجا جو آپ ان کے پاس لائے ہیں کیا آپ ان سے اس پر اجرطلب کرتے ہیں ؛ یہ حسن وغیرہ کا قول ہے۔ فخراج ربک خیر، حمزہ، کسائی، اعمش اور یحییٰ بن وثاب نے خراجا الف کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ابن عامر اور ابو حیوہ کے انہوں نے بغیر الف کے پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کیا آپ ان سے رزق طلب کرتے ہیں آپ کے رب کا رزق بہتر ہے۔ وھو خیر الرازقین کوئی شخص قادر نہیں کہ وہ اس کے رزق کی مثل دے۔ اور اسکی مثل انعام نہیں دیتا۔ بعض نے کہا : جوا للہ آپ کوا جر میں سے ادا کرے گا اور اس کی بارگاہ میں دعا، دنیا کے سامان سے بہتر ہے۔ انہوں نے آپ کو اموال پیش کیے تاکہ قریش کے ایک شخص کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔
4۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →اَمْ : کیا ] [ تَسْـَٔــلُهُمْ : آپ سوال کرتے ہیں ان سے ] [ خَرْجًا : اجرت (کا) ] [ فَخَــرَاجُ : تو اجرت ] [ رَبِّكَ : تیرے رب ] [ خَيْرٌ : بہتر ہے ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ خَيْرُ : سب سے بہتر ہے ] [ الرّٰزِقِيْنَ : سب رزق دینے والوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں
یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔
(1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
62:۔ ” ام تسئلھم الخ “ اور پھر آپ ان سے اس وعظ و تبلیغ اور تعلیم و تدریس پر کوئی اجرت یا تنخواہ بھی نہیں مانگتے۔ اور ان کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) کی طرف دعوت دیتے ہیں جو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کسی ناجائز یا برے کام کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔ مگر اس کے باوجود وہ حق کا انکار کیے جا رہے ہیں۔ ” فخراج ربک خیر “ آپ کو ان مشرکین کی دولت کی کیا ضرورت ہے اس تبلیغ توحید پر اللہ تعالیٰ جو آپ کو اجر دے گا وہ اس سے کہیں بڑھ کر بہتر اور مبارک ہے اور روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے جو پاکیزہ اور حلال روزی اس نے آپ کی قسمت میں لکھ دی ہے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ ای مایعطیک اللہ من رزقہ وثوابہ خیر (خازن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…
Read the full tafseer →اَمْ تَسْـَٔــلُہُمْ خَرْجًا فَخَــرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌ 0ۤۖ وَّہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 72
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →اَمْ تَسْئَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَ بِّکَ خَیْرٌ صلے ق وَّھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ (المومنون : 72)
(کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کررہے ہیں ؟ آپ کے رب کا دیا ہوا معاوضہ آپ کے لیے بہتر ہے۔ اور وہ بہترین روزی بخشنے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی اور آپ کے مخالفین کے لیے سرزنش ہے۔ اور اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل بھی ہے۔ قریش کو شرم دلاتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم جو آنحضرت ﷺ پر نفسانیت کا الزام لگاتے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ شاید آپ نے اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے نعوذ باللہ من ذالک نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
فہم القرآن
ربط کلام : ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے۔
اس سے پہلے کفار سے مخصوص انداز میں استفسار فرما کر ان پر حق واضح کیا گیا اب سرور دو عالم ﷺ سے ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر کیا آپ دعوت کے کام پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں ؟ کہ جس بنا پر انہیں آپ کی ذات اور بات بوجھ محسوس ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ آپ ان سے ایک پائی کے طلبگار نہیں ہیں آپ تو محض اپنے رب کے حکم اور اس کی رضا کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے دکھ پر دکھ اٹھا رہے ہیں۔ اے محبوب ﷺ اطمینان خاطر رکھیے آپ کے لیے آپ کے رب کی طرف سے دیا ہوا رزق دنیا کے رزق اور…
Read the full tafseer →72: اَمْ تَسْئَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ (یا تم ان سے کسی آمدنی کے خواستگار ہو تو آپ کے رب کی عطاء کردہ سب سے بہتر ہے) ۔
قراءت : حجازی، بصری، عاصم نے فَخراجُ پڑھا ہے۔ شامی نے خرجًا .... فَخَرْجُ پڑھا۔ علی، حمزہ نے خَراجا۔۔۔۔۔۔ فَخَراج پڑھا۔
خراجؔ زمین کی زکوٰۃ جو امام کو دی جاتی ہے اور ہر عامل کو اس کی جو اجرت اور انعام دیا جاتا ہے الخرج کا لفظ الخراج سے خاص ہے۔ جیسا کہتے ہیں : خراج القریۃ۔ خرجَ الکُردۃِ لفظ کا اضافہ معنی میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے اسی لئے پہلی قراءت سب سے اولیٰ ہے۔ یعنی : ام تسأ لھم علی ھدایتک لھم قلیلًامن عطاء الخلق فالکثیر من الخالق خیرٌ۔ کیا آپ ان سے ہدایت…
Read the full tafseer →تفسیر۔
72۔ ام تسئلھم، ، جو لوگ تم لے کر آئے ہو، خرجا ، اجروسامان، فخراج ربک خیر، یعنی جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق میں سے اور ثواب میں سے دیا وہ بہتر ہے۔ وھوخیرالرازقین، حمزہ اور کسائی نے ، خراجا، پڑھا ہے ان دونوں کو ہمزہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ، ابن عامر نے ان دونوں کو الف کے بغیر دوسرے قراء نے بغیر الف کے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
(آیت 68) ” کیا انہوں نے قرآن میں غورو فکر اور تدبر نہیں کیا ؟ “ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر منع کرنے کا باعث بنتا ‘ مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قران میں تدبر و تفکر ہر بھالئی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غورو فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (ام جاہ ھم ما لم یات اباہ ھم الاولین) یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے اباء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →91 اور اللہ ہی ہے سب سے بہتر روزی رساں : کہ سب خزانوں کا مالک و متصرف تنہا وہی وحدہ لاشریک ہے جس کو جو چاہے اور جس قدر چاہے عطا فرماتا ہے۔ سو جس خوش نصیب کی نظر اس وحدہ لاشریک کی عطاء و بخشش پر ہو اس کے سامنے اس دنیائے دوں اور اس کے حطام زائل کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو پیغمبر تم سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ اس کا بھروسہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہے۔ تم کو تو وہ سب کچھ مفت دے رہا ہے تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ سو اس میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف منکرین و معاندین کے لیے زجر و تنبیہ اور ملامت و توبیخ۔ کہ پیغمبر تمہارے سامنے حق و ہدایت کا جو پیغام و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →14 ۔ یعنی وہ ثواب اور درجہ جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ آخرت میں دیگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ دعوت حق کا یہ کام بالکل بےلوث ہو کر کر رہے ہیں اور ان سے کوئی حق خدمت طلب نہیں کرتے تو ان کا آپ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانا سراسر حماقت اور عاقبت نااندیش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(23:72) خرجا۔ محصول۔ باج۔ مال۔ اجروجزا۔ اخراج جمع۔ یعنی کیا تم تبلیغ دین کی اجرت طلب کرتے ہو۔
خراج۔ مال۔ حاصل۔ مزدوری۔ خراج۔ مراد یہاں اجروثواب۔ اور اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ قرآن حکیم میں ہے ما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین (26:109 ۔ 127 ۔ 145 ۔ 164 ۔ 180) میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(ف 1) یعنی پیغمبر لوگوں کی راہ نمائی پر مامور ہوتا ہے ، اس سے یہ امید نہیں رکھنا چاہئے ، کہ وہ ضرور عوام کی خواہشات کی موافقت کرے گا اور عوام کے جذبات کی رعایت کرکے حق کو چھپائے گا ۔
Read the full tafseer →(72) کیا آپ اس نصیحت پر ان سے کوئی معاوضہ آمدنی اور محصول طلب کرتے ہیں تو آپ کے پروردگار کا معاوضہ اور انعام بدرجہا بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے۔ یعنی یہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے انعام اور اجرت اور معاوضہ سے آپ کے پروردگار کا انعام بہتر اور بدرجہا بہتر ہے اور وہ سب انعام دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے اور یہ بات آپ کو بخوبی معلوم ہے پھر آپ ان سے کیوں انعام اور معاوضہ طلب کرتے۔
ہم نے مفسرین کے تما اقوال کی تیسیر میں رعایت رکھی ہے اور قرأت مختلفہ خوجا اور خراجاً کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
ف 4۔ پس یہ تمام تر وجہ ہے، تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی۔
Read the full tafseer →کیا آپ ﷺ ان سے کچھ طلب کر رہے ہیں اس لئے یہ لوگ منہ پھیرے ہوئے ہیں :
72۔ مطلب واضح ہے کہ اے ہمارے رسول ﷺ آپ ﷺ ان سے کچھ طلب تو کر نہیں رہے کہ یہ لوگ اس لئے قریب نہیں آرہے کہ ان کو دینا مشکل پڑ رہا ہے اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کے لئے ملامت ہے ۔ اے رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ تو اپنے کام میں بےلوث ہیں کوئی شخص یہ الزام نہیں دے سکتا کہ آپ ﷺ اس قرآن کریم کو اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ کوئی نفسانی غرض آپ کے پیش نظر ہے آپ تو اچھے بھلے اپنے تجارت کے کام میں مصروف تھے لیکن اس کو چھوڑ کر اللہ کا پیغام سنایا اور بےلوث سنایا کوئی شخص اپنا ہو یا بیگانہ یہ الزام آپ پر نہیں دے سکتا ۔ آپ تو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ
Or did they not recognize their messenger? - 23:69.
One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
70. This was yet another proof of the Prophet’s (peace be upon him) Prophethood. He was conveying the message without demanding any recompense for it, and he had no self interest in it. Nay, he had staked his business, reputation, peaceful home life, relationships with the unbelieving kindred for the success of his mission and was being ruthlessly persecuted for its sake. A selfish person could not have risked his all for the sake of only worldly motives. He would rather have exploited the racial and tribal prejudices of his people to become their ruler and leader. On the contrary, his…
Read the full tafseer →