Explained with ayahs 68–75
قرآن کریم سے فرار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 68
اس مختصر سے جملے میں ایک بڑی بات کہی گئی ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا میں نادان لوگوں کی بالعموم یہ روش ہوتی ہے کہ جو شخص ان سے حق بات کہتا ہے وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات وہ کہی جائے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، نہ کہ وہ جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو۔ حالانکہ حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند۔ تمام دنیا کی متفقہ خواہش بھی کسی واقعہ کو غیر واقعہ اور کسی امر حق کو غیر حق نہیں بنا سکتی، کجا کہ حقائق اور واقعات ایک ایک شخص کی خواہشات کے مطابق ڈھلا کریں اور ہر آن بیشمار متضاد خواہشوں سے ہم آہنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…
Read the full tafseer →خواہشات نفس اور حق کے درمیان بعد المشرقین ہے
اب یہ خواہشات نفس اور حق دونوں کے اختلاف مزاج کو واضح فرمایا ہے کہ ان دونوں کے درمیان بعد المشرقین ہے۔ خواہشات نفس کے مطالبے کچھ اور ہیں، حق کے تقاضے، ان سے بالکل الگ کچھ اور ہیں۔ اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، جیسا کہ یہ چاہتے ہیں کہ قرآن اور پیغمبر کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق ہوں تب یہ ان کو مانیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ اس پوری کائنات کی تباہی ہے۔ اس لئے کہ یہ خبر کی جگہ شر، عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ بدی، امانت کی جگہ خیانت اور اس سے بھڑ کر یہ کہ توحید کی جگہ شرک اور قیامت کے بجائے انکار قیامت کے علم بردار ہیں۔ اگر یہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
71-1حق سے مراد دین اور شریعت ہے۔ یعنی اگر دین ان کی خواہشات کے مطابق اترے تو ظاہر بات ہے کہ زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ ایک معبود کے بجائے متعدد معبود ہوں، اگر فی الواقع ایسا ہو، تو کیا نظام کائنات ٹھیک رہ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →ولو اتبع فیھن (23 : 71) ” اور حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے تو زمین و آسمان اور ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجا تا “۔ لہذا یہ نظام کلی طور پر حق کے تابع ہے حق کا مطیع فرمان ہے اور مدبر کائنات کی حیثیت کے مطابق چل رہا ہے ۔
یہ امت کے پاس یہ حق آیا ہے ‘ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اس مطیع ہوجائے۔ ایک تو یہ کہ یہ ایک حق کی بات ہے ، دوسرے یہ کہ اس امت کے لیے یہ بہت بڑی اعزاز بھی ہے پھر یہ سچائی اس امت کی شناخت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ ہوتا تو اقوام عالم میں عربوں کی اور کیا شناخت ہوتی اور اسلام نہ ہوتا تو مسلمان ہوتے کہاں ؟
اسلام سے قبل تاریخ اقوام میں عربوں کا کوئی ذکر نہ تھا اور نہ…
Read the full tafseer →8 یعنی سچی بات بری لگتی ہے تو لگنے دو ۔ سچائی ان کی خوشی اور خواہش کے تابع نہیں ہوسکتی۔ اگر سچا خدا ان کی خوشی اور خواہش ہی پر چلا کرے تو وہ خدا ہی کہاں رہے۔ معاذ اللہ بندوں کے ہاتھ میں ایک کٹ پتلی بن جائے۔ ایسی صورت میں زمین و آسمان کے یہ محکم انتظامات کیونکر قائم رہ سکتے ہیں۔ اگر ایک چھوٹے سے گاؤں کا انتظام محض لوگوں کی خواہشات کے تابع کردیا جائے، وہ بھی چار دن قائم نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ زمین و آسمان کی حکومت۔ کیونکہ عام خواہشات نظام عقلی کے مزاحم اور باہمدگر بھی متناقض واقع ہوئی ہیں۔ عقل وہوٰی کی کشمکش اور اہوائے مختلفہ کی لڑائی میں سارے انتظامات درہم برہم ہوجائیں گے۔
9 جس کی وہ تمنا کیا…
Read the full tafseer →آیت 71 وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَہْوَآءَ ہُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ ط ”
اگر حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین و آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں ڈھل سکتا ‘ بلکہ انہیں خود کو حق کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اس کی پیروی کرنا ہوگی۔
Read the full tafseer →72 یعنی اگر اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کے احکام عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق نازل ہوں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی خواہشات کے مطابق احکام کرے تو اللہ تعالیٰ مالک مختار رہ کہاں گیا ؟ اس صورت میں تو اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) بندوں کے ہاتھوں میں کٹ پتلی بن گیا۔ پھر خواہشات بھی ہر شخص کی الگ الگ ہیں۔ اور ایک دوسرے کی خواہشات سے ٹکراتی ہیں اس بات کو ایک سادہ سی کہانی سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں ایک آدمی کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح ایک زمنیدار لڑکے سے کردیا اور دوسری کا ایک کمہار سے۔ ایک دفعہ وہ اپنی بیٹیوں سے ملنے گیا۔ پہلے بری بیٹی کے ہاں گیا تو وہ کہنے لگی۔ ابا جان ! کافی…
Read the full tafseer →65۔ اگر دنیا سے نظام حق ناپید ہوجائے تو پہلے تشریعی حیثیت سے اور پھر اس کے نتیجہ کے طور پر تکوینی حیثیت سے نظام عالم ہی درہم وبرہم ہوجائے۔ (آیت) ” ولو اتبع الحق اھوآء ھم “۔ یہ ان منکرین کی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔ ان لوگوں کا مذاق اس قدر فاسد ہوچکا تھا کہ اتباع حق کرنا الگ رہا الٹا وہ دین حق کو اپنی ترمیمات کا تختہ مشق بنانے کی فکر میں تھے۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ اسی طرح اہل طریق بھی مریدین کی خواہشوں کا اتباع نہیں کرتے، بلکہ صرف حکمت ومصلحت کا اتباع کرتے ہیں۔
66۔ (اور اپنے نفع نقصان کی طرف سے اتنے اندھے ہوچکے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →ولو اتبع الحق اہوآء ہم لفسدت السموت والارض ومن فیہن اور (بفرض محال)
اگر (دین) حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا ہے تو تمام آسمان و زمین اور جو ان میں آباد ہیں سب تباہ ہوجاتے۔
اگر حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا ‘ یعنی ان کی خواہش کے مطابق چند معبود واقع میں ہوتے تو سارا جہان تباہ ہوجاتا یعنی موجود ہی نہ ہو پاتا عدم سے وجود میں ہی نہ آتا یہی مطلب ہے آیت لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ الاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا (الحج) کا۔
ابن جریج ‘ مقاتل ‘ سدی اور اہل حق کی ایک جماعت کے نزدیک الحق سے مراد اللہ ہے فراء اور زجاج کے نزدیک الحق سے قرآن مراد ہے یعنی اللہ اگر ان کی مراد کی موافقت کرتا اور دوسروں کو اپنا…
Read the full tafseer →(71) اور اگر بالفرض والتقدیر خدا ان کے خیالات کے مطابق ہوجاتا کہ آسمان میں بھی ایک اللہ اور زمین پر بھی ایک اللہ تعالیٰ تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم نے ان کے نبی کے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم بھیجا جس میں ان کی عزت اور شرافت ہے سو یہ لوگ اپنی شرافت وعزت کی چیز کو بھی جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ۔۔ : یعنی اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا یہ سلسلہ تباہ ہوجائے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے کی خواہش سے ٹکراتی ہے اور ان کا علم محدود ہے، نہ پوری موجود کائنات کا علم رکھتے ہیں، نہ آئندہ کی کچھ خبر رکھتے ہیں۔ ان کی خواہشات پر عمل کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ دور کیوں جائیے، ملکوں کے منتخب نمائندے ایک قانون بناتے ہیں، جب اس کی خرابیاں سامنے آتی ہیں تو اسے ختم کر کے اور بنا دیتے ہیں، کچھ دیر کے بعد اسے بھی بدلنا پڑتا ہے۔ کتنے قانون انھوں نے خود بنائے، جن کے نتیجے میں وہ خود پھانسی کے پھندے میں جھول گئے۔ پھر یہ لوگ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : ولواتبع الحق یہاں الحق سے مراد اللہ کی ذات ہے، یہ اکثر علماء کا قول ہے ان میں سے مجاہد، ابن جریح اور ابو صالح وغیرہ ہیں۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 151) عربی میں اسکی تقدیر اس طرح ہے لواتبع صاحب الحق۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ بعض نے کہا : یہ مجاز ہے یعنی اگر حق انکی خواہشات کے موافق ہوتا۔ موافقت کی مجازا اتباع بنایا یعنی اگر وہ رسولوں کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے پھر انہیں سزانہ دی جاتی اورا نہیں اس پر جزا نہ دی جاتی خواہ عجز کی وجہ سے یاجہالت کی وجہ سے تو آسمان و زمین کا نظام خراب ہوجاتا۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے اگر حق وہ ہوتا جو وہ کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔
4۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →[ وَلَوِ : اور اگر ] [ اتَّبَعَ : پیروی کرے ] [ الْحَقُّ : حق ] [ اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ لَــفَسَدَتِ : یقینا بگڑ جائیں ] [ السَّمٰوٰتُ : آسمانوں ] [ وَ : اور ] [ الْاَرْضُ : زمین ] [ وَ : اور ] [ مَنْ : جو ] [ فِيْهِنَّ : ان میں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس ] [ بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت کو ] [ فَهُمْ : تو وہ ] [ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے ] [ مُّعْرِضُوْنَ : سب منہ موڑنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں
یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔
(1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…
Read the full tafseer →60:۔ ” ولو اتبع الحق الخ “ یہ زجر ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے لیکن یہ ناممکن ہے اس لیے مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حق ویسا ہی ہو جیسا کہ وہ کہتے ہیں یعنی ان کی خواہشات ہی حق اور نفس الامر کے مطابق ہوں مثلاً وہ کہتے ہمارے معبود کارساز ہیں۔ لات مناۃ عزی وغیرہ جہان میں متصرف ہیں۔ دعاء، پکار اور نذر و نیاز کے مستحق ہیں اور خدا کے نزدیک شفیع غالب ہیں ہمارے ان عقائد کو حق مان لیا جائے یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ” الشعراء یتبعہم الغاون “ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ لوگ شاعروں کے پیچھے چلتے ہیں لیکن مقصود یہ ہے کہ اکثر شاعر خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…
Read the full tafseer →وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَہْوَاۗءَہُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْہِنَّ 0ۭ بَلْ اَتَيْنٰہُمْ بِذِكْرِہِمْ فَہُمْ عَنْ ذِكْرِہِمْ مُّعْرِضُوْنَ 71ۭ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →وَلَوِا تَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآئَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ط بَلْ اَ تَیْنٰھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (المومنون : 71)
(اور اگر کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کا اپنا ذکر لے کر آئے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ )
گزشتہ بات کی وضاحت
قریش اور دیگر مخالفین کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جتنے امکانات یا جتنے دعوے ہوسکتے تھے، گزشتہ آیات میں ان میں سے ایک ایک کا ذکر فرماکر یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا اصل سبب نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حقائق جاننے کے باوجود لوگ اس لیے ایمان لاتے نہیں کہ یہ حق کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔
حق کے منکر لوگوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ حق کو اپنے مفاد اور خواہشات کے پیچھے لگا یا جائے۔ اسی لیے مکہ والوں نے مختلف موقعوں پر آپ سے یہ مطالبات کیے کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں کچھ ہم بدل جاتے ہیں۔ (القلم : 9) پھر انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن لے آئیں ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ (یونس : 15)
ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے حالانکہ دو یا دو سے زائد الٰہ ہوتے تو وہ ایک دوسرے کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے جس…
Read the full tafseer →71: وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ (اور اگر بالفرض دین ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا) ابن جریج وغیرہ نے الحقؔ سے یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات مراد لی ہے۔ اَھْوَآ ئَ ھُمْ سے مراد کئی اٰلہہ کا اعتقاد رکھنا ہے۔ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ (تو آسمان و زمین تباہ ہوجاتے) جیسا کہ فرمایا : لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا ] الانبیائ : 22[ وَمَنْ فِیْھِنَّ (اور جو کچھ ان میں ہے) عقلاء کو منؔ کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ غیر عقلاء ان کے تابع ہیں۔
بَلْ اَتَیْنٰھُمْ بِذِکْرِ ھِمْ (بلکہ ہم نے تو ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات بھیجی) یعنی اس کتاب کو بھیجا ہے جو ان کے لئے نصیحت یا ان کے لئے باعث شرف ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →71۔ ولواتبعالحق اھواء ھم۔ ابن جریج ، مقاتل ، سدی اور اہل حق کی ایک جماعت کے نزدیل الحق سے مراد اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مراد کے مطابق عمل کرلیتا، بعض نے کہا کہ اگر اللہ ان کی مراد کی موافقت کرتا اور دسروں کو اپناشریک بنالیتایا اپنے لیے اولاداختیار کرلیتا جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ، لفسدت السماء والارض، فراء اور زجاج کا قول ہے کہ حق سے مراد قران ہے ک ہاگر میں ان کی مراد کے مطابق قران نازل کرتا یعنی شریک یاولد، بناتا ان کے اعتقاد کے مطابق تو آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے فساد برپا ہوجاتا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے، لوکان فیھما الھہ، الا اللہ لفسدتا۔ جو کچھ ہم بیان کرچکے ہیں۔ حضر تابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
(آیت 68) ” کیا انہوں نے قرآن میں غورو فکر اور تدبر نہیں کیا ؟ “ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر منع کرنے کا باعث بنتا ‘ مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قران میں تدبر و تفکر ہر بھالئی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غورو فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (ام جاہ ھم ما لم یات اباہ ھم الاولین) یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے اباء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →88 کائنات کا وجود حق کا مرہون منت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض کہیں حق ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا تو آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی یہ ساری کائنات کبھی کی تباہ و برباد ہوگئی ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کچھ حق کے وجود ہی سے قائم اور اسی سے وابستہ ہے۔ اور اگر بفرض محال حق خود ان کی خواہشات کا تابع ہوجائے تو پھر ان کے بچنے کا کیا سوال۔ سو اس میں عقل و فکر رکھنے والوں کے لئے زبردست دعوت اور زور دار تلقین ہے۔ اس امر کی کہ وہ خواہشات نفس کے پیچھے چلنے کی بجائے صدق دل سے حق و ہدایت کی پیروی کریں۔ اور یہ توقع نہ رکھیں کہ حق ان کی خواہشات کی پیروی کریگا۔ کیونکہ ایسا بالفرض اگر ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →11 ۔ یعنی ویسا ہوتا یا ہوجایا کرتا جیسا یہ چاہتے ہیں۔ 12 ۔ کیونکہ ان کی خواہش اختلاف و تضاد کا مجموعہ ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کی خاہش کے مطابق اگر اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو کائنات کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اکثر مفسرین (رح) نے اس آیت کا یہی دوسرا مطلب لیا ہے۔ (شوکانی)
13 ۔ یا جس میں ان کیلئے نصیحت ہے اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں لفظ ” ذکر “ کے مفسرین (رح) نے متعدد معنی بیان کئے ہیں۔ (انبیاء :10)
Read the full tafseer →(23:71) لفسدت۔ لام تاکید کا ہے فسدت ماضی واحد مؤنث غائب۔ تو (آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے) درہم برہم ہوجاتے ۔ تباہ ہوجاتے ۔ اتینہم بذکرہم۔ ہم تو ان کے پاس ان ہی کی نصیحت کی بات لائے تھے۔ ذکر سے مراد القرآن ہے جو ان کے لئے باعث فخرو شرف ہے اور اس میں ان کے لئے موعظت حسنہ ہے۔
معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے، اجتناب کرنے والے۔ اعراض مصدر۔ باب افعال۔ اعرض لی۔ وہ میرے سامنے آیا۔ اعرض عن۔ اس نے رخ پھیرلیا۔ منہ موڑ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(ف 1) یعنی پیغمبر لوگوں کی راہ نمائی پر مامور ہوتا ہے ، اس سے یہ امید نہیں رکھنا چاہئے ، کہ وہ ضرور عوام کی خواہشات کی موافقت کرے گا اور عوام کے جذبات کی رعایت کرکے حق کو چھپائے گا ۔
Read the full tafseer →(71) اور اگر کہیں خدانخواستہ دین حق ان کی خواہشات باطلہ کا تابع ہوجاتا تو یقیناً آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خراب اور درہم برہم ہوجاتے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت پہنچادی مگر وہ اپنی نصیحت سے روگردانی کررہے ہیں اور منہ پھیر رہے ہیں یعنی ان کی خواہشات باطلہ کا اگر خدانخواستہ حق کو تابع کردیا تو پھر حق ہی کہاں ہوا حق بات کا تو مقتضا یہ ہے کہ حق کی پیروی کی جائے نہ کہ حق کو باطل کا تابع کردیا جائے پھر تو سب کفر اور باطل ہی ہوجائے گا اور کفر غضب الٰہی کا موجب ہے اور غضب الٰہی ہلاکت کا سبب ہے لہٰذا زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ ان میں ہے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
ف 4۔ پس یہ تمام تر وجہ ہے، تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی۔
Read the full tafseer →اگر سچائی کسی کی خواہشوں کا نام ہو تو آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے :
71۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت بڑی اصل کائنات کی طرف اشارہ کیا ہے جو قرآن کریم کی مہمات معارف میں سے ہے یعنی قرآن کریم میں جس حقیقت کو ” حق “ سے تعبیر کرتا ہے وہ محض کسی ایک گوشہ ہی کی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے بلکہ اصل کائنات کی ایک عالمگیر حقیقت ہے وہ کہتا ہے یہاں اصل تخلیق وتکوین ” حق “ اور قیام حق کا قانون ہے ۔ اس کا نام عدل وقسط بھی ہے اور اسی پر تمام نظام کائنات قائم ہے ۔ عالم جسم و مادہ کا ایک ایک گوشہ دیکھتے جاؤ تمہیں ہر گوشہ میں وجود ‘ تکوین ‘ تعمیر ‘ ایجاب ‘ زندگی اور بناؤ کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ
Or did they not recognize their messenger? - 23:69.
One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…
Read the full tafseer →68. This brief sentence expresses a great reality which should be understood well. The foolish people in the world generally feel offended by a person who points out the truth to them. They do not like to hear and consider the truth because it goes against their desires and interests but the truth remains the truth and cannot be changed after one's personal whims and wishes. Man is subject to the eternal and unalterable laws operating in the universe and has therefore to adjust his thinking, desires and conduct accordingly and should try to discover the truth and reality through experience,…
Read the full tafseer →