Al-Muminoon 23:70

Al-Muminoon · from ayah 70

23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ ؕ— بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ ۟اَمۡ يَـقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ  ؕ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَـقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do they say, "In him is madness?" Rather, he brought them the truth, but most of them, to the truth, are averse.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:70

یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے؟ بلکہ وه تو ان کے پاس حق ﻻیا ہے۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا ان کا کہنا ہے کہ ان (پیغمبر) کو جنون لاحق ہوگیا ہے ؟ نہیں، بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) یہ پیغمبر ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا کہتے ہیں اسے سودا ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے اور ان میں اکثر حق برا لگتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنون (لاحق) ہو گیا ہے، (ایسا ہر گز نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر تشریف لائے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا کہتے ہیں کہ اسے کوئی جنون ہے، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو برا جاننے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسے جنون ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کے اس سچی بات لایا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند ہی نہیں کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کچھ جنون کا اثر ہے ! یہ جنون نہیں ہے بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے لیکن ان میں سے اکثر حق سے بیزار ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ اتنی ظالمانہ اور احمقانہ بات کہتے ہیں کہ اس شخص کو جنون ہوگیا ہے ؟ نہیں ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ رسول ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں کی اکثریت کو حق کا نور ہی ناگوار ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں جنون ہے۔ نہیں بلکہ یہ (رسول) ان کے پاس حق لے کر آئے اور ان میں سے اکثر حق (ہی) سے نفرت رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یاوہ کہتے ہیں کہ ان پر کچھ جنون کا اثر ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے دیوانگی ہے ؟ ایسا نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do they say that there is madness in him? Nay, he has brought them the Truth and it is the Truth that most of them disdain.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or do they say, :He is suffering from madness? No, but he has come to them with truth, but it is the truth that most of them dislike.

— Muhammad Taqi Usmani

Or do they say, :He is suffering from madness? No, but he has come to them with truth, but it is the truth that most of them dislike.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or they say: There is madness in him Nay, but he brought them the truth, but most of them are averse to the truth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or say they: There is a madness in him? Nay, but he bringeth them the Truth; and most of them are haters of the Truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do they say, "In him is madness?" Rather, he brought them the truth, but most of them, to the truth, are averse.

— Saheeh International

or you said that he is possessed by satan? In fact, he has brought you the truth, but most of you dislike it.

— Muhammad Sarwar

Or do they say: There is madness in him? Nay! he has brought them the truth, and most of them are averse from the truth.

— Muhammad Habib Shakir

Or, say they: in him is madness? O Aye he brought them the truth, and most of them to the truth are averse.

— Abdul Majid Daryabadi

Or do they say, "He is possessed"? Nay, he has brought them the Truth, but most of them hate the Truth.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–75

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 67 یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ واقعی وہ محمد ﷺ کو مجنون سمجھتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ زبان سے چاہے وہ کچھ ہی کہتے رہیں، دلوں میں تو ان کے دانائی وزیر کی کے قائل ہیں۔ علاوہ بریں ایک پاگل اور ایک ہوش مند آدمی کا فرق کوئی ایسا چھپا ہوا تو نہیں ہوتا کہ دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو۔ آخر ایک ہٹ دھرم، اور بےحیا آدمی کے سوا کون اس کلام کو سن کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کسی دیوانے کا کلام ہے، اور اس شخص کی زندگی کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ یہ کسی مخبوط الحواس آدمی کی زندگی ہے ؟ بڑا ہی عجیب ہے وہ جنون (یا مستشرقین مغرب کی بکواس کے مطابق مرگی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–75

اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رسول کو خبطی قرار دینے کی وجہ دراصل حق بیزاری ہے یعنی اگر وہ اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ رسول کو خبط اور سودا لاحق ہے تو یہ خود ان کے اپنے پاگل ہونے کی دلیل ہے۔ رسول کو کوئی خبط و سودا نہیں ہے۔ وہ تو جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ بالک لحق ہے اور اس کی ایک ایک بات پوری ہو کے رہے گی۔ البتہ یہ خود حق سے بیزار ہیں۔ اس وجہ سے رسول کو دیوانہ قرار دے رہے ہیں۔ مریضک و جب طبیب کی تشخیص کردہ دوائیں کڑوی معلوم ہوتی ہیں اور وہ ان کو حلق سے اتارنے پر تیار نہیں ہوتا تو وہ اپنے کو مریض تسلیم کرنے کے بجائے الٹے طبیب ہی کے مشورے کو ہذیان قرار دیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا۔ یہ اپنے باطل کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70-1یہ بھی زجر و توبیخ کے طور پر ہی ہے یعنی اس پیغمبر نے ایسا قرآن پیش کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اسی طرح اس کی تعلیمات نوع انسانی کے لئے رحمت اور امن و سکون کا باعث ہیں۔ کیا ایسا قرآن اور ایسی تعلیمات ایسا شخص بھی پیش کرسکتا ہے جو دیوانہ اور مجنون ہو۔ 70-2یعنی ان کے اعراض اور استکبار کی اصل وجہ حق سے ان کی کراہت (ناپسدیدگی) ہے جو عرصہ دراز سے باطل کو اختیار کئے رکھنے کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–74

25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–70

افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74) حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔ افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی سودائیوں اور دیوانوں کی باتیں کہیں ایسی کھری اور سچی ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بھی محض زبان سے کہتے تھے، دل ان کا جانتا تھا کہ بیشک جو کچھ آپ لائے ہیں حق ہے۔ پر حق بات چونکہ ان کی اغراض و خواہشات کے موافق نہ تھی۔ اس لیے بری لگتی تھی اور قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط ” کیا وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ پر آسیب کا اثر ہے یا آپ ﷺ کو جنون ہوگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 انکار ایک تیسری وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے رسول کو دیوانہ سمجھ کر اس کی باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھیں۔ اگر وہ اسے دیوانہ کہہ بھیدیں تو ان کے دل ہرگز اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ جب دعوت توحید کا چرچا عام ہونے لگا تو قریش سرداروں کو بہت فکر لاحق ہوگئی۔ وہ اس دعوت کو روکنے کے لئے مشورہ کی خاطر ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی) ولید بن مغیرہ ایک سمجھدار آدمی تھا۔ کہنے لگا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو انھیں پیش کردہ تجاویز میں سے ایک سردار نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ہم لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ نہیں بلکہ اس کے برعکس لوگ تو آپ کی اصابت رائے کے فہم وذکاوت کے پوری طرح قائل تھے۔ سو اس وجہ کا بھی باطل ہونا بالکل ظاہر ہے۔ حیرت اور حیرت سے زیادہ عبرت کا مقام ہے کہ عرب کے ان جاہلین کے بالکل قدم بقدم آج یورپ کے جاہلین جدید بھی، ایک طرف آپ کے کمال حکمت و دانائی کے قائل ہیں یہاں تک کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی حکمت وخوش تدبیری سے قرآن نامے ایک جامع کتاب گڑھ لی، سارے ملک عرب کی بیسیوں ٹکڑیوں اور ٹولیوں کو متحد کرلیا۔ سب کو ایک دین کا پابند بنالیا۔ بڑے بڑے پر قوت دشمنوں، مشرکین و یہود وغیرہ پر غالب آآگئے وقس علی ہذا۔ ایک طرف تو آپ کی دانائی، فرزانگی، خوش تدبیری کا اعتراف اس زور شور سے ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام یقولون بہ جنۃ یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول کو جنون ہے یہ بھی اَمْ منقطعہ ہے مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ رسول اللہ ﷺ : کو دیوانہ کہتے ہیں حالانکہ ان کو علم ہے کہ اللہ کے رسول کی دانش بڑی وزنی اور نظر و فکر کی گہرائی سب سے زیادہ ہے ایسے شخص کی طرف جنون کی نسبت سوائے دیوانہ یا عنادی دشمن کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام مقامات پر ام متصلہ ہو اور جملہ اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوْایہ جملۂ مستانفہ ہے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ جب آیت قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ ۔۔ سننے والوں نے سنی تو خواہ مخواہ دل میں سوال پیدا ہوا کہ آخر قرآن سے کترانے ‘ الٹے پاؤں لوٹنے ‘ غرور کرنے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) یا یہ وجہ ہے کہ نعوذ باللہ یہ لوگ آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے پاس قرآن کریم اور توحید و رسالت لے کر آئے اور ان میں سے اکثر لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ۔۔ :”جِنَّةٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا جنون ہے۔ چوتھی وجہ ان کے انکار کی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اسے کسی قسم کا جنون ہے اور واقعی وہ آپ کو کسی قسم کا دیوانہ یا پاگل سمجھتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے اپنی زبان سے جو چاہیں کہتے رہیں، مگر دل سے آپ ﷺ کی کمال دانائی کے قائل ہیں، کیونکہ خود انھوں نے صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ بھلا پاگلوں کو یہ لقب دیا جاتا ہے، پھر وہ کیسا دیوانہ ہے (یا مستشرقین کی ہرزہ سرائی کے مطابق مرگی کے دورے کا مریض ہے) کہ دیوانگی یا مرگی کے دورے کے وقت اس کی زبان سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 70 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ام یقولون بہ جنۃ یعنی کیا وہ ایمان کے ترک پر اس سے حجت پکڑتے ہیں کہ اسے سودا کا مرض ہے۔ حقیقت ایسی نہیں کیوں کہ اس سے جنون کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ بل جائھم بالحق الحق سے مراد قرآن، توحید حق اور دین حق ہے۔ واکثرھم یعنی تمام کے تمام۔ للحق کرھون۔ حسد، تقلید، اور نافرمانی کے وجہ سے حق کو ناپسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–75

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَمْ : کیا ] [ يَقُوْلُوْنَ : وہ سب کہتے ہیں ] [ بِهٖ : اس کو ] [ جِنَّةٌ : کوئی جنوں (ہے) ] [ بَلْ : بلکہ ] [ جَاۗءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر ] [ لِلْحَقِّ : حق کو ] [ كٰرِهُوْنَ : سب ناپسند کرنے والے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–70

کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–77

بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔ (1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59:۔ ” بَلْ جَاءَھُمْ الخ “ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی ہمارا پیغمبر ﷺ ایسا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ہے جو سراپا حق ہے اور ایسا ثابت وعیاں ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے اور یہ وہی پیغام حق ہے جو پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کو پہنچا چکے ہیں اور نبوت سے سرفراز ہو کر پیغام توحید لے کر قوم کے پاس جانا ہی ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے صدق وامانت کی واضح دلیل ہے اور پھر جو شخص ایسا پیغام حق پیش کرے جس کی تائید دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ہوتی ہو اس کو دیوانہ اور مجنون کہنا سراسر باطل ہے اس لیے انکار حق کی وجوہات یہ نہیں ہیں۔ ” وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ “ انکار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔ تدبرفی القرآن : اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ۝ 0 ۭ بَلْ جَاۗءَہُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُہُمْ لِلْحَقِّ كٰرِہُوْنَ۝ 70 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–75

اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط بَلْ جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ (المومنون : 70) (یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کوئی جنون کا اثر ہے۔ نہیں، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔ ) ایک بیہودہ الزام قریش کا آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا سبب شاید یہ ہو کہ قریش کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جنون کا مرض لاحق ہوگیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے اس مرض کے زیر اثر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان پر اللہ کی وحی اترتی ہے حالانکہ جب انھیں اس بیماری کا دورہ پڑتا ہے تو ان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ اسے اللہ کی وحی سمجھنے لگتے ہیں۔ جو شخص بھی آنحضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–70

فہم القرآن ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والوں کے دیگر جرائم۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تباہ ہونے والی اقوام کے انجام سے ڈریں۔ لیکن جہنم میں داخل کیے جانے والوں کا یہ جرم ہوگا کہ وہ قرآن مجید کی آیات پر غور اور اپنے سے پہلی اقوام کے انجام سے عبرت نہیں سیکھتے تھے یہاں سوالیہ انداز میں ان سے چند استفسار کیے گئے ہیں کیا یہ لوگ قرآن مجید کو غور کے قابل نہیں سمجھتے یا جس بات پر تعجب کر رہے ہیں یہ دعوت ان کے آباؤ اجداد کو نہیں پہنچی یا پھر اپنے رسول کو نہیں پہنچانتے ظاہر بات ہے کہ ان باتوں میں ان کی کوئی بات بھی سچ نہ تھی۔ اگر یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ (یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول کو جنون ہے) جِنَّۃ کا معنی جنون ہے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ اس میں عقلی اعتبار سے سب سے بڑھ کر پختہ اور ذہنی لحاظ سے سب سے روشن ذہن والے ہیں۔ بَلْ جَآ ئَ ھُمْ بِالْحَقِّ (بلکہ یہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آئے ہیں) واضح حق، صراط مستقیم اور وہ چیز جو ان کی شہوات، خواہشات کے خلاف ہے اور وہ توحید اور اسلام ہے اب انہوں نے اس کا کوئی جواب اور دفاع موجود نہ پاکر اس کو مجنون کہنا شروع کردیا۔ واَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ (اور ان کی اکثریت حق سے نفرت کرنے والی ہے) فائدہ : اس میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔ ام یقولون بہ جنہ۔ وہ آپ کو مجنون زدہ کہتے ہیں حالانکہ آپ ایسے نہیں۔ بل جاء ھم بالحق۔ وہ سچی بات لے کر آئے ہیں۔ آپ کی بات کسی کے سامنے مخفی نہیں کہ وہ صحیح ہی ہے ہر عاقل شخص اس کو سمجھ سکتا ہے ، واکثرھم للحق کارھون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–75

68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–72

(آیت 68) ” کیا انہوں نے قرآن میں غورو فکر اور تدبر نہیں کیا ؟ “ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر منع کرنے کا باعث بنتا ‘ مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قران میں تدبر و تفکر ہر بھالئی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غورو فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (ام جاہ ھم ما لم یات اباہ ھم الاولین) یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے اباء و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

87 لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے۔ کیونکہ حق کی پیروی سے ان کی نفس پرستی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے راستے بند ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے اندر کا زیغ و ضلال ان کے لئے حق پرستی سے مانع ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک بڑے اہم اور خطیر مرض کی تشخیص اور نشاندہی فرما دی گئی ہے جو کہ افراد کے اندر بھی رہا اوراقوام و ملل کے اندر بھی۔ جو کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بلکہ آج تو وہ پورے عروج پر ہے۔ اور وہ مرض خطیر ہے اتباع ھویٰ کا مرض۔ جسکے بعد اس مرض میں مبتلاء انسان کو حق کا سننا اور قبول کرنا گوارہ نہیں ہوتا اور اس کے لئے سب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی کیا وہ واقعی آنحضرت ﷺ کو مجنون (پاگل) سمجھتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ چاہے وہ زبان سے انہیں مجنون کہتے ہوں لیکن دل سے ان کی عقلمندی کے کے قائل ہیں۔ 10 ۔ یعنی اگر یہ لوگ مخلص اور حق پسند ہوتے تو ان کے پاس آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے ان اسباب میں سے کوئی ایک سبب ہوسکتا تھا مگر جب ان اسباب میں سے کوئی سبب بھی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ مخلص اور حق پسند نہیں ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ سے دور بھاگ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:70) جنۃ۔ جنون۔ دیوانگی۔ سودا۔ جن سے مشتق ہے کیونکہ دیوانگی عقل کو چھپا دیتی ہے اس لئے اسے جنۃ کہتے ہیں۔ بہ جنۃ اس کو دیوانگی ہے جنون کا لاحقہ ہے۔ اسے جنون ہے یا وہ سودا کا مریض ہے۔ یا جاء ہم بالحق۔ (ایسا نہیں جیسا کہ وہ خیال کرتے ہیں) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا (حق سے مراد توحید اور دین اسلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–75

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–70

[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔ [32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ہم نے رسول کا انکار کیا تھا ، کیا باوجود دلائل و براہیم کے تم نے اسے نہیں پہچانا ، یا تمہاری نظروں میں اسے خلل دماغ کا عارضہ تھا ؟ اس کے بعد خود جوابا ارشاد فرمایا ، کہ ان باتوں میں کوئی بات بھی صحیح نہیں ، اصل واقعہ یہ ہے کہ قرآن سراسر حق وصداقت ہے ، اور پیغمبر سچا ہے ، یہ ان لوگوں کی محرومی اور شقاوت ہے ، کہ انہوں نے قرآن کو تسلیم نہیں کیا اور خواہشات نفس کی پیروی کی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(70) کیا یہ لوگ اس رسول کی شان میں یوں کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے اور یہ اس رسول کی طرف جنون اور دیوانگی کو منسوب کرتے ہیں یوں نہیں بلکہ رسول ان کے پاس ایک حق بات لیکر آیا ہے اور ان منکرین کا حال یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں یعنی پیغمبر کو نہ جنون ہے نہ دیوانگی وہ تو دین حق لے کر آیا اور اسی دین حق کا پرچار کرتا ہے ان دین حق کے منکروں کی حالت یہ ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور ان کو حق کی اشاعت ناگوار معلوم ہوتی ہے یعنی اکثریت ایسے نفرت کرنے والوں کی ہے اور جو کم ہیں وہ تکبر کی وجہ سے اور برادری کے پاس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور دین حق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا انہوں نے حق کا نام جنون رکھا اور اس طرح حق سے منہ پھیر گئے ؟ 70۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر طرح طرح کے الزام رکھے کہ یہ افتراء پرداز ہے ، اس کو خبط اور سودا لاحق ہے ‘ اس کو ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے ، کسی جن نے اس کو پکڑ رکھا ہے جس کے باعث وہ ایسی باتیں کرتا ہے ۔ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اور اس کے اثر سے یہ سب کچھ بالتا ہے ، اس طرح وہ کبھی آپ کو جادوگر کہتے اور کبھی سحر زدہ ۔ حالانکہ ان کی ساری باتیں خود اس بات کی دلیل تھیں کہ ان کے پاس پیغمبر اسلام ﷺ کی دی گئی تعلیم کا کوئی صحیح جواب نہیں تھا اس لئے وہ حقیقت سے روگردانی کرنے کے لئے مختلف طرح کی باتیں گھڑتے اور بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–75

أَمْ لَمْ يَعْرِ‌فُوا رَ‌سُولَهُمْ Or did they not recognize their messenger? - 23:69. One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

67. That is, do they reject his message because they regard Muhammad (peace be upon him) to be possessed by a jinn? No, this is also not correct, because in their hearts, they themselves regard him as a wise and sagacious person. It is therefore ridiculous to regard a man like him to be possessed by a jinn. For, such a person cannot say wise things and do noble deeds like him. How strange that a person possessed by a jinn (or having epileptic fits according to the western orientalists) should utter and recite sublime discourses of the Quran and start and guide a successful movement which…

Read the full tafseer →