Explained with ayahs 68–75
قرآن کریم سے فرار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 66
یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ ایک بالکل اجنبی آدمی جس سے یہ کبھی کے واقف نہ تھے، اچانک ان کے درمیان آکھڑا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مان لو۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں ہے۔ جو شخص یہ دعوت پیش کر رہا ہے وہ ان کی اپنی برادری کا آدمی ہے۔ اس کی نسبی شرافت ان سے مخفی نہیں۔ اس کی ذاتی زندگی ان سے چھپی ہوئی نہیں۔ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی سرحد تک وہ ان کے سامنے پہنچا ہے۔ اس کی صداقت سے۔ اس کی راستبازی سے، اس کی امانت سے، اس کی بےداغ سیرت سے یہ خوب واقف ہیں۔ اس کو خود امین کہتے رہے ہیں۔ اس کی دیانت پر ان کی ساری برادری بھروسہ کرتی رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو…
Read the full tafseer →قریش کو ایک سخت خطرے سے آگاہی
یہ اس سنت الٰہی کی روشنی میں، جو قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوچکی ہے، قریش کو ایک سمت خطرے سے آگاہی ہے۔ وہ سنت الٰہی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم پر اتمام حجت کے لئے ایک رسول بھیجتا ہے جو اسی قوم کے اندر سے ہوتا ہے۔ اگر قوم اس پر ایمان لاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو برومند کرتا اور زمین میں اس کو اقتدار بخشات ہے اور اگر وہ رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کا مرحلہ ایک بڑا ہی نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی مرحلہ میں اس کی زندگی یا موت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بدقسمت ہے وہ قوم جو اس مرحلہ کی نزاکت کو…
Read the full tafseer →69-1یہ بطور توبیخ کے ہے، کیونکہ وہ پیغمبر کے نسب، خاندان اور اسی طرح اس کی صداقت و امانت، راست بازی اور اخلاق و کردار کی بلندی کو جانتے تھے اور اس کا اعتراف کرتے تھے۔
Read the full tafseer →24: اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ اور آپ کی سچائی اور امانت و دیانت سے واقف نہ ہوتا تو اس کے دل میں آپ کی نبوت میں شک ہونا کم از کم شروع میں سمجھ میں آسکتا تھا، لیکن یہ لوگ چالیس سال سے آپ کی سچائی اور اعلی اخلاق و کردار کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتے رہے ہیں، اور انہیں یقین سے معلوم ہے کہ آپ نے کبھی نہ جھوٹ بولا ہے، نہ کسی کو دھوکا دیا ہے، اس کے باوجود وہ آپ کو اس طرح جھٹلا رہے ہیں جیسے وہ آپ کے حالات سے کبھی واقف ہی نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا…
Read the full tafseer →6 یعنی کیا اس لیے اعراض و تکذیب پر تلے ہوئے ہیں کہ ان کو پیغمبر کے احوال سے آگاہی نہیں، حالانکہ سارا عرب جانتا ہے کہ آپ بچپن سے صادق و امین اور عفیف و پاکباز تھے۔ چناچہ حضرت جعفر نے بادشاہ حبشہ کے سامنے، حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے تائب کسریٰ کے آگے اور ابو سفیان نے بحالت کفر قیصر روم کے دربار میں اسی چیز کا اظہار کیا۔ پھر ایسے مشہور و معروف راست باز بندہ کی نسبت کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ (العیاذ باللہ) خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68 اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَ ہُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَ ہُمُ الْاَوَّلِیْنَ ”
تو کیا وحی کا نازل ہونا اور رسول علیہ السلام کا من جانب اللہ مبعوث ہونا انہیں اس لیے عجیب لگ رہا ہے کہ ان کے باپ دادا یعنی بنو اسماعیل علیہ السلام پر اس سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان کی طرف اس سے پہلے کوئی نبی علیہ السلام آیا تھا ؟
Read the full tafseer →69 اللہ کی آیات سے بدلنے کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے اس رسول سے پوری طرح متعارف نہ ہوتے۔ اور جب وہ یہ باتیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کی زندگی ابتداء ہی سے بےداغ رہی ہے۔ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ کسی انسان سے فریب نہیں کیا۔ کبھی کسی کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ نہ کبھی وعدہ خلافی کی ہے نہ کبھی کسی سے الجھا ہے تو کیا وہ شخص کسی انسان سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ بول سکتا ہے کہ اس نے مجھے رسول بنایا ہے اور اللہ کے نام پر تمہیں فریب دے سکتا ہے ؟
Read the full tafseer →62۔ (آیت) ” ام لم یعرفوا رسولھم “۔ یعنی رسول کے صدق سے، دیانت سے امانت سے ناواقف تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ ان کفار معاصرین کے انکار کی ممکن وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کی سیرت سے، آپ کے اخلاق فاضلہ سے ناواقف ہیں ! ظاہر ہے کہ یہ وجہ بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ تو آپ کی پاکیزہ سیرت کے پورے گواہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →ام لم یعرفوا رسولہم فہم لہ منکرون۔ یا یہ لوگ اپنے رسول ﷺ : کو پہچانتے نہیں۔ پس (کیا وجہ ہے کہ) ان کے منکر ہیں۔ یعنی بچپن سے بڑے ہونے تک ہمیشہ جانتے رہے ان کے نسب کو امانت داری ‘ سچائی ‘ حسن اخلاق ‘ تہذیب ‘ ادب ‘ ایفائے وعدہ ‘ کمال علمی اور کسی انسان سے تعلیم حاصل نہ کرنے سے بھی واقف رہے۔ کذا قال ابن عباس۔
خلاصہ یہ کہ جب وجوہ مذکورہ میں سے انکار کی کوئی ایک وجہ بھی موجود نہیں تو پھر انکار ناجائز ہے۔
Read the full tafseer →(69) یا یہ لوگ اپنے رسول سے واقف نہیں تھے اس وجہ سے ان کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ : تیسری وجہ ان کے ایمان نہ لانے کی یہ ہوسکتی ہے کہ ایک بالکل اجنبی آدمی ان میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا ہو کہ مجھے رسول مانو، جس کے حسب نسب، صدق و امانت اور حسن اخلاق کو وہ نہ جانتے ہوں، سو یہ وجہ بھی نہیں، کیونکہ وہ ان میں سے سب سے عالی خاندان کا فرد اور عالی اخلاق کا مالک ہے۔ اس دعویٰ سے پہلے چالیس سال تک وہ ان میں رہا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (16)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 69
عرب یہ ترکیب توقیف اور تقبیح کے معنی پر استعمال کرتے ہیں عرب کہتے ہیں : الخیر احب الیک ام الشر یعنی میں نے تجھے شر کے بارے میں بتادیا اس لئے تو اس سے اجتناب کر۔ وہ رسول مکرم ﷺ کو پہچان چکے تھے اور وہ پہچان چکے تھے کہ اہل صدق، امانت سے ہے اور اس کی اتباع میں نجات اور خیر ہے اگر ہٹ دھرمی نہ ہوتی۔ سفیان نے کہا : کیوں نہیں وہ آپ ﷺ کو پہچان چکے تھے لیکن انہوں نے آپ سے حسد کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔
4۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →[ اَمْ : یا ] [ لَمْ : نہیں ] [ يَعْرِفُوْا : ان سب نے پہچانا ] [ رَسُوْلَهُمْ : اپنے رسول (کو) ] [ فَهُمْ : پس وہ سب ] [ لَهٗ : اس کی ] [ مُنْكِرُوْنَ : سب انکار کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا
اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔
(1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
58:۔ ” افلم یدبروا الخ “ یہ زجر ہے یہ لوگ حق کا انکار کیوں کرتے ہیں اور ضد پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کیا ان لوگوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا اور مسئلہ توحید کی حقیقت کو نہیں سمجھا ؟ ” ام جاءھم الخ “ یا یہ مسئلہ توحید کوئی نئی بات ہے جس کی دعوت ان کے باپ دادا کو بھی نہیں پہنچی ؟۔ ” ام لم یعرفوا الخ “ یا وہ اب تک پیغمبر خدا ﷺ کو دیانت و امانت، صدق، مقا۔ اور حسن فعال سے بھی نہیں پہچان سکے ؟ ” ام یقولون بہ جنۃ “ یا وہ اس خیال سے نہیں مانتے کہ وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو عیاذا باللہ مجنون سمجھتے ہیں ؟ ان آیتوں میں مشرکین کے لیے تاکید زجر و توبیخ ہے اور ہر جگہ استفہام انکاری ہے جس سے مشرکین کے خیالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر…
Read the full tafseer →اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَہُمْ فَہُمْ لَہٗ مُنْكِرُوْنَ 69ۡ
عرف
المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار،
قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ
[يوسف/ 58]
( ع رف ) المعرفۃ والعرفان
کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛
فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَھُمْ فَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ۔ (المومنون : 69)
(یا انھوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں اس وجہ سے ان کے منکر بنے ہوئے ہیں۔ )
مزیدعذرِ لنگ
قریش اور دوسرے اہل مکہ کے انکار کا ایک سبب یہ ہوسکتا ہے کہ ایک اجنبی آدمی اٹھا اور اس نے رسالت کا دعویٰ کردیا کہ میں اللہ کی طرف سے اللہ کا پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ اس لیے تم مجھ پر ایمان لائو۔ اب لوگ پریشان ہیں کہ ہم لوگ شخصی طور پر اسے جانتے نہیں اس کے نسب سے واقف نہیں اس کے قبیلے کی کچھ خبر نہیں۔ اس کا سیرت و کردار بیخبر ی کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس سے کبھی کسی معاملہ کرنے کی نوبت نہیں آئی تو ہم ایسے شخص کو اللہ کا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والوں کے دیگر جرائم۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تباہ ہونے والی اقوام کے انجام سے ڈریں۔ لیکن جہنم میں داخل کیے جانے والوں کا یہ جرم ہوگا کہ وہ قرآن مجید کی آیات پر غور اور اپنے سے پہلی اقوام کے انجام سے عبرت نہیں سیکھتے تھے یہاں سوالیہ انداز میں ان سے چند استفسار کیے گئے ہیں کیا یہ لوگ قرآن مجید کو غور کے قابل نہیں سمجھتے یا جس بات پر تعجب کر رہے ہیں یہ دعوت ان کے آباؤ اجداد کو نہیں پہنچی یا پھر اپنے رسول کو نہیں پہنچانتے ظاہر بات ہے کہ ان باتوں میں ان کی کوئی بات بھی سچ نہ تھی۔ اگر یہ قرآن…
Read the full tafseer →69: اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَہُمْ (یہ لوگ اپنے رسول کو نہیں پہچانتے) محمد الصادق الامین کو اور یہ ان کے وفور عقل اور صحت نسب اور حسن اخلاق سے واقف نہیں۔ یعنی وہ ان صفات سے ان کو پہچانتے ہیں۔ فَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ (پھر انہی کے منکر ہیں) کیا وجہ ہے سوائے ضد اور حسد کے اور تو کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →69۔ ام لم یعرفوا رسولھم۔ رسول سے مرادمحمد ﷺ ہیں۔ فھم لہ منکرون، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کیا انہوں نے حضرت محمد کو بچپن ، بڑے میں اور ان کے نسب ان کی صداقت اور ان کی امانت اورا ن کے عہدو وفا کو نہیں جانتے ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی ان پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
(آیت 68) ” کیا انہوں نے قرآن میں غورو فکر اور تدبر نہیں کیا ؟ “ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر منع کرنے کا باعث بنتا ‘ مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قران میں تدبر و تفکر ہر بھالئی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غورو فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (ام جاہ ھم ما لم یات اباہ ھم الاولین) یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے اباء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →86 کیا ان لوگوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں ؟۔ سو یہ بات بھی نہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے حسب و نسب اور آپ ﷺ کی صداقت و امانت سے پوری طرح واقف و آگاہ تھے اور ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کا یہ انکار اور یہ مخالفت دراصل حسد کی اس آگ کی بناء پر ہے جس میں یہ لوگ جل رہے ہیں۔ اور اتباع ہویٰ کے اس سنگین روگ کے باعث ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ اور حسد اور اتباع ہویٰ کے یہ دونوں روگ ایسے سنگین اور ہولناک روگ ہیں جو انسان کو حق کے نور اور ہدایت کی دولت سے محروم کردیتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کیلئے یہ بات واضح رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی آگہی اور ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی یہ بات بھی نہیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی دیانت و امانت کو خوب پہچانتے تھے بلکہ خود انہیں ” امین “ کہہ کر پکارتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(23:68) افلم یدبروا القول۔ میں ہمزہ استفہام انکاری کا وقت ہے۔کلام سابقہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای افعلوا ما فعلوا من النکوص والاستکبار والھجر فلم یتدبروا القران لیعلموا بما فیہ۔
کیا ان کا آیات قرآنی سن کر پھرجانا اور تولیت کعبہ پر تکبر وفخر کرنا اور اپنی شبانہ مجلسوں میں قرآن اور فرمان رسول کے متعلق ہرزہ سرائی کرنا (محض جہالت اور ضد کی بنا پر تھا) اور انہوں نے قرآن اور فرمان رسول پر کچھ بھی تدبر نہ کیا۔ القول سے مراد القرآن اور ارشادات رسول کریم ﷺ ہیں۔
لم یدبروا۔ فعل مضارع نفی حجد بلم کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا مصدر تدبر (تفعل) ہے اصل میں یتدبروا تھا۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔
[32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔
Read the full tafseer →(ف 2) فرماتے ہیں کیا انہوں نے اس کلام میں غور وفکر نہیں کیا اور کیا انہوں نے نہیں سوچا ، کہ قرآن کا انداز بیان ہی بتا رہا ہے کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کی اختراع نہیں ، قرآن کی بلاغت ووضاحت قرآن کا پیغام اور جامعیت قرآنی تعلیمات کا تجربہ یہ سب باتیں اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ کلام بلاشبہ اللہ کا کلام ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ آخر ان لوگوں کو قرآن پر تنقید کرنے کی کیوں جرات ہوئی انہوں نے بےسوچے سمجھے کیوں اسے ہدف استہزاء بنایا ، جب کہ اس کا انداز بیان صاف طور پر بتلا رہا ہے ، کہ انسانی علم اس کی مثل پیدا کرنے سے یک قلم قاصر اور عاجز ہے ۔
اللہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں ، کیا اس میں کوئی انوکھا…
Read the full tafseer →(69) کیا یہ لوگ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اور اس وجہ سے اس کو نہیں مانتے یعنی یہ رسول مکہ میں پیدا ہوا یہیں بڑھا پلا چھوٹے سے بڑا ہوا بچپن سے اس کی عادت اور خصلت سے واقف ہو اس کی امانت اور دیانت کے معترف ہو یہ عجیب بات ہے کہ محمد بن عبداللہ کی تو تعریف کرتے ہو اور اس کی خوبیاں مانتے ہو اور جب محمد بن عبداللہ محمد رسول اللہ ہوجاتا ہے تو اس کی تکذیب کرتے ہو اور اس کی ایذا رسانی کے درپے ہوجاتے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ اس رسول کی خو اور خصلت سے واقف ہیں اور اس کی سچائی اور نیکی جان رہے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی یہ وجہ بھی باطل ہے کیونکہ آپ کے صدق پر سب کا اتفاق تھا۔
Read the full tafseer →کیا یہ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اس لئے منکر ہوگئے ؟ ۔
69۔ کیا یہ لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ کو پہچان ہی نہ سکے ؟ کیوں نہیں وہ رسول تو ان کو اتنی دل سوزی اور اخلاص سے بار بار دعوت حق دے رہا ہے یہ کوئی اجنبی شخص نہیں ہے جس سے یہ متعارف نہ ہوں ‘ جس کا ماضی ان سے مخفی ہو یہ سب لوگ تو اس رسول مقدس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اس کی عالی نسبی ‘ اس کی خاندانی شرافت ‘ اس کے ذاتی اوصاف واخلاق سے خوب آگاہ ہیں ۔ کل تک انہیں کی زبانیں اسے صادق اور امین کے معزز القاب سے خطاب کر رہی تھیں ، نہیں ہرگز نہیں ان کے انکار کا باعث محض ہٹ دھرمی ہے اور وہ اس ترنگ میں آگئے ہیں کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ یہ لوگ اپنے باپ دادا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ
Or did they not recognize their messenger? - 23:69.
One reason for their denial of the true faith could have been if the message was brought to them by an outsider who was a stranger to them and with whose character and antecedents they were unfamiliar. But this argument could not be invoked in the case of the Holy Prophet ﷺ who belonged to the noble family of Quraish, was born in Makkah, grew up among them, and his whole life was like an open book before them: Before prophethood was bestowed upon him, he was known among the unbelievers of Makkah as اَمِین…
Read the full tafseer →66. That is, do they reject the message because Muhammad (peace be upon him), who is inviting them to it, is a stranger among them? No, this is not so, for he was born and bred among them in a noble family. He bears a pure and high character. He has been truthful, upright, trustworthy, honest and morally chaste throughout his life, He is a noble and gentle person, peace-loving and just by nature, honest in word and deed, sympathetic and helpful to the weak and poor. And they themselves testified to all this before he claimed to be a Messenger of Allah. Then he has been consistently preaching…
Read the full tafseer →