Explained with ayahs 51–56
اکل حلال کی فضیلت
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 50
اس مقام پر آغاز سورة کی آیتوں پر پھر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اسی مضمون کو اب پھر ایک دوسرے انداز سے دہرایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ " فلاح " اور " خیر " اور " خوش حالی " کا ایک محدود مادی تصور رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک جس نے اچھا کھانا، اچھا لباس، اچھا گھر پالیا، جو مال و اولاد سے نواز دیا گیا، اور جسے معاشرے میں نام و نمود اور رسوخ و اثر حاصل ہوگیا، اس نے بس فلاح پالی۔ اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ ناکام و نامراد رہا۔ اس بنیادی غلط فہمی سے وہ پھر ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے، اور وہ یہ تھی کہ جسے اس معنی میں فلاح نصیب ہے وہ ضرور راہ راست پر ہے، بلکہ خدا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا، زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنے میں آتا ہے اس معنے کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو سب انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد کے مسائل میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا اور آپس میں ٹکڑے مختلف ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنا لی۔ اور زبر کبھی زبرہ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنے قطعہ اور فرقہ کے ہیں۔ یہی معنے اس جگہ زیادہ واضح ہیں اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقے بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین کا اس میں داخل نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت 56-55
سرگشتگان دنیا کو تنبیہ
مال وبنین دنیاوی رفاہیت کی ایک جامع تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سرمستوں کی سرمستی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو دنیا کی جو خوشحالیاں دے رکھی ہیں انکی تھپکیاں ان کو جاگنے نہیں دے رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عیش جو ان کو حاصل ہے، ان کی زندگی کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے اور ان کامیبیوں اور فتوحات میں برابر ضا افہ ہی ہوتا رہے گا اس وجہ سے کسی ڈرانے والے کے ڈرائوئوں سے ڈر کر انہیں اپنا عیش مکدر نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں تو بہت غلط سمجھے ہیں۔ یہ جن چیزوں کو کامیابیاں تصور کئے ہوئے ہیں یہ کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ یہ قدرت کے استدراج کا پھندا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا
حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
21: بہت سے کفار اپنے حق پر ہونے کی یہ دلیل دیتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہت سامال و دولت دے رکھا ہے، ہماری اولاد بھی خوشحال ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہے، اور ہمیں آئندہ بھی خوشحال رکھے گا، اگر ناراض ہوتا تو یہ مال اور اولاد ہمیں میسر نہ ہوتا، یہ آیت ان کا جواب دے رہی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں مال و دولت مل جانا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی دلیل نہیں ہے ؛ کیونکہ وہ کافروں اور نافرمانوں کو بھی رزق دیتا ہے اس کے بجائے وہ ان لوگوں سے خوش ہے، اور ان کا انجام بہتر کرے گا جن کے حالات آیت نمبر : 57 تا 60 میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر 53 تا 56) ”
رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔
ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔
لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
6 یہ ہی خیال ان کا تھا۔ چناچہ کہتے تھے (نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :35) یعنی ہم اگر خدا کے ہاں مردود و مبغوض ہوتے تو یہ مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہتات کیوں ہوتی۔
7 یعنی سمجھتے نہیں کہ مال و اولاد کی یہ افراط ان کی فضیلت و کرامت کی وجہ سے نہیں امہال و استدراج کی بناء پر ہے۔ جتنی ڈھیل دی جا رہی ہے اسی قدر ان کی شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :182)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56 نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ”
ہماری طرف سے اپنے ان نافرمانوں کو مال و اولاد جیسی نعمتوں سے نوازتے چلے جانا ان کے ساتھ بھلائی کی علامت نہیں ہے بلکہ یہی چیزیں ان کے لیے موجب عذاب بن جائیں گی۔ سورة التوبہ میں یہ فلسفہ اس طرح بیان ہوا ہے : فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوْنَ ”تو اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو ‘ اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیا کی زندگی میں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
59 دنیا دار اور جاہل لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہوتی ہے۔ اور تنگدستی یا پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی۔ حالانکہ بسا اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ چودھری لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب یہی نظریہ ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے اور ایمانداروں پر ظلم و زیادتی روا رکھنے کے باوجود ہی ان کا کچھ نہیں بگڑا تو وہ اس نظریہ پر مزید پختہ ہوجاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے ان پر ابتلاء کا دور یوں آتا ہے کہ ان پر مزید انعامات الٰہی کی بارش ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ ان انعامات کی حیثیت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بجھنے والا چراغ بجھنے سے پیشتر ایک دفعہ خوب روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
52۔ یہ دھوکا عام وعالمگیر ہے۔ آج تک ہزاروں لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں۔ تکوینی عیش و راحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں ! حالانکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے ماتحت تو سانپوں، بچھوؤں سب ہی کی پرورش و کفالت ہوتی رہتی ہے۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ جس طرح ظاہری نعمتوں سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اسی طرح باطنی نعمتوں (احوال ومواجید وغیرہا) پر مطمئن ومغرور نہ ہوجانا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →نسارع لہم فی الخیرت بل لا یشعرون۔ تو ہم ان کو جلدی جلدی زیادہ فائدے دے رہے ہیں (ایسا ہرگز نہیں ہے ( بلکہ اس کی وجہ کا) ان کو احساس نہیں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنی گمراہی میں خوش ہیں اور پیغمبروں کا فرمان نہیں مانتے ان کو جھوٹا جانتے ہیں اور جو کچھ ہم ان کو مسلسل دیتے چلے جاتے ہیں اور مال و اولاد کی مدد پہنچا رہے ہیں اس سے ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں اس عطاء میں ان کی بھلائی ہے عزت افزائی ہے اور ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ ان سے خوش ہے ایسا ہرگز نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں ان میں نہ دانش ہے نہ شعور۔
حسن بصری نے فرمایا مؤمن نیکی بھی کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(55۔ 56) یہ مختلف گروہ والے کیا یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم ان کو دنیا میں جو مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو دنیا میں جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ ان سے آخرت میں پوچھ گچھ ہوگی، اور یہ اس کی وجہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے ان کو دنیا میں فائدہ پہنچایا اور آخرت میں ہم ان کو ذلیل ورسوا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ۔۔ : ”اَنَّمَا“ یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ ”أَنَّ“ اور ”مَا“ (بمعنی اَلَّذِيْ) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ”کہ وہ چیزیں جو۔“
3 ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چناچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة سبا (35) اور کہف (34 تا 36) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا ردّ فرمایا۔
بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یعنی ان کا یہ گمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت نمبر 55-56
اللہ کا ارشاد ہے : ا یحسبون انما نمدھم بہ مال وبنین۔ ما بمعنی الذی ہے یعنی اے پیارے محمد : کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ جو ہم انہیں دنیا میں مال اور اولاد دیتے ہیں وہ ان کے لیے ثواب ہے بلکہ وہ تو استدراج ہے اور ڈھیل ہے یہ بھلائیوں کے پہنچانے میں جلدی نہیں ہے۔ ان کی خبر میں تین اقوال ہیں۔ 1۔ خبر محذوف ہے۔ زجاج نے کہا اس کا معنی ہے نسارع لھم بہ فی الخیرات، بہ کو، حذف کیا گیا۔ (زاد المسیر، جلد 3 صفحہ 347) ۔ ہشام الضریر نے ایک باریک اور دقیق قول کیا ہے۔ انہوں نے کہا : انما ھی الخیرات۔ معنی یہ ہوگا سارع لھم فیہ۔ پھر ظاہر فرمایا اور فرمایا فی الخیرات۔ اس تقدیر پر اس میں حذف نہیں ہے۔ کسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون “ یعنی قریش ( یہ گمان کرتے ہیں) آیت ” انما نمدہم بہ “ یعنی ہم ان کو ہم دیتے رہیں گے۔ آیت ” من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات “ یعنی ہم ان کے لیے بھلائی کے کاموں میں اضافہ کردیتے ہیں بلکہ ہم بھلائی کے کاموں میں ان کو مہلت دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات، بل لا یشعرون “۔ یعنی اللہ نے خفیہ تدبیر کی قوم کے ساتھ ان کے مالوں اور ان کی اولاد میں اس وجہ سے لوگوں کا…
Read the full tafseer →[ نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ فِي : میں ] [ الْخَيْرٰتِ : بھلائی " کے کاموں " میں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ لَا : نہیں ] [ يَشْعُرُوْنَ : وہ سب شعور رکھتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں
یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال
وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں
قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
48:۔ ” اَیَحْسَبُوْنَ الخ “ ہم نے ان مشرکین کو دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اس سے انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان کے بھلے میں ہیں اور ان سے خوش ہیں اور ان ک نیک کاموں کے کے بدلے میں یہ سب کچھ انہیں دے رہے ہیں۔” بَلْ لَّایَشْعُرُوْنَ “ یہ ” یَحْسَبُوْنَ “ کے مضمون سے اضراب ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ تو کالنعام ہیں اصل بات کو سمجھنے کا شعور ہی نہیں رکھتے ضد وعناد کی وجہ سے ان کے مسلسل انکار کی بناء پر ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان سے حقیقت کا احساس و شعور سلب کرلیا گیا ہے یہ دنیا کی نعمتیں تو ہم نے ان کو استدراج اور امہال کے طور پردے رکھی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…
Read the full tafseer →نُسَارِعُ لَہُمْ فِي الْخَــيْرٰتِ 0ۭ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ 56
سرع
السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو :
أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44]
( س ر ع ) السرعۃ
اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّ ھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَھُمْ فِیْ الْخَیْرٰتِ ط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۔ (المومنون : 55، 56)
(کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں۔ تو ان کے لیے بھلائی میں اضافہ کررہے ہیں ؟ بلکہ ان کو اصل معاملے کا شعور نہیں ہے۔ )
ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی
پیشِ نظر دونوں آیتوں میں قریش کی ایک ایسی کمزوری کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مال و دولت اور اولاد میں جیسے جیسے اضافے سے نوازتا ہے ان کی گمراہی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ایک سبب دنیوی مفاد ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کا ملت کو تقسیم کرنے کا ایک مقصد مال کی ہوس بھی ہے۔ یہ مال امت کو تقسیم کرنے یا دین کو نقصان پہنچانے سے حاصل ہوا ہو۔ یا اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہو۔ بہرحال قوموں کے سنوار اور بگاڑ میں مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ راہ راست سے ہٹ جائیں تو دین کو اتحاد کی بجائے گروہ بندی، اخلاص کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مال اور اولاد میں بڑھائے دیتا ہے وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55، 56: اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ ( کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو جو مال واولاد دیتے جاتے ہیں) ماؔ الذیؔ کے معنی میں ہے اَنَّ کی خبر نسارع لھم فی الخیرات ہے۔ اور خبر سے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے : ای نسای عُ لھم بہٖ نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ مطلب یہ ہے کہ یہ امداد باوجود معاصی کے صرف استدراج ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو جلد ازجلد امداد مل رہی ہے اور ان کی عمدہ کا ر کردگی پر ہم ان کو ثواب کا پیشگی بدلہ دے رہے ہیں۔
استدلالِ آیت :
معتزلہ کے عقیدہ کی تردید ہے کہ اصلح فی الدین اللہ پر لازم ہے اس آیت میں خبر دی کہ یہ بات ان کے لئے دینی…
Read the full tafseer →56۔ نسارع لھم فی الخیرات۔ ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ دے رہیں اور ان کے ثواب کو مقد م کریں گے ان کے نیک اعمال کے سبب اور ان کی رضامندی کے سبب۔ بلالایشعرون، ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
آیت (51)
(یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
75 منکرین کے لیے ان کا مال ودولت کوئی خیر کی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو جو ان کے مال واولاد میں بڑھاوا دے رہے ہیں کیا اس سے ہم ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ [ نہیں اور ہرگز نہیں ] بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکر لوگ اصل حقیقت کے احساس و شعور سے عاری اور محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ اور اپنے سود و زیاں اور نفع و نقصان کا۔ اور یہ لوگ جانتے نہیں کہ یہ امہال و استدارج ہے جس کا نتیجہ و انجام دائمی تباہی اور ابدی خسران ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
فرقہ بندی کا وبال
تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
11 ۔ ان کا خیال یہی تھا۔ چناچہ وہ کہا کرتے، ہم مال واسباب میں زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں ہو ستا۔ (سبا :35) 12 ۔ اور وہ اصل میں استعمال و استدراج ہے تاکہ جس قدر انہیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور بھرپور طریقہ سے ان پر گرفت کی جائے۔ (نیز دیکھئے سورة اعراف :183)
Read the full tafseer →(23:56) نسارع مضارع جمع متکلم مسارعۃ مصدر (باب مفاعلۃ) ہم جلدی کررہے ہیں سرعۃ جلدی۔
فائدہ :۔ آیۃ 55 ۔ 56 میں ایحسبون میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ انما میں ما موصولہ بمعنی الذی ہے اور ان کا اسم ہے من مال وبنین موصولہ کا بیان ہے۔ نسارع لہم فی الخیرات خبر ہے ان کی اور اس کا مرجع اسم محذوف ہے۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے :۔
ایحسبون ان الذی نمدہم بہ من المال والبنین نسارع بہ لہم فیما فیہ خیرہم۔ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال واولاد سے ان کو مدد دئیے جا رہے ہیں ہم ان کو بھلائی پہنچانے کی خاطر جلدی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 :
الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 :
خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
مال و دولت آزمایش ہے !
(ف 1) مخالفین اور معاندین جب یہ دیکھتے ، کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اسلام کی مخالفت اور عداوت کے ان کو مال اولاد سے بہرہ ور کر رکھا ہے ، تو وہ یہ سمجھئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نوازش ہے وہ ہم سے خوش ہے جبھی تو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہ ان کی سادہ لوحی اور نافہمی ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات سے آگاہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ منکرین کی مادی مسرتوں میں مخل نہیں ہوتا ، اور ان کے مال و دولت میں خلل انداز نہیں ہوتا تاآنکہ ان کا غرور اور گناہ اصلاح وہدایت کی تمام قوتیں چھن جاتی ہیں ، اور وہ فنا کے قریب ہوجاتے ہیں ۔
جو لوگ نیک اور…
Read the full tafseer →(56) تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کو بھلائیاں اور فائدے پہنچانے میں جلدی کررہے ہیں اور ان کو دوڑ دوڑ کر بھلائیاں پہنچا رہے ہیں نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اس استدراج کی مصلحت کو نہیں سمجھتے یعنی مال کی بہتات اور بیٹوں کی کثرت جوان کو حاصل ہے اور ہم جو ان کی امداد کررہے ہیں کیا یہ لوگ اس امداد کو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جلدی جلدی ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ دے رہے ہیں حالانکہ یہ امداد نہیں بلکہ استدراج ہے لیکن ان کو شعور نہیں اور یہ سمجھتے نہیں کہ یہ ہماری طرف سے اچانک پکڑے جانے کا موقعہ دیا جارہا ہے۔ آگے حقیقی بھلائیاں اور فائدے حاصل کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ف 5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →56۔ فرمایا یہ بھلائیاں جو ہم ان کو پہنچا رہے ہیں تو یہ اس لئے نہیں ہیں کہ ہمارا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بدعملیوں پر بھی انہیں فوائد سے بہرہ اندوز کریں ۔ یہ محض اس لئے پہنچائی جا رہی ہیں کہ ان کا مقررہ وقت ابھی آیا نہیں اور ان کا اختیار ہم سلب نہیں کرنا چاہتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہاں ہر نتیجہ کے لئے ایک اجل مسمی کا قانون کام کر رہا ہے اور ہم اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتے اور اس میں کتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں ان ہی حکمتوں کے پیش نظر گمراہ اور بدکردار لوگوں کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی جاتی ہے ، گمراہی اور بدکرداری کے باوجود ان کا کاروبار خوب چمکتا ہے ‘ جاہ ومال میں اضافہ ہوتا ہے ‘ رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا But they split up ways from one another (dividing themselves) into factions - 23:53). The word زُبُر is the plural of زُبُور meaning a book, and the verse would mean that Allah had commanded all prophets and their followers to adhere to the one and only faith revealed by Him in all matters relating to the basic principles and beliefs. But the followers of different prophets split up into groups and sects and each one of them chose a different way of life and adopted a different book in which the beliefs of each group and sect were recorded. Sometimes…
Read the full tafseer →50. This question has been posed as a proof of the main theme of the Surah. It is meant to remove their misconception of success, welfare and prosperity, which the disbelievers had formed to delude themselves. According to them, the one, who enjoyed the good things of life and wielded power and influence in the society, had attained success. On the other hand, the he who was deprived of these things was a failure. This misconception had involved them in another serious misunderstanding. They thought that the one who had attained success was in the right, and the beloved of Allah. Otherwise,…
Read the full tafseer →