Explained with ayahs 57–61
مؤمن کی تعریف
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حسن ؒ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بےخوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کا وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضا اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہر کام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہر خبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 51
یعنی وہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور بےفکر ہو کر نہیں رہتے کہ جو دل چاہے کرتے رہیں اور کبھی نہ سوچیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ظلم اور زیادتی پر پکڑنے والا ہے، بلکہ ان کے دل میں ہر وقت اس کا خوف رہتا ہے اور وہی انہیں برائیوں سے روکتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
خلاصہ تفسیر
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور (باوجود اللہ کی راہ میں دینے اور خرچ کرنے کے) ان کے دل اس سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں (دیکھئے وہاں جا کر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دینا حکم کے موافق نہ ہو مثلاً مال حلال نہ ہو یا نیت اللہ کے لئے خالص نہ ہو اور نیت میں اخلاص کامل نہ ہونا یا مال کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہو تو الٹا اس پر مواخذہ ہونے لگے تو جن لوگوں میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
آیت 61-57
بازی جیتنے والوں کی صفات
یہاں سورة کی ابتدائی دس آیات پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں جن اہل ایمان کو فوز و فلاح کی بشارت دی ہے۔ انہی کا ذکر ذرا مختلف الفاظ میں پھر فرمایا کہ البتہ یہ لوگ، جن کی صفات یہ یہ ہیں، حقیقی کامیابیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور بیشک یہ لوگ اپنی منزل مقصود کو پہنچ کے رہیں گے۔ ان لوگوں کی مندرجہ ذیل صفات یہاں گنائی ہیں اور یہ صفات ان مسلمانوں کی ہیں جو اس دور میں دنیا کی تمام مرغوبات سے منہ موڑ کر رضائے الٰہی کی طلب کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔
ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی خشیت سے ہر وقت لرزاں و ترساں ہیں۔ اس کی شہادت ان کی نمازوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا
حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
21: بہت سے کفار اپنے حق پر ہونے کی یہ دلیل دیتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہت سامال و دولت دے رکھا ہے، ہماری اولاد بھی خوشحال ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہے، اور ہمیں آئندہ بھی خوشحال رکھے گا، اگر ناراض ہوتا تو یہ مال اور اولاد ہمیں میسر نہ ہوتا، یہ آیت ان کا جواب دے رہی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں مال و دولت مل جانا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی دلیل نہیں ہے ؛ کیونکہ وہ کافروں اور نافرمانوں کو بھی رزق دیتا ہے اس کے بجائے وہ ان لوگوں سے خوش ہے، اور ان کا انجام بہتر کرے گا جن کے حالات آیت نمبر : 57 تا 60 میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ…
Read the full tafseer →8 یعنی باوجود ایمان و احسان کے کفار و مغرورین کی طرح " مکراللہ " سے مامون نہیں ہمہ وقف خوف خدا سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ نہ معلوم دنیا میں جو انعامات ہو رہے ہیں استدراج تو نہیں۔ حسن بصری کا مقولہ ہے۔ " اِنَّ الْمُومِنَ جمع اِحْسَانًا وَّشَفْقَۃً وَّاِنَّ الْمُنَافِقَ جَمَعَ اِسَاءَ ۃً وَاَمْنَا۔ " (مومن نیکی کرتا اور ڈرتا رہتا ہے اور منافق بدی کر کے بےفکر ہوتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56 نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ”
ہماری طرف سے اپنے ان نافرمانوں کو مال و اولاد جیسی نعمتوں سے نوازتے چلے جانا ان کے ساتھ بھلائی کی علامت نہیں ہے بلکہ یہی چیزیں ان کے لیے موجب عذاب بن جائیں گی۔ سورة التوبہ میں یہ فلسفہ اس طرح بیان ہوا ہے : فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوْنَ ”تو اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو ‘ اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیا کی زندگی میں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
59 دنیا دار اور جاہل لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہوتی ہے۔ اور تنگدستی یا پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی۔ حالانکہ بسا اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ چودھری لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب یہی نظریہ ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے اور ایمانداروں پر ظلم و زیادتی روا رکھنے کے باوجود ہی ان کا کچھ نہیں بگڑا تو وہ اس نظریہ پر مزید پختہ ہوجاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے ان پر ابتلاء کا دور یوں آتا ہے کہ ان پر مزید انعامات الٰہی کی بارش ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ ان انعامات کی حیثیت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بجھنے والا چراغ بجھنے سے پیشتر ایک دفعہ خوب روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
53۔ (تودیکھئے کہ ہمارے اعمال خیرقبول بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں) (آیت) ” الذین ...... مشفقون “۔ خدائے نادیدہ سے ڈرتے رہتے ہیں، اور اس لئے اس کی معصیت ونافرمانی سے بھی بچتے رہتے ہیں۔ خوف الہی پر حاشیہ ابھی گزر چکا ہے۔ ملاحطہ ہو حاشیہ نمبر 49 (آیت) ” الذین ........ یشرکون “۔ مشرکین عرب کا اصلی مرض یہی تھا کہ اقرار الوہیت کے ساتھ ساتھ شرک بھی کئے جاتے تھے ...... تنہا وجود باری کا اقرار شریعت میں اسی لئے مستند اور کافی نہیں۔ جب تک کہ نفی شرک بھی ساتھ ہی ساتھ نہ ہو۔ (آیت) ” یؤتون مااتوا “۔ ان کی یہ عطا و بخشش دین کی راہ میں، احکام الہی کے ماتحت ہوتی رہتی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ سالک کو اپنے اعمال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون۔ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
(57۔ 61) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے جنھیں حقیقی طور پر دنیا میں جلدی جلدی فائدے پہنچائے جاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔
اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس ایمان میں اپنے رب کے ساتھ ان بتوں کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور جو کچھ صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ مال خرچ کرتے ہیں، سو کرتے ہیں یا یہ کہ جو کچھ نیک اعمال کرتے ہیں سو کرتے ہیں اور باوجود اس دینے کے ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں کہیں ایسا نہ کہ وہاں آخرت میں یہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْـيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ :”إِشْفَاقٌ“ کا معنی ہے متوقع چیز کا شدید خوف اور ”وَجِلٌ“ بروزن ”فَزِعٌ“ کا معنی ہے، سخت ڈرنے والا۔ اس سے پہلے غفلت میں مبتلا ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کے ہاں کفر و فسق کے باوجود مال اور بیٹوں کی فراوانی ہوتی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے، تبھی یہ سب کچھ ہمیں دے رہا ہے۔ اب ان کے مقابلے میں مخلص و مومن بندوں کا ذکر ہے، جو کمال ایمان و عمل کے باوجود عجب اور خود پسندی سے محفوظ ہیں اور ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ کیا خبر اس کی جناب میں ہمارے عمل قبول ہوتے ہیں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
آیت نمبر 57-60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون۔ کفار کے ذکر اور ان کو وعید سنانے کے بعد مومنین کا ذکر کیا جو نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں اور اللہ نے جو ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کیا ہے اور ان کی ابلغ صفات کا ذکر کیا۔ مشفقون وہ ان چیزوں سے ڈرنے والے ہیں جن سے اللہ نے ڈرایا ہے۔ والذین ھم بایت ربھم یومنون۔ والذین ھم بربھم لا یشرکون۔ والذین یئوتون ما اتواو قلوبھم وجلۃ۔ حسن نے کہا : وہ اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل کہیں غیر مقبول ہوجائے۔ ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے متعلق پوچھا : والذین یئوتون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن جمع کرتا ہے احسان کو اور شفقت کو اور منافق جمع کرتا ہے گناہ کو اور بےخوفی کو۔ پھر (یہ آیت) آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ سے لے کر آیت ” انہم الی ربہم رجعون “ تک تلاوت کی اور منافق نے کہا آیت ” انما اوتیتہ علی علم عندی “ (القصص آیت 7) (یعنی میں اپنے علم کے ذریعہ مال دیا گیا اللہ کی طرف سے نہیں ملا) ۔
2۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی نعت الخائفین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ هُمْ : وہ ] [ مِّنْ خَشْـيَةِ : خوف سے ] [ رَبِّهِمْ : اپنے رب کو ] [ مُّشْفِقُوْنَ : سب ڈرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
نیک بندوں کی صفات
ان آیات میں نیک بندوں کی مزید صفات بیان فرمائی ہیں۔ اولا تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں دوسرے یہ فرمایا کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ فرمایا کہ اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے چوتھے یہ فرمایا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے پر انہیں کوئی سخاوت کا گھمنڈ اور غرور نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی بار گاہ میں جانا ہے وہاں یہ مال خرچ کرنا قبول ہوتا ہے یا نہیں وہاں پہنچ کر کیا صورت حال ہو یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے، مال پوری طرح حلال تھا یا نہیں، نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے تھی یا اس میں کچھ ریا کاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
ذکر صفات اہل صدق و ایمان
قال اللہ تعالیٰ ان الذین ہم من خشیۃ ربھم مشفقون .... الیٰ .... وھم لہا سبقون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان اہل جہالت و ضلالت کا ذکر تھا کہ جو شرور اور معاصی میں مسارعت کرنے والے تھے اب ان آیات میں ان اہل صدق اور اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہیں کہ جو خیرات اور اعمال صالحہ میں مسارعت کرنے والے ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفتیں بیان فرمائیں۔
(1) اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (2) اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ (3) شرک نہیں کرتے۔ (4) نیکیاں کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ان کو اپنے ایمان اور عمل پر ناز نہیں بلکہ ان کو ہر وقت اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ معلوم نہیں کہ ہمارا…
Read the full tafseer →49:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ الخ “ دفع عذاب کے لیے ابتداء سورت میں جن امور ثلاثہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہاں ان کا اعادہ کیا گیا ہے پہلی آیتوں میں ان مشرکوں کا ذکر تھا جو دنیوی انعامات، مال و اولاد اور مادی منافع کی وجہ سے اس غلط خیال میں مبتلا تھے کہ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے اسی لیے ہر قسم کی خیرات و برکات ان پر نازل فرما رہا ہے حالانکہ یہ دولت و ثروت ان کے لیے خیر و برکت نہیں بلکہ وبال جان ہے اب ان آیتوں میں ان مومنوں کا ذکر فرمایا جو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی برکات و خیرات کو حاصل کر رہے ہیں جو ان صفات سے متصف ہوتے ہیں اور یہی لوگ آخرت میں اللہ کے عذاب سے نجات پائیں گے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما ذم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ ہُمْ مِّنْ خَشْـيَۃِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ 57ۙ
خشی
الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28]
( خ ش ی ) الخشیۃ
۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔
إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔
شفق
الشَّفَقُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ ۔ (المومنون : 57)
(بےشک وہ لوگ جو اپنے رب کی خشیت سے لرزاں وترساں رہنے والے ہیں۔ )
کامیابی کے راستے پر چلنے والوں کی پہلی صفت
اس سے پہلے کفار کی خوش فہمیوں اور ان کے غلط تصورات کا تذکرہ ہوا۔ جن کی وجہ سے ان کی فکری اور عملی زندگی میں ایسی دراڑیں واقع ہوئیں جنھوں نے ان کی دنیا وعقبیٰ کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ سے ان لوگوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو نہ صرف کامیابیوں کے راستے کے مسافر ہیں بلکہ ان کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود کو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ انھوں نے کامیابیوں کے وضعی تصورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت سے غافل لوگوں کے مقابلے میں فکر آخرت رکھنے والے لوگوں کے اوصاف۔
اس جہان رنگ و بو میں کردار کے اعتبار سے دو قسم کے انسان ہوا کرتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے رب سے بےخوف ہو کر زندگی گزارتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو قدم قدم پر سوچتے ہیں اور ہر وقت اپنے رب سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کیونکہ ان کا اپنے رب کی ذات اور اس کے ارشادات پر پوری طرح ایمان ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ جب وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو ان کے دل فخرو غرور اور نمودونمائش سے بچتے اور ڈرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نے ہر صورت اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہی لوگ ہیں…
Read the full tafseer →اولیاء کی صفات کا دوبارہ تذکرہ :
57: پھر اپنے اولیاء کا وضاحت سے تذکرہ فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ (بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے ڈر سے ہیبت زدہ ہیں) خائف ہیں۔
Read the full tafseer →57۔ ان لذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون۔ وہ خوف رکھتے ہیں ۔ اشفاق کا معنی خوف سے کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مومنین جو اللہ سے خوف رکھتے ہیں اور اس کی سزا سے ڈرتے ہیں۔
’ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ مومن نیکی بھی کرتا رہے اور پھر ڈرتا بھی رہتا ہے اور منافق بدی کرتا ہے اور پھر بےفکر بھی رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
(آیت (57
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا ‘ چناچہ فرمایا : ( ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقو ون) ” بیشک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے بارے میں سوء ظن ہے کہ انہوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے ‘ انہیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
75 منکرین کے لیے ان کا مال ودولت کوئی خیر کی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو جو ان کے مال واولاد میں بڑھاوا دے رہے ہیں کیا اس سے ہم ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ [ نہیں اور ہرگز نہیں ] بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکر لوگ اصل حقیقت کے احساس و شعور سے عاری اور محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ اور اپنے سود و زیاں اور نفع و نقصان کا۔ اور یہ لوگ جانتے نہیں کہ یہ امہال و استدارج ہے جس کا نتیجہ و انجام دائمی تباہی اور ابدی خسران ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : مومن ‘ نیک اور مسلمان کی تعریف میں چھ صفتیں بتائی ہیں۔ اور خوف کی تعریف یہ ہے کہ ایک خوف ہوتا ہے سانپ ‘ بچھو ‘ چور ‘ ڈاکو سے مگر اللہ سے ڈرنا ایسا کہ جیسے مہربان ماں سے ڈرنا۔ ایسے ہی لوگوں کا ہر سانس ہر قدم اور ہر عمل نیکیوں میں لکھا جاتا ہے اور یہ بھلائیاں حاصل کرنے میں سستی نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ دین کے کاموں میں سب سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
13 ۔ وہاں معلوم نہیں ان کا دیا ہوا صدقہ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں ؟۔ ڈرنے کا تعلق اس چیز سے ہے نہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ اور اسی طرح دوسری تمام عبادات بجا لاتے ہیں لیکن اس پر ناز نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شراب پی لے، چوری کرلے، زنا کرلے مگر اللہ سے ڈرتا رہے ؟ فرمایا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھے، صدقہ کرے نماز پڑھے پھر بھی ڈرتا رہے کہ شاید بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہو اور سلف گناہوں پر جتنا ڈرتے تھے، اس سے زیادہ نیکی کی عدم قبولیت کا اندیشہ ان کو دامن گیر رہتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(23:57) خشیتہ۔ خشیتہ۔ خوف۔ اندیشہ۔ خشیۃ ان مبادا کہ۔ ایسانہ ہو کہ :۔
مشفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ اشفاق مصدر۔ ڈرنے والے۔ الشفق۔ غروب آفتاب کے وقت دن کی روشنی کا رات کی تاریکی میں مل جانے کو شفق کہتے ہیں۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فلا اقسم بالشفق (64:16) مجھے شام کی سرخی کی قسم۔ جو محبت اور کوکے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔
الاشفاق ( افعال) ایسی محبت کرنا جس میں ڈر بھی لگا ہوا ہو۔ اگر من کے واسطہ سے متعدی ہو تو خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر علی یا فی اس کے بعد میں مذکور ہو تو محبت کا معنی نمایاں ہوتا ہے۔ جیسے اشفق علی الصغیر۔ اس نے چھوٹے پر رحم کھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 :
الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 :
خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ بیشک جو اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک لوگ ٹھہرچکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگارہتا ہے احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرت ہیں صدقہ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا وقت کا کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے یہی وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کرکے دوڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–62
[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
مال و دولت آزمایش ہے !
(ف 1) مخالفین اور معاندین جب یہ دیکھتے ، کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اسلام کی مخالفت اور عداوت کے ان کو مال اولاد سے بہرہ ور کر رکھا ہے ، تو وہ یہ سمجھئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نوازش ہے وہ ہم سے خوش ہے جبھی تو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہ ان کی سادہ لوحی اور نافہمی ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات سے آگاہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ منکرین کی مادی مسرتوں میں مخل نہیں ہوتا ، اور ان کے مال و دولت میں خلل انداز نہیں ہوتا تاآنکہ ان کا غرور اور گناہ اصلاح وہدایت کی تمام قوتیں چھن جاتی ہیں ، اور وہ فنا کے قریب ہوجاتے ہیں ۔
جو لوگ نیک اور…
Read the full tafseer →(57) بلاشبہ ! جو لوگ اپنے مالک اور پروردگار کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ف 5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ان بدعملوں کے مقابلہ میں نیک عمل لوگ بھی موجود ہیں اور رہیں گے :
57۔ گزشتہ آیات میں کفار اور بدعمل لوگوں کا حال بیان کیا گیا تھا اب ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اہل حق ہیں فرمایا گیا ہے کہ ہم اگر اہل باطل کو ڈھیل دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل حق کو ہم مہلت نہ دیں بلکہ وہی مہلت جو اہل باطل کے لئے تھی وہی اہل حق کے لئے بھی ہے اور غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ ہماری ایک ہی مہلت سے دو کام ہو رہے ہیں اہل باطل اپنی گمراہیوں پر نازاں ہیں کہ کس طرح دنیا کی نعمتیں ان کو دی جا رہی ہیں تو اہل حق ان سے تکلیفیں اٹھا کر ان سے بھی زیادہ خوش نظر آتے ہیں اور وہ اپنے رب کے خوف سے لرزاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا But they split up ways from one another (dividing themselves) into factions - 23:53). The word زُبُر is the plural of زُبُور meaning a book, and the verse would mean that Allah had commanded all prophets and their followers to adhere to the one and only faith revealed by Him in all matters relating to the basic principles and beliefs. But the followers of different prophets split up into groups and sects and each one of them chose a different way of life and adopted a different book in which the beliefs of each group and sect were recorded. Sometimes…
Read the full tafseer →51. That is, they do not live a carefree life devoid of the fear of God. They live in awe of Him and are fully conscious that He oversees and watches them in all their motives and actions and they are thus deterred from thinking and doing evil.
Read the full tafseer →