Al-Muminoon 23:55

Al-Muminoon · from ayah 55

23:55

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۟ۙاَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ

کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they think that what We extend to them of wealth and children

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:55

کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اوﻻد بڑھا رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا یہ لوگ اس خیال میں ہیں کہ ہم ان کو جو دولت اور اولاد دیے جارہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو (دنیا میں) مال و اولاد کے ذریعہ ان کی مدد کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور بیٹوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ ان کی مدد کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو انھیں مال اور اولاد دیئے جارہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کے مال و اولاد میں اضافہ کر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو مال اور اولاد میں جو کچھ ترقی دئیے چلے جا رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ لوگ یہ گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال واولا ددیتے چلے جاتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اور بیٹوں سے مدد دیے جا رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they fancy that Our continuing to give them wealth and children (means) that

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do they think that by consistently providing them with wealth and children,

— Muhammad Taqi Usmani

Do they think that by consistently providing them with wealth and children,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do they think that in wealth and children with which We prolong them

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Think they that in the wealth and sons wherewith We provide them

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they think that what We extend to them of wealth and children

— Saheeh International

Do they think that We are helping them by giving them children and property?

— Muhammad Sarwar

Do they think that by what We aid them with of wealth and children,

— Muhammad Habib Shakir

Deem they that in the wealth and sons wherewith We enlarge them.

— Abdul Majid Daryabadi

Do they think that because We have granted them abundance of wealth and sons,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

اکل حلال کی فضیلت اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–55

سورة الْمُؤْمِنُوْن 49 پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک خلا ہے جسے بھرنے کے بجائے سامع کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ اس کو تقریر کا پس منظر خود بھر رہا ہے۔ پس منظر یہ ہے کہ خدا کا ایک بندہ پانچ چھ سال سے لوگوں کو اصل دین کی طرف بلا رہا ہے، دلائل سے بات سمجھا رہا ہے، تاریخ سے نظیر پیش کر رہا ہے، اس کی دعوت کے اثرات و نتائج عملاً نگاہوں کے سامنے آ رہے ہیں، اور پھر اس کا ذاتی کردار بھی اس امر کی ضمانت دے رہا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد آدمی ہے۔ مگر اس کے باوجود لوگ صرف یہی نہیں کہ اس باطل میں مگن ہیں جو ان کو باپ دادا سے ورثے میں ملا تھا، اور صرف اس حد تک بھی نہیں کہ وہ اس حق کو مان کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–56

فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا، زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنے میں آتا ہے اس معنے کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو سب انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد کے مسائل میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا اور آپس میں ٹکڑے مختلف ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنا لی۔ اور زبر کبھی زبرہ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنے قطعہ اور فرقہ کے ہیں۔ یہی معنے اس جگہ زیادہ واضح ہیں اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقے بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین کا اس میں داخل نہیں۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

آیت 56-55 سرگشتگان دنیا کو تنبیہ مال وبنین دنیاوی رفاہیت کی ایک جامع تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سرمستوں کی سرمستی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو دنیا کی جو خوشحالیاں دے رکھی ہیں انکی تھپکیاں ان کو جاگنے نہیں دے رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عیش جو ان کو حاصل ہے، ان کی زندگی کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے اور ان کامیبیوں اور فتوحات میں برابر ضا افہ ہی ہوتا رہے گا اس وجہ سے کسی ڈرانے والے کے ڈرائوئوں سے ڈر کر انہیں اپنا عیش مکدر نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں تو بہت غلط سمجھے ہیں۔ یہ جن چیزوں کو کامیابیاں تصور کئے ہوئے ہیں یہ کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ یہ قدرت کے استدراج کا پھندا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–59

54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–56

فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر 53 تا 56) ” رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔ ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔ لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–56

6 یہ ہی خیال ان کا تھا۔ چناچہ کہتے تھے (نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :35) یعنی ہم اگر خدا کے ہاں مردود و مبغوض ہوتے تو یہ مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہتات کیوں ہوتی۔ 7 یعنی سمجھتے نہیں کہ مال و اولاد کی یہ افراط ان کی فضیلت و کرامت کی وجہ سے نہیں امہال و استدراج کی بناء پر ہے۔ جتنی ڈھیل دی جا رہی ہے اسی قدر ان کی شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :182)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–55

آیت 53 فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا ط ” اَمر سے یہاں مراد ”دین“ ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ اور وہ یہودیت ‘ عیسائیت وغیرہ ناموں پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 54–55

58 یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 55–56

52۔ یہ دھوکا عام وعالمگیر ہے۔ آج تک ہزاروں لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں۔ تکوینی عیش و راحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں ! حالانکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے ماتحت تو سانپوں، بچھوؤں سب ہی کی پرورش و کفالت ہوتی رہتی ہے۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ جس طرح ظاہری نعمتوں سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اسی طرح باطنی نعمتوں (احوال ومواجید وغیرہا) پر مطمئن ومغرور نہ ہوجانا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین۔ کیا ان لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو جو کچھ مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 55–56

(55۔ 56) یہ مختلف گروہ والے کیا یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم ان کو دنیا میں جو مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو دنیا میں جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ ان سے آخرت میں پوچھ گچھ ہوگی، اور یہ اس کی وجہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے ان کو دنیا میں فائدہ پہنچایا اور آخرت میں ہم ان کو ذلیل ورسوا کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 55–56

اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ۔۔ : ”اَنَّمَا“ یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ ”أَنَّ“ اور ”مَا“ (بمعنی اَلَّذِيْ) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ”کہ وہ چیزیں جو۔“ 3 ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چناچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة سبا (35) اور کہف (34 تا 36) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا ردّ فرمایا۔ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یعنی ان کا یہ گمان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–56

آیت نمبر 55-56 اللہ کا ارشاد ہے : ا یحسبون انما نمدھم بہ مال وبنین۔ ما بمعنی الذی ہے یعنی اے پیارے محمد : کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ جو ہم انہیں دنیا میں مال اور اولاد دیتے ہیں وہ ان کے لیے ثواب ہے بلکہ وہ تو استدراج ہے اور ڈھیل ہے یہ بھلائیوں کے پہنچانے میں جلدی نہیں ہے۔ ان کی خبر میں تین اقوال ہیں۔ 1۔ خبر محذوف ہے۔ زجاج نے کہا اس کا معنی ہے نسارع لھم بہ فی الخیرات، بہ کو، حذف کیا گیا۔ (زاد المسیر، جلد 3 صفحہ 347) ۔ ہشام الضریر نے ایک باریک اور دقیق قول کیا ہے۔ انہوں نے کہا : انما ھی الخیرات۔ معنی یہ ہوگا سارع لھم فیہ۔ پھر ظاہر فرمایا اور فرمایا فی الخیرات۔ اس تقدیر پر اس میں حذف نہیں ہے۔ کسائی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–56

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون “ یعنی قریش ( یہ گمان کرتے ہیں) آیت ” انما نمدہم بہ “ یعنی ہم ان کو ہم دیتے رہیں گے۔ آیت ” من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات “ یعنی ہم ان کے لیے بھلائی کے کاموں میں اضافہ کردیتے ہیں بلکہ ہم بھلائی کے کاموں میں ان کو مہلت دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات، بل لا یشعرون “۔ یعنی اللہ نے خفیہ تدبیر کی قوم کے ساتھ ان کے مالوں اور ان کی اولاد میں اس وجہ سے لوگوں کا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ سب گمان کرتے ہیں ] [ اَنَّمَا : کہ بیشک جو ] [ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد دے رہے ہیں انہیں ] [ بِهٖ : اس کے ساتھ ] [ مِّنْ مَّالٍ : مال سے ] [ وَّ : اور ] [ بَنِيْنَ : بیٹوں : سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–56

48:۔ ” اَیَحْسَبُوْنَ الخ “ ہم نے ان مشرکین کو دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اس سے انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان کے بھلے میں ہیں اور ان سے خوش ہیں اور ان ک نیک کاموں کے کے بدلے میں یہ سب کچھ انہیں دے رہے ہیں۔” بَلْ لَّایَشْعُرُوْنَ “ یہ ” یَحْسَبُوْنَ “ کے مضمون سے اضراب ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ تو کالنعام ہیں اصل بات کو سمجھنے کا شعور ہی نہیں رکھتے ضد وعناد کی وجہ سے ان کے مسلسل انکار کی بناء پر ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان سے حقیقت کا احساس و شعور سلب کرلیا گیا ہے یہ دنیا کی نعمتیں تو ہم نے ان کو استدراج اور امہال کے طور پردے رکھی ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ۝ 55ۙ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–61

1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّ ھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَھُمْ فِیْ الْخَیْرٰتِ ط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۔ (المومنون : 55، 56) (کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں۔ تو ان کے لیے بھلائی میں اضافہ کررہے ہیں ؟ بلکہ ان کو اصل معاملے کا شعور نہیں ہے۔ ) ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی پیشِ نظر دونوں آیتوں میں قریش کی ایک ایسی کمزوری کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مال و دولت اور اولاد میں جیسے جیسے اضافے سے نوازتا ہے ان کی گمراہی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ایک سبب دنیوی مفاد ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کا ملت کو تقسیم کرنے کا ایک مقصد مال کی ہوس بھی ہے۔ یہ مال امت کو تقسیم کرنے یا دین کو نقصان پہنچانے سے حاصل ہوا ہو۔ یا اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہو۔ بہرحال قوموں کے سنوار اور بگاڑ میں مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ راہ راست سے ہٹ جائیں تو دین کو اتحاد کی بجائے گروہ بندی، اخلاص کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مال اور اولاد میں بڑھائے دیتا ہے وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 55–56

55، 56: اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ ( کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو جو مال واولاد دیتے جاتے ہیں) ماؔ الذیؔ کے معنی میں ہے اَنَّ کی خبر نسارع لھم فی الخیرات ہے۔ اور خبر سے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے : ای نسای عُ لھم بہٖ نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ مطلب یہ ہے کہ یہ امداد باوجود معاصی کے صرف استدراج ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو جلد ازجلد امداد مل رہی ہے اور ان کی عمدہ کا ر کردگی پر ہم ان کو ثواب کا پیشگی بدلہ دے رہے ہیں۔ استدلالِ آیت : معتزلہ کے عقیدہ کی تردید ہے کہ اصلح فی الدین اللہ پر لازم ہے اس آیت میں خبر دی کہ یہ بات ان کے لئے دینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55۔ ایحسبون انما نمدھم بہ من مال وبنین، جو کچھ ہم ان کو مال واولاد دیتے چلے آتے ہیں توہم ان کو جلدی جلدی زیادہ فائدہ دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت (51) (یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

74 ہٹ دھرموں سے منہ موڑنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم چھوڑ دو انکو ان کی ۔ غفلت و مدہوشی ۔ میں ایک وقت تک "۔ یعنی ان کی موت کے وقت تک کہ اس سے پہلے ان کی آنکھیں کھلنے والی نہیں۔ سو اس وقت اصل حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے اور ان کو پورا پتہ چل جائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ؟ اور اس وقت یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان پوری طرح بھگت کر رہیں گے۔ پس آپ اس کی فکر میں نہ پڑیں۔ ان کو انکے اپنے آخری انجام تک چھوڑ دیجیئے۔ اور یہی طریقہ لائق ہے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے۔ کیونکہ جو حق سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ان کو منہ لگانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–56

فرقہ بندی کا وبال تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–56

11 ۔ ان کا خیال یہی تھا۔ چناچہ وہ کہا کرتے، ہم مال واسباب میں زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں ہو ستا۔ (سبا :35) 12 ۔ اور وہ اصل میں استعمال و استدراج ہے تاکہ جس قدر انہیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور بھرپور طریقہ سے ان پر گرفت کی جائے۔ (نیز دیکھئے سورة اعراف :183)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:55) ایحسبون۔ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے یحسبون۔ مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے حسبان مصدر سے (باب سمع ) کیا وہ خیال کرتے ہیں۔ کیا وہ گمان کرتے ہیں۔ نمدہم۔ نمد مضارع جمع متکلم امداد مصدر (باب افعال ) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو دیتے ہیں۔ ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–61

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–60

مال و دولت آزمایش ہے ! (ف 1) مخالفین اور معاندین جب یہ دیکھتے ، کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اسلام کی مخالفت اور عداوت کے ان کو مال اولاد سے بہرہ ور کر رکھا ہے ، تو وہ یہ سمجھئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نوازش ہے وہ ہم سے خوش ہے جبھی تو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہ ان کی سادہ لوحی اور نافہمی ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات سے آگاہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ منکرین کی مادی مسرتوں میں مخل نہیں ہوتا ، اور ان کے مال و دولت میں خلل انداز نہیں ہوتا تاآنکہ ان کا غرور اور گناہ اصلاح وہدایت کی تمام قوتیں چھن جاتی ہیں ، اور وہ فنا کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ جو لوگ نیک اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور اولاد دیئے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–59

ف 5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم جو ان لوگوں کو مال واولاد میں بڑھا رہے ہیں کیا یہ ان کے لئے مفید ہے ؟ 55۔ اس آیت میں بھی قانون امہال کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ یہ جو ہم ان کو مال و دولت میں بڑھا رہے ہیں تو یہ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ مہلت ان کے لئے مفید ہو رہی ہے ؟ اگر ان کی روش یہی رہی تو یقینا یہ مہلت ان کے لئے مفید نہیں بلکہ بہت ہی مضر ثابت ہوگی ، ان کو معلوم نہیں ہمارے ہاں یہ مہلت تو سب کے لئے ہے اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی ۔ پس اگر ان مفسدوں کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو یہ اس لئے نہیں کہ ان سے اللہ کو بہت پیار ہے یہ ہمارے قانون کے مطابق ہے تاکہ یہ لوگ کھل کر جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–59

فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا But they split up ways from one another (dividing themselves) into factions - 23:53). The word زُبُر is the plural of زُبُور meaning a book, and the verse would mean that Allah had commanded all prophets and their followers to adhere to the one and only faith revealed by Him in all matters relating to the basic principles and beliefs. But the followers of different prophets split up into groups and sects and each one of them chose a different way of life and adopted a different book in which the beliefs of each group and sect were recorded. Sometimes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

49. There is a gap between (verses 53 and 54), which has been left to the listener to fill, because the background of the whole discourse itself helps to fill it. Five years had passed since the Prophet (peace be upon him) had been inviting his people to the original religion. He had left no stone unturned to convince them by reasoning and by historical evidence that his message was based on the truth. His people had seen the practical results of the acceptance of his message and had witnessed his own high character which was by itself a guarantee that he was a trustworthy man. But in spite…

Read the full tafseer →