Al-Muminoon 23:54

Al-Muminoon · from ayah 54

23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۟فَذَرۡهُمۡ فِىۡ غَمۡرَتِهِمۡ حَتّٰى حِيۡنٍ

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So leave them in their confusion for a time.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:54

اچھا، تو چھوڑو انہیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) ان کو ایک خاص وقت تک اپنی جہالت میں ڈوبا رہنے دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں ایک وقت تک

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ ان کو ایک عرصہ تک ان کے نشۂ جہالت و ضلالت میں چھوڑے رکھئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو تو انھیں ایک وقت تک ان کی غفلت میں رہنے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا ان کا قصہ چھوڑو کہ وہ ایک خاص وقت تک اپنی اس مدہوشی میں پڑے رہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو اس کے پاس ہے تو ان کو ان کی سرمتی میں کچھ دن چھوڑو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم چھوڑ دو ان کو ان کی مدہوشی میں کہ یہ اسی میں پڑے رہیں ایک وقت تک

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ ان کو ان کی غفلت میں ایک خاص وقت تک پڑا رہنے دیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ انہیں چھوڑ دیجیے ان کی مدہوشی میں ایک وقت تک کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So leave them immersed in their heedlessness till an appointed time.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So leave them in their negligence for some time.

— Muhammad Taqi Usmani

So leave them in their negligence for some time.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, leave them in their error for a time.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So leave them in their error till a time.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So leave them in their confusion for a time.

— Saheeh International

(Muhammad), leave them alone in their dark ignorance for an appointed time.

— Muhammad Sarwar

Therefore leave them in their overwhelming ignorance till

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore leave thou them in their bewilderment for a season.

— Abdul Majid Daryabadi

But leave them in their confused ignorance for a time.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

اکل حلال کی فضیلت اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–55

سورة الْمُؤْمِنُوْن 49 پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک خلا ہے جسے بھرنے کے بجائے سامع کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ اس کو تقریر کا پس منظر خود بھر رہا ہے۔ پس منظر یہ ہے کہ خدا کا ایک بندہ پانچ چھ سال سے لوگوں کو اصل دین کی طرف بلا رہا ہے، دلائل سے بات سمجھا رہا ہے، تاریخ سے نظیر پیش کر رہا ہے، اس کی دعوت کے اثرات و نتائج عملاً نگاہوں کے سامنے آ رہے ہیں، اور پھر اس کا ذاتی کردار بھی اس امر کی ضمانت دے رہا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد آدمی ہے۔ مگر اس کے باوجود لوگ صرف یہی نہیں کہ اس باطل میں مگن ہیں جو ان کو باپ دادا سے ورثے میں ملا تھا، اور صرف اس حد تک بھی نہیں کہ وہ اس حق کو مان کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–56

فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا، زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنے میں آتا ہے اس معنے کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو سب انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد کے مسائل میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا اور آپس میں ٹکڑے مختلف ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنا لی۔ اور زبر کبھی زبرہ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنے قطعہ اور فرقہ کے ہیں۔ یہی معنے اس جگہ زیادہ واضح ہیں اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقے بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین کا اس میں داخل نہیں۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قذرھم فی غمرتھم حتی حین (54) غمرۃ سے مراد یہاں غفلت کی سرمستی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جب تم نے ان کو اتنا جھنجھوڑا لیکن یہ کروٹ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اب ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ خود بہت جلد اپنی اس سرمستی کا انجام دیکھ لیں گے۔ حتی حین سے مراد مہلت کی وہ مدت ہے جو ان کے لئے مقرر تھی اور جس کے ختم ہونے کا وقت اب قریب آ لگا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–59

54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 53–54

درس نمبر 50 ایک نظر میں یہ اس کا سورة کا تیسرا سبق ہے ۔ رسولوں کے حالات بیان کرنے کے بعد اب اس میں لوگوں کے حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب رسول آخر تشریف لائے تو لوگوں کے یہ حالات تھے۔ لوگوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات تھے۔ عقیدہ توحید جسے تمام بالا تفاق بیان کرتے آئے تھے اس میں بھی اختلافات تھے۔ رسول خاتم النبین جس حق کو لے آئے ہیں اس کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا غفلت کا سلوک کیا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس نئی دعوت اور اس کے ماننے والوں پر غور کرتے ۔ اہل ایمان کا کردار ان کے سامنے تھا۔ وہ اللہ کی بندگی کرتے تھے ، نیک کام کرتے تھے ، خوف آخرت رکھتے تھے۔ اس تصور آخرت سے ان کے دل کانپتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جن لوگوں نے انبیاء کی متفقہ ہدایات میں رخنے ڈال کر الگ الگ فرقے اور ملتیں قائم کردیں ہر فرقہ اپنے ہی عقائد و خیالات پر دل جمائے بیٹھا ہے۔ کسی طرح اس سے ہٹنا نہیں چاہتا، خواہ آپ کتنی ہی نصیحت فرمائیں تو آپ بھی ان کے غم میں زیادہ نہ پڑیے بلکہ تھوڑی سی مہلت دیجئے کہ یہ اپنی غفلت و جہالت کے نشہ میں ڈوبے رہیں۔ یہاں تک کہ وہ گھڑی آپہنچے جب ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔ یعنی موت یا عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلانے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–55

آیت 53 فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا ط ” اَمر سے یہاں مراد ”دین“ ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ اور وہ یہودیت ‘ عیسائیت وغیرہ ناموں پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 54–55

58 یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ (اے ہمارے پیغمبر۔ اور ان کی ضد اور اصرار علی الباطل پر زیادہ غم نہ کیجئے) یہ ذکر رسول اللہ ﷺ کے معاصر کفار کا ہے۔ (آیت) ” حتی حین “۔ مراد وقت موت تک ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذرہم فی غمرتہم حتی حین۔ سو آپ ان کو اسی جہالت میں ایک خاص وقت تک رہنے دیجئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (یعنی) کفر و گمراہی میں (رہنے دیجئے) بعض نے کہا غمرۃ سے مراد ہے غفلت اور باوجود نہ جاننے کے جاننے کا دعویٰ کرنا۔ غفلت کو اس پانی سے تشبیہ دی۔ جس میں آدمی ڈوب جاتا ہے اس کے قد سے بھی پانی اونچاہو جاتا ہے۔ حَتّٰی حِیْنٍایک خاص وقت تک یعنی وقت موت تک یا اس وقت تک کہ اللہ آپ کو جہاد کا حکم دے دے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ ان کے کفر سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہم ان کی گرفت ضرور کریں گے یا اپنی طرف سے براہ راست عذاب بھیج کر یا آپ کے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) اے محمد ﷺ آپ ان کو ان کی جہالت میں نزول عذاب کے وقت تک یعنی بدر کے واقعہ تک یوں ہی رہنے دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ : یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–54

آیت نمبر 52-54 مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ یہ تمہارا دین اور تمہاری ملت ہے پس اسے لازم پکڑو۔ امت سے مراد یہاں دین ہے اس کے محمل پہلے گزر چکے ہیں اسی سے اللہ کا ارشاد ہے : انا وجدنا اباء نا علیٰ امۃ (الزخرف :23) یعنی علی دین النابغہ نے کہا : حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع مسئلہ نمبر 2: وان ھذہ ھمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا گیا ہے : خلیل نے کہا : یہ محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے یعنی انا اعلم بان ھذاد ینکم الذی امرتکم ان تومنوا بہ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا یہ دین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 53–54

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ زبرا سے مراد کتابیں ہیں اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے ان میں تحریف اور تبدیلی کردی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ میں زبر سے مراد ہے اللہ کی کتابیں اور انہوں نے کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ” کل حزب “ میں حزب کا معنی ہے ٹکڑا اور یہ اہل کتاب تھے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَذَرْهُمْ : سو آپ چھوڑ دیں انہیں ] [ فِي غَمْرَتِهِمْ : ان کی غفلت میں ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ ] [ حِيْنٍ : ایک وقت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ ” فَذَرْھُمْ الخ “ یہ مشرکین قریش پر شکوی ہے بطور زجر۔ یعنی مشرکین قریش بھی ان لووں سے کم نہیں ہیں انہوں نے بھی دین کے معاملے میں گروہ بندی کر رکھی ہے وہ خالص شرک کو اپنا دین سمجھتے ہیں اور پھر اس پر خوش بھی ہیں فرمایا ایسے واضح اور روشن دلائل کے باوجود بھی اگر وہ نہیں مانتے تو آپ انہیں ان کے حال پر چھور دیں اور انہیں ایک وقت تک غفلت میں پڑے رہنے دیں جب ہم نے انہیں پکڑ لیا اس وقت ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں سے غفلت کے پردے خود بخود اٹھ جائیں گے لیکن اس وقت حق کو سمجھنے اور ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَرْہُمْ فِيْ غَمْرَتِہِمْ حَتّٰى حِيْنٍ۝ 54 وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–61

1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَذَرْھُمْ فِیْ غَمْرَتِھِمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ (المومنون : 54) (تو انھیں ایک وقت خاص تک ان کی سرمستی (اور غفلت) میں چھوڑ دو ۔ ) پس منظر آیتِ کریمہ کے یہ چند الفاظ اپنے اندر بڑی معنوی گہرائی رکھتے ہیں۔ بظاہر اس کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو تسلی دیتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ آپ انھیں ان کی غفلت میں ڈوبا رہنے دیں اور اس مدت تک ان سے کوئی سروکار نہ رکھیں جب تک یہ خود اپنی غفلت کے نتائج کو محسوس نہیں کرتے۔ لیکن غور وفکر کے بعد بات اس سے زیادہ وسیع معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ گزشتہ چند سال سے آنحضرت ﷺ نے قریش کو سمجھانے کے لیے کس طرح جان ماری ہے اور اس راستے میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : تمام انبیاء (علیہ السلام) کی ایک ہی دعوت تھی کہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچو۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) رشتہ نبوت کے حوالے سے ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور سب کے سب اپنے رب کی طرف بلانے والے تھے۔ ہر نبی اپنے زمانے میں لوگوں کو صرف اپنے رب کی طرف بلاتا تھا۔ لیکن انبیاء کرام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے علمی اور روحانی ورثاء نے ذاتی اور گروہی مفادات کی وجہ سے نہ صرف ان کی امتوں کو پارہ پارہ کیا بلکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے لائے ہوئے دین اور شریعت کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ انبیاء کے بعد ان کی امتوں کے علماء کے فتوے ٰ اور ان کی فقہ ہی اصل دین قرار پائی۔ علماء نے اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: فَذَرْھُمْ فِیْ غَمْرَتِھِمْ (ان کو آپ اسی جہالت میں چھوڑ دیں) غمرۃ جہالت و غفلت کو کہتے ہیں حَتّٰی حِیْنٍ (ایک وقت تک) یہاں تک کہ وہ قتل کئے جائیں یا موت ان کو دبوچ لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔ فذرھم فی غمرتھم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کفر و گمراہی میں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے غفلت، حتی حین، ایک مقررہ مدت تک جب تک ان کو موت نہ آجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت (51) (یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

74 ہٹ دھرموں سے منہ موڑنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم چھوڑ دو انکو ان کی ۔ غفلت و مدہوشی ۔ میں ایک وقت تک "۔ یعنی ان کی موت کے وقت تک کہ اس سے پہلے ان کی آنکھیں کھلنے والی نہیں۔ سو اس وقت اصل حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے اور ان کو پورا پتہ چل جائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ؟ اور اس وقت یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان پوری طرح بھگت کر رہیں گے۔ پس آپ اس کی فکر میں نہ پڑیں۔ ان کو انکے اپنے آخری انجام تک چھوڑ دیجیئے۔ اور یہی طریقہ لائق ہے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے۔ کیونکہ جو حق سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ان کو منہ لگانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–56

فرقہ بندی کا وبال تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–56

11 ۔ ان کا خیال یہی تھا۔ چناچہ وہ کہا کرتے، ہم مال واسباب میں زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں ہو ستا۔ (سبا :35) 12 ۔ اور وہ اصل میں استعمال و استدراج ہے تاکہ جس قدر انہیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور بھرپور طریقہ سے ان پر گرفت کی جائے۔ (نیز دیکھئے سورة اعراف :183)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:54) فذرہم۔ پس چھوڑ ان کو۔ پس رہنے دے ان کو۔ ذر۔ وزر سے (سمع فتح) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اس کی ماضی نہیں آتی۔ یہاں خطاب حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب ہے جس کا مرجع اہل قریش یا جملہ کفار مکہ ہیں۔ غمرتہم۔ مضاف مضاف الیہ ای جھا لتہم او حیرتہم او غفلتہم او ضلالتہم۔ بقول صاحب مفردات غمرۃ اس پانی کثیر کو کہتے ہیں جس کی تہ نظر نہ آئے اور یہ اس جہالت کے لئے ضرب المثل ہے جو آدمی پر جھا جاتی ہے۔ اور قرآن نے فاغشینہم وغیرہ الفاظ سے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حتی حین۔ کچھ وقت تک۔ ای الی وقت موتہم۔ ان کی موت تک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–61

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

(ف 3) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اس آیت میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے بہت سی نشانیوں سے تعبیر نہیں کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک خرق عادت میں دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ خرق عادت ولادت بلا زوج ہے یعنی مریم (علیہ السلام) نے بغیر خاوند کے بچہ جنا اور مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لہذا یہ نشانی ہے ان مادہ پرستوں کے لئے جو اسباب و علل کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور اس خالق العلل کی قدرتوں اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ، اور اس میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔ مقصد یہ ہے جس قدر پیغمبروں کا ذکر گزر چکا ہے ، سب کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ وہ قوم میں اکل حلال کا جذبہ پیدا کریں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) پس اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو ان کی غفلت میں ایک وقت خاص تک چھوڑ دیجئے اور پڑا رہنے دیجئے غمرہ اصل میں اس ڈبائو پانی کو کہتے ہیں جو گلے گلے تک آجائے اور انسان کو بچنے کی توقع نہ رہے یہاں ان کی جہالت اور غفلت کو اس ڈبائو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے گویا غفلت و جہالت نے ان کے ہوش ہو حواس ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرح کھو رکھے ہیں لہٰذا آپ ان کو نظرانداز کیجئے اور اپنے قلب کو بلاوجہ ان کی فکر میں مبتلا نہ کیجئے۔ ایک وقت خاص فرمایا موت کے وقت کو یا قتل کے وقت کو یا عذاب آنے تک۔ اس آیت میں کفار کو تنبیہہ اور نبی کریم ﷺ کو تسلی ظاہر کی گئی ہے چونکہ کفار اپنے عیش و تنعم اور کثرت اموال و اولاد اور عذاب کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–59

ف 5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو اپنی مدہوشی میں رہنے دیں یہ ہوش میں آنے والے نہیں : 54۔ زیر نظر آیت سے خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ہدایت کی طرح شقاوت کا مزاج بھی ہمیشہ ایک طرح کا رہتا ہے پس جس طرح پہلے ہوتا رہا ہے اب بھی ہوگا اور جو ماننے والے نہیں وہ کبھی نہیں مانیں گے پس انہیں ان کی حالت میں چھوڑ دو اور اپنا کام کئے جاؤ ، ان کوتاہ اندیش اور خود غرض لوگوں کو کچھ عرصہ اس غفلت میں رہنے دو ۔ آپ ﷺ نے انہیں سمجھانے کا حق ادا کردیا لیکن ان کے عناد اور تعصب میں ذرا بھی فرق نہیں ہوا جب عذاب انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا تب انکی آنکھیں کھلیں گی اور کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی (غمرۃ) وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–59

فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا But they split up ways from one another (dividing themselves) into factions - 23:53). The word زُبُر is the plural of زُبُور meaning a book, and the verse would mean that Allah had commanded all prophets and their followers to adhere to the one and only faith revealed by Him in all matters relating to the basic principles and beliefs. But the followers of different prophets split up into groups and sects and each one of them chose a different way of life and adopted a different book in which the beliefs of each group and sect were recorded. Sometimes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

49. There is a gap between (verses 53 and 54), which has been left to the listener to fill, because the background of the whole discourse itself helps to fill it. Five years had passed since the Prophet (peace be upon him) had been inviting his people to the original religion. He had left no stone unturned to convince them by reasoning and by historical evidence that his message was based on the truth. His people had seen the practical results of the acceptance of his message and had witnessed his own high character which was by itself a guarantee that he was a trustworthy man. But in spite…

Read the full tafseer →